اردو
हिन्दी
مئی 2, 2026
Latest News | Breaking News | Latest Khabar in Urdu at Roznama Khabrein
  • ہوم
  • دیس پردیس
  • فکر ونظر
    • مذہبیات
    • مضامین
  • گراونڈ رپورٹ
  • انٹرٹینمینٹ
  • اداریے
  • ہیٹ کرا ئم
  • سپورٹ کیجیے
کوئی نتیجہ نہیں ملا
تمام نتائج دیکھیں
  • ہوم
  • دیس پردیس
  • فکر ونظر
    • مذہبیات
    • مضامین
  • گراونڈ رپورٹ
  • انٹرٹینمینٹ
  • اداریے
  • ہیٹ کرا ئم
  • سپورٹ کیجیے
کوئی نتیجہ نہیں ملا
تمام نتائج دیکھیں
Latest News | Breaking News | Latest Khabar in Urdu at Roznama Khabrein
کوئی نتیجہ نہیں ملا
تمام نتائج دیکھیں

ہریانہ:نویں کی کتاب میں سنگھ،ساورکر کی تعریف

4 سال پہلے
‏‏‎ ‎‏‏‎ ‎|‏‏‎ ‎‏‏‎ ‎ گراونڈ رپورٹ
A A
0
ہریانہ:نویں کی کتاب میں سنگھ،ساورکر کی تعریف
66
مشاہدات
Share on FacebookShare on TwitterShare on Whatsapp

تحریر:وویک گپتا

بھارتیہ جنتا پارٹی مقتدرہ ہریانہ میں سیکنڈری ایجوکیشن بورڈ کی طرف سے تیار کی گئی 9 ویں جماعت کی تاریخ کی ایک نئی کتاب نے 1947 میں تقسیم ہند کے لیے کانگریس کو قصوروار ٹھہراتے ہوئے ایک تنازع کھڑا کر دیا ہے۔یہ کتاب راشٹریہ سویم سیوک سنگھ اور اس کے بانیوں کے ذریعے ’ثقافتی قوم پرستی اور آزادی کی جدوجہد کو بیدار کرنے‘ میں ادا کیے گئے ’مثبت‘ کردار کی بھی تعریف کرتی ہے۔

بورڈ کے عہدیداروں نے بتایا کہ نئی کتاب 20 مئی سے دستیاب ہوگی۔ دوسری جماعتوں کی تاریخ کی کتابیں بھی’اپ ڈیٹ‘ کی گئی ہیں۔ تاریخ کی اس کتاب کے دوسرے آخری باب میں ملک کی تقسیم کے اسباب کی تفصیلات دی گئی ہیں۔ اس میں تقسیم کے لیے کانگریس پارٹی کے ’اقتدار کی لالچ اور اپیزمنٹ کی سیاست‘ کو مورد الزام ٹھہرایا گیا ہے۔

وہیں تقسیم کے لیے محمد علی جناح کی’ضد‘ اور’پھوٹ ڈالو اور راج کرو‘ کی برطانوی پالیسی کے علاوہ مسلم لیگ کے ’فرقہ وارانہ نظریہ‘ کو بھی ذمہ دار ٹھہرایا گیا ہے۔کتاب میں کہا گیا ہے کہ 1940 کی دہائی میں کانگریس کے رہنما’تھک چکے‘تھے اور اب آزادی کی جدوجہد کو جاری رکھنے کے خواہش مندنہیں تھے۔کتاب کہتی ہے، کسی بھی قیمت پر اقتدار حاصل کرنے کے لیےکچھ کانگریسی لیڈر جلد از جلد آزادی چاہتے تھے۔

مزید کہا گیا ہے، مہاتما گاندھی نے تقسیم کی مخالفت کی تھی۔ جب کانگریس قیادت نے اس میں کوئیدلچسپی نہیں دکھائی تو گاندھی کو بھی تقسیم کو قبول کرنا پڑا۔کتاب میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ مسلم لیگ کئی معاملوں پر ’کانگریس کی مسلسل مخالفت‘ کر رہی تھی۔ لیکن دوسری طرف کانگریس برطانوی حکومت کے خلاف مسلم لیگ کے ساتھ تعاون پر آمادہ تھی۔

سال 1916 کا لکھنؤ معاہدہ، جس میں دونوں فریق صوبائی اسمبلیوں میں مذہبی اقلیتوں کی نمائندگی کی اجازت دینے پر متفق ہوئے، 1919 کی خلافت تحریک جس نے انگریزوں سےخلافت کے دفاع کی اپیل کی، اور 1944 میں گاندھی-جناح نے دو قومی نظریہ پر تعطل کو کم کرنے کے لیے بات چیت کو کتاب میں’کانگریس کی اپیزمنٹ کی پالیسی‘ کی مثال بتایا ہے، جس نے فرقہ پرستی کو فروغ دیا۔کہا گیا ہے کہ،محمد علی جناح کو بار بار لبھایا گیا اور ان کی بے جا توجہ نے انہیں مزید طاقتور بنا دیا۔ اس کے نتیجے میں ملک کمزور ہو رہا تھا، فرقہ وارانہ تصادم عام تھا… اس نے کانگریس کو یقین دلایا کہ ملک میں امن کا واحد راستہ تقسیم ہے۔کتاب میں سوال کیا گیا ہے کہ کیا دونوں ملکوں کے درمیان امن کو یقینی بنانے کے لیے تقسیم ضروری تھی، ‘آج بھی امن و امان قائم کیوں نہیں ہوئی ہے؟

ایجوکیشن بورڈ نے کہا کہ تبدیلی’حقائق پر مبنی‘

جب سے یہ کتاب آن لائن اپ لوڈ ہوئی ہے، ریاستی کانگریس کے لیڈر اس کے خلاف اٹھ کھڑے ہوئے ہیں۔ سابق وزیر اعلیٰ اور کانگریس لیڈر بھوپندر سنگھ ہڈا نے دی وائر کو بتایا کہ یہ بی جے پی کی طرف سے تعلیم کو ‘سیاسی’ بنانے کی واضح کوشش ہے۔ہڈا نے کہا کہ بی جے پی تاریخ کو بھگوا بنانے اور نوجوانوں کا برین واش کرنے کی کوشش کر رہی ہے۔ دوسری طرف جدوجہد آزادی میں کانگریس کی خدمات کی حقیقت سب کو معلوم ہے۔ تاریخ اس طرح نہیں بدلتی۔ وہ کامیاب نہیں ہوں گے۔

دوسری جانب ہریانہ بورڈ آف سیکنڈری ایجوکیشن کے چیئرمین ڈاکٹر جگ بیر سنگھ نے اپوزیشن کے ان الزامات کی تردید کی کہ نئی کتاب میں حقائق کو توڑ مروڑ کر سیاسی رنگ دیا گیا ہے۔انہوں نے دی وائر کو بتایا کہ نئی کتابوں کا مواد ’تاریخ میں دستیاب ریکارڈ‘پر مبنی ہے۔

انہوں نے کہا، اس کام میں تاریخ کے 40 سے زیادہ اسکالرز شامل تھے اور ہمارے پاس ان کے ذریعے منقول تصدیق شدہ ماخذہیں۔ میں غیر ضروری سیاست نہیں کرنا چاہتا لیکن مجھے لگتا ہے کہ نوجوان نسل کے سامنے صحیح حقائق پیش کرنا ضروری ہے۔ اس کے لیے خاطر خواہ کوششیں کی گئی ہیں۔انہوں نے مزید کہا کہ نئے سیشن سے کلاس 6 سے 10 تک کی تاریخ کی نئی کتابوں کی 10 لاکھ سے زائد کاپیاں تقسیم کی جائیں گی۔ یہ 20 مئی سے مارکیٹ میں بھی دستیاب ہوں گی۔انہوں نے کہا کہ کتابوں پر نظر ثانی کا عمل 2017 میں شروع ہوا تھا۔ اپریل 2017 میں اس وقت کے ایجوکیشن سکریٹری انل سوروپ کی صدارت میں ایک میٹنگ ہوئی تھی جس میں یہ فیصلہ لیا گیا کہ ہر ریاست تاریخ کی کتابوں میں اپنے طریقے سے ترمیم کرسکتی ہے۔

آر ایس ایس، ہیڈگیوار اور تعریفوں کے پل

کلاس 9 کی کتاب کا پہلا باب ‘ہندوستان میں سماجی اور ثقافتی نشاۃ ثانیہ’ مہارشی اروبندو اور آر ایس ایس کے بانی کیشوراؤ بلی رام ہیڈگیوار جیسی 20 ویں صدی کی شخصیات کی خدمات کے بارے میں ہے، جہاں کہا گیا ہے کہ انھوں نے ‘جدوجہد آزادی کی تحریک’ کو آگے بڑھانے کے لیے ‘ثقافتی قوم پرستی کے خیال کا استعمال کیا۔’اس میں لکھا ہے، اس نے ہندوستانی سماج کی سماجی، ثقافتی اور فکری بیداری میں اہم کردار ادا کیا۔

اس باب کے صفحہ 11 پر ہیڈگیوار پر ایک تفصیلی مضمون بھی ہے، جہاں انہیں ایک ‘عظیم محب وطن اور اپنی زندگی میں انقلابی نظریات کا پیروکار’ بتایا گیا ہے۔کتاب میں ہیڈگیوار کی سیاسی زندگی کا تفصیلات دی گئی ہیں، جس میں دعویٰ کیا گیا ہے کہ کانگریس نے ایک بار ملک کی مکمل آزادی کے ان کے خیال پر مبنی قرارداد لانے سے انکار کر دیا تھا۔ کتاب میں آر ایس ایس کے لیے وقف حصے بھی ہیں، جن کا دعویٰ ہے کہ یہ ذات پات کے نظام اور اچھوت کے خلاف تھا۔

’ساورکر کی خدمات کو لفظوں میں بیان نہیں کیا جا سکتا‘

کتاب کا چوتھا باب ہندوستان کی جدوجہد آزادی میں ونایک دامودر ساورکر کے کردار کے لیے وقف ہے۔ ساورکر ہندوتوا کے سخت حامی تھے اور انہوں نے ہندوستان کی تقسیم کی بھی سخت مخالفت کی تھی۔یہ بھی دعویٰ کیا گیا ہے کہ مہاتما گاندھی نے 1920 میں ینگ انڈیا میگزین میں ساورکر کی رہائی کی اپیل کی تھی – یہ ایک ایسادعویٰ ہے، جس کو لے کر اپوزیشن جماعت حقائق کو مسخ کرنے کا الزام لگا چکی ہے۔کتاب میں اس بات کا کوئی ذکر نہیں ہے کہ ساورکر کو جیل سے کیسے رہا کیا گیا تھا۔ ساورکر کے ناقدین کا کہنا ہے کہ انہوں نے جیل سے رہائی کے لیے برطانوی حکمرانوں سے معافی مانگی تھی۔

وادی سندھ کی تہذیب اور سرسوتی-سندھ کی تہذیب

دسویں جماعت کی تاریخ کی کتاب میں ‘وادی سندھ کی تہذیب’ کو ‘سرسوتی-سندھ تہذیب’ کے طور پر پیش کیا گیا ہے۔قدیم ہندوستانی کتابوں میں ایک ندی سرسوتی کے بارے میں دعویٰ کیا گیا ہے کہ یہ ایک ایسی ندی ہے جس کے چاروں طرف قدیم ہندوستانی تہذیب کا آغاز ہوا تھا۔کروکشیتر یونیورسٹی میں جغرافیہ پڑھانے والے ایم ایس جگلان نے فیس بک پوسٹ میں اس موضوع پر ایک مضمون شیئر کیا ہے۔انہوں نے دعویٰ کیا ہے کہ دریائے سرسوتی کے وجود کے بارے میں افسانوی مفروضے کو ثابت کرنے کے لیے جو طریقے استعمال کیے گئے ہیں وہ ناکافی ہیں۔انہوں نے لکھا ہے، انڈو-گنگا ڈیوائیڈ (ہمالیہ کے دامن سے لے کر گجرات کے ساحل تک) میں کئی پیلیو چینل (پرانے ندی کے راستےتلچھٹ کے نیچے دبے ہوئے ہیں) ہیں۔ ریموٹ سینسنگ سائنسدانوں نے اس خطے میں مختلف پیلیو چینل کی نشاندہی کی ہے۔ ان میں سے بہت سے لوگوں نے جوش و خروش سے دعویٰ کیا ہے کہ انہوں نے جن چینلوں کی نشاندہی کی تھی ، وہ سرسوتی کے تھے۔

انہوں نے مزید لکھا، یہ نتیجہ تاریخی حقائق پر مبنی ہونے کے بجائے ان کے افسانوی عقائد کے مطابق تھا۔ اگر ہم ان کے نتیجے پر جائیں تو اس پورے خطے میں سرسوتی سے متعلق سینکڑوں چینل موجود ہیں۔ لیکن کوئی بھی مکمل تصویر نہیں دے سکتا کیونکہ اس کی تشکیل ان کے علمی دائرہ کار سے باہر ہے۔جگلان مزید لکھتے ہیں کہ یہ عجیب بات ہے کہ ماقبل تاریخی زمانے کے دوران ایک دریا کے وجود کو ثابت کرنے کے لیے مغلیہ دور کے زمینی ریکارڈ کو پیش کیا جا رہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ ‘سائنس کا استعمال متھ کو ثابت کرنے کے لیے نہیں کیا جا سکتا، اس کا استعمال دھند صاف کرنے کے لیے کیا جانا چاہیے۔

(بشکریہ : دی وائر )

قارئین سے ایک گزارش

سچ کے ساتھ آزاد میڈیا وقت کی اہم ضرورت ہےـ روزنامہ خبریں سخت ترین چیلنجوں کے سایے میں گزشتہ دس سال سے یہ خدمت انجام دے رہا ہے۔ اردو، ہندی ویب سائٹ کے ساتھ یو ٹیوب چینل بھی۔ جلد انگریزی پورٹل شروع کرنے کا منصوبہ ہے۔ یہ کاز عوامی تعاون کے بغیر نہیں ہوسکتا۔ اسے جاری رکھنے کے لیے ہمیں آپ کے تعاون کی ضرورت ہے۔

سپورٹ کریں سبسکرائب کریں

مزید خبریں

ہم متبادل ورلڈ آرڈر کے حق میں، ٹیرف متاثرین کے لیے سرکار ہر ضروری قدم اٹھائے: امیر جماعت
گراونڈ رپورٹ

ہم متبادل ورلڈ آرڈر کے حق میں، ٹیرف متاثرین کے لیے سرکار ہر ضروری قدم اٹھائے: امیر جماعت

06 ستمبر
سنبھل فساد کی تحقیقاتی رپورٹ میں ایسا کیا ہے کہ یوگی حکومت پر اٹھے سوال دبا دیئے گیے؟
گراونڈ رپورٹ

سنبھل فساد کی تحقیقاتی رپورٹ میں ایسا کیا ہے کہ یوگی حکومت پر اٹھے سوال دبا دیئے گیے؟

01 ستمبر
آسام:بنگالی بولنے والے مسلمانوں کے خلاف نفرت وتشدد میں بےحد اضافہ:India Hate Lab نے نیا ڈیٹا جاری کیا
گراونڈ رپورٹ

آسام:بنگالی بولنے والے مسلمانوں کے خلاف نفرت وتشدد میں بےحد اضافہ:India Hate Lab نے نیا ڈیٹا جاری کیا

03 اگست
  • ٹرینڈنگ
  • تبصرے
  • تازہ ترین
Humayun Kabir Owaisi Video Row

ہمایوں کبیر کے خفیہ ویڈیو نے اویسی پر بی جے پی کی بی ٹیم کے الزام کو تقویت دی، اتحاد ٹوٹا ، سیاسی بصیرت پر بھی سوال

اپریل 10, 2026
یوپی کے 558 مدارس میں مڈ ڈے میل کون کھا رہا ہے؟ چونکاتی گراؤنڈ رپورٹ

یوپی کے 558 مدارس میں مڈ ڈے میل کون کھا رہا ہے؟ چونکاتی گراؤنڈ رپورٹ

اپریل 10, 2026
DD News Anchor Controversy News

پبلک ٹیکس سے چلنے والے ‘ڈی ڈی نیوز’ کے اینکر نے کہا” ساورکر کے چپل کی دھول بھی نہیں راہل گادھی

اپریل 13, 2026
طالبان ميں پھوٹ کی خبريں، حقيقت يا پروپيگنڈہ؟

طالبان ميں پھوٹ کی خبريں، حقيقت يا پروپيگنڈہ؟

ستمبر 19, 2021
امریکہ ایران کشیدگی خبر

امریکہ–ایران کشیدگی ایک بار پھر سرخیوں میں، جنگ بندی میں توسیع کے باوجود بڑے معاہدے کا مستقبل خطرے میں

الیکشن سے قبل سیاسی بیان بازی تیز، کئی بڑے لیڈرز آمنے سامنے

الیکشن سے قبل سیاسی بیان بازی تیز، کئی بڑے لیڈرز آمنے سامنے

دہلی میں بڑھتے جرائم پولیس الرٹ

دہلی-NCR میں جرائم کے واقعات میں اضافہ، پولیس الرٹ

امریکہ ایران کشیدگی خبر

ایران–امریکہ مذاکرات میں محدود پیش رفت، اختلافات بدستور برقرار: قالیباف

امریکہ ایران کشیدگی خبر

امریکہ–ایران کشیدگی ایک بار پھر سرخیوں میں، جنگ بندی میں توسیع کے باوجود بڑے معاہدے کا مستقبل خطرے میں

اپریل 22, 2026
الیکشن سے قبل سیاسی بیان بازی تیز، کئی بڑے لیڈرز آمنے سامنے

الیکشن سے قبل سیاسی بیان بازی تیز، کئی بڑے لیڈرز آمنے سامنے

اپریل 21, 2026
دہلی میں بڑھتے جرائم پولیس الرٹ

دہلی-NCR میں جرائم کے واقعات میں اضافہ، پولیس الرٹ

اپریل 21, 2026
امریکہ ایران کشیدگی خبر

ایران–امریکہ مذاکرات میں محدود پیش رفت، اختلافات بدستور برقرار: قالیباف

اپریل 19, 2026

حالیہ خبریں

امریکہ ایران کشیدگی خبر

امریکہ–ایران کشیدگی ایک بار پھر سرخیوں میں، جنگ بندی میں توسیع کے باوجود بڑے معاہدے کا مستقبل خطرے میں

اپریل 22, 2026
الیکشن سے قبل سیاسی بیان بازی تیز، کئی بڑے لیڈرز آمنے سامنے

الیکشن سے قبل سیاسی بیان بازی تیز، کئی بڑے لیڈرز آمنے سامنے

اپریل 21, 2026
Latest News | Breaking News | Latest Khabar in Urdu at Roznama Khabrein

روزنامہ خبریں مفاد عامہ ‘ جمہوری اقدار وآئین کی پاسداری کا پابند ہے۔ اس نے مختصر مدت میں ہی سنجیدہ رویے‘غیر جانبدارانہ پالیسی ‘ملک و ملت کے مسائل معروضی انداز میں ابھارنے اور خبروں و تجزیوں کے اعلی معیار کی بدولت سماج کے ہر طبقہ میں اپنی جگہ بنالی۔ اب روزنامہ خبریں نے حالات کے تقاضوں کے تحت اردو کے ساتھ ہندی میں24x7کے ڈائمنگ ویب سائٹ شروع کی ہے۔ ہمیں یقین ہے کہ یہ آپ کی توقعات پر پوری اترے گی۔

اہم لنک

  • ABOUT US
  • SUPPORT US
  • TERMS AND CONDITIONS
  • PRIVACY POLICY
  • GRIEVANCE
  • CONTACT US
  • ہوم
  • دیس پردیس
  • فکر ونظر
  • گراونڈ رپورٹ
  • انٹرٹینمینٹ
  • اداریے
  • ہیٹ کرا ئم
  • سپورٹ کیجیے

.ALL RIGHTS RESERVED © COPYRIGHT ROZNAMA KHABREIN

Welcome Back!

Login to your account below

Forgotten Password?

Retrieve your password

Please enter your username or email address to reset your password.

Log In

Add New Playlist

کوئی نتیجہ نہیں ملا
تمام نتائج دیکھیں
  • ہوم
  • دیس پردیس
  • فکر ونظر
    • مذہبیات
    • مضامین
  • گراونڈ رپورٹ
  • انٹرٹینمینٹ
  • اداریے
  • ہیٹ کرا ئم
  • سپورٹ کیجیے

.ALL RIGHTS RESERVED © COPYRIGHT ROZNAMA KHABREIN