اردو
हिन्दी
مئی 2, 2026
Latest News | Breaking News | Latest Khabar in Urdu at Roznama Khabrein
  • ہوم
  • دیس پردیس
  • فکر ونظر
    • مذہبیات
    • مضامین
  • گراونڈ رپورٹ
  • انٹرٹینمینٹ
  • اداریے
  • ہیٹ کرا ئم
  • سپورٹ کیجیے
کوئی نتیجہ نہیں ملا
تمام نتائج دیکھیں
  • ہوم
  • دیس پردیس
  • فکر ونظر
    • مذہبیات
    • مضامین
  • گراونڈ رپورٹ
  • انٹرٹینمینٹ
  • اداریے
  • ہیٹ کرا ئم
  • سپورٹ کیجیے
کوئی نتیجہ نہیں ملا
تمام نتائج دیکھیں
Latest News | Breaking News | Latest Khabar in Urdu at Roznama Khabrein
کوئی نتیجہ نہیں ملا
تمام نتائج دیکھیں

خوف کے ماحول میں امید کی راہیں !

5 سال پہلے
‏‏‎ ‎‏‏‎ ‎|‏‏‎ ‎‏‏‎ ‎ فکر ونظر, مضامین
A A
0
خوف کے ماحول میں امید کی راہیں !
97
مشاہدات
Share on FacebookShare on TwitterShare on Whatsapp

محمد آصف اقبال، نئی دہلی

گزشتہ سال 2020کے آخرمیں کووڈ۱۹ کی وبا کچھ کم ہوتی نظر ہی آرہی تھی کہ ایک بار پھر اس کی دوسری لہر چھہ ماہ کے اندر ہی جو تقریبا ً مارچ 2021سے شروع ہوئی ،نے بڑے پیمانہ پر اپنے اثرات ظاہر کرنا شروع کردیئے ہیں۔عام خیال یہ ہے کہ دوسری لہر میں پہلی کے بالمقابل نوجوانوں کو بیماری نے زیادہ متاثر کیا ہے۔برخلاف اس کے حکام نے Centre’s Integrated Disease Surveillance Programme،(IDSP)کی نگرانی میں اعداد و شمار کا حوالہ دیتے ہوئے بتایا ہے کہ پہلی لہر میں تقریباً31%فیصد مریض(اسپتالوں میں داخل ہونے والے اور اسپتالوں سے باہر)30سال کی عمر کے تھے ۔جبکہ دوسری لہر میں ایک فیصد کے اضافہ کے ساتھ 32%لوگ 30سال کیعمر کے ہیں۔وہیں 30سے 40سال کے افراد کی تعداد پہلی اور دوسری لہر میں 21% فیصد ہے ،جو یکساںہے۔لیکن دوسری لہر نے خوف کا ماحول اس وقت پیدا کردیا جبکہ لوگوں کو سانس لینے میں دشواری پہلے کے مقابلہ زیادہ ہونے لگی۔یہ تعداد پہلی لہر میں 41.7%تھی جبکہ دوسری لہر میں بڑھ کر47.5%فیصد ہوگئی۔وہیں ایسے افراد جنہیں آکسیجن کی فوری ضرورت کا مسئلہ پیش آیا ،ان کی تعداد میں بھی اضافہ ہورہا ہے۔پہلی لہر میں ایسے افراد کی تعداد 41.1%فیصد تھی لیکن دوسری لہر میں یہ تعداد 54.5%ہوچکی ہے اور مزید بڑھنے کے امکانات ہیں۔اس کے باوجود تقریباً70%متاثرین وہ ہیں جو 40سال اور اس سے زیادہ عمر کے ہیں۔یہ ظاہر کرتا ہے کہ بڑی عمر کے لوگ دوسری لہر میں بھی اس بیماری سے زیادہ متاثر ہو رہے ہیں۔دوسری جانب 20سال سے کم عمر کے نوجوان بھی اس بیماری سے دوسری لہر میں زیادہ متاثر ہوئے ہیں ۔پہلی لہر میں 0-19سال کی عمر کے لوگ 4.2%فیصد تھے جبکہ دوسری لہر میں 5.8%فیصد تک یہ تعداد پہنچ چکی ہے۔
این ڈی ٹی وی کی خبر کے مطابق ‘Susceptible, Undetected, Tested (positive), and Removed Approach” (SUTRA) model کے تحت IITکانپور اور حیدرآبادکے سائنسدانوں کا اندازہ ہے کہ ماہ مئی کے درمیان تک متاثرین کی تعداد میں مزید اضافہ ہوسکتا ہے اور یہ تعدادموجودہ متاثرین کے نتیجہ میں دیگر افراد کو متاثر کرتے ہوئے 33سے35لاکھ تک اپنی انتہا ئی اونچائی تک پہنچ سکتی ہے۔لیکن مئی کے اختتام تک ڈرامائی انداز میں بہت تیزی کے ساتھ اس میں کمی آنا بھی شروع ہوجائے گی۔دوسری جانب سائنسدانوں کا یہ بھی اندازہ ہے کہ دہلی، ہریانہ، راجستھان اور تلنگانہ میں مزید نئے کیسس25-30اپریل تک دیکھنے میں آئیں گے جبکہ مہارشٹر اور چھتیس گڑھ پہلے ہی نئے معاملات میں عروج پر پہنچ چکے ہیں۔یہ وہ مختصر صورتحال ہے جو ہمارے سامنے ہے۔خود ہمارے جاننے والے،دوست واحباب اوراعزا و اقارب نہ صرف اس مہلک بیماری سے متاثر ہو رہے ہیں بلکہ شرح اموات میں بھی اضافہ دیکھنے میں آرہا ہے۔ساتھ ہی پرنٹ، الیکٹرانک اور سوشل میڈیا کے ذریعہ حاصل ہونے والی خبروں اور اطلاعات نے خوف کے ماحول میں نیا رنگ پیدا کر دیا ہے۔خصوصاً سوشل میڈیا کے پلیٹ فارمس کے ذریعہ حاصل ہونے والی پوسٹوں نے اچھے خاصے انسانوں کو نفسیاتی مریض بنانا شروع کر دیا ہے۔اتفاق سے آج ایک پوسٹ نظر سے گزری جس میں لکھا تھا کہ ‘کیا ہم سب مرجائیں گے’۔یہ پوسٹ دیکھ کر اندازہ ہوتا ہے کہ فی الوقت ہم کن حالات سے دوچار ہیں اور ہماری قوت برداشت،خود اعتمادی اور نفسیاتی صورتحال کیا سے کیا ہوچکی ہے۔اور قابل تذکرہ بات یہ بھی ہے کہ یہ صورتحال ان لوگوںکی ہے جو پڑھے لکھے ہیں،باشعور کہے جاتے ہیں،شہروں میں قیام پذیر ہیں اور وسائل کو کسی نہ کسی حدتک استعمال کرنے کی حالت میں ہیں۔
برخلاف اس کے ایک بڑی تعداد ہے جو گائوں اور دیہاتوں میں رہتی ہے۔جہاں نہ کووڈ ۱۹کا ٹیسٹ ہو رہا ہے،نہ ہی وہ اس بیماری کے سلسلے میں بیدار ہیں،نہ وہاں علمی اور شعوری سطح بلند ہے اور حد تو یہ ہے کہ وہاں وسائل بھی موجود نہیں ہیں۔لوگ بیمار وہاں بھی ہو رہے ہیں، اموات بھی ہورہی ہیں،لیکن خوف کا وہ ماحول وہاں نہیں ہے جو شہروں میں اور پڑھے لکھے طبقے کے درمیان نظر آرہا ہے۔اس موقع پر یہ بات کہی جاسکتی ہے کہ جہاں علم ہوگا،شعور ہوگا وہیں بیداری اور حالات کو سمجھنے اور اس سے واقف ہونے کا ماحول ہوگا، اور یہ بات درست بھی ہے۔اس کے باوجود ان دو صورتحال کے درمیان دنیا سے جاتے ہوئے بظاہر بہت کچھ کھوجانے کا غم ہے جس نے مزید انسان کو تشویش میں مبتلا کر دیا ہے۔دوسری جانب وہ غریب عوام ہے جس کا کہنا ہے کہ مربھی جائیں گے تو کیا غم ہے،زندہ رہنے کے لیے تو ہر دن ایک آگ کے دریا سے گزرنا پڑتا ہے،چند پیسوںکے لیے عزت نفس تار تار ہوجاتی ہے،کئی کئی دن کی کمائی جب ایک ماسک کے ذرا سا نیچے ہونے پر دوہزار کا چالان کاٹ کے ہاتھ میں تھما دیا جاتا ہے تو اس حالت میں دل کس طرح سے تڑپ اٹھتا ہے اور روح کس طرح بے چین ہو جاتی ہے،یہ ہم ہی جانتے ہیں۔کیونکہ یہ چند روپے ہی تو تھے جو کسی کی دوا کا ذریعہ بننے والے تھے،کسی کے تن پر کپڑوں کوڈھانپنے کا سبب بنتے،دن بھر کی بھوک اور افلاس کو کچھ کم کرتے ،ادھار اور قرض کی ادائیگی کی صورت میں کچھ عزت پانے کا ذریعہ بن جاتے اور نہ جانے کیا کیا امکانات تھے،لیکن اب تو کچھ بھی نہیں بچا اور مسائل جوں کے توں باقی ہیںتو اس زندگی سے بھی کیا فائدہ؟جہاں غریب اور اس کی غربت پر رحم نہیں آتا اور آئے بھی کیوں ؟کیونکہ یہ نظام اور اس نظام سے وابستہ لوگ دراصل ظلم پر مبنی نظریہ پر صدیوں سے عمل پیرا رہے ہیں۔لہذا ایک جانب لاعلمی اور دوسری جانب غربت و افلاس نے موت کا ڈر بھی دل سے نکال دیا ہے اور اگر ڈر ہے بھی تو کیا غم ہے ؟کیونکہ غموں کی دھار تو زندہ رہتے ہوئے بھی زخم ہی دے رہی ہے۔
لیکن ایک بہت بڑا سوال ہے ہر اس شخص کے لیے جس کے دل سے موت کا ڈر نکل چکا ہے یا جو موت کے ڈر سے خوف زدہ ہے۔کہ مرنے کے بعد کہاں جائو گے اور جہاں جائوگے تو وہاں کیا پائوگے؟اس سوال پر ضرور غور کرنا چاہیے۔کیونکہ کووڈ ۱۹ کی دوسری لہر میں خصوصاً باشعور طبقہ ہی وہ طبقہ ہے جس کے پاس کرنے کے لیے ہر دو محاظ پر بہت کچھ ہے۔اس طبقہ کو چاہیے کہ جو کچھ بھی مہلت ملی ہے اس میں کچھ ایسا کر جائے،جس کے کرنے سے لوگوں کی امیدیں اُس سے وابستہ ہو جائیں۔یعنی انسانوں کی خیر و فلاح کے کام۔یہ خیر و فلاح کے کام کیا ہیں؟غالباً اردو پڑھنے لکھنے والے بخوبی جانتے ہوں گے۔اور اگر وہ جانتے ہیں تو پھر انہیں مہلت عمل کو نظر انداز نہیں کرنا چاہیے!

maiqbaldelhi@gmail.com

قارئین سے ایک گزارش

سچ کے ساتھ آزاد میڈیا وقت کی اہم ضرورت ہےـ روزنامہ خبریں سخت ترین چیلنجوں کے سایے میں گزشتہ دس سال سے یہ خدمت انجام دے رہا ہے۔ اردو، ہندی ویب سائٹ کے ساتھ یو ٹیوب چینل بھی۔ جلد انگریزی پورٹل شروع کرنے کا منصوبہ ہے۔ یہ کاز عوامی تعاون کے بغیر نہیں ہوسکتا۔ اسے جاری رکھنے کے لیے ہمیں آپ کے تعاون کی ضرورت ہے۔

سپورٹ کریں سبسکرائب کریں

مزید خبریں

US Iran War Strategic Defeat News
مضامین

امریکہ – اسرائیل – ایران جنگ میں امریکہ کی اسٹریٹجک ہار پہلے سے طے

23 مارچ
Hormuz Strait Iran Speech
مضامین

ایران میں قیادت کی تبدیلی اور مجتبیٰ خامنہ ای: ایک تجزیاتی مطالعہ

12 مارچ
Modi Israel Gaza Questions Debate
مضامین

پی ایم مودی کے دورہ اسرائیل میں غزہ کے مصائب کا ذکر تک نہ ہونے پر سوالات اٹھ رہے ہیں۔ کیا چاہتا ہے بھارت ؟

28 فروری
  • ٹرینڈنگ
  • تبصرے
  • تازہ ترین
Humayun Kabir Owaisi Video Row

ہمایوں کبیر کے خفیہ ویڈیو نے اویسی پر بی جے پی کی بی ٹیم کے الزام کو تقویت دی، اتحاد ٹوٹا ، سیاسی بصیرت پر بھی سوال

اپریل 10, 2026
یوپی کے 558 مدارس میں مڈ ڈے میل کون کھا رہا ہے؟ چونکاتی گراؤنڈ رپورٹ

یوپی کے 558 مدارس میں مڈ ڈے میل کون کھا رہا ہے؟ چونکاتی گراؤنڈ رپورٹ

اپریل 10, 2026
DD News Anchor Controversy News

پبلک ٹیکس سے چلنے والے ‘ڈی ڈی نیوز’ کے اینکر نے کہا” ساورکر کے چپل کی دھول بھی نہیں راہل گادھی

اپریل 13, 2026
طالبان ميں پھوٹ کی خبريں، حقيقت يا پروپيگنڈہ؟

طالبان ميں پھوٹ کی خبريں، حقيقت يا پروپيگنڈہ؟

ستمبر 19, 2021
امریکہ ایران کشیدگی خبر

امریکہ–ایران کشیدگی ایک بار پھر سرخیوں میں، جنگ بندی میں توسیع کے باوجود بڑے معاہدے کا مستقبل خطرے میں

الیکشن سے قبل سیاسی بیان بازی تیز، کئی بڑے لیڈرز آمنے سامنے

الیکشن سے قبل سیاسی بیان بازی تیز، کئی بڑے لیڈرز آمنے سامنے

دہلی میں بڑھتے جرائم پولیس الرٹ

دہلی-NCR میں جرائم کے واقعات میں اضافہ، پولیس الرٹ

امریکہ ایران کشیدگی خبر

ایران–امریکہ مذاکرات میں محدود پیش رفت، اختلافات بدستور برقرار: قالیباف

امریکہ ایران کشیدگی خبر

امریکہ–ایران کشیدگی ایک بار پھر سرخیوں میں، جنگ بندی میں توسیع کے باوجود بڑے معاہدے کا مستقبل خطرے میں

اپریل 22, 2026
الیکشن سے قبل سیاسی بیان بازی تیز، کئی بڑے لیڈرز آمنے سامنے

الیکشن سے قبل سیاسی بیان بازی تیز، کئی بڑے لیڈرز آمنے سامنے

اپریل 21, 2026
دہلی میں بڑھتے جرائم پولیس الرٹ

دہلی-NCR میں جرائم کے واقعات میں اضافہ، پولیس الرٹ

اپریل 21, 2026
امریکہ ایران کشیدگی خبر

ایران–امریکہ مذاکرات میں محدود پیش رفت، اختلافات بدستور برقرار: قالیباف

اپریل 19, 2026

حالیہ خبریں

امریکہ ایران کشیدگی خبر

امریکہ–ایران کشیدگی ایک بار پھر سرخیوں میں، جنگ بندی میں توسیع کے باوجود بڑے معاہدے کا مستقبل خطرے میں

اپریل 22, 2026
الیکشن سے قبل سیاسی بیان بازی تیز، کئی بڑے لیڈرز آمنے سامنے

الیکشن سے قبل سیاسی بیان بازی تیز، کئی بڑے لیڈرز آمنے سامنے

اپریل 21, 2026
Latest News | Breaking News | Latest Khabar in Urdu at Roznama Khabrein

روزنامہ خبریں مفاد عامہ ‘ جمہوری اقدار وآئین کی پاسداری کا پابند ہے۔ اس نے مختصر مدت میں ہی سنجیدہ رویے‘غیر جانبدارانہ پالیسی ‘ملک و ملت کے مسائل معروضی انداز میں ابھارنے اور خبروں و تجزیوں کے اعلی معیار کی بدولت سماج کے ہر طبقہ میں اپنی جگہ بنالی۔ اب روزنامہ خبریں نے حالات کے تقاضوں کے تحت اردو کے ساتھ ہندی میں24x7کے ڈائمنگ ویب سائٹ شروع کی ہے۔ ہمیں یقین ہے کہ یہ آپ کی توقعات پر پوری اترے گی۔

اہم لنک

  • ABOUT US
  • SUPPORT US
  • TERMS AND CONDITIONS
  • PRIVACY POLICY
  • GRIEVANCE
  • CONTACT US
  • ہوم
  • دیس پردیس
  • فکر ونظر
  • گراونڈ رپورٹ
  • انٹرٹینمینٹ
  • اداریے
  • ہیٹ کرا ئم
  • سپورٹ کیجیے

.ALL RIGHTS RESERVED © COPYRIGHT ROZNAMA KHABREIN

Welcome Back!

Login to your account below

Forgotten Password?

Retrieve your password

Please enter your username or email address to reset your password.

Log In

Add New Playlist

کوئی نتیجہ نہیں ملا
تمام نتائج دیکھیں
  • ہوم
  • دیس پردیس
  • فکر ونظر
    • مذہبیات
    • مضامین
  • گراونڈ رپورٹ
  • انٹرٹینمینٹ
  • اداریے
  • ہیٹ کرا ئم
  • سپورٹ کیجیے

.ALL RIGHTS RESERVED © COPYRIGHT ROZNAMA KHABREIN