اردو
हिन्दी
مئی 9, 2026
Latest News | Breaking News | Latest Khabar in Urdu at Roznama Khabrein
  • ہوم
  • دیس پردیس
  • فکر ونظر
    • مذہبیات
    • مضامین
  • گراونڈ رپورٹ
  • انٹرٹینمینٹ
  • اداریے
  • ہیٹ کرا ئم
  • سپورٹ کیجیے
کوئی نتیجہ نہیں ملا
تمام نتائج دیکھیں
  • ہوم
  • دیس پردیس
  • فکر ونظر
    • مذہبیات
    • مضامین
  • گراونڈ رپورٹ
  • انٹرٹینمینٹ
  • اداریے
  • ہیٹ کرا ئم
  • سپورٹ کیجیے
کوئی نتیجہ نہیں ملا
تمام نتائج دیکھیں
Latest News | Breaking News | Latest Khabar in Urdu at Roznama Khabrein
کوئی نتیجہ نہیں ملا
تمام نتائج دیکھیں

عدالتیں حکومتوں کے جابرانہ روی کے خلاف کھڑی ہوں

4 سال پہلے
‏‏‎ ‎‏‏‎ ‎|‏‏‎ ‎‏‏‎ ‎ فکر ونظر, مضامین
A A
0
عدالتیں حکومتوں کے جابرانہ روی کے خلاف کھڑی ہوں
65
مشاہدات
Share on FacebookShare on TwitterShare on Whatsapp

تحریر:سدھارتھ وردراجن

سپریم کورٹ کی جانب سے ہندوستان کے سیڈیشن کے قانون – تعزیرات ہند کی دفعہ 124 – اے کی کارروائیوں پر مرکزی حکومت کے ذریعے اس کے اپنے مجوزہ جائزہ کی تکمیل تک پابندی لگانے کا فیصلہ دینے سےایک دن قبل سالیسٹر جنرل تشار مہتہ عدالت میں تھےاور یہاں انہوں نے اپنا پیٹنٹ جھوٹ بتایا۔

لائیو لاء کے مطابق، مہتہ نے کہا،(سیڈیشن کے معاملوں میں) ایف آئی آر اور تحقیقات ریاستی حکومتیں کرتی ہیں۔ مرکزی حکومت ایسا نہیں کرتی ہے۔مہتہ نے جس بات کو آسانی سے نظر انداز کیا، وہ یہ تھا کہ دہلی پولیس – جس پر براہ راست مرکزی حکومت لیفٹیننٹ گورنر کے ذریعے کنٹرول کرتی ہے، وزیر داخلہ امت شاہ کی سلطنت کا حصہ ہے – نے پچھلے ہی سال کئی صحافیوں (مرنال پانڈے، راجدیپ سردیسائی، ظفر آغا، ونود جوس، اننت ناتھ) کے ساتھ ساتھ کانگریس لیڈر ششی تھرور کے خلاف سیڈیشن کا الزام لگایا تھا، ان لوگوں کا یہ قصور تھا کہ انہوں نے عوامی طور پر دعویٰ کیا تھاکہ 26 جنوری 2021 کو دہلی میں کسانوں کے ایک احتجاجی مظاہرہ کے دوران ہلاک ہوئے کسان کو گولی ماری گئی تھی۔

ملک بھر میں درج سیڈیشن کے زیادہ تر معاملے عام طور پر مضحکہ خیز ہیں۔ مہتہ نے ممبئی میں رانا فیملی کے خلاف درج سیڈیشن کے بے تکے الزام کا حوالہ دیا، لیکن پچھلے کچھ سالوں میں اس طرح کی مضحکہ خیز مثالیں مہاراشٹر سے منی پور تک مشاہدے میں آئی ہیں، زیادہ تر اس پارٹی کے کہنے پر جس کی حکومت کی سروس میں مہتہ کام کرتے ہیں۔

یہ واضح ہے کہ پولیس نے ہر جگہ قانون کی صریح خلاف ورزی کی ہے- جیسا کہ 1962 میں کیدارناتھ سنگھ معاملے میں سپریم کورٹ نے طے کیا تھا- کہ تشدد سے براہ راست تعلق نہ ہونے پر محض لفظ سیڈیشن نہیں بن سکتے۔ یہی وجہ ہے کہ دفعہ 124 اے کی آئینی حیثیت کو سپریم کورٹ میں چیلنج کیا گیا۔

دہلی کا معاملہ اہم ہے – اور سالیسٹر جنرل نے اسے آسانی سے فراموش کر دیا –کیوں کہ وہ واضح طور پر بتاتے ہیں کہ مودی حکومت تنقیدی اور ناپسندیدہ آوازوں کے خلاف سیڈیشن کے بے تحاشہ استعمال کے پیچھے کی ذہنیت سے بالکلیہ اتفاق رکھتی ہے۔ یہ مفصل ہندوستان یا ریاستوں کے انتقامی، غیر محفوظ لیڈروں کا مسئلہ نہیں ہے، بلکہ اس میں نا پسندیدہ آوازوں کو خاموش کرانے کے لیے قانون کے غلط استعمال پر وزیر اعظم اور وزیر داخلہ کی خواہش بھی شامل ہے۔

خود کو ایک مشکل پوزیشن میں پاتے ہوئے حکومت نے سر پر آچکے ایک فیصلے سے بچنے کی کوشش میں سیڈیشن کے قانون پر نظرثانی کی تجویز پیش کی ہے۔ اپنے مخصوص انداز میں اسے ایک سرکاری حلف نامے میں’عزت مآب ‘ وزیر اعظم کے ہندوستان کو نوآبادیاتی بوجھ سے آزاد کرنے کی مہم کے حصے کے طور پر پیش کیا گیا۔

سپریم کورٹ نے اس کھیل کو سمجھ لیا اور ایک اہم انتباہ کے ساتھ نظرثانی کی تجویز کو قبول کر لیا: اس نے کہا کہ تمام جاری سیڈیشن کے معاملوں کو اس عمل کے مکمل ہونے تک ملتوی رکھا جانا چاہیے۔یہ سچ ہے کہ پہلے سےحراست میں لیے گئےافراد کو فوراً ضمانت کی یقین دہانی نہیں کرائی گئی ہے، اور عدالت کے فیصلے میں نئے معاملے درج کرنے کے لیے بے حد محتاط زبان کا استعمال کیا گیا ہے – اس کو ’توقع ہے‘ کہ مرکزی اور ریاستی حکومتیں فی الحال 124اے کو لاگو کرنے سے گریز کریں گی – لیکن بنچ نے واضح کر دیا ہے کہ وہ اس تجویز کی خلاف ورزی پر کوئی رعایت نہیں دے گی۔

یہ مانتےہوئے کہ ہماری حکومتیں پوری طرح سے بے شرم نہیں ہیں — مرکزی وزیر قانون کرن رجیجو کی عدالت کو ’لکشمن ریکھا‘ کی وارننگ کے باوجود- عدالت کے عبوری فیصلے کا مؤثر طریقے سے یہ مطلب ہونا چاہیے کہ 150 سال پرانا سیڈیشن کا قانون بالآخر ختم ہو رہا ہے۔

اگر یہ کامیابی کے ساتھ عمل میں آ بھی جاتا ہے، تب بھی مودی حکومت کی طرف سے جس نظرثانی کا وعدہ کیا گیاہے، اس کے بہت گمبھیر ہونے کا امکان نہیں ہے۔ یہ دفاع کے جس طریقہ کار کی تجویز پیش کر رہا ہے — کہ سیڈیشن کی ایف آئی آر پر سپرنٹنڈنٹ آف پولیس (ایس پی) کی سطح کے ایک افسر کا دستخط کرنا لازمی ہوگا — نے درخواست گزاروں کو زیادہ متاثر نہیں کیا ہے۔ لہٰذا جب تک سپریم کورٹ کا نظریہ تبدیل نہیں ہوتا، تب تک نوآبادیاتی دور کی اس باقیات کو حکومت کے ناقدین کو ہراساں کرنے کے لیے استعمال نہیں کیا جائے گا۔

اگرچہ یہ مانا جارہا ہے کہ سپریم کورٹ کو اس معاملے میں حکومت کی مشتبہ نیت کے بارے میں زیادہ بے باک ہونا چاہیے تھا، لیکن پھر بھی یہ ایک خوش آئند بات ہے۔ بلاشبہ، اقتدار میں بیٹھے لوگوں ، جنہوں نے فری اسپیچ کو جرم قرار دینے کے لیے سیڈیشن کا استعمال کیا ہے، ان کے ترکش میں اب بھی بہت سے قانونی تیر باقی ہیں۔

اگرچہ یہ مانا جارہا ہے کہ سپریم کورٹ کو اس معاملے میں حکومت کی مشتبہ نیت کے بارے میں زیادہ بے باک ہونا چاہیے تھا، لیکن پھر بھی یہ ایک خوش آئند بات ہے۔ بلاشبہ، اقتدار میں بیٹھے لوگوں ، جنہوں نے فری اسپیچ کو جرم قرار دینے کے لیے سیڈیشن کا استعمال کیا ہے، ان کے ترکش میں اب بھی بہت سے قانونی تیر باقی ہیں۔

اس بات کا قوی امکان ہے کہ سیڈیشن کے جلد خاتمے کے نتیجے میں ناقدین کو دھمکانے اور صحافیوں، انسانی حقوق کے کارکنوں اور حزب اختلاف کے رہنماؤں کو خاموش کرانے کے لیے ملک بھر کی پولیس (اور ان کے آقا) بڑے پیمانے پر ان دیگر قوانین کے استعمال کی طرف قدم بڑھائے گی۔

عدالت کے لفظوں میں، ‘ہمیں امید ہے’ کہ چیف جسٹس آف انڈیا این وی رمنا اور ان کے ساتھی اس معاملے پر ہوشیاررہیں گے اور ان دیگر قوانین کے غلط استعمال کو روکنے کے طریقے بھی تلاش کریں گے۔

(بشکریہ: دی وائر ،یہ مضمون نگار کے ذاتی خیالات ہیں)

قارئین سے ایک گزارش

سچ کے ساتھ آزاد میڈیا وقت کی اہم ضرورت ہےـ روزنامہ خبریں سخت ترین چیلنجوں کے سایے میں گزشتہ دس سال سے یہ خدمت انجام دے رہا ہے۔ اردو، ہندی ویب سائٹ کے ساتھ یو ٹیوب چینل بھی۔ جلد انگریزی پورٹل شروع کرنے کا منصوبہ ہے۔ یہ کاز عوامی تعاون کے بغیر نہیں ہوسکتا۔ اسے جاری رکھنے کے لیے ہمیں آپ کے تعاون کی ضرورت ہے۔

سپورٹ کریں سبسکرائب کریں

مزید خبریں

US Iran War Strategic Defeat News
مضامین

امریکہ – اسرائیل – ایران جنگ میں امریکہ کی اسٹریٹجک ہار پہلے سے طے

23 مارچ
Hormuz Strait Iran Speech
مضامین

ایران میں قیادت کی تبدیلی اور مجتبیٰ خامنہ ای: ایک تجزیاتی مطالعہ

12 مارچ
Modi Israel Gaza Questions Debate
مضامین

پی ایم مودی کے دورہ اسرائیل میں غزہ کے مصائب کا ذکر تک نہ ہونے پر سوالات اٹھ رہے ہیں۔ کیا چاہتا ہے بھارت ؟

28 فروری
  • ٹرینڈنگ
  • تبصرے
  • تازہ ترین
Humayun Kabir Owaisi Video Row

ہمایوں کبیر کے خفیہ ویڈیو نے اویسی پر بی جے پی کی بی ٹیم کے الزام کو تقویت دی، اتحاد ٹوٹا ، سیاسی بصیرت پر بھی سوال

اپریل 10, 2026
طالبان ميں پھوٹ کی خبريں، حقيقت يا پروپيگنڈہ؟

طالبان ميں پھوٹ کی خبريں، حقيقت يا پروپيگنڈہ؟

ستمبر 19, 2021
یوپی کے 558 مدارس میں مڈ ڈے میل کون کھا رہا ہے؟ چونکاتی گراؤنڈ رپورٹ

یوپی کے 558 مدارس میں مڈ ڈے میل کون کھا رہا ہے؟ چونکاتی گراؤنڈ رپورٹ

اپریل 10, 2026
DD News Anchor Controversy News

پبلک ٹیکس سے چلنے والے ‘ڈی ڈی نیوز’ کے اینکر نے کہا” ساورکر کے چپل کی دھول بھی نہیں راہل گادھی

اپریل 13, 2026
امریکہ ایران کشیدگی خبر

امریکہ–ایران کشیدگی ایک بار پھر سرخیوں میں، جنگ بندی میں توسیع کے باوجود بڑے معاہدے کا مستقبل خطرے میں

الیکشن سے قبل سیاسی بیان بازی تیز، کئی بڑے لیڈرز آمنے سامنے

الیکشن سے قبل سیاسی بیان بازی تیز، کئی بڑے لیڈرز آمنے سامنے

دہلی میں بڑھتے جرائم پولیس الرٹ

دہلی-NCR میں جرائم کے واقعات میں اضافہ، پولیس الرٹ

امریکہ ایران کشیدگی خبر

ایران–امریکہ مذاکرات میں محدود پیش رفت، اختلافات بدستور برقرار: قالیباف

امریکہ ایران کشیدگی خبر

امریکہ–ایران کشیدگی ایک بار پھر سرخیوں میں، جنگ بندی میں توسیع کے باوجود بڑے معاہدے کا مستقبل خطرے میں

اپریل 22, 2026
الیکشن سے قبل سیاسی بیان بازی تیز، کئی بڑے لیڈرز آمنے سامنے

الیکشن سے قبل سیاسی بیان بازی تیز، کئی بڑے لیڈرز آمنے سامنے

اپریل 21, 2026
دہلی میں بڑھتے جرائم پولیس الرٹ

دہلی-NCR میں جرائم کے واقعات میں اضافہ، پولیس الرٹ

اپریل 21, 2026
امریکہ ایران کشیدگی خبر

ایران–امریکہ مذاکرات میں محدود پیش رفت، اختلافات بدستور برقرار: قالیباف

اپریل 19, 2026

حالیہ خبریں

امریکہ ایران کشیدگی خبر

امریکہ–ایران کشیدگی ایک بار پھر سرخیوں میں، جنگ بندی میں توسیع کے باوجود بڑے معاہدے کا مستقبل خطرے میں

اپریل 22, 2026
الیکشن سے قبل سیاسی بیان بازی تیز، کئی بڑے لیڈرز آمنے سامنے

الیکشن سے قبل سیاسی بیان بازی تیز، کئی بڑے لیڈرز آمنے سامنے

اپریل 21, 2026
Latest News | Breaking News | Latest Khabar in Urdu at Roznama Khabrein

روزنامہ خبریں مفاد عامہ ‘ جمہوری اقدار وآئین کی پاسداری کا پابند ہے۔ اس نے مختصر مدت میں ہی سنجیدہ رویے‘غیر جانبدارانہ پالیسی ‘ملک و ملت کے مسائل معروضی انداز میں ابھارنے اور خبروں و تجزیوں کے اعلی معیار کی بدولت سماج کے ہر طبقہ میں اپنی جگہ بنالی۔ اب روزنامہ خبریں نے حالات کے تقاضوں کے تحت اردو کے ساتھ ہندی میں24x7کے ڈائمنگ ویب سائٹ شروع کی ہے۔ ہمیں یقین ہے کہ یہ آپ کی توقعات پر پوری اترے گی۔

اہم لنک

  • ABOUT US
  • SUPPORT US
  • TERMS AND CONDITIONS
  • PRIVACY POLICY
  • GRIEVANCE
  • CONTACT US
  • ہوم
  • دیس پردیس
  • فکر ونظر
  • گراونڈ رپورٹ
  • انٹرٹینمینٹ
  • اداریے
  • ہیٹ کرا ئم
  • سپورٹ کیجیے

.ALL RIGHTS RESERVED © COPYRIGHT ROZNAMA KHABREIN

Welcome Back!

Login to your account below

Forgotten Password?

Retrieve your password

Please enter your username or email address to reset your password.

Log In

Add New Playlist

کوئی نتیجہ نہیں ملا
تمام نتائج دیکھیں
  • ہوم
  • دیس پردیس
  • فکر ونظر
    • مذہبیات
    • مضامین
  • گراونڈ رپورٹ
  • انٹرٹینمینٹ
  • اداریے
  • ہیٹ کرا ئم
  • سپورٹ کیجیے

.ALL RIGHTS RESERVED © COPYRIGHT ROZNAMA KHABREIN