آگرہ :
ملک میں کورونا بحران بڑھتا ہی جارہا ہے۔ دہلی، ممبئی کے علاوہ اب کئیدوسرے شہروںمیں بھی حالات خراب ہوتے جارہے ہیں۔ آگرہ میں مردو ں کی آخری رسومات کے لیے جگہ نہیں ہے۔ایک مردہ کے لواحقین کو آخری رسومات کے لیے تین دن انتظار کرنے کے لیے کہا گیا تھا۔ لواحقین نے آگرہ سے 90 کلومیٹر دور علی گڑھ میں جاکر آخری رسومات ادا کیں۔
اسپتالوں میں آکسیجن کی کمی کی وجہ سے مریضوں کو ٹھیک ہونے سے پہلے ہی ڈسچارج کیا جارہا ہے۔ گزشتہ روز آگرہ کے 10 اسپتالوں سے تقریباً ایک ہزار مریضوں کو آکسیجن کی کمی ہونے کے سبب ڈسچارج کردیا گیا۔ انڈین ریلوے میں کام کرنے والے پریم پال سنگھ کاانتقال کورونا سے ہوگیا۔ ان کے لواحقین کو ان کی آخری رسومات اداکرنے کے لیے آگرہ سے 90 کلومیٹر دور علی گڑھ جانا پڑا۔ پریم پال سنگھ کے بیٹے کرشن کمار لودھی نے بتایا کہ باپ ریلوے میں ڈیوٹی دے رہے تھے ۔ دو دن پہلے اچانک ان کی طبیعت خراب ہوگئی ۔ بعد میں پریم پال سنگھ کورونا پازیٹیو پائےگئے۔ انہیں اسپتال میں بھرتی کرایا گیا جہاں جمعرات کو ان کی موت ہوگئی ۔
کرشن کمار لودھی نے بتایا کہ پڑوسیوں کو شمشان گھاٹ بھیجنے پر پتہ چلا کہ ابھی 3 دن انتظار کرنا ہوگا تب ہی آخری رسومات ممکن ہے، جس کے بعد رشتہ داروں سے پتہ چلا کہ علی گڑھ کے نمائش گراؤنڈ میں آخری رسومات ادا کی جارہی ہیں شام تقریباً ساڑھے سات بجے ان کا علی گڑھ میں آخری رسم ادا کی گئی۔
اسی طرح موہت کمار نے اپنے باپ اودھیش کمار کے لئے آگرہ کے تاج گنج شمشان گھاٹ میں ایک سلاٹ حاصل کیا تھا ، لیکن ایمبولینس نہیں ملی۔ آخر کار اس نے اپنے باپ کو گاڑی کے اوپر چھت سے باندھ کر شمشان گھاٹ لے کر گیا۔
آگرہ کے اسپتالوں میں بھی آکسیجن بحران کا سامنا ہے۔ آئی ایم اے افسر ڈاکٹر او پی یادو نے کہا ہے کہ ریاستی حکومت نے آگرہ میں 34 مراکز کوووڈ ہاسپٹل کے طور پر قائم کیے ہیں۔ ہفتے کے روز ان اسپتالوں میں 3,340 مریض موجود تھے ، لیکن ان میں آکسیجن ختم ہوگئی تھی۔ انہوں نے کہا کہ بیشتر اسپتال اپنی کوششوں سے کسی نہ کسی طرح کچھ سلنڈروں کا بندوبست کرنے میں کامیاب ہوگئے ، لیکن 10 اسپتالوں کو اپنے تمام کووڈ مریضوں کو فارغ کرنا پڑا۔
بتادیں کہ پچھلے کئی دنوں سے آگرہ میں تقریباً500نئے کیسز آرہے ہیں۔ گزشتہ روز 437 نئے کیس رپورٹ ہوئے۔ جمعہ کو آگرہ میں 594 نئے کیس سامنے آئے تھے۔ متاثرہ افراد کی تعداد 17163 ہوگئی ہے۔








