اردو
हिन्दी
مئی 9, 2026
Latest News | Breaking News | Latest Khabar in Urdu at Roznama Khabrein
  • ہوم
  • دیس پردیس
  • فکر ونظر
    • مذہبیات
    • مضامین
  • گراونڈ رپورٹ
  • انٹرٹینمینٹ
  • اداریے
  • ہیٹ کرا ئم
  • سپورٹ کیجیے
کوئی نتیجہ نہیں ملا
تمام نتائج دیکھیں
  • ہوم
  • دیس پردیس
  • فکر ونظر
    • مذہبیات
    • مضامین
  • گراونڈ رپورٹ
  • انٹرٹینمینٹ
  • اداریے
  • ہیٹ کرا ئم
  • سپورٹ کیجیے
کوئی نتیجہ نہیں ملا
تمام نتائج دیکھیں
Latest News | Breaking News | Latest Khabar in Urdu at Roznama Khabrein
کوئی نتیجہ نہیں ملا
تمام نتائج دیکھیں

مسجدوں سے نکلتے ’بھگوان‘ یا قبضے کا ’مذہبی‘ طریقہ؟

4 سال پہلے
‏‏‎ ‎‏‏‎ ‎|‏‏‎ ‎‏‏‎ ‎ فکر ونظر, مضامین
A A
0
مسجدوں سے نکلتے ’بھگوان‘ یا قبضے کا ’مذہبی‘ طریقہ؟
76
مشاہدات
Share on FacebookShare on TwitterShare on Whatsapp

تحریر:| اپوروانند

ہم بچپن سے زمین یا کسی کا گھر ہتھیانے کے بہت سے حربے دیکھتے آئے ہیں۔ ایک دفعہ ایک صاحب مشکل میں پڑ گئے۔ دراصل ان کے گھر کی دیوار میں پڑی شگاف سے پیپل کا پودا نکل آیا تھا۔ وہ اسے ہٹا دینا چاہتے تھے تاکہ دیوار کمزور نہ ہو اور اس کی جڑیں اتنی گہرائی میں نہ چلی جائیں کہ پورے گھر کو ہی نقصان ہو جائے۔

ان کے ایک پڑوسی کو اس کی بھنک لگ گئی ۔ پھرآس پاس سے عقیدت مند آئے اور پیپل کے پودے کی پوجا کرنے لگے۔مکان مالک کے سامنے ان کے گھر کے ایک حصے پر عقیدت میں ڈوبے دوسرےہندو آہستہ آہستہ دعویٰ کر رہے تھے۔آخر وہ اس مقدس درخت کو کیسے چھو سکتے ہیں!بھجن کیرتن شروع ہوگیا اور گھر ہاتھ سے نکلتا ہوا دکھائی دیا۔ پڑوسیوں کی فطری حسد کی تسکین ہو رہی تھی۔ مقامی پولیس اس کا مزہ لے رہی تھی اور مکان کے اس تقدیسی عمل کو روکنے میں اس کی کوئی دلچسپی نہیں تھی۔

اپنا گھر بچانے کے لیے پولیس کو کچھ لے دے کرایک رات انہوں نے پودے کو نکال ہی دیا۔ میں جس وقت کی بات کر رہا ہوں، اس وقت بجرنگ دل جیسے مذہبی طور پر عزم سےپُرکارکنان نہیں تھے، ورنہ وہ رات کے اندھیرے میں پیپل بھگوان کو وہاں سے ہٹانے کا گناہ نہ کر پاتے۔

نجی پراپرٹی کو پبلک پراپرٹی میں تبدیل کرنے کا یہ مذہبی طریقہ، جو ہندوؤں کی خاص ایجاد ہے، مارکس کو اس کے بارےمیں معلوم نہ تھا۔ ورنہ وہ یہ نہ کہتے کہ مذہب عوام کے لیے افیون ہے۔وہ یہ لکھ جاتے کہ ذاتی املاک کے درخت کی تباہی کے لیے دھرم مٹھا ہے۔ اچانک کسی جگہ شیولنگ کے نمودار ہو جانے کی ’حیران کن لیکن سچی‘خبریں ہم بیچ بیچ میں سنتے رہتے تھے۔ بچپن کے معصوم ذہن پر اس معجزے کا راز کھل نہیں پاتا تھا۔ایک دن ایک گاؤں والے نے بتایا کہ کسی کی زمین پر قبضہ کرنے کا یہ سب سے آسان طریقہ ہے۔ زمین میں اتھلا گڑھا کھودو، اس میں ڈھیر سارے چنے ڈالو اور اس کے اوپر ننھی سی مورتی رکھ دو، آہستہ آہستہ پانی دیتے رہو۔ چنے پھولنے لگیں گے اورمورتی ایک دن اوپر اٹھتی ہوئی نمودار ہوجائے گی۔

پھر آس پاس کے گاؤں میں شور مچ جائے گا۔پوجا شروع ہو جائے گی۔ پنڈت اپنا گمچھا سنبھالتے ہوئے دیوتا کی خدمت میں حاضر ہوجائیں گے۔ معجزات کے بھوکے لوگ اپنی عقیدت کے ساتھ، جو ان کے پاس بکثرت ہے، ہاتھ جوڑے ، بھجن کرتے ہوئے جمع ہو جائیں گے۔سستا اور مؤثر! زمین کے حصول کا اس سے زیادہ غیر متشدد طریقہ کیا ہو سکتا ہے؟ جس کی زمین ہے، کیا وہ اس روحانیت کے لیے اتنی زمین بھی نہیں دے سکتا؟ غیر مَزروعَہ زمین ہوئی تو پھر بات ہی کیا؟

قبرستان کی زمین پر ایک کونے میں درخت پر مقدس دھاگوں کو باندھنے سے اس پر قبضہ کرنے کا عمل شروع ہو جاتا ہے۔ یا چھوٹی مورتی کو رکھ کر اس پر پانی چڑھا کر بھی یہ کیا جا سکتا ہے۔ آج کل یہ کام ترنگے سے بھی لیا جا رہا ہے۔ یعنی مسلمانوں کی زمین کو قومیایا جا رہا ہے۔

ابھی راجستھان میں سڑک سے سفر کرتے ہوئے ایک پہاڑی پر ایک بڑے رنگین پتھر کو دیکھا۔اس میں ہنومان کی شکل نکال دی گئی تھی۔ تصوراتی نظروں سے دیکھنے پر وہ ہنومان لگ رہے تھے۔ پھر کہیں وہاں ہنومان کا مندر بنا دیا جائے!

ہم نے بادلوں میں بھی کئی بار ایسی صورتیں دیکھی ہیں۔ وہ تو بھلا ہوہوا کا کہ وہ ٹکتی نہیں ورنہ عقیدت مند آسمان میں بھی ہنومان کا مندر بھی بنا لیتے!ایسے موقعوں پر شالی گرام جی یا شیولنگ کے نمودار ہونے کو دیکھا جاتا تھا۔ اس سے آسان کچھ نہیں ہے۔ کرشن جی کی تو ’تربھنگی مدرا‘ ہی ہمیں یاد ہے، حالانکہ ادھر کے لوگ شاید سدرشن چکردھاری کرشن کو ہی قابل پرستش مانتے ہوں گے۔ جیسے ہمیں بھولے بھالے ہنومان پیارے لگتے تھے، با ل ہنومان کے سورج کو نگل جانے کے کھیل پر ماں انجنا کی ڈانٹ سے بھی لطف آتا تھا!

ہنومان کی بات چلی تو مؤرخ رام شرن شرما یاد آگئے۔ دراصل جب بابری مسجد کی جگہ کو رام جنم بھومی کہہ کر ہتھیانے کی مہم چل رہی تھی، اس وقت کا سنا ہوا ان کا ایک لیکچر حافظے میں محفوظ ہے۔اپنے جانے پہچانے مزاحیہ انداز میں انہوں نے بہار میں کمیونسٹوں کی طرف سے چلائی گئی زمین پر قبضہ کی تحریک کو یاد کیا اور کہا کہ انہیں اپنے جھنڈے پرہنومان کو جگہ دینی چاہیے تھی، تب ان کی کامیابی یقینی تھی۔پھر انہوں نے عصری مادی مقاصد کے لیے ہنومان کی اہمیت پر بھی روشنی ڈالی۔ وہ لیکچر جس سے ہندو سامعین خوب لطف اندوز ہوئےتھے، آج ممکن نہیں ہے۔ لیکن اب شرما جی بھی تو نہیں رہے۔

آج جس زمین پر رام کا عظیم الشان مندر بن رہا ہے وہ اسی طریقہ سے حاصل کیا گیا ہے۔ اس کو سپریم کورٹ نے بھی تسلیم کیا۔سن 1949 میں بابری مسجد کے اندر رات کے اندھیرے میں چوری چوری بھگوان کی مورتیاں رکھ دی گئی تھیں۔ سپریم کورٹ نے کہا کہ یہ سنگین جرم تھا۔ لیکن یہ کتنی دلچسپ بات ہے کہ عدالت نے جس چیز کو چوری چوری مسجد میں مورتی گھسانا کہا اسے سماج کے سامنے رام للا کا نمودار ہونا کہا گیا۔ اور ہندو سماج نے اس کو قبول بھی کیا۔سب جانتے تھے کہ وہ مسجد میں چوری سے مورتی رکھ رہے ہیں۔ لیکن یہ مسجد پر اپنا دعویٰ پیش کرنے اور پھر اس پر قبضہ کرنے کا پرانا آزمایا ہوا ہندوستانی نسخہ تھا۔

پھر یہ کہنا شروع کیا گیا کہ یہ تومندرہی ہے اور اگر ہم اپنے مندر کو توڑ کر نیا مندر بنانا چاہتے ہیں تو دوسروں کوکیا! اس جھوٹ کو بڑی ڈھٹائی سے پھیلایا گیا اور ہندو سماج نے مان بھی لیا۔یہ بات دوسرے مذاہب کے لیے بھی درست ہے لیکن ابھی ہم ہندو سماج کی بات کر رہے ہیں۔ آخر مٹھوں میں مہنتوں کی جانشینی کا سوال بعض اوقات ہتھیاروں کی مدد سے کیوں طے کیا جاتا ہے؟کیا وارث کے یے موجودہ مہنت کو راستے سے ہٹانا اس لیے ضروری ہو جاتا ہے کہ اس کی خدمت کا جذبہ اتنا مضبوط ہو جاتا ہے کہ وہ گرو کی فطری،قدرتی مدت ختم ہونے کا انتظار نہیں کر سکتا؟ کیا یہ روحانی بے چینی ہے یا دنیاوی؟مہنتوں کے سماج میں ایسی خونی کہانیوں کی کمی نہیں ہے۔ اس لیے تقریباً ہر مہنت کو اپنے جانشین پر شک رہتا ہے۔

بابری مسجد پر قبضے کی شروعات مورتیوں کو چوری سے مسجد میں رکھنے سے ہوئی تھی۔ عدالت چاہتی تو اس کو جرم ماننے کے بعد سزا طے کرسکتی تھی۔ لیکن اس نے اس جرم کی حوصلہ افزائی کرنے والوں کو مسجد کی زمین دے کر انعام دیا۔ اس طرح اس نے ایک روایت کی بنیاد ڈال دی۔آج گیان واپی مسجد میں شیولنگ کے نمودار ہوجا نے کو جو معجزہ سمجھ رہے ہیں وہ جانتے ہیں کہ یہ جھوٹ ہے۔ ’بابا پرکٹ ہوئے مسجد میں‘، ایسا کہنے والے مذہبی ہوں نہ ہوں، وہ تجاوزات کےمجرم لازماًہیں۔وضوخانے میں جسے وہ شیولنگ کہہ رہے ہیں، وہ مسلمانوں کے مطابق وضوخانہ کا فوارہ ہے۔ لیکن دونوں میں مماثلت دیکھی جا سکتی ہے۔ اگر جھگڑالو پیپل کا درخت ہو سکتا ہے تو فوارہ شیولنگ کیوں نہیں؟

ہندوؤں کے پاس یہ سہولت ہے کہ وہ پتھر میں جان رکھ کر اسے اپنے مطلوبہ بت میں بدل سکتے ہیں۔ پھر اس فوارے کو اگر مجھے شیولنگ ماننے کی عقیدت ہےتو مسلمان کی مانی جائے گی یا میری۔سوال عقیدت کا ہے۔ اور عقیدت اسی کی قابل قبول ہے جس کے پاس لوگوں تعداد اور ریاست کی طاقت ہے!

(بشکریہ: دی وائر،یہ مضمون نگار کے ذاتی خیالات ہیں)

قارئین سے ایک گزارش

سچ کے ساتھ آزاد میڈیا وقت کی اہم ضرورت ہےـ روزنامہ خبریں سخت ترین چیلنجوں کے سایے میں گزشتہ دس سال سے یہ خدمت انجام دے رہا ہے۔ اردو، ہندی ویب سائٹ کے ساتھ یو ٹیوب چینل بھی۔ جلد انگریزی پورٹل شروع کرنے کا منصوبہ ہے۔ یہ کاز عوامی تعاون کے بغیر نہیں ہوسکتا۔ اسے جاری رکھنے کے لیے ہمیں آپ کے تعاون کی ضرورت ہے۔

سپورٹ کریں سبسکرائب کریں

مزید خبریں

US Iran War Strategic Defeat News
مضامین

امریکہ – اسرائیل – ایران جنگ میں امریکہ کی اسٹریٹجک ہار پہلے سے طے

23 مارچ
Hormuz Strait Iran Speech
مضامین

ایران میں قیادت کی تبدیلی اور مجتبیٰ خامنہ ای: ایک تجزیاتی مطالعہ

12 مارچ
Modi Israel Gaza Questions Debate
مضامین

پی ایم مودی کے دورہ اسرائیل میں غزہ کے مصائب کا ذکر تک نہ ہونے پر سوالات اٹھ رہے ہیں۔ کیا چاہتا ہے بھارت ؟

28 فروری
  • ٹرینڈنگ
  • تبصرے
  • تازہ ترین
Humayun Kabir Owaisi Video Row

ہمایوں کبیر کے خفیہ ویڈیو نے اویسی پر بی جے پی کی بی ٹیم کے الزام کو تقویت دی، اتحاد ٹوٹا ، سیاسی بصیرت پر بھی سوال

اپریل 10, 2026
طالبان ميں پھوٹ کی خبريں، حقيقت يا پروپيگنڈہ؟

طالبان ميں پھوٹ کی خبريں، حقيقت يا پروپيگنڈہ؟

ستمبر 19, 2021
یوپی کے 558 مدارس میں مڈ ڈے میل کون کھا رہا ہے؟ چونکاتی گراؤنڈ رپورٹ

یوپی کے 558 مدارس میں مڈ ڈے میل کون کھا رہا ہے؟ چونکاتی گراؤنڈ رپورٹ

اپریل 10, 2026
DD News Anchor Controversy News

پبلک ٹیکس سے چلنے والے ‘ڈی ڈی نیوز’ کے اینکر نے کہا” ساورکر کے چپل کی دھول بھی نہیں راہل گادھی

اپریل 13, 2026
امریکہ ایران کشیدگی خبر

امریکہ–ایران کشیدگی ایک بار پھر سرخیوں میں، جنگ بندی میں توسیع کے باوجود بڑے معاہدے کا مستقبل خطرے میں

الیکشن سے قبل سیاسی بیان بازی تیز، کئی بڑے لیڈرز آمنے سامنے

الیکشن سے قبل سیاسی بیان بازی تیز، کئی بڑے لیڈرز آمنے سامنے

دہلی میں بڑھتے جرائم پولیس الرٹ

دہلی-NCR میں جرائم کے واقعات میں اضافہ، پولیس الرٹ

امریکہ ایران کشیدگی خبر

ایران–امریکہ مذاکرات میں محدود پیش رفت، اختلافات بدستور برقرار: قالیباف

امریکہ ایران کشیدگی خبر

امریکہ–ایران کشیدگی ایک بار پھر سرخیوں میں، جنگ بندی میں توسیع کے باوجود بڑے معاہدے کا مستقبل خطرے میں

اپریل 22, 2026
الیکشن سے قبل سیاسی بیان بازی تیز، کئی بڑے لیڈرز آمنے سامنے

الیکشن سے قبل سیاسی بیان بازی تیز، کئی بڑے لیڈرز آمنے سامنے

اپریل 21, 2026
دہلی میں بڑھتے جرائم پولیس الرٹ

دہلی-NCR میں جرائم کے واقعات میں اضافہ، پولیس الرٹ

اپریل 21, 2026
امریکہ ایران کشیدگی خبر

ایران–امریکہ مذاکرات میں محدود پیش رفت، اختلافات بدستور برقرار: قالیباف

اپریل 19, 2026

حالیہ خبریں

امریکہ ایران کشیدگی خبر

امریکہ–ایران کشیدگی ایک بار پھر سرخیوں میں، جنگ بندی میں توسیع کے باوجود بڑے معاہدے کا مستقبل خطرے میں

اپریل 22, 2026
الیکشن سے قبل سیاسی بیان بازی تیز، کئی بڑے لیڈرز آمنے سامنے

الیکشن سے قبل سیاسی بیان بازی تیز، کئی بڑے لیڈرز آمنے سامنے

اپریل 21, 2026
Latest News | Breaking News | Latest Khabar in Urdu at Roznama Khabrein

روزنامہ خبریں مفاد عامہ ‘ جمہوری اقدار وآئین کی پاسداری کا پابند ہے۔ اس نے مختصر مدت میں ہی سنجیدہ رویے‘غیر جانبدارانہ پالیسی ‘ملک و ملت کے مسائل معروضی انداز میں ابھارنے اور خبروں و تجزیوں کے اعلی معیار کی بدولت سماج کے ہر طبقہ میں اپنی جگہ بنالی۔ اب روزنامہ خبریں نے حالات کے تقاضوں کے تحت اردو کے ساتھ ہندی میں24x7کے ڈائمنگ ویب سائٹ شروع کی ہے۔ ہمیں یقین ہے کہ یہ آپ کی توقعات پر پوری اترے گی۔

اہم لنک

  • ABOUT US
  • SUPPORT US
  • TERMS AND CONDITIONS
  • PRIVACY POLICY
  • GRIEVANCE
  • CONTACT US
  • ہوم
  • دیس پردیس
  • فکر ونظر
  • گراونڈ رپورٹ
  • انٹرٹینمینٹ
  • اداریے
  • ہیٹ کرا ئم
  • سپورٹ کیجیے

.ALL RIGHTS RESERVED © COPYRIGHT ROZNAMA KHABREIN

Welcome Back!

Login to your account below

Forgotten Password?

Retrieve your password

Please enter your username or email address to reset your password.

Log In

Add New Playlist

کوئی نتیجہ نہیں ملا
تمام نتائج دیکھیں
  • ہوم
  • دیس پردیس
  • فکر ونظر
    • مذہبیات
    • مضامین
  • گراونڈ رپورٹ
  • انٹرٹینمینٹ
  • اداریے
  • ہیٹ کرا ئم
  • سپورٹ کیجیے

.ALL RIGHTS RESERVED © COPYRIGHT ROZNAMA KHABREIN