اردو
हिन्दी
مئی 9, 2026
Latest News | Breaking News | Latest Khabar in Urdu at Roznama Khabrein
  • ہوم
  • دیس پردیس
  • فکر ونظر
    • مذہبیات
    • مضامین
  • گراونڈ رپورٹ
  • انٹرٹینمینٹ
  • اداریے
  • ہیٹ کرا ئم
  • سپورٹ کیجیے
کوئی نتیجہ نہیں ملا
تمام نتائج دیکھیں
  • ہوم
  • دیس پردیس
  • فکر ونظر
    • مذہبیات
    • مضامین
  • گراونڈ رپورٹ
  • انٹرٹینمینٹ
  • اداریے
  • ہیٹ کرا ئم
  • سپورٹ کیجیے
کوئی نتیجہ نہیں ملا
تمام نتائج دیکھیں
Latest News | Breaking News | Latest Khabar in Urdu at Roznama Khabrein
کوئی نتیجہ نہیں ملا
تمام نتائج دیکھیں

مغل ہندوتوابریگیڈ کے نئے ویلن

4 سال پہلے
‏‏‎ ‎‏‏‎ ‎|‏‏‎ ‎‏‏‎ ‎ فکر ونظر, مضامین
A A
0
مغل ہندوتوابریگیڈ کے نئے ویلن
129
مشاہدات
Share on FacebookShare on TwitterShare on Whatsapp

تحریر:سدھارتھ بھاٹیہ

ہندوتوا کے شدت پسند اورمتعصب ذہنوں میں مغلوں کے لیے ایک خاص جگہ ہے۔ خود وزیر اعظم نریندر مودی نے کئی بار 1200 سال کی غلامی کا ذکر کیا ہے۔سال 2014 میں ان کی حکومت بننے کے بعد دہلی سے بھارتیہ جنتا پارٹی کے ایک رکن پارلیامنٹ نے اورنگ زیب روڈ کا نام بدل کر عبدالکلام آزاد روڈ کرنے، یعنی ایک ظالم مسلمان کے نام کو ایک محب وطن مسلمان کے نام سےبدلنے — کا مطالبہ کیا اور مقامی میونسپل کارپوریشن نے ان کی خواہش کے احترام میں ذرا بھی تاخیر نہیں کی۔

تاہم، اس کے بعد مغلوں کو ٹھنڈے بستے میں ڈال دیا گیا، پھر پارٹی اور اس کی مجازی فوج نے براہ راست ہندوستانی مسلمانوں کو اپنے نشانے پر لینا شروع کیا۔لفظ مغل ہندوستانی مسلمانوں کی نشاندہی کرنے والا پراکسی بن گیا۔ پچھلے آٹھ سالوں کے دوران، اس کمیونٹی کو اقتصادی، سماجی حتیٰ کہ جسمانی طور پر –نشانہ بنانا نہ صرف جنونی اور مشتعل ہجوم ، بلکہ سرکاروں کی بھی اولین ترجیحات میں شامل ہوگیاہے۔

اب ایک بار پھر مغل مرکزی اسٹیج پر آگئے ہیں۔قانون کی ڈگری رکھنے والے مہاراشٹر کے سابق وزیر اعلیٰ دیویندر فڈنویس نے دعویٰ کیا ہے کہ 1992 میں بابری مسجد کے انہدام میں وہ بھی شامل تھے۔عام طور پر سیاستدان زیادہ سرمایہ کاری یا اپنی اقتصادی یا سماجی بہبود کے منصوبوں کو حصولیابی کے طور پر پیش کرتے ہیں۔ یہ شاید پہلا موقع ہے کہ ایک سابق وزیر اعلیٰ فخریہ ایک ایسے غیر قانونی فعل میں ملوث ہونے کے بارے میں بات کر رہے ہیں جس نے ہندوستان کے سیکولر تانے بانے کو تار تار کیا۔

فڈنویس کے بیان نے ان کے اور شیوسینا کے درمیان زبانی جنگ کی صورتحال پیدا کردی ہے۔ غور طلب ہے کہ شیو سینا بھی مسجد کے انہدام میں اپنے شامل ہونے پر فخر محسوس کرتی ہے۔ ادھو ٹھاکرے نے اعلان کیا کہ اگرفربہ اندام (تھل تھل) فڈنویس واقعی مسجد کے گنبد پر چڑھے ہوں گے، تو مسجد خود بخودگر گئی ہوگی!دریں اثنا، بی جے پی کے ایک رہنما نے ریاستی حکومت سے مغل دور کے گاؤں کے نام کو تبدیل کرنے کو کہا ہے۔ ان کو ظاہری طور پر اس حقیقت سے کوئی لینا دینا نہیں ہے کہ ان میں سے کئی اکثر ان لوگوں کے نام پر رکھے گئے تھے،جنہیں زمین کی گرانٹ دی گئی تھی۔

اتر پردیش میں بی جے پی کے ایک مقامی عہدیدار نے عدالت سےدرخواست کی کہ تاج محل کے سیل بند کمروں کو کھولا جائے جسے شاہ جہاں نے اپنی بیوی ممتاز محل کی محبت کی یادگار کے طور پر بنایا تھا تاکہ ان کمروں میں ہندو مورتیوں کو تلاش کیا جاسکے۔ الہ آباد ہائی کورٹ نے اس درخواست کو مسترد کر دیا۔کسی سے پیچھے نہیں رہنے کی دوڑ میں کئی فرضی ناولوں کے مصنف امیش ترپاٹھی نے یہ دعویٰ کیا کہ،مغل باہری تھے اور وہ ہندوستانی نہیں، بلکہ چینی کی طرح دکھتے تھے۔ اس احمقانہ بیان کو کئی بنیادوں پر چیلنج کیا جا سکتا ہے۔

سب سے پہلی بات ، ‘ہندوستانی شکل’ جیسی کسی شے کا کوئی وجود نہیں ہے – یہی ہندوستان کے تنوع کا حسن ہے۔وہ صرف شمال مشرق کے لوگوں کے خلاف تعصب کو ہوا دے رہے ہیں، جنہیں ویسے ہی اپنے دوسرے ہندوستانی شہریوں کے ہاتھوں امتیازی سلوک کا سامنا کرنا پڑتاہے۔ دوسری بات، ہمایوں کے بعد تمام مغل ہندوستان میں پیدا ہوئے اور اکبر کی کم از کم ایک راجپوت بیوی تھی، جس کا بیٹا جہانگیر تھا۔وہ پوری طرح سےہندوستان میں گھل مل گئے تھے، اور اگر اسلام کی تبلیغ پر ان کا بہت زیادہ زور ہوتا تو ہندوستانیوں کی ایک کہیں بڑی تعداد مسلمان ہوتی۔اور سب سے بڑھ کر، اگر ترپاٹھی کی ناقص منطق کے مطابق دوسرے ممالک میں رہ رہے والے لاکھوں ہندوستانی نژاد لوگوں کو ہندوستان واپس جانے کے لیے کہا جا سکتا ہے۔ ان میں سے بہت سے، مثلاً آئرلینڈ میں لیو وراڈکر اور برطانیہ میں رشی سنک اعلیٰ سیاسی عہدوں پر فائز ہیں، اور ستیہ نڈیلا اور سندر پچئی بڑی ٹیک کمپنیوں کو چلارہے ہیں۔

ترپاٹھی مؤرخ نہیں ہیں، لیکن وہ بھی جانتے ہوں گے کہ مغل پورے طور پر ہندوستانی ہو گئے تھے —اس وقت کے حساب سے ایسا ہونے کا جو بھی مطلب رہا ہو — اور ثقافت، فن تعمیر اور معاشرے میں ان کی خدمات نے ہمیں مالا مال کیا ہے۔وہ لندن میں انڈین کونسل فار کلچرل ریلیشنز کے زیر اہتمام چلائے جا رہے نہرو سینٹر کے سربراہ ہیں۔ یہ ایک سرکاری نوکری ہے۔ یہ حقیقت کہ این ڈی ٹی وی جیسےنمایاں نیوز چینل، جس کو اپنی صحافت پر فخر ہے، نے ان کو ایک پلیٹ فارم دیا اور ان کے نظریاتی جھکاؤ سے اچھی طرح واقف ہونے کے باوجود ان کی باتوں پر کوئی جوابی دعویٰ نہیں کیا، یہ ہماری عوامی گفتگو کے گرتے ہوئے معیار کے بارے میں بہت کچھ بتاتا ہے۔

ہر طرف سے مغلوں پر حملہ آور آوازیں اس بات کی نشاندہی کرتی ہیں کہ یہ ایک بار پھرفرقہ وارانہ درجہ حرارت کو بڑھانے کی سوچی سمجھی حکمت عملی ہے۔ایک سیاست دان، بی جے پی کی مقامی اکائی کا ایک عہدیدار، اور انگریزی میں لکھنے والا ایک رائٹرساتھ مل کر کئی طبقوں تک پہنچ سکتے ہیں اور ہمیں ٹیلی ویژن چینلوں کو نہیں بھولنا چاہیے، جو نفرت کے پیغامات کو دور دور تک پھیلاتے ہیں۔ یہ سب محض اتفاق نہیں ہو سکتا۔یقیناً گجرات میں آنے والے انتخابات اس کی ایک وجہ ہو سکتے ہیں۔ اس ریاست کے مسلمانوں کو پہلے ہی حاشیے پر ڈال دیا گیا ہے اور وہاں کے ہندو نریندر مودی اور بی جے پی کے بڑے پیروکار ہیں۔کہا جاتا ہے کہ محمود غزنی نے جدید گجرات کے ساحل پر واقع سومناتھ مندر کو تباہ کیا اور وہاں سے بہت ساری املاک لوٹ کر لے گیا۔ یہ کہانی، اس کی تاریخی حقیقت خواہ کچھ بھی ہو، نہ صرف ریاست بلکہ دیگر جگہوں کے لوگوں کے ذہنوں میں بھی نقش ہے۔جیسا کہ سب جانتے ہیں، محمود مغل نہیں تھا اور اس کا حملہ گیارہویں صدی میں، یعنی بابر کے ہندوستانی سرزمین پر قدم رکھنے سے بہت پہلے ہوا تھا۔ لیکن جب مقصد مسلمانوں کو برا ثابت کرنا ہو تو چند صدیاں کیا معنی رکھتی ہیں؟

موجودہ دور میں لفظ ‘مغل’ جدید مسلمانوں کو نیچا دکھانے اور ان پر حملہ کرنے کے لیے مستعمل ایک ہمہ گیر اصطلاح بن گیا ہے ۔ جیسے ‘بریانی’ اور دوسرے واضح طور پر بھدے لفظوں کی طرح۔ وہی ہیں جو ان بادشاہوں کے مبینہ گناہوں اور جرائم کی قیمت ادا کرتے ہیں، جن کے ساتھ ان کا کوئی تعلق بھی نہیں ہے۔اس علامتی استعمال کو نہ صرف ہندوتوا بریگیڈ بلکہ دوسرے لوگ بھی اچھی طرح سمجھتے ہیں۔ اور بی جے پی کو امید ہے کہ دوسرے ہندو بھی تعلقات کے اس تار کو جوڑ لیں گے اور اس طرح انہیں انتخابات میں کافی فائدہ ہوگا۔مسلم دشمنی کا مسلسل شور میڈیا، وہاٹس ایپ پر حتیٰ کہ دوستوں کے درمیان ہونے والی رسمی بات چیت میں بھی لوگوں تک پہنچ رہا ہے یہ اور کچھ نہیں، توکم از کم ایک منطقی سوچ رکھنے والے کے ذہن میں بھی شکوک و شبہات کے بیج بونے کام کرتا ہے، جو دھیرے دھیرے ان باتوں پر یقین کرنے لگتا ہے کہ ان میں سے بعض الزامات میں کچھ نہ کچھ سچائی ضرور ہوگی۔

لوگوں کی بیٹھکوں میں پوچھا جانے والا ایک بے حد عام سوال ہے، ‘آزاد خیال اور دانشور مسلمان اپنی برادری کی بنیاد پرستی کی مذمت کیوں نہیں کرتے؟کتنے بھی ثبوت پیش کیے جائیں، ان نئے لوگوں کےشکوک و شبہات کا ازالہ نہیں کیا جا سکتا۔اور ان سب کا لینا دیناصرف الیکشن سے نہیں ہے۔ یہ ایک وسیع تر ہندو راشٹر کے منصوبے کا حصہ ہے۔ مسلمان اور ان کی ثقافت بی جے پی اور اس کے نظریاتی مورچے راشٹریہ سویم سیوک سنگھ کے لیے ایک لعنت ہے۔تمام عظمت ‘ہندو ثقافت’ میں ہے، اس کا مطلب کچھ بھی ہو۔ ہندوتوا کے مبلغین کے لیے یہ ضروری ہے کہ وہ مغلوں اور ان کی توسیع پسندی میں مسلمانوں کو گھس پیٹھیا اور باہری کے طور پر دیکھاجائے، جنہوں نے ہندو تہذیب میں خلل ڈالنے کا کام کیا ہے۔

ان کے لیے ضروری ہے کہ پوری کمیونٹی پر بدعتی کاٹھپہ لگا دیا جائے۔ تاریخ اس نظریہ کے حق میں گواہی نہیں دیتی – لیکن تاریخ ہندوتوا ذہن کا مضبوط پہلو نہیں ہے۔ وہ صرف جعلی اکاؤنٹس کی متوازی کائنات میں ہی سیر کرتا ہے۔مسلمانوں اور اسلام اور اس کے ایک سرے کے طور پر مغلوں کو ولن کے طور پر دیکھا جاتا ہے اور یہی ان کے لیے حتمی سچائی ہے۔ بی جے پی نے مغلوں کی شکل میں ایک ایسا خزانہ دریافت کیا ہے، جس سے متھ، اساطیر اور اختلاف رائے کے دم پر آنے والی دہائیوں تک فائدہ اٹھایا جا سکتا ہے۔

(بشکریہ: دی وائر:یہ مضمون نگار کے ذاتی خیالات ہیں)

قارئین سے ایک گزارش

سچ کے ساتھ آزاد میڈیا وقت کی اہم ضرورت ہےـ روزنامہ خبریں سخت ترین چیلنجوں کے سایے میں گزشتہ دس سال سے یہ خدمت انجام دے رہا ہے۔ اردو، ہندی ویب سائٹ کے ساتھ یو ٹیوب چینل بھی۔ جلد انگریزی پورٹل شروع کرنے کا منصوبہ ہے۔ یہ کاز عوامی تعاون کے بغیر نہیں ہوسکتا۔ اسے جاری رکھنے کے لیے ہمیں آپ کے تعاون کی ضرورت ہے۔

سپورٹ کریں سبسکرائب کریں

مزید خبریں

US Iran War Strategic Defeat News
مضامین

امریکہ – اسرائیل – ایران جنگ میں امریکہ کی اسٹریٹجک ہار پہلے سے طے

23 مارچ
Hormuz Strait Iran Speech
مضامین

ایران میں قیادت کی تبدیلی اور مجتبیٰ خامنہ ای: ایک تجزیاتی مطالعہ

12 مارچ
Modi Israel Gaza Questions Debate
مضامین

پی ایم مودی کے دورہ اسرائیل میں غزہ کے مصائب کا ذکر تک نہ ہونے پر سوالات اٹھ رہے ہیں۔ کیا چاہتا ہے بھارت ؟

28 فروری
  • ٹرینڈنگ
  • تبصرے
  • تازہ ترین
Humayun Kabir Owaisi Video Row

ہمایوں کبیر کے خفیہ ویڈیو نے اویسی پر بی جے پی کی بی ٹیم کے الزام کو تقویت دی، اتحاد ٹوٹا ، سیاسی بصیرت پر بھی سوال

اپریل 10, 2026
طالبان ميں پھوٹ کی خبريں، حقيقت يا پروپيگنڈہ؟

طالبان ميں پھوٹ کی خبريں، حقيقت يا پروپيگنڈہ؟

ستمبر 19, 2021
یوپی کے 558 مدارس میں مڈ ڈے میل کون کھا رہا ہے؟ چونکاتی گراؤنڈ رپورٹ

یوپی کے 558 مدارس میں مڈ ڈے میل کون کھا رہا ہے؟ چونکاتی گراؤنڈ رپورٹ

اپریل 10, 2026
DD News Anchor Controversy News

پبلک ٹیکس سے چلنے والے ‘ڈی ڈی نیوز’ کے اینکر نے کہا” ساورکر کے چپل کی دھول بھی نہیں راہل گادھی

اپریل 13, 2026
امریکہ ایران کشیدگی خبر

امریکہ–ایران کشیدگی ایک بار پھر سرخیوں میں، جنگ بندی میں توسیع کے باوجود بڑے معاہدے کا مستقبل خطرے میں

الیکشن سے قبل سیاسی بیان بازی تیز، کئی بڑے لیڈرز آمنے سامنے

الیکشن سے قبل سیاسی بیان بازی تیز، کئی بڑے لیڈرز آمنے سامنے

دہلی میں بڑھتے جرائم پولیس الرٹ

دہلی-NCR میں جرائم کے واقعات میں اضافہ، پولیس الرٹ

امریکہ ایران کشیدگی خبر

ایران–امریکہ مذاکرات میں محدود پیش رفت، اختلافات بدستور برقرار: قالیباف

امریکہ ایران کشیدگی خبر

امریکہ–ایران کشیدگی ایک بار پھر سرخیوں میں، جنگ بندی میں توسیع کے باوجود بڑے معاہدے کا مستقبل خطرے میں

اپریل 22, 2026
الیکشن سے قبل سیاسی بیان بازی تیز، کئی بڑے لیڈرز آمنے سامنے

الیکشن سے قبل سیاسی بیان بازی تیز، کئی بڑے لیڈرز آمنے سامنے

اپریل 21, 2026
دہلی میں بڑھتے جرائم پولیس الرٹ

دہلی-NCR میں جرائم کے واقعات میں اضافہ، پولیس الرٹ

اپریل 21, 2026
امریکہ ایران کشیدگی خبر

ایران–امریکہ مذاکرات میں محدود پیش رفت، اختلافات بدستور برقرار: قالیباف

اپریل 19, 2026

حالیہ خبریں

امریکہ ایران کشیدگی خبر

امریکہ–ایران کشیدگی ایک بار پھر سرخیوں میں، جنگ بندی میں توسیع کے باوجود بڑے معاہدے کا مستقبل خطرے میں

اپریل 22, 2026
الیکشن سے قبل سیاسی بیان بازی تیز، کئی بڑے لیڈرز آمنے سامنے

الیکشن سے قبل سیاسی بیان بازی تیز، کئی بڑے لیڈرز آمنے سامنے

اپریل 21, 2026
Latest News | Breaking News | Latest Khabar in Urdu at Roznama Khabrein

روزنامہ خبریں مفاد عامہ ‘ جمہوری اقدار وآئین کی پاسداری کا پابند ہے۔ اس نے مختصر مدت میں ہی سنجیدہ رویے‘غیر جانبدارانہ پالیسی ‘ملک و ملت کے مسائل معروضی انداز میں ابھارنے اور خبروں و تجزیوں کے اعلی معیار کی بدولت سماج کے ہر طبقہ میں اپنی جگہ بنالی۔ اب روزنامہ خبریں نے حالات کے تقاضوں کے تحت اردو کے ساتھ ہندی میں24x7کے ڈائمنگ ویب سائٹ شروع کی ہے۔ ہمیں یقین ہے کہ یہ آپ کی توقعات پر پوری اترے گی۔

اہم لنک

  • ABOUT US
  • SUPPORT US
  • TERMS AND CONDITIONS
  • PRIVACY POLICY
  • GRIEVANCE
  • CONTACT US
  • ہوم
  • دیس پردیس
  • فکر ونظر
  • گراونڈ رپورٹ
  • انٹرٹینمینٹ
  • اداریے
  • ہیٹ کرا ئم
  • سپورٹ کیجیے

.ALL RIGHTS RESERVED © COPYRIGHT ROZNAMA KHABREIN

Welcome Back!

Login to your account below

Forgotten Password?

Retrieve your password

Please enter your username or email address to reset your password.

Log In

Add New Playlist

کوئی نتیجہ نہیں ملا
تمام نتائج دیکھیں
  • ہوم
  • دیس پردیس
  • فکر ونظر
    • مذہبیات
    • مضامین
  • گراونڈ رپورٹ
  • انٹرٹینمینٹ
  • اداریے
  • ہیٹ کرا ئم
  • سپورٹ کیجیے

.ALL RIGHTS RESERVED © COPYRIGHT ROZNAMA KHABREIN