اردو
हिन्दी
مئی 9, 2026
Latest News | Breaking News | Latest Khabar in Urdu at Roznama Khabrein
  • ہوم
  • دیس پردیس
  • فکر ونظر
    • مذہبیات
    • مضامین
  • گراونڈ رپورٹ
  • انٹرٹینمینٹ
  • اداریے
  • ہیٹ کرا ئم
  • سپورٹ کیجیے
کوئی نتیجہ نہیں ملا
تمام نتائج دیکھیں
  • ہوم
  • دیس پردیس
  • فکر ونظر
    • مذہبیات
    • مضامین
  • گراونڈ رپورٹ
  • انٹرٹینمینٹ
  • اداریے
  • ہیٹ کرا ئم
  • سپورٹ کیجیے
کوئی نتیجہ نہیں ملا
تمام نتائج دیکھیں
Latest News | Breaking News | Latest Khabar in Urdu at Roznama Khabrein
کوئی نتیجہ نہیں ملا
تمام نتائج دیکھیں

محبت رسولؐ سے اہانت رسولؐ تک

4 سال پہلے
‏‏‎ ‎‏‏‎ ‎|‏‏‎ ‎‏‏‎ ‎ مذہبیات, مضامین
A A
0
محبت رسولؐ سے اہانت رسولؐ تک
214
مشاہدات
Share on FacebookShare on TwitterShare on Whatsapp

تحریر:محمد خالد

بنارس کی گیان واپی مسجد کی ملکیت کا تعین کرنے کی غرض سے عدالت نے مسجد کا سروے کرنے کا حکم دیا تھا۔ سروے مکمل ہونے کے بعد اس سے قبل کہ عدالت سروے کا جائزہ لینے اور حقائق کو سمجھنے کے بعد کوئی فیصلہ دیتی، ہندو اور مسلمان دونوں نے اپنے اپنے انداز میں سروے پر رائے دینا شروع کر دی تھی۔ اسی دوران مسجد کے وضو خانہ حوض میں لگے فوارہ کو شیو لنگ سے تعبیر کیا جانے لگا۔ بس پھر کیا تھا بعض ٹی وی چینل کو اپنی ٹی آر پی بڑھانے کا بہترین موقع ہاتھ آ گیا۔ مسلمان اور ہندو مختلف چینلوں پر بلائے جانے لگے اور یہ سلسلہ بڑھتے بڑھتے نوپر شرما ایپوسوڈ تک پہنچ گیا۔ جس میں گیان واپی مسجد اور شیو لنگ کی بات نبی کریم ؐ کی شادی تک پہنچ گئی۔ یہاں سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ توہین رسالت کے قصور وار کون ہیں؟ وہ مسلم جن پر اطاعت رسول اللہ ؐ فرض ہے یا پھر وہ غیر مسلم، جن کو موجودہ مسلمانان ہند نے نبی رحمت محمد رسول اللہ ؐ سے واقف ہی نہیں کرایا، جبکہ اسی ملک میں جب مسلمانوں کی زندگی میں سیرت رسولؐ موجود تھی تو اس وقت یہاں کے برادران وطن بھی نبی کریم ؐ کو بڑی عقیدت کی نظر سے دیکھتے تھے۔

ٹی وی چینلوں پر جانے والے مسلمانوں کے سامنے تو خالق کائنات کی انسانی رہنمائی کے لئے آخری کتاب ہدایت موجود ہے جس میں حکم دیا گیا ہے کہ؛ ’’اور اے ایمان لانے والو!یہ لوگ اللہ کے سوا جن کو پکارتے ہیں انہیں گالیاں نہ دو، کہیں ایسا نہ ہو کہ یہ شرک سے آگے بڑھ کر جہالت کی بنا پر اللہ کو گالیاں دینے لگیں ہم نے اسی طرح ہر گروہ کے لیے اس کے عمل کو خوشنما بنا دیا ہے پھر انہیں اپنے رب ہی کی طرف پلٹ کر آنا ہے، اُس وقت وہ اُنہیں بتا دے گا کہ وہ کیا کرتے رہے ہیں ؟‘‘(الانعام 108)

ٹی وی چینلوں پر ہونے والی بحثوں کے علاوہ گزشتہ چند روز سے پورے ملک میں اہانت رسول اللہ ؐ کے تعلق سے مسلمانوں کی جانب سے جس انداز اور لہجے میں لعن تعن کی جا رہی ہے اور انتہائی جذباتی بیان جاری کئے جا رہے ہیں، ان سے معتدل برادران وطن کی تو بس دل آزاری ہو رہی ہے مگر شدت پسند ہندوؤں کی اسلام اور مسلمانوں سے دشمنی میں اضافہ محسوس کیا جا رہا ہے۔ایک تشویشناک بات یہ ہے کہ اس وقت علماء و دانشور حضرات تسلسل کے ساتھ مضامین و بیانات پیش کر رہے ہیں جن میں احادیث کے حوالے سے حضرت عائشہ ؓ کے نبی کریم ؐ کے ساتھ عقد نکاح کے وقت حضرت عائشہ ؓ کی عمر6 سال اور رخصتی کے وقت کی عمر 9 سال بتائی جا رہی ہے۔ جس کو درست ثابت کرنے کے لئے یہ بھی بتایا جا رہا ہے کہ سبھی تہذیب و مذاہب میں تقریباً اسی عمر کو شادی کے لئے مناسب عمر سمجھا جاتا رہا ہے۔حالیہ واقعہ کی اولین قصور وار نوپر شرما نے اپنے ایک ٹی وی انٹرویو میں بڑی وضاحت سے کہا ہے کہ میں نے وہی بات کہی ہے جو کہ حدیث کی کتابوں میں موجود ہے۔ ظاہر ہے کہ اگر کوئی بھی شخص اسلام دشمنی میں کسی اسلامی تعلیم کا حوالہ دے گا تو اس کا انداز شرارت آمیز اور گستاخانہ ہوگا اور وہ اپنی اسلام دشمنی کی بھڑاس نکالنے اور مسلمانوں کو نشانہ بنانے کی بھرپور کوشش کرے گا مگر جب اس کی کہی ہوئی بات کا قانونی جائزہ لیا جائے گا تو پھر اس کے کہے ہوئے الفاظ ہی اصل مانے جائیں گے نہ کہ اس کا لہجہ اور رویہ۔

ذرا سوچئے! کیا یہ حقیقت نہیں ہے کہ مسلمانان ہند کے نزدیک اس وقت ہندوؤں کی سب سے بڑی جماعت کو کھلا دشمن سمجھا اور بتایا جاتا ہے اور اس کی مخالفت میں کسی قسم کا لحاظ نہیں رکھا جاتا تو کیا یہ اللہ کے حکم کی خلاف ورزی نہیں ہے کہ؛’’ اے لوگو جو ایمان لائے ہو! اللہ کی خاطر راستی پر قائم رہنے والے اور انصاف کی گواہی دینے والے بنو۔ کسی گروہ کی دشمنی تم کو اتنا مشتعل نہ کر دے کہ انصاف سے پھر جاؤ۔ عدل کرو، یہ خدا ترسی سے زیادہ مناسبت رکھتا ہے۔ اللہ سے ڈر کر کام کرتے رہو، جو کچھ تم کرتے ہو، اللہ اس سے پوری طرح باخبر ہے۔ ‘‘(المائدہ – 8)

اللہ رب العزت نے ہمیں اپنے محبوب ؐ کی شکل میں جو اسوہ نصیب فرمایا ہے اس کا نہ تو کوئی ثانی ہو سکتا ہے اور نہ ہی مقابل۔ اس اسوہ کی اطاعت تمام مسلمانوں پر فرض ہے اور اس کے کسی بھی حصے کو چھوڑنے کا مطلب اللہ کے غضب کو دعوت دینا ہے۔ فرمایا؛ ’’درحقیقت تم لوگوں کے لئے اللہ کے رسولؐ میں ایک بہترین نمونہ تھا، ہر اس شخص کے لئے جو اللہ اور یوم آخر کا امیدوار ہو اور کثرت سے اللہ کو یاد کرے۔‘‘( الاحزاب – 21)

رحمت عالم حضرت محمد ؐ کی لاثانی شخصیت کا ہی نتیجہ ہے کہ آپؐ کی حیات مبارکہ پر جتنا کچھ لکھا گیا ہے وہ اپنے آپ میں معجزہ سے کم نہیں۔ دنیا کی ہر زبان اور ہر فکر و نظریہ کے بہترین دانشوروں نے نبی کریم ؐ کی سیرت طیبہ پر لکھنا اپنی شخصیت کا اعتراف کرانے کے لئے ضروری سمجھا۔ اس کے ساتھ جو سب سے زیادہ اہم نکتہ ہے وہ یہ کہ سیرت طیبہؐ کی کسی بھی کتاب میں ایسا کوئی واقعہ شاید ہی مل سکے کہ باوجود تمام آزمائشوں اور دشواریوں کے ساتھ زندگی گزارنے کے بعد بھی آپ ؐ نے پوری حیات مبارکہ میں کسی کو دشمن نہیں بتایا، کسی سے مایوس نہیں ہوئے، کسی سے مرعوب نہیں ہوئے۔ جب کہ آپ ؐ نہ صرف غیر مسلموں سے واقف تھے بلکہ اپنی صفوں میں موجود منافقین کو بھی خوب پہچانتے تھے تو کیا ہم پر لازم نہیں کہ ہم کلمہ گو کے علاوہ انسانوں میں کسی بھی قسم کی تفریق کرنا اور ہر وقت دشمنی کے سرٹیفکیٹ جاری کرنے کا سلسلہ بند کریں اور خالقِ کائنات کی تخلیق کی ہوئی آخری ـ’خیر امت‘کے فریضہ کو ادا کرنے کے لئے سنجیدہ ہو جائیں اور اپنے عمل سے ثابت کریں کہ ہم سب مسلمان رحمت العالمین حضرت محمد ؐ کے امتی ہیں۔

اللہ رب العزت کی جانب سے رہتی دنیا تک کے لئے اہل ایمان کا جو تعارف پیش کیا گیا ہے وہ انتہائی واضح اور اہمیت کا حامل ہے۔ فرمایا؛ ’’اب دنیا میں وہ بہترین گروہ تم ہو جسے انسانوں کی ہدایت و اصلاح کے لئے میدان میں لایا گیا ہے۔ تم نیکی کا حکم دیتے ہو، بدی سے روکتے ہو اور اللہ پر ایمان رکھتے ہو۔ ‘‘ (آل عمران – 110)

اللہ تعالیٰ کی تمام ہدایات ہم تک نبی کریم ؐ کے توسط سے ہی حاصل ہوئی ہیں۔ ہم مسلمانوں پر اللہ کا یہ بھی ایک عظیم احسان ہے کہ ہمارے دلوں میں نبی کریم ؐ کی محبت کوٹ کوٹ کر بھر دی ہے کہ ہم آپ ؐ کے تعلق سے زرہ برابر بھی نازیبا بات برداشت نہیں کر سکتے مگر اس کے ساتھ یہ بھی ضروری ہے کہ ہم اپنا اپنا جائزہ لیں کہ ہماری زندگی میں کس قدر اتباع سنت کی اہمیت پائی جاتی ہے۔ نبی کریم ؐ کی آنکھوں کی ٹھنڈک نماز سے ہمارا تعلق کیسا ہے۔ ہمارے معاملات زندگی کی سیرت طیبہ سے کتنی مطابقت ہے۔ کس قدر ہم رسومات دنیا کے غلام بن چکے ہیں۔

ایک شادی کے عمل کو ہی دیکھ لیں کہ شادی کارڈ پر تو لکھوایا جاتا ہے، النکاح من سنتی اور پھر کس طرح کی خرافات کو فخریہ اختیار کیا جاتا ہے کہ بھائی کیا کریں، معاشرے میں رہنا ہے تو معاشرے کے تقاضوں کو پورا کرنا پڑے گا جب کہ دین ہمیں تعلیم دیتا ہے کہ جس نے جاہلیت کے طور طریقوں کو نہ چھوڑا، اس کا شمار مسلمانوں میں نہیں ہوگا۔ جھوٹ بولنا ہنر تسلیم کر لیا گیا ہے۔

حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ایک متفق علیہ حدیث ہے کہ؛ ’’حضور نبی اکرم ؐ نے فرمایا: تم میں سے کوئی مومن نہیں ہو سکتا جب تک کہ میں اسے اس کے والد(یعنی والدین) اس کی اولاد اور تمام لوگوں سے محبوب تر نہ ہو جاؤں‘‘ دین کی ان تعلیمات کی روشنی میں ہمیں اپنے معاملات زندگی کا جائزہ لینے کی شدید ضرورت ہے۔ مسلمان کی اولین ذمہ داری دین پر پورے طور پر عمل کرنے کے ساتھ ساتھ بندگان خدا تک اللہ کے دین کو پہنچانا ہے۔ اس وقت دین کو دو طرح سے شدید نقصان پہنچ رہا ہے، ایک یہ کہ مسلمانوں کی بڑی اکثریت عملاً دین سے دور ہے اور دوسری بات مسلمانوں کا انتہائی جذباتی طرزِ عمل۔

آئیے حالات حاضرہ کا صحیح طور پر جائزہ لیں کہ کیا ہم نے اپنے مسلمان ہونے کا حق ادا کیا ہے، اگر نہیں تو پھر آج ہی خود سے عہد کریں کہ اب سے بقیہ زندگی میں شریعت کی پابندی کی کوشش لازماً کریں گے۔ نبی کریم ؐ کی تعلیمات کو اپنے عمل سے پیش کریں گے اور دنیا و آخرت کی کامیابی کی بنیاد سیرت النبی ؐ کی روشنی میں اپنی زندگی گزاریں گے۔

(مضمون نگار سکریٹری جنرل، انسٹی ٹیوٹ فار سوشل ہارمونی اینڈ اپلفٹمنٹ (ایشو)

قارئین سے ایک گزارش

سچ کے ساتھ آزاد میڈیا وقت کی اہم ضرورت ہےـ روزنامہ خبریں سخت ترین چیلنجوں کے سایے میں گزشتہ دس سال سے یہ خدمت انجام دے رہا ہے۔ اردو، ہندی ویب سائٹ کے ساتھ یو ٹیوب چینل بھی۔ جلد انگریزی پورٹل شروع کرنے کا منصوبہ ہے۔ یہ کاز عوامی تعاون کے بغیر نہیں ہوسکتا۔ اسے جاری رکھنے کے لیے ہمیں آپ کے تعاون کی ضرورت ہے۔

سپورٹ کریں سبسکرائب کریں

مزید خبریں

US Iran War Strategic Defeat News
مضامین

امریکہ – اسرائیل – ایران جنگ میں امریکہ کی اسٹریٹجک ہار پہلے سے طے

23 مارچ
Hormuz Strait Iran Speech
مضامین

ایران میں قیادت کی تبدیلی اور مجتبیٰ خامنہ ای: ایک تجزیاتی مطالعہ

12 مارچ
Modi Israel Gaza Questions Debate
مضامین

پی ایم مودی کے دورہ اسرائیل میں غزہ کے مصائب کا ذکر تک نہ ہونے پر سوالات اٹھ رہے ہیں۔ کیا چاہتا ہے بھارت ؟

28 فروری
  • ٹرینڈنگ
  • تبصرے
  • تازہ ترین
Humayun Kabir Owaisi Video Row

ہمایوں کبیر کے خفیہ ویڈیو نے اویسی پر بی جے پی کی بی ٹیم کے الزام کو تقویت دی، اتحاد ٹوٹا ، سیاسی بصیرت پر بھی سوال

اپریل 10, 2026
طالبان ميں پھوٹ کی خبريں، حقيقت يا پروپيگنڈہ؟

طالبان ميں پھوٹ کی خبريں، حقيقت يا پروپيگنڈہ؟

ستمبر 19, 2021
یوپی کے 558 مدارس میں مڈ ڈے میل کون کھا رہا ہے؟ چونکاتی گراؤنڈ رپورٹ

یوپی کے 558 مدارس میں مڈ ڈے میل کون کھا رہا ہے؟ چونکاتی گراؤنڈ رپورٹ

اپریل 10, 2026
DD News Anchor Controversy News

پبلک ٹیکس سے چلنے والے ‘ڈی ڈی نیوز’ کے اینکر نے کہا” ساورکر کے چپل کی دھول بھی نہیں راہل گادھی

اپریل 13, 2026
امریکہ ایران کشیدگی خبر

امریکہ–ایران کشیدگی ایک بار پھر سرخیوں میں، جنگ بندی میں توسیع کے باوجود بڑے معاہدے کا مستقبل خطرے میں

الیکشن سے قبل سیاسی بیان بازی تیز، کئی بڑے لیڈرز آمنے سامنے

الیکشن سے قبل سیاسی بیان بازی تیز، کئی بڑے لیڈرز آمنے سامنے

دہلی میں بڑھتے جرائم پولیس الرٹ

دہلی-NCR میں جرائم کے واقعات میں اضافہ، پولیس الرٹ

امریکہ ایران کشیدگی خبر

ایران–امریکہ مذاکرات میں محدود پیش رفت، اختلافات بدستور برقرار: قالیباف

امریکہ ایران کشیدگی خبر

امریکہ–ایران کشیدگی ایک بار پھر سرخیوں میں، جنگ بندی میں توسیع کے باوجود بڑے معاہدے کا مستقبل خطرے میں

اپریل 22, 2026
الیکشن سے قبل سیاسی بیان بازی تیز، کئی بڑے لیڈرز آمنے سامنے

الیکشن سے قبل سیاسی بیان بازی تیز، کئی بڑے لیڈرز آمنے سامنے

اپریل 21, 2026
دہلی میں بڑھتے جرائم پولیس الرٹ

دہلی-NCR میں جرائم کے واقعات میں اضافہ، پولیس الرٹ

اپریل 21, 2026
امریکہ ایران کشیدگی خبر

ایران–امریکہ مذاکرات میں محدود پیش رفت، اختلافات بدستور برقرار: قالیباف

اپریل 19, 2026

حالیہ خبریں

امریکہ ایران کشیدگی خبر

امریکہ–ایران کشیدگی ایک بار پھر سرخیوں میں، جنگ بندی میں توسیع کے باوجود بڑے معاہدے کا مستقبل خطرے میں

اپریل 22, 2026
الیکشن سے قبل سیاسی بیان بازی تیز، کئی بڑے لیڈرز آمنے سامنے

الیکشن سے قبل سیاسی بیان بازی تیز، کئی بڑے لیڈرز آمنے سامنے

اپریل 21, 2026
Latest News | Breaking News | Latest Khabar in Urdu at Roznama Khabrein

روزنامہ خبریں مفاد عامہ ‘ جمہوری اقدار وآئین کی پاسداری کا پابند ہے۔ اس نے مختصر مدت میں ہی سنجیدہ رویے‘غیر جانبدارانہ پالیسی ‘ملک و ملت کے مسائل معروضی انداز میں ابھارنے اور خبروں و تجزیوں کے اعلی معیار کی بدولت سماج کے ہر طبقہ میں اپنی جگہ بنالی۔ اب روزنامہ خبریں نے حالات کے تقاضوں کے تحت اردو کے ساتھ ہندی میں24x7کے ڈائمنگ ویب سائٹ شروع کی ہے۔ ہمیں یقین ہے کہ یہ آپ کی توقعات پر پوری اترے گی۔

اہم لنک

  • ABOUT US
  • SUPPORT US
  • TERMS AND CONDITIONS
  • PRIVACY POLICY
  • GRIEVANCE
  • CONTACT US
  • ہوم
  • دیس پردیس
  • فکر ونظر
  • گراونڈ رپورٹ
  • انٹرٹینمینٹ
  • اداریے
  • ہیٹ کرا ئم
  • سپورٹ کیجیے

.ALL RIGHTS RESERVED © COPYRIGHT ROZNAMA KHABREIN

Welcome Back!

Login to your account below

Forgotten Password?

Retrieve your password

Please enter your username or email address to reset your password.

Log In

Add New Playlist

کوئی نتیجہ نہیں ملا
تمام نتائج دیکھیں
  • ہوم
  • دیس پردیس
  • فکر ونظر
    • مذہبیات
    • مضامین
  • گراونڈ رپورٹ
  • انٹرٹینمینٹ
  • اداریے
  • ہیٹ کرا ئم
  • سپورٹ کیجیے

.ALL RIGHTS RESERVED © COPYRIGHT ROZNAMA KHABREIN