اردو
हिन्दी
مئی 7, 2026
Latest News | Breaking News | Latest Khabar in Urdu at Roznama Khabrein
  • ہوم
  • دیس پردیس
  • فکر ونظر
    • مذہبیات
    • مضامین
  • گراونڈ رپورٹ
  • انٹرٹینمینٹ
  • اداریے
  • ہیٹ کرا ئم
  • سپورٹ کیجیے
کوئی نتیجہ نہیں ملا
تمام نتائج دیکھیں
  • ہوم
  • دیس پردیس
  • فکر ونظر
    • مذہبیات
    • مضامین
  • گراونڈ رپورٹ
  • انٹرٹینمینٹ
  • اداریے
  • ہیٹ کرا ئم
  • سپورٹ کیجیے
کوئی نتیجہ نہیں ملا
تمام نتائج دیکھیں
Latest News | Breaking News | Latest Khabar in Urdu at Roznama Khabrein
کوئی نتیجہ نہیں ملا
تمام نتائج دیکھیں

پروپگنڈہ میں گم ہوتی ہوئی سچائی

4 سال پہلے
‏‏‎ ‎‏‏‎ ‎|‏‏‎ ‎‏‏‎ ‎ فکر ونظر, مضامین
A A
0
پروپگنڈہ میں گم ہوتی ہوئی سچائی
76
مشاہدات
Share on FacebookShare on TwitterShare on Whatsapp

تحریر:مولانا عبد الحمید نعمانی

آج کے سائنسی دور کے ذرائع ابلاغ کے سنامی میں بے تحاشا معلومات کا انفجار (دھماکے) ہے ، لیکن حقیقت اور سچ کا پتا لگانا ایک مسئلہ و مشکل کام ہے۔ اس کا اندازہ بابری مسجد کے سلسلے میں بہت اچھی طرح ہوتا رہا ہے اور آج گیان واپی محلے کی اورنگ زیب سے پہلے تعمیر کردہ جامع مسجد کے متعلق پروپگنڈہ میں دیکھا جا سکتا ہے ۔ سوشل میڈیا اور مختلف سائٹوں پر جو جانکاریاں فراہم کی جاتی ہیں ، وہ کوئی تحقیق و تجزیہ پر مبنی نہیں ہوتی ہیں ، عموماً سنی سنائی اور چلتے پھرتے ناقص علم و مطالعہ کے لوگوں کے تبصرے و چٹکلے سے اخذ کردہ ہوتی ہیں ، اس کا اندازہ’’وکی پیڈیا‘‘کی طرف سے گیان واپی مسجد کے متعلق فراہم کردہ جانکاریاں ہیں ۔ اس کے تحت وہ بتاتا ہے:

’’ گیان واپی مسجد جسے کبھی کبھی عالمگیری مسجد بھی کہا جاتا ہے ۔ ورانسی میں واقع ایک مسجد ہے ۔ یہ مسجد ، کاشی و شو ناتھ مندر سے ملی ہوئی ہے ۔ 1669ءمیں مغل حملہ آور اورنگ زیب نے پراچین (قدیم ) وشو یشور مندر کو توڑ کر یہ گیان واپی مسجد بنادی ، گیان واپی ایک سنسکرت لفظ ہے جس کا معنی گیان کا کنواں ہے۔ 1991ءسے مسجد کو ہٹا کر مندر بنانے کی مہم چل رہی ہے ۔ لیکن 2022ءمیں سروے ہونے کے بعد یہ زیادہ چرچے میں ہے ۔ دعویٰ کیا جا رہا ہے کہ مسجد کے وضو خانے میں شیو لنگ ملا ہے جسے حملے سے بچانے کے لیے اس وقت کے ہیڈ پجاری نے گیان واپی کوپ (کنواں ) میں چھپا دیا تھا۔‘‘

نیچے گیان واپی مسجد کی تصویر دے کر اوپر ’’عالمگیری مسجد ‘‘لکھا ہے اس کے نیچے تعارفی تحریر لکھا ہے ۔’’ گیان واپی مسجد (دائیں) اور مغربی دیوار (بائیں ) جو مندر جیسے لگتے ہیں‘‘

مذہب سے متعلق جانکار ی کے عنوان کے تحت بتایا گیا ہے تعلق- اسلام ، ملکیت – گیان واپی مسجد ٹرسٹ ، انتظام – گیان واپی مسجد۔

حالات کی جانکاری ، کے تحت لکھا ہے ۔

واقع – ورانسی ، نگر نکایہ ، ورانسی نگر نگم ، ضلع -ورانسی ، ریاست – اتر پر دیش، ملک- بھارت۔

تعمیری تفصیل کے تحت لکھا ہے ۔

طرز، مغل فن تعمیر

بانی ، اورنگ زیب


تعمیر 1669

مینارے، 2

اس کے ساتھ ہی جیمس پرنسیپ کی بنائی، مسجد کی ایک تصویر دی گئی ہے ، جس کو انھوں نے گیان واپی مسجد کو ( بغیر ثبوت و دلیل ) وشیشور مندر کے روپ میں ذکر کیا ہے ساتھ ہی تصویر کے نیچے یہ بھی لکھا ہے’’ توڑی گئی مندر کی اصل دیوار آج بھی مسجد میں کھڑی ہے ۔‘‘

حوالے میں اخبارات اور ٹی وی چینلز کی خبروں اور کچھ لوگوں کے یہاں وہاں سے بے جوڑ باتوں کا حوالہ دیا گیا ہے ۔ ایک قدیم حوالہ کاشی کھنڈ کتاب کا ہے ۔ یہ مہا پرانوں میں شمار اسکند (سیو کا بیٹا) پران کا ایک باب ہے ، لیکن کاشی کھنڈ سے جامع مسجد گیان واپی کی جگہ وشو ناتھ مندر ہونے کا ثبوت کسی طرح بھی فراہم نہیں ہوتا ہے ، اس کتاب پر قدرے تفصیل بحث و مطالعہ کی ضرورت ہے ، ہم اس پر کسی دیگر مواقع و تحریروں میں مطالعہ و تجزیہ پیش کریں گے ، دیگر تمام شواہد و امور کو نظر انداز کر کے اورنگ زیب کے متعلق برٹش سامراج کے گماشتوں ، تنخواہ دار برطانوی مقاصد کی تکمیل کے لیے کام کرنے والے مغربی مصنّفین مشترقین اور ان سے متاثر دائیں بازو فرقہ پرست برہمن وادی ہندوستانی قلم کاروں و مصنفوں نے غلامانہ ذہنیت کے تحت پھیلائے غلط الزامات سے فرقہ وارانہ تاریخ بنانے کی مذموم سعی کی جارہی ہے ، اس سلسلے میں مغلیہ سرکاری تاریخ نویس ساقی خاں مستعد کی کتاب ’’ماثری عالمگیری ‘‘کا حوالہ قطعی طور سے بے بنیاد بے معنی اور غیر متعلق ہے اس کتاب میں کہیں بھی نہیں لکھا ہے کہ اورنگ زیب نے بنارس کی وشو ناتھ مندر کو توڑ کر گیان واپی محلہ کی جامع مسجد تعمیر کرائی ہے ،اس میں صرف اتنا ہے کہ دین پرور بادشاہ کو اطلاع ملی کہ بنارس میں باطل کتب کی تعلیم برہمن مسلم طلبہ کو بھی دے رہے ہیں ، اور گمراہ کر رہے تو درس گاہ و معابد کو منہدم کر دیا گیا۔ (کتاب مذکورہ کا فارسی اڈیشن صفحہ 89) کتاب میں مندر کی جگہ مسجد بنانے کا کوئی ذکر نہیں ہے ۔

حکومت کے خلاف تخریبی سر گرمیوں کے مراکز بنے مندر ، یا بغیر اجازت کے نئے تعمیر کردہ مندر کو منہدم کرا دینا اور ان کو توڑ کر مسجد کی تعمیر دونوں الگ الگ معاملے ہیں ، بغیر اجازت یا سیاسی تخریبی سر گرمیوں کا آماجگاہ بنے شورش زدہ علاقوں کے کچھ مندروں کو توڑنا اپنے اندر کئی طرح کے سیاسی اور سماجی اسباب رکھتا ہے۔دو الگ الگ باتوں کو خلط ملط کر کے گمراہ کن نتیجہ نکالنا بد دیانتی پر مبنی ایک شرارت انگیز مکروہ عمل ہے ، مفاد عامہ کے نام پر عدالتوں میں رٹ داخل کرنے میں خاصے نام کما چکے بی جے پی لیڈر اور سپریم کورٹ کے وکیل اشونی کمار اپادھیائے اور بی جے پی کے ترجمان جیٹلی اور مندر فریق کے وکیل وشنو جین سے ایک ٹی وی بحث میں واضح حوالہ پوچھا گیا تو تینوں میں سے کوئی نہیں بتا سکے ، تینوں میں کوئی کتاب کا صحیح نام بھی نہیں لے پا رہے تھے ، ہمارے ساتھ’’ماثر عالمگیری‘‘ تھی ، ہم نے کہا کہ آپ حضرات کتاب کے ا نگریزی ، ہندی ترجمے میں ہی اپنے دعوے دکھائیں کہ اورنگ زیب نے کاشی وشو ناتھ مندر توڑ کر بنارس گیان واپی جامع مسجد کی تعمیر کی ہے ، مرمت و تزئین مسجد کی اصل تعمیر سے الگ عمل ہے ، وہ اصل سوال کا جواب دینے کے بجائے ادھر کی باتیں کر تے رہے ، ہمیں لگتا ہے کہ ہندوتو وادی عناصر ورانسی کی قدیم حالت اور ہندو مت کے تصورات سے بھی زیادہ واقف نہیں ہیں اور نہ بعد کی تاریخ کی کوئی بہتر جانکاری رکھتے ہیں ، ان کے پاس کوئی مستند و معتبر تاریخ نہیں ہے ، پرانک کہانیوں سے مذعومہ و تصوراتی تاریخ کی بالکل بھی تائید و تصدیق نہیں ہوتی ہے ۔

’’وکی پیڈیا‘‘ نے بھی بالکل یکطرفہ طور سے سنی سنائی مفروضہ باتوں کی لہر میں تاریخ کی سچائی اور سامنے کی زندہ حقیقت کو ڈبو دینے کی تباہ کن عمل کو آگے بڑھانے کا کام کیا ہے ، اسے معلوم نہیں ہے کہ ہندوتو وادی فرقہ وارانہ رجحانات کے مطابق ، گیان واپی جامع مسجد اور اس کی ملحقہ زمین کے متعلق انیسویں صدی عیسوی کی پہلی دہائی سے مندر کے حق میں ماحول بنانے اور جگہ کی پوزیشن کو بدلنے کا سلسلہ شروع کیا گیا ہے ، اس سے مسجد کی تاریخ اور حقیقت حال کو بدلنا سراسر غاصبانہ و جارحانہ عمل ہے،اس کی حوصلہ افزائی کسی بھی جمہوری آزاد ملک اور مہذب سماج میں قطعی ناقابل قبول اور متصادم رویہ ہے اس سوال پر غور و فکر بہت ضروری ہے کہ آخر شاندار ماضی اور ہندستانی سنسکرتی کے نام پر اسلامی معابد اور مسلم ماثر کی جگہ مندروں اور ہندو عمارتوں کے ہونے کے دعوے کے ساتھ ان کی واپسی کی تحریک برٹش سامراج کے دور میں ہی کیوں شروع ہوئی ؟پہلی بار مندر، مسجد کو لے کر انیسویں صدی عیسوی کی پہلی دہائی 1809ءمیں فرقہ وارانہ فساد ہوا تھا ، برٹش دور کے غلبے سے پہلے اس طرح کے تنازعات کا کوئی قابل ذکر حوالہ نہیں ملتا ہے ۔ پروپگینڈا میں سچائی کو گم کرنے کی کوشش کا نتیجہ کبھی بھی اچھا نہیں نکل سکتا ہے ۔

(یہ مضمون نگار کے ذاتی خیالات ہیں)

قارئین سے ایک گزارش

سچ کے ساتھ آزاد میڈیا وقت کی اہم ضرورت ہےـ روزنامہ خبریں سخت ترین چیلنجوں کے سایے میں گزشتہ دس سال سے یہ خدمت انجام دے رہا ہے۔ اردو، ہندی ویب سائٹ کے ساتھ یو ٹیوب چینل بھی۔ جلد انگریزی پورٹل شروع کرنے کا منصوبہ ہے۔ یہ کاز عوامی تعاون کے بغیر نہیں ہوسکتا۔ اسے جاری رکھنے کے لیے ہمیں آپ کے تعاون کی ضرورت ہے۔

سپورٹ کریں سبسکرائب کریں

مزید خبریں

US Iran War Strategic Defeat News
مضامین

امریکہ – اسرائیل – ایران جنگ میں امریکہ کی اسٹریٹجک ہار پہلے سے طے

23 مارچ
Hormuz Strait Iran Speech
مضامین

ایران میں قیادت کی تبدیلی اور مجتبیٰ خامنہ ای: ایک تجزیاتی مطالعہ

12 مارچ
Modi Israel Gaza Questions Debate
مضامین

پی ایم مودی کے دورہ اسرائیل میں غزہ کے مصائب کا ذکر تک نہ ہونے پر سوالات اٹھ رہے ہیں۔ کیا چاہتا ہے بھارت ؟

28 فروری
  • ٹرینڈنگ
  • تبصرے
  • تازہ ترین
Humayun Kabir Owaisi Video Row

ہمایوں کبیر کے خفیہ ویڈیو نے اویسی پر بی جے پی کی بی ٹیم کے الزام کو تقویت دی، اتحاد ٹوٹا ، سیاسی بصیرت پر بھی سوال

اپریل 10, 2026
طالبان ميں پھوٹ کی خبريں، حقيقت يا پروپيگنڈہ؟

طالبان ميں پھوٹ کی خبريں، حقيقت يا پروپيگنڈہ؟

ستمبر 19, 2021
یوپی کے 558 مدارس میں مڈ ڈے میل کون کھا رہا ہے؟ چونکاتی گراؤنڈ رپورٹ

یوپی کے 558 مدارس میں مڈ ڈے میل کون کھا رہا ہے؟ چونکاتی گراؤنڈ رپورٹ

اپریل 10, 2026
DD News Anchor Controversy News

پبلک ٹیکس سے چلنے والے ‘ڈی ڈی نیوز’ کے اینکر نے کہا” ساورکر کے چپل کی دھول بھی نہیں راہل گادھی

اپریل 13, 2026
امریکہ ایران کشیدگی خبر

امریکہ–ایران کشیدگی ایک بار پھر سرخیوں میں، جنگ بندی میں توسیع کے باوجود بڑے معاہدے کا مستقبل خطرے میں

الیکشن سے قبل سیاسی بیان بازی تیز، کئی بڑے لیڈرز آمنے سامنے

الیکشن سے قبل سیاسی بیان بازی تیز، کئی بڑے لیڈرز آمنے سامنے

دہلی میں بڑھتے جرائم پولیس الرٹ

دہلی-NCR میں جرائم کے واقعات میں اضافہ، پولیس الرٹ

امریکہ ایران کشیدگی خبر

ایران–امریکہ مذاکرات میں محدود پیش رفت، اختلافات بدستور برقرار: قالیباف

امریکہ ایران کشیدگی خبر

امریکہ–ایران کشیدگی ایک بار پھر سرخیوں میں، جنگ بندی میں توسیع کے باوجود بڑے معاہدے کا مستقبل خطرے میں

اپریل 22, 2026
الیکشن سے قبل سیاسی بیان بازی تیز، کئی بڑے لیڈرز آمنے سامنے

الیکشن سے قبل سیاسی بیان بازی تیز، کئی بڑے لیڈرز آمنے سامنے

اپریل 21, 2026
دہلی میں بڑھتے جرائم پولیس الرٹ

دہلی-NCR میں جرائم کے واقعات میں اضافہ، پولیس الرٹ

اپریل 21, 2026
امریکہ ایران کشیدگی خبر

ایران–امریکہ مذاکرات میں محدود پیش رفت، اختلافات بدستور برقرار: قالیباف

اپریل 19, 2026

حالیہ خبریں

امریکہ ایران کشیدگی خبر

امریکہ–ایران کشیدگی ایک بار پھر سرخیوں میں، جنگ بندی میں توسیع کے باوجود بڑے معاہدے کا مستقبل خطرے میں

اپریل 22, 2026
الیکشن سے قبل سیاسی بیان بازی تیز، کئی بڑے لیڈرز آمنے سامنے

الیکشن سے قبل سیاسی بیان بازی تیز، کئی بڑے لیڈرز آمنے سامنے

اپریل 21, 2026
Latest News | Breaking News | Latest Khabar in Urdu at Roznama Khabrein

روزنامہ خبریں مفاد عامہ ‘ جمہوری اقدار وآئین کی پاسداری کا پابند ہے۔ اس نے مختصر مدت میں ہی سنجیدہ رویے‘غیر جانبدارانہ پالیسی ‘ملک و ملت کے مسائل معروضی انداز میں ابھارنے اور خبروں و تجزیوں کے اعلی معیار کی بدولت سماج کے ہر طبقہ میں اپنی جگہ بنالی۔ اب روزنامہ خبریں نے حالات کے تقاضوں کے تحت اردو کے ساتھ ہندی میں24x7کے ڈائمنگ ویب سائٹ شروع کی ہے۔ ہمیں یقین ہے کہ یہ آپ کی توقعات پر پوری اترے گی۔

اہم لنک

  • ABOUT US
  • SUPPORT US
  • TERMS AND CONDITIONS
  • PRIVACY POLICY
  • GRIEVANCE
  • CONTACT US
  • ہوم
  • دیس پردیس
  • فکر ونظر
  • گراونڈ رپورٹ
  • انٹرٹینمینٹ
  • اداریے
  • ہیٹ کرا ئم
  • سپورٹ کیجیے

.ALL RIGHTS RESERVED © COPYRIGHT ROZNAMA KHABREIN

Welcome Back!

Login to your account below

Forgotten Password?

Retrieve your password

Please enter your username or email address to reset your password.

Log In

Add New Playlist

کوئی نتیجہ نہیں ملا
تمام نتائج دیکھیں
  • ہوم
  • دیس پردیس
  • فکر ونظر
    • مذہبیات
    • مضامین
  • گراونڈ رپورٹ
  • انٹرٹینمینٹ
  • اداریے
  • ہیٹ کرا ئم
  • سپورٹ کیجیے

.ALL RIGHTS RESERVED © COPYRIGHT ROZNAMA KHABREIN