اردو
हिन्दी
مئی 3, 2026
Latest News | Breaking News | Latest Khabar in Urdu at Roznama Khabrein
  • ہوم
  • دیس پردیس
  • فکر ونظر
    • مذہبیات
    • مضامین
  • گراونڈ رپورٹ
  • انٹرٹینمینٹ
  • اداریے
  • ہیٹ کرا ئم
  • سپورٹ کیجیے
کوئی نتیجہ نہیں ملا
تمام نتائج دیکھیں
  • ہوم
  • دیس پردیس
  • فکر ونظر
    • مذہبیات
    • مضامین
  • گراونڈ رپورٹ
  • انٹرٹینمینٹ
  • اداریے
  • ہیٹ کرا ئم
  • سپورٹ کیجیے
کوئی نتیجہ نہیں ملا
تمام نتائج دیکھیں
Latest News | Breaking News | Latest Khabar in Urdu at Roznama Khabrein
کوئی نتیجہ نہیں ملا
تمام نتائج دیکھیں

اسرائیل اور فلسطینی زندگی ہار کے کیا پائیں گے!

5 سال پہلے
‏‏‎ ‎‏‏‎ ‎|‏‏‎ ‎‏‏‎ ‎ مضامین
A A
0
اسرائیل اور فلسطینی زندگی ہار کے کیا پائیں گے!
43
مشاہدات
Share on FacebookShare on TwitterShare on Whatsapp

عبدالسلام عاصم

ہم جو تکلیف اٹھاتے ہیں وہ ہمارے لئے ہمیشہ اُس سے زیادہ ہوتی ہے جوہماری وجہ سے دوسروں کو پہنچتی ہے۔ یہ ایک ایسی غیر معلنہ یکطرفہ تفہیم ہے جو ہمیں ایک دوسرے کی تکلیف کو سمجھنے اور ایک ایسے نتیجے تک نہیں پہنچنے نہیں دیتی جہاں دونوں ایک دوسرے کے زخم پر مرہم رکھ سکیں۔فلسطینی اور اسرائیل دونوں دہائیوں سے اسی کے شکار چلے رہے ہیں۔ ان میں سے ایک سرکاری طور پر منظم ہے تو دوسرا گروہی طرز پر۔
انسانی جان و مال کے تکلیف دہ زیاں کے تازہ موڑ پر بھی دونوں اسی مرحلے سے گزر رہے ہیں۔ اسرائیل کوبس غزہ سے راکٹ باری سے ہونے والے نقصان کی پرواہ ہے اور حماس اسرائیل کے ہلاکت خیز فضائی حملوں سے پریشان۔ ایسے ہی تازہ حملے میں نو بچوں سمیت متعدد فلسطینی ہلاک ہو گئے۔ اس حملے میں پچاس سے زیادہ لوگ زخمی بھی ہو ئے ہیں۔ مجموعی طور پر اب تک تین سو سے زیادی لوگوں کو جانی نقصان پہنچا ہے۔ اسرائیلی فوج کا استدلال ہے کہ اس نے جوابی کارروائی کی ہے جس میں حماس کے آٹھ شدت پسند بھی ہلاک ہوئے ہیں۔فلسطینی ہلال احمر کے مطابق اسرائیلی پولس اور فلسطینی مظاہرین کی تازہ جھڑپوں میں سو سے زیادہ لوگوں کو چوٹیں آئی ہیں۔ان میں پچاس سے زیادہ اسپتال لے جائے گئے ہیں۔ عالمی برادری نے حسب دستور دونوں طرف سے کی جانے والی تشدد کی مذمت کی ہے۔یورپی یونین نے فلسطینیوں کے راکٹ حملوں اور مشرقی یروشلم میں وقفے وقفے سے جاری خونریزی کو فوری طور پر بندکرنے کا مطالبہ کیا ہے۔
تشدد کی مذمت اور جنگ بندی کی اپیل کرنے والے بھی اپنی طرف سے تمام تر اعتدال کا مظاہرہ کرنے کے باوجود بٹے ہوئے نظر آتے ہیں۔یورپی یونین کی خارجہ پالیسی کے سربراہ نے اسرائیلی شہری آبادی پر فلسطینی راکٹ باری کو ناقابل قبول قرار دیتے ہوئے جہاں یہ کہا ہے کہ یہ عمل مشرق وسطیٰ کے تنازعے کو مزید شدت کا سبب بن رہا ہے وہیں ترکی کے صدر رجب طیب اردوگان نے متاثرہ خطے کی تشویشناک صورتحال پر اپنے ٹیلی فونی رابظے کو اردن کے شاہ عبداللہ، کویت کے امیر شیخ نواف الاحمد الصباح اور فلسطینی صدر محمود عباس کے علاوہ حماس کے رہنما اسماعیل حنیہ تک محدود رکھاہے۔فلسطینیوں کے خلاف اسرائیل نے جو اقدامات کئے ہیں ان کے خلاف ترکی کی راجدھانی میں ہزاروں فلسطینی پرچم برداروں نے اسرائیلی قونصل خانے کے سامنے اسرائیل اور امریکہ کے خلاف مظاہرہ کیا ہے۔ مظاہرین میں شامی اور فلسطینی بھی شامل تھے۔
امریکی وزیر خارجہ انٹونی بِلنکن نے بھی خطے میں حالات کو مزید مکدر ہونے سے بچاننے کیلئے تشددروکنے کے ہر ممکن اقدامات پر زور دیا ہے۔جرمن وزیر خارجہ ہائیکو ماس نے بین بین چلتے ہوئے کہا ہے کہ متاثرہ خطے میں جاری تشدد میں مزید عام جانوں کے زیاں کو روکنے کی ذمہ داری اسرائیل اور فلسطین دونوں کے ذمہ داروں پر مشترکہ طور پرعائد ہوتی ہے۔
واضح رہے کہ متنازعہ علاقے پر فلسطینیوں اور اسرائیل دونوں کا دعوی ہے۔ یہ علاقہ مسلمانوں کے قبلہ اول مسجد اقصی کی وجہ سے جہاں مسلمانوں کے لئے اہم ہے وہیں دیگر آل ابراہیم کے لئے بھی دینی اعتبار سے اس کی اتنی ہی اہمیت ہے۔ سب اپنے اپنے طور پر اس کی بازیابی کیلئے سرگرداں ہیں۔ یہ پورا علاقہ یہودی، مسیحی اور اسلامی برادران کے لئے ان کے عقائد کی رو سے انتہائی اہم ہے۔ یہودیوں کا ہیکل سلیمانی بھی بیت المقدس کے پاس ہی ہے جبکہ حضرت عیسی علیہ السلام کی پیدائش بھی اسی قدیمی شہر بیت اللحم میں ہوئی تھی۔
اب تک اس رُخ پر جتنی کوششیں ہوئی ہیں وہ ذو ریاستی حل کے رُخ پر ہی چلی آرہی ہیں۔یہ مشرقِ وسطیٰ میں امن کا وہ ممکنہ فریم ورک ہے جس پردو چار نہیں بلکہ تمام عرب لیگ اور یورپی یونین کے اراکین سمیت روس اور امریکہ سمیت دنیا بھر کے بیشتر رہنمایان اتفاق کرتے ہیں۔ ماضی قریب میں صرف سابق امریکی صدر ڈونیلڈ ٹرمپ نے ایک مر حلے پر ذو مملکتی حل سے بالواسطہ اختلاف کیا تھالیکن ان کا بھی خیال تھا کہ اگر ذوملکتی بنیاد پر مسئلہ حل ہوجاتا ہے تو کر دیا جانا چاہئے۔
اس فریم ورک کے تحت جس کی اقوام متحدہ کی مختلف قراردادوں میں تائید کی گئی ہے، 1967 کی تقریباً یکطرفہ اور تباہ کن عرب اسرائیل جنگ سے پہلے کی اسرائیلی حدود کو بنیاد بنا کر مغربی کنارے، غزہ پٹی اور مشرقی یروشلم میں ایک آزاد فلسطینی مملکت کا قیام عمل میں لاناہے۔ اس فریم ورک کو اب تک عمل میں کیوں نہیں لایا جا سکا! یہ ہرگز ہرگز کوئی معمہ نہیں ہے۔ اوسلو معاہدے میں اسرائیل فلسطین تنازعہ کو ذو مملکتی حل کے ذریعہ ختم کرنے کے منصوبے کو تکمیل تک لانے کے عزم کا اعادہ تو کیا گیا لیکن بات بننے کے بجائے بگڑتی ہی چلی گئی۔بیس سال سے زیادہ کا وقفہ گزر چکا ہے لیکن کسی نئی اُڑان سے کوئی ایسی منزل نہیں مل سکی جہاں اسرائیلی اور فلسطینی دونوں مستقل اور پُر امن قیام کے تصور کو عمل میں لا سکتے۔
نئی نسل کے ذہن میں سوال ابھر سکتا ہے کہ آخر ایسا کیوں ہے! امن کے رُخ پر فلسطینی رہنما یاسر عرفات، اسرائیلی رہنمایان شمعون پیرییز اور اسحاق رابن کو نوبل امن انعام سے نوازے جانے کے باوجود آل ابراہیم میں کوئی امن معاہدہ کیوں نہیں ہو سکا! اس کا غیر مبہم جواب یہ ہے کہ اسرائیل کی صیہونی قیادت اور فلسطینوں کا شدت پسند حلقہ کسی اختلاف کو صحتمند شکل اختیار کرنے نہیں دیتا۔ حماس اور دیگر قدامت پسندفلسطینی گروہوں نے کبھی بھی ذومملکتی حل کی تائید نہیں کی اور مسلسل اِس موقف پر اڑے ر ہے کہ تمام ان علاقوں پر مشتمل ایک فلسطینی مملکت کا قیام عمل میں لایا جائے جو اسرائیل کے پاس ہیں۔ دوسر ی طرف اسرائیل مغربی کنارے پر دیوار اٹھانے اور یہودی بستیوں کی تعمیر کے سلسلے کو جاری رکھنے کے اپنے عزم سے کبھی باز نہیں آیا۔ نتیجے میں فلسطینی مملکت کے قیام کا امکان آج بھی دور دور تک روشن نہیں۔
موجودہ منظرنامے میں اسرائیلی وزیر اعظم بنیامین نیتن یاہو کا استدلال یہ ہے 1967 کی سرحدوں کے مطابق مذاکرات پر اب اور عمل نہیں کیا جا سکتا۔ ان کا استدلال یہ کہ 1967 کے بعد رونما ہونے والی تبدیلیوں کا سلسلہ بہت آگے بڑھ چکا ہے۔ آج کی تاریخ میں پانچ لاکھ سے زیادہ یہودی مغربی کنارے بشمول مشرقی یروشلم کی دو سو کالونیوں میں آباد ہو چکے ہیں،جنہیں وہاں سے ہٹایا نہیں جا سکتا۔ بین اقوامی ضابطوں کے مطابق بہر حال یہ کالونیاں غیر قانونی ہیں۔
ایسا نہیں کہ اسرائیل اور فلسطین میں اب کہیں کوئی ایسا حلقہ موجود نہیں جو نقص پر امن کو ترجیح نہ دیتا ہو۔بعض حلقے ہمیشہ اس رُخ پر کوشاں رہتے ہیں لیکن ہر اختلاف کو نفرت پر مبنی دکھانے کی دستاویزات کو اتنا ضخیم کر دیا گیا ہے کہ ایک دم سے اس سے نجات ممکن نظر نہیں آتی۔ باوجودیکہ دونوں طرف نئی نسل کے نمائندے اس جامد کیفیت سے اوب رہے ہیں۔ اس کا خطے میں بین سرحدی مظاہرہ بھی شروع ہو گیا ہے لیکن دور تک پھیلے ہوئے کینوس پر جب سارے کردار اصل محورر کی طرف بڑھتے ہیں تو مبنی بر عقیدہ مفادات اور دیرینہ نفرتیں اچھے اچھے ہوم ورک پر بھاری پڑنے لگتی ہیں۔ الااماں الحذراسرائیل اور فلسطینی زندگی ہار کے کیا پائیں گے!

قارئین سے ایک گزارش

سچ کے ساتھ آزاد میڈیا وقت کی اہم ضرورت ہےـ روزنامہ خبریں سخت ترین چیلنجوں کے سایے میں گزشتہ دس سال سے یہ خدمت انجام دے رہا ہے۔ اردو، ہندی ویب سائٹ کے ساتھ یو ٹیوب چینل بھی۔ جلد انگریزی پورٹل شروع کرنے کا منصوبہ ہے۔ یہ کاز عوامی تعاون کے بغیر نہیں ہوسکتا۔ اسے جاری رکھنے کے لیے ہمیں آپ کے تعاون کی ضرورت ہے۔

سپورٹ کریں سبسکرائب کریں

مزید خبریں

US Iran War Strategic Defeat News
مضامین

امریکہ – اسرائیل – ایران جنگ میں امریکہ کی اسٹریٹجک ہار پہلے سے طے

23 مارچ
Hormuz Strait Iran Speech
مضامین

ایران میں قیادت کی تبدیلی اور مجتبیٰ خامنہ ای: ایک تجزیاتی مطالعہ

12 مارچ
Modi Israel Gaza Questions Debate
مضامین

پی ایم مودی کے دورہ اسرائیل میں غزہ کے مصائب کا ذکر تک نہ ہونے پر سوالات اٹھ رہے ہیں۔ کیا چاہتا ہے بھارت ؟

28 فروری
  • ٹرینڈنگ
  • تبصرے
  • تازہ ترین
Humayun Kabir Owaisi Video Row

ہمایوں کبیر کے خفیہ ویڈیو نے اویسی پر بی جے پی کی بی ٹیم کے الزام کو تقویت دی، اتحاد ٹوٹا ، سیاسی بصیرت پر بھی سوال

اپریل 10, 2026
یوپی کے 558 مدارس میں مڈ ڈے میل کون کھا رہا ہے؟ چونکاتی گراؤنڈ رپورٹ

یوپی کے 558 مدارس میں مڈ ڈے میل کون کھا رہا ہے؟ چونکاتی گراؤنڈ رپورٹ

اپریل 10, 2026
DD News Anchor Controversy News

پبلک ٹیکس سے چلنے والے ‘ڈی ڈی نیوز’ کے اینکر نے کہا” ساورکر کے چپل کی دھول بھی نہیں راہل گادھی

اپریل 13, 2026
طالبان ميں پھوٹ کی خبريں، حقيقت يا پروپيگنڈہ؟

طالبان ميں پھوٹ کی خبريں، حقيقت يا پروپيگنڈہ؟

ستمبر 19, 2021
امریکہ ایران کشیدگی خبر

امریکہ–ایران کشیدگی ایک بار پھر سرخیوں میں، جنگ بندی میں توسیع کے باوجود بڑے معاہدے کا مستقبل خطرے میں

الیکشن سے قبل سیاسی بیان بازی تیز، کئی بڑے لیڈرز آمنے سامنے

الیکشن سے قبل سیاسی بیان بازی تیز، کئی بڑے لیڈرز آمنے سامنے

دہلی میں بڑھتے جرائم پولیس الرٹ

دہلی-NCR میں جرائم کے واقعات میں اضافہ، پولیس الرٹ

امریکہ ایران کشیدگی خبر

ایران–امریکہ مذاکرات میں محدود پیش رفت، اختلافات بدستور برقرار: قالیباف

امریکہ ایران کشیدگی خبر

امریکہ–ایران کشیدگی ایک بار پھر سرخیوں میں، جنگ بندی میں توسیع کے باوجود بڑے معاہدے کا مستقبل خطرے میں

اپریل 22, 2026
الیکشن سے قبل سیاسی بیان بازی تیز، کئی بڑے لیڈرز آمنے سامنے

الیکشن سے قبل سیاسی بیان بازی تیز، کئی بڑے لیڈرز آمنے سامنے

اپریل 21, 2026
دہلی میں بڑھتے جرائم پولیس الرٹ

دہلی-NCR میں جرائم کے واقعات میں اضافہ، پولیس الرٹ

اپریل 21, 2026
امریکہ ایران کشیدگی خبر

ایران–امریکہ مذاکرات میں محدود پیش رفت، اختلافات بدستور برقرار: قالیباف

اپریل 19, 2026

حالیہ خبریں

امریکہ ایران کشیدگی خبر

امریکہ–ایران کشیدگی ایک بار پھر سرخیوں میں، جنگ بندی میں توسیع کے باوجود بڑے معاہدے کا مستقبل خطرے میں

اپریل 22, 2026
الیکشن سے قبل سیاسی بیان بازی تیز، کئی بڑے لیڈرز آمنے سامنے

الیکشن سے قبل سیاسی بیان بازی تیز، کئی بڑے لیڈرز آمنے سامنے

اپریل 21, 2026
Latest News | Breaking News | Latest Khabar in Urdu at Roznama Khabrein

روزنامہ خبریں مفاد عامہ ‘ جمہوری اقدار وآئین کی پاسداری کا پابند ہے۔ اس نے مختصر مدت میں ہی سنجیدہ رویے‘غیر جانبدارانہ پالیسی ‘ملک و ملت کے مسائل معروضی انداز میں ابھارنے اور خبروں و تجزیوں کے اعلی معیار کی بدولت سماج کے ہر طبقہ میں اپنی جگہ بنالی۔ اب روزنامہ خبریں نے حالات کے تقاضوں کے تحت اردو کے ساتھ ہندی میں24x7کے ڈائمنگ ویب سائٹ شروع کی ہے۔ ہمیں یقین ہے کہ یہ آپ کی توقعات پر پوری اترے گی۔

اہم لنک

  • ABOUT US
  • SUPPORT US
  • TERMS AND CONDITIONS
  • PRIVACY POLICY
  • GRIEVANCE
  • CONTACT US
  • ہوم
  • دیس پردیس
  • فکر ونظر
  • گراونڈ رپورٹ
  • انٹرٹینمینٹ
  • اداریے
  • ہیٹ کرا ئم
  • سپورٹ کیجیے

.ALL RIGHTS RESERVED © COPYRIGHT ROZNAMA KHABREIN

Welcome Back!

Login to your account below

Forgotten Password?

Retrieve your password

Please enter your username or email address to reset your password.

Log In

Add New Playlist

کوئی نتیجہ نہیں ملا
تمام نتائج دیکھیں
  • ہوم
  • دیس پردیس
  • فکر ونظر
    • مذہبیات
    • مضامین
  • گراونڈ رپورٹ
  • انٹرٹینمینٹ
  • اداریے
  • ہیٹ کرا ئم
  • سپورٹ کیجیے

.ALL RIGHTS RESERVED © COPYRIGHT ROZNAMA KHABREIN