اردو
हिन्दी
مئی 4, 2026
Latest News | Breaking News | Latest Khabar in Urdu at Roznama Khabrein
  • ہوم
  • دیس پردیس
  • فکر ونظر
    • مذہبیات
    • مضامین
  • گراونڈ رپورٹ
  • انٹرٹینمینٹ
  • اداریے
  • ہیٹ کرا ئم
  • سپورٹ کیجیے
کوئی نتیجہ نہیں ملا
تمام نتائج دیکھیں
  • ہوم
  • دیس پردیس
  • فکر ونظر
    • مذہبیات
    • مضامین
  • گراونڈ رپورٹ
  • انٹرٹینمینٹ
  • اداریے
  • ہیٹ کرا ئم
  • سپورٹ کیجیے
کوئی نتیجہ نہیں ملا
تمام نتائج دیکھیں
Latest News | Breaking News | Latest Khabar in Urdu at Roznama Khabrein
کوئی نتیجہ نہیں ملا
تمام نتائج دیکھیں

اخلاق سے عاری عوام اور حکمراں کسی ملک کو وشو گرو نہیں بنا سکتے

5 سال پہلے
‏‏‎ ‎‏‏‎ ‎|‏‏‎ ‎‏‏‎ ‎ مضامین
A A
0
اخلاق سے عاری عوام اور حکمراں کسی ملک کو وشو گرو نہیں بنا سکتے

مہاماری کے دوران غیرانسانی واقعات نے بھارت کو دنیا کے سامنے ذلیل کردیا ہے

97
مشاہدات
Share on FacebookShare on TwitterShare on Whatsapp

کلیم الحفیظ
نئی دہلی

زمانہ قدیم سے دنیا میں بھارت کی ایک اہمیت رہی ہے۔مسلمانوں کی آمد کے بعد بھارت سونے کی چڑیا بن گیا۔یہاں کی مصنوعات کے ساتھ ساتھ یہاں کی تہذیب نے بھی دنیا کو متاثر کیا۔انصاف پسند بادشاہوں نے عدل و انصاف کی لازوال مثالیں قائم کیں۔رفتہ رفتہ حکمراں ناانصاف ہوئے اور عوام اپنے حکمرانوں کی ناانصافیوں پر خاموش رہی اور طویل حکمرانی ختم ہوگئی۔انگریزی سامراج کی بنیادیں ظلم اور ناانصافی پر ہی رکھی ہوئی تھیں اس لیے زیادہ دیر تک ٹک نہ سکیں ۔اگر میں یہ کہوں کہ انگریزی سامراج سے مقابلے میں بھارت کی اخلاقی قوت کا اہم کردار ہے تو بے جا نہ ہوگا۔بھارتی عوام کی آپسی محبت،مذہبی رواداری،وفاداری اور عہدو پیمان کے پاس و لحاظ کے ہزاروں واقعات جنگ آزادی کی تاریخ میں محفوظ ہیں۔لیکن آج جب ہم اپنے اوپر نظر ڈالتے ہیں،اپنے حکمرانوں کا طرز عمل دیکھتے ہیں،اپنی عوام کے اخلاق کا جائزہ لیتے ہیں تو پیروں کے نیچے سے زمین کھسکتی ہوئی معلوم ہوتی ہے۔
کورونا مہاماری کی پہلی لہر میں تو صرف حکمرانوں کی پول کھلی تھی لیکن اس دوسری لہر نے تو ملک کے اخلاقی نظام کی دھجیاں اڑا دی ہیں۔ کورونا کی قیامت خیزی کے دوران جب کہ ملک کی حالت انتہائی ناگفتہ بہ ہو اس وقت حکمرانوں سے لے کر عوام تک کی اخلاقی پستی کی ایسی تصویریں سامنے آئی ہیں کہ روح کانپ اٹھی ہے۔حکمرانوں کی سب سے بڑی اخلاقی کمزوری اقتدار کے بھوک ہوتی ہے۔حکومت اور اقتدار کی ہوس انھیں پاگل بنا دیتی ہے۔ماضی میں بادشاہ اس ہوس میں ملک تباہ کردیتے تھے مگر آج ہمارے ملک کے جمہوری حکمرانوں نے بھی سفاکی کی مثالیں قائم کی ہیں۔کورونا کے بارے میں اس کے ماہرین نے بھارت میں دوسری خطرناک لہر سے ملک کے حکمرانوں کو آگاہ کردیا تھا اس کے باوجود ملک میں انتخابات کرائے گئے۔مہاماری پھیلتی رہی اور ہمارے مرکزی حکمراں ریلیاں کرتے رہے ۔مدراس ہائی کورٹ تک نے کہہ دیا کہ لوگوں کی موت کا ذمہ دار الیکشن کمیشن ہے اور اس پر مقدمات قائم ہونے چاہیے لیکن کورٹ کو یہ بھی دیکھنا چاہئے کہ کمیشن کی ڈور کس کے ہاتھ میں ہے۔الہ آباد ہائی کورٹ نے اترپردیش کے پنچایت انتخابات پر روک لگانے سے صاف انکار کردیا۔ان انتخابات میں ڈیوٹی کے دوران لگ بھگ دوہزارسرکاری ملازمین نے جان دے دی۔انھیں انتخابات کے باعث کورونا تیزی سے بڑھتا گیا جس میں لاکھوں جانیںضائع ہوگئیں۔عوام کی زندگی سے لاپرواہی اور اقتدار کی ہوس بھارت کے موجودہ حکمرانوں کی اخلاقی پستی کی انتہا ہے۔
اس کے علاوہ حکومت کے اہل کاروں کی جانب سے آکسیجن اور ادویات کی ذخیرہ اندوزی کے واقعات بھی سامنے آئے ہیں۔اپنے سیاسی مخالفین کے علاج میں لاپرواہی بھی اخلاق سے گری ہوئی حرکت ہے۔آکسیجن اور ادویات کی کمی کے دوران پارلیمنٹ کی نئی عمارت کی تعمیر اور حکومتوں کا اشتہارات کے نام پر ہزاروں کروڑ روپے خرچ کرنا بھی غیر اخلاقی حرکت ہے۔ویکسین کے تعلق سے بھی کئی قسم کی بدعنوانیاں ہیں، ملک کی اہل دوا ساز کمپنیوں سے ویکسین نہ بنوا کر امپورٹ کرنا دھاندلی ہی ہے،پیٹنٹ کے نام پر ہاتھ باندھے رکھنا بے حسی ہے۔گائوں کے سرکاری اسپتالوں کا کوئی پرسان حال نہیں اور ان میں گاوں کے لوگ جانور باندھ رہے ہیں یہ لاپرواہی عوام کی زندگی کے ساتھ کھلواڑ ہے ۔لاک ڈاون کی مار جھیل رہی عوام کو تحفے کے طور پر مہنگائی دینا اور قیمتیں بڑھانا ظلم ہے۔مدد کرنے والوں پر مقدمات قائم کرنابے شرمی کی انتہا ہے۔شکایت کرنے والوں پر این ایس اے لگانا اورسوال کرنے پر جیل رسید کرنافرعونیت ہے۔جھوٹ بولنا اورحقائق چھپانا بددیانتی ہے۔ایک یوگی نے تو یہ فرمان جاری کردیا کہ جو اسپتال یہ کہے گا کہ آکسیجن کی کمی ہے اسے جیل کی ہوا کھانا ہوگی اور اس کا لائسنس رد کردیا جائے گا۔بھارتی پولس کی بداخلاقی کا مظاہرہ ہمیشہ ہوتا رہا ہے جس کا شکار یہاں کی غریب اور کمزور عوام ہوتی رہی ہے۔گودی میڈیاکو جھوٹ بولنے کا لائسنس ملا ہوا ہے۔چاپلوسی اور چمچہ گری ہی اس کی صحافت ہے۔ اس کی ایک آنکھ شاید پتھر کی ہے کیوں کہ اسے مرکز نظام الدین تو نظر آتا ہے مگر کمبھ نہیں۔
جس ملک کے حکمران،عدلیہ،میڈیا اورانتظامیہ کے اخلاق کاحال یہ ہو تو عوام کے اخلاق کی بات بے معنیٰ ہے اس لیے کہ لوگ اپنے بادشاہ کے طرز عمل کی نقل کرتے ہیں۔کورونا مریضوں سے لاتعلق ہو جا نا،ان کی خبر گیری نہ کرنا،ان کو تنہا چھوڑ دینا،کورونا سے مرنے والوں کی لاشوں کو ہاتھ نہ لگانا،ان کو کچرے کی گاڑی میں لے جانا،ان کو دریا میں بہا دینا،آکسیجن سلنڈر کو منہ مانگی قیمت پر بیچنا اور اس پر بھی گیس پوری نہ دینا،آکسیجن کا ذخیرہ کرنا،کفن چوری کرنا ، نقلی انجیکشن بنانا،پیسے لے کر رپورٹوں میں ہیرا پھیری کرنا ،فرضی ڈاکٹر بن کر مریضوں سے پیسہ ٹھگنا عوامی اخلاق کی بدترین مثالیں ہیں۔میں یہ نہیں کہتا کہ انسانی سماج میں برے لوگ نہیں ہوتے لیکن ملک جب تباہی کی طرف ہو،ہر طرف موت کا ننگا ناچ ہو،یمراج دروازے کھٹکھٹارہے ہوں،انسان تڑپ رہے ہوں، نفسا نفسی کا عالم ہو، اس وقت اس طرح کے غیر انسانی واقعات کسی سماج کی کریہہ اوربدنما تصویر پیش کرتے ہیں۔
آپ کہہ سکتے ہیں کہ اس درمیان بہت سے ہاتھ مدد کے لیے بھی اٹھے ہیں،مفت آکسیجن بھی فراہم کرنے والے سامنے آئے ہیں،دوائیں تقسیم کرنے والے اور اسپتال بنانے والے بھی آگے آئے ہیں،لوگوں کو غلہ اور راشن تقسیم کرنے والے بھی دکھائی دیے ہیں۔لوگوں کی خدمت کے لیے اپنا سب کچھ بیچنے والے بھی واقعات ہیں,ہندو ارتھیوں کو مسلمان کاندھے بھی میسر آئے ہیں۔ہاں یہ سب بھی ہوا ہے لیکن اول تو یہ واقعات اتنے کم ہیں کہ انگلیوں پر گنے جاسکتے ہیں دوسرے یہ کہ جسم کا اگر ایک عضو بھی سڑجائے تو پورا جسم لاچار ہوجاتا ہے اس لحاظ سے اگر آپ جائزہ لیں تو بھارتی تہذیب کا بیشتر حصہ فالج زدہ ہے۔ منتری،سنتری سے لے کر ڈاکٹر اور ایمبولینس کے ڈرائیور تک نے اپنے اخلاق اور ضمیر کو بیچ دیا ہے۔ہونا تو یہ چاہیے تھا کہ ایسے حالات میں سارے ہاتھ مدد کے لیے بڑھتے یا کم سے کم انسانیت کے دشمن خاموش تماشا ہی دیکھتے رہتے تو بھارت کی منفی تصویر سامنے نہ آتی۔مہاماری کے دوران غیرانسانی واقعات نے بھارت کو دنیا کے سامنے ذلیل کردیا ہے ۔دنیا کے تمام انسانی اور اخلاقی انڈیکس میں بھارت تیزی سے نیچے کی طرف جارہا ہے ۔وہی بھارت جس نے 2004میں یہ طے کیا تھا کہ وہ کسی طرح کی بیرونی امداد نہیں لے گا آج کٹورا لے کر بھیک مانگ رہا ہے۔کیا یہی آتم نربھر بھارت ہے؟
ہمیں یہ بات سمجھ لینا چاہیے کہ سب سے بڑی دولت بھی اخلاق ہے اور سب سے کارگر ہتھیار بھی اخلاق ہی ہے۔یہ بات کسی حد تک درست ہے کہ دولت اور ہتھیاروں سے جنگیں جیتی جاتی ہیں لیکن اس سے زیادہ یہ بات درست ہے کہ مادی وسائل صرف گردنیں جھکاتے ہیں اور اخلاق کی روحانی قوت دلوں کو مطیع بناتی ہے۔ جس ملک کی عوام اور حکمراں بدعنوانی میں ممتاز اور مشہور ہوں اس ملک کو وشو گرو بننے کے سپنے نہیں دیکھنے چاہیے۔بھارت کو اگر وشو گرو بننا ہے تو اس کے حکمرانوں اور اس کی عوام کو اخلاقی صفات اپنے اندر پختہ کرنا ہوں گی۔

قارئین سے ایک گزارش

سچ کے ساتھ آزاد میڈیا وقت کی اہم ضرورت ہےـ روزنامہ خبریں سخت ترین چیلنجوں کے سایے میں گزشتہ دس سال سے یہ خدمت انجام دے رہا ہے۔ اردو، ہندی ویب سائٹ کے ساتھ یو ٹیوب چینل بھی۔ جلد انگریزی پورٹل شروع کرنے کا منصوبہ ہے۔ یہ کاز عوامی تعاون کے بغیر نہیں ہوسکتا۔ اسے جاری رکھنے کے لیے ہمیں آپ کے تعاون کی ضرورت ہے۔

سپورٹ کریں سبسکرائب کریں

مزید خبریں

US Iran War Strategic Defeat News
مضامین

امریکہ – اسرائیل – ایران جنگ میں امریکہ کی اسٹریٹجک ہار پہلے سے طے

23 مارچ
Hormuz Strait Iran Speech
مضامین

ایران میں قیادت کی تبدیلی اور مجتبیٰ خامنہ ای: ایک تجزیاتی مطالعہ

12 مارچ
Modi Israel Gaza Questions Debate
مضامین

پی ایم مودی کے دورہ اسرائیل میں غزہ کے مصائب کا ذکر تک نہ ہونے پر سوالات اٹھ رہے ہیں۔ کیا چاہتا ہے بھارت ؟

28 فروری
  • ٹرینڈنگ
  • تبصرے
  • تازہ ترین
Humayun Kabir Owaisi Video Row

ہمایوں کبیر کے خفیہ ویڈیو نے اویسی پر بی جے پی کی بی ٹیم کے الزام کو تقویت دی، اتحاد ٹوٹا ، سیاسی بصیرت پر بھی سوال

اپریل 10, 2026
یوپی کے 558 مدارس میں مڈ ڈے میل کون کھا رہا ہے؟ چونکاتی گراؤنڈ رپورٹ

یوپی کے 558 مدارس میں مڈ ڈے میل کون کھا رہا ہے؟ چونکاتی گراؤنڈ رپورٹ

اپریل 10, 2026
DD News Anchor Controversy News

پبلک ٹیکس سے چلنے والے ‘ڈی ڈی نیوز’ کے اینکر نے کہا” ساورکر کے چپل کی دھول بھی نہیں راہل گادھی

اپریل 13, 2026
طالبان ميں پھوٹ کی خبريں، حقيقت يا پروپيگنڈہ؟

طالبان ميں پھوٹ کی خبريں، حقيقت يا پروپيگنڈہ؟

ستمبر 19, 2021
امریکہ ایران کشیدگی خبر

امریکہ–ایران کشیدگی ایک بار پھر سرخیوں میں، جنگ بندی میں توسیع کے باوجود بڑے معاہدے کا مستقبل خطرے میں

الیکشن سے قبل سیاسی بیان بازی تیز، کئی بڑے لیڈرز آمنے سامنے

الیکشن سے قبل سیاسی بیان بازی تیز، کئی بڑے لیڈرز آمنے سامنے

دہلی میں بڑھتے جرائم پولیس الرٹ

دہلی-NCR میں جرائم کے واقعات میں اضافہ، پولیس الرٹ

امریکہ ایران کشیدگی خبر

ایران–امریکہ مذاکرات میں محدود پیش رفت، اختلافات بدستور برقرار: قالیباف

امریکہ ایران کشیدگی خبر

امریکہ–ایران کشیدگی ایک بار پھر سرخیوں میں، جنگ بندی میں توسیع کے باوجود بڑے معاہدے کا مستقبل خطرے میں

اپریل 22, 2026
الیکشن سے قبل سیاسی بیان بازی تیز، کئی بڑے لیڈرز آمنے سامنے

الیکشن سے قبل سیاسی بیان بازی تیز، کئی بڑے لیڈرز آمنے سامنے

اپریل 21, 2026
دہلی میں بڑھتے جرائم پولیس الرٹ

دہلی-NCR میں جرائم کے واقعات میں اضافہ، پولیس الرٹ

اپریل 21, 2026
امریکہ ایران کشیدگی خبر

ایران–امریکہ مذاکرات میں محدود پیش رفت، اختلافات بدستور برقرار: قالیباف

اپریل 19, 2026

حالیہ خبریں

امریکہ ایران کشیدگی خبر

امریکہ–ایران کشیدگی ایک بار پھر سرخیوں میں، جنگ بندی میں توسیع کے باوجود بڑے معاہدے کا مستقبل خطرے میں

اپریل 22, 2026
الیکشن سے قبل سیاسی بیان بازی تیز، کئی بڑے لیڈرز آمنے سامنے

الیکشن سے قبل سیاسی بیان بازی تیز، کئی بڑے لیڈرز آمنے سامنے

اپریل 21, 2026
Latest News | Breaking News | Latest Khabar in Urdu at Roznama Khabrein

روزنامہ خبریں مفاد عامہ ‘ جمہوری اقدار وآئین کی پاسداری کا پابند ہے۔ اس نے مختصر مدت میں ہی سنجیدہ رویے‘غیر جانبدارانہ پالیسی ‘ملک و ملت کے مسائل معروضی انداز میں ابھارنے اور خبروں و تجزیوں کے اعلی معیار کی بدولت سماج کے ہر طبقہ میں اپنی جگہ بنالی۔ اب روزنامہ خبریں نے حالات کے تقاضوں کے تحت اردو کے ساتھ ہندی میں24x7کے ڈائمنگ ویب سائٹ شروع کی ہے۔ ہمیں یقین ہے کہ یہ آپ کی توقعات پر پوری اترے گی۔

اہم لنک

  • ABOUT US
  • SUPPORT US
  • TERMS AND CONDITIONS
  • PRIVACY POLICY
  • GRIEVANCE
  • CONTACT US
  • ہوم
  • دیس پردیس
  • فکر ونظر
  • گراونڈ رپورٹ
  • انٹرٹینمینٹ
  • اداریے
  • ہیٹ کرا ئم
  • سپورٹ کیجیے

.ALL RIGHTS RESERVED © COPYRIGHT ROZNAMA KHABREIN

Welcome Back!

Login to your account below

Forgotten Password?

Retrieve your password

Please enter your username or email address to reset your password.

Log In

Add New Playlist

کوئی نتیجہ نہیں ملا
تمام نتائج دیکھیں
  • ہوم
  • دیس پردیس
  • فکر ونظر
    • مذہبیات
    • مضامین
  • گراونڈ رپورٹ
  • انٹرٹینمینٹ
  • اداریے
  • ہیٹ کرا ئم
  • سپورٹ کیجیے

.ALL RIGHTS RESERVED © COPYRIGHT ROZNAMA KHABREIN