دوٹوک:قاسم سید
جب مسلمان رمضان کے استقبال کی تیاریوں میں مصروف تھے اور ادھر الیکٹورل بانڈ کی تفصیلات 48گھنٹوں میں مہیا کرانے کی سیپریم کورٹ کی ایس بی آئی کو ہدایت کی خبر نے ہلچل مچادی تھی،لگ رہا تھا کہ ہرائم ٹائم میں مجبورا ہی سہی اسی پر ڈبیٹ ہوگی اور اخبارات کی اس کے سوا کوئی ہیڈ لائن نہیں ہوسکتی تو ایونٹ مینیجمنٹ کی مشاق اور ہیڈ لائنس بنانے اور چرانے کے فن میں ماہر بی جے پی اور مودی سرکار نے شام تک ساری بساط پلٹ دی –
اس کے پٹارے میں ایک سے ایک گر اور ہر ,زہر ,کا تریاق ہے ۔شام ہوتے ہوتے فضا بدل گئی سماں بدل گیا اور ملک بھر میں سی اے اے کے نفاذ کے نوٹیفیکیشن کا “مژدہ جانفزا “آگیا ۔کیچوے کی طرح رینگتے میڈیا کی جان میں جان آگئی،جس کا دم سوکھ رہا تھا کہ سرکار کی لاج بچانے کے لئے کیا کرےگا ؟
اسے کہتے ہیں آنکھ سے کاجل چرانا ،بھوسے میں سے سوئی نکالنا،آپ بتائیں اور دیکھیں مقابلہ کس سے ہے ،جو جنگ کے تمام قوانین قاعدوں کو بدل چکا ہے سیاست کی ترکیبیں اور معانی بدل دیے ہیں -سب کچھ الٹ پلٹ دیا ہے ۔جو روایت و آداب و تکلف و رعایت کا قائل نہیں ہے۔اس لئے ہم سے سے ہر ایک کو خواہ فرد ہو یا جماعت نئی بساط پر نئے مہرے ،نئے طریقے نئے اصول گڑھنے ہوں گے ،فریق جنگ کے مورچے بدلنے کا ماہر ہے اکیسویں صدی میں انیسویں صدی کے فارمولوں اور حربوں سے ںظریاتی و سیاسی جنگ نہیں جیت سکتے۔حریف اور فریق چالاک ہے باخبر ہے وہ ہماری کمزوریوں اور خوبیوں سے اچھی طرح واقف ہے ۔اس نے کمزوریوں پر نگاہ رکھنے اور وہاں شگاف ڈالنے کے لئے ہمارے اپنے ماہرین کی بڑے پیمانے خدمات حاصل کر رکھی ہیں وہ ان کو اسلامی تاریخ سے لے کر فقہی اختلافات کی گہرائیوں کی جانکار ی اکٹھا کرتے ہیں ۔
گالیاں ذہنی افلاس کا اظہار ہوتی ہیں ان کے ذریعہ فرسٹریشن دور کیا جاسکتا ہے ۔اپنی بھڑاس نکالی جاسکتی ہے احساس شکست پر کچھ دیر کے لئے پردہ ڈال کر خود فریبی میں مبتلا کیا جاسکتا ہے اور سامنے والے کو خاموش بھی کیا جاسکتا ہے ۔لیکن یہ علاج نہیں ہے ۔دلائل کا مقابلہ دلائل سے ،تحریک کا سامنا تحریک سے اور نظرات کا متوازی نظریہ پیش کرکے ہی ہوسکتا ہے ۔گفتگو میں سلیقہ اور شائستگی اور حسن عمل نہ ہو تو مردناداں پر کیا اثر ہوگا ورنہ پھول کی پتی سے ہیرے کا جگر چاک کیا جاسکتا ہے -علاج تو صبر کے ساتھ استقلال اور محنت وعزیمت کے ساتھ جمہوری طریقوں سے مزاحمت ہی ہے ۔
رہا سی اے اے تو یہ خالص سیاسی و انتخابی ہے ۔اس کا اصل نشانہفی الحال بنگال و آسام ہیں ۔ انتخاب کے موقع پر اعلان خود ایک اشارہ ہے کہ اس کا مقصد فرقہ وارانہ پولرائزیشن ہے ،مسلمان کی چوڑی مزید کسنے کے آرزو مندوں کی نفسیاتی تسکین کا ایجنڈہ ہے ہمیں فکر ضرور کرنی ہے کرنی چاہیے مگرسراسیمگی پھیلانے ،ڈرنے اور ڈرانے کی ضرورت بالکل نہیں ہے ۔یہی تو مقصد ہے ان کا۔کچھ لوگ خوف کا ماحول پیدا کررہے ہیں وہ کاز میں کتنے ہی مخلص کیوں نہ ہوں کہیں نہ کہیں ان کی جذباتیت اور عجلت پسند آنہ رویے سے ان طاقتوں کا ہی مقصد پورا ہوتا ہے اس کے بجائے جو کیا جاسکتا ہے وہ ہو نہ کہ ذہنی تناؤ پیدا کرکے مر جائیں -لڑائی بہت لمبی ہے اعصاب شکن ہے تھکا دینے والی ہے ،ان کے پاس ایشوز کی بھرمار ہے ۔ایک ایک قطرہ زہر دے کر نیم مردہ کرنے کی ہے مگر ہمیں حوصلہ برقرار رکھنے کی ضد بھی رکھنی ہے ۔یہ تیر اور جگر آزمانے کا چیلنج نہیں بلکہ ہر تیر کا مسکت جواب دینے کا ہے ۔
ہماری جو بھی قیادت ہے اگر وہ بھانت بھانت کی بولی نہ بولے ۔ہر ایسے حساس مسئلہ پر مشترکہ موقف اختیار کرنے کی کوشش کرے-سیاسی وفاداریوں کے جوے کو کچھ وقت کے لئے کندھے سے اتار کر اس ملت کے لئے وقف کردے جس نے ان کا سارا معاشی،سیاسی امپاورمنٹ کا بوجھ فاقہ کش پیٹ پر پتھر باندھ کر اٹھا رکھا ہے تو ان بہت ساری پیچیدگیاں دور ہوسکتی ہیں سی اے اے کو ہوا بناکر شور مچانے اور زمیں پر ٹھوس اقدامات نہ کرنے سے سہل پسندی کا اظہار ہوتا ۔پریس ریلیز والی قیادت نہ پہلے کام کی تھی نہ اب ہوگی -وہ دور چلاگیا جب آپ کے گرجنے اور انتباہات سے کھڑک سنگھ بھی لرز جاتا تھا اب تو کھڑکیوں میں بھی ارتعاش نہیں ہوتا ۔سی اے اے کے خلاف لڑنے والے جیالے سالوں سے جیلوں میں سڑ رہے ہیں اور اس کی بالواسطہ حمایت کرنے والے آج بھی بوقت ضرورت اپنی وفاداریاں پیش کرنے کے لئے موقع کے منتظر ہیں۔انہیں وزیر داخلہ کو اچھائی کا سرٹیفکیٹ دینے میں آج بی کوئی کوئی تکلف نہیں ہے ۔سوال تو ان کی اپنی بقا کا بھی ہے !
مقابلہ ہیڈلائنز چرانے اور اس کے لئے کچھ بھی کر گزرنے کی طاقت رکھنے والوں سے ہے۔ہیڈ لائنز چرانا ایک سیاسی استعارہ ہے اس میں نریٹو گڑھنے اور perceptionبنانے کی جنگ کا پورا تصور کارفرما ہے ۔یہی آج کی لڑائی اور اورآج کا چیلنج ہے ۔دیکھنا یہ ہے کہ ہم اس کے لئے تیاری کے کس مرحلہ میں ہے ۔2024اس جنگ کا فیصلہ کن مورچہ ہے، ہماراکردار ایک تماشائی کا ہے وقت ہے کہ برف کی طرح گھلا جارہا ہے۔








