دیوبند:
عظیم علمی دانش گاہ دارالعلوم دیوبند کے کارگزار مہتمم اور جمعیۃ علماء ہند کے صدر مولانا قاری سید محمد عثمان منصورپوری کی طبیعت زیادہ ناسازہونے کے سبب انہیںگڑگائوں میں واقع میدانتا ہاسپٹل میں داخل کرایا گیا ہے، جہاں ڈاکٹروں کی نگرانی میں آئی سی یونٹ میں ان کا علا ج چل رہا ہے ۔واضح ہو کہ قاری سید محمد عثمان منصورپوری کی گذشتہ 6؍مئی کو کورونا رپورٹ پازیٹو آئی تھی جس کے بعد سے وہ دیوبند میں واقع اپنی رہائش گاہ پر آئی سو لیٹ تھے اور ابھی تک گھر پر ہی ان کا علاج چل رہا تھا لیکن طبیعت زیادہ بگڑجانے کی وجہ سے انہیں علاج کی غرض سے آج گڑگائوں کے میدانتا میڈی سٹی ہاسپٹل میں داخل کرایا گیا ہے ۔مولانا موصوف کے صاحبزادہ اور مشہور عالم دین مفتی عفان منصورپوری نے بتایا کہ والد محترم کی طبیعت گذشتہ 15؍دنوں سے ناساز چل رہی ہے لیکن اس دوران ان کا علاج گھر پر ہی چلتا رہا،علاج کے دوران ان کی طبیعت میں کافی بہتری آئی تھی لیکن گذشتہ روز سے بخار کی شدت اورنقاہت و کمزوری کو دیکھتے ہوئے معالجین کے مشورہ کے بعد انہیں گڑگائوں کے میدانتا اسپتال میں داخل کرایا گیا ہے جہاں انتہائی نگہداشت والی یونٹ میں ان کا علاج چل رہا ہے ۔ قاری عفان منصورپور ی نے گذشتہ دنوں مولانا کی صحت یابی کے لئے کی جانے والی دعائوں کیلئے لوگوں کا شکریہ ادا کیا اور اپیل کی کہ والد محترم کے جلد از جلد صحت یاب ہونے کیلئے مزید دعائیں فرمائیں تاکہ مولانا موصوف رو بصحت ہو کر اپنے گھر واپس آجائیں ۔ یاد رہے کہ گذشتہ 6؍مئی کو نزلہ زکام اور کمزوری کے علاوہ سانس لینے میں دشواری ہونے و آکسیجن لیول کم ہونے کی وجہ سے قاری عثمان منصورپوری کو آکسیجن بھی دی گئی تھی ۔ کورونا پوزیٹو رپورٹ آنے کے بعد مسلسل ان کا علاج گھر پر ہی چل رہا تھا لیکن بدھ کے روز ایک مرتبہ پھر طبیعت زیادہ ناساز ہوگئی ،جس کے سبب انہیںاسپتال میں داخل کرایا گیا ۔اس موقع پر قاری عثمان منصورپوری کے دونوں بیٹوں مفتی سلمان منصورپوری اور قاری عفان منصورپوری نے سبھی لوگوں سے والد محترم کے جلد از جلدشفایاب ہونے کی دعاء کئے جانے کی اپیل کی ہے ۔










