نئی دہلی:
پاپولر فرنٹ آف انڈیا کے چیئرمین او ایم اے سلام نے اترپردیش کے بارہ بنکی ضلع انتظامیہ کے ذریعہ غریب نواز مسجد کے انہدام کی مذمت کی ہے۔
او ایم اے سلام نے آج میڈیا کو جاری اپنے ایک بیان میں کہا کہ اترپردیش کی ایک ضلعی انتظامیہ نے انتہائی مشکوک بنیادوں پر مسلمانوں کی ایک صدی قدیم عباتگاہ پر بلڈوزر چلا دیا، جس کی وجہ سے مسلمانوں میں دہشت کا ماحول ہے۔
رام سنیہی گھاٹ تحصیل میں واقع غریب نواز مسجد اترپردیش سنی وقف بورڈ کے تحت رجسٹرڈ مسجد ہے اور اس بات کے تمام رکارڈ موجود ہیں کہ مسلمان وہاں ایک صدی سے نماز پڑھتے چلے آ رہے ہیں۔ تاہم مقامی اہلکاروں نے بڑی آسانی سے اسے ایک غیرقانونی ڈھانچہ قرار دیتے ہوئے اس پر بلڈوزر چلا دیا، حالانکہ ہائی کورٹ کا یہ آرڈر موجود ہے کہ مسجد کو نہ منتقل کیا جائے گا اور نہ منہدم کیا جائے گا۔

پاپولر فرنٹ مسجد کے انہدام اور ہائی کورٹ کے حکم کی خلاف ورزی کی مذمت کرتی ہے۔ ضلع انتظامیہ کی جانب سے یہ صریح خلاف ورزی ویسی ہی ہے جس طرح یوگی کی قیادت میں عام معافی کے احساس کے ساتھ ہندوتوا غنڈے کرتے رہتے ہیں جنہیں قانون یا عوامی حقوق کا کوئی پاس و لحاظ نہیں ہوتا۔ یاد رہے کہ ہندوتوا طاقتوں نے بابری مسجد کے خلاف اپنی مہم کی شروعات بھی اسی طریقے سے نچلی عدالتوں اور مقامی انتظامیہ میں ہیر پھیر کے ذریعہ کی تھی۔ جب تک اس قسم کی کوششوں کی مخالفت میں مسلم برادری اور شہری سماج آگے نہیں آئے گا، ملک میں یہ حملے جاری رہیں گے۔
پاپولر فرنٹ مسجد کی فوری تعمیر نو اور اس انہدامی کاروائی کے ذمہ دار افسران کے خلاف سخت کاروائی کا مطالبہ کرتی ہے۔










