اردو
हिन्दी
مئی 6, 2026
Latest News | Breaking News | Latest Khabar in Urdu at Roznama Khabrein
  • ہوم
  • دیس پردیس
  • فکر ونظر
    • مذہبیات
    • مضامین
  • گراونڈ رپورٹ
  • انٹرٹینمینٹ
  • اداریے
  • ہیٹ کرا ئم
  • سپورٹ کیجیے
کوئی نتیجہ نہیں ملا
تمام نتائج دیکھیں
  • ہوم
  • دیس پردیس
  • فکر ونظر
    • مذہبیات
    • مضامین
  • گراونڈ رپورٹ
  • انٹرٹینمینٹ
  • اداریے
  • ہیٹ کرا ئم
  • سپورٹ کیجیے
کوئی نتیجہ نہیں ملا
تمام نتائج دیکھیں
Latest News | Breaking News | Latest Khabar in Urdu at Roznama Khabrein
کوئی نتیجہ نہیں ملا
تمام نتائج دیکھیں

فارغین مدارس اور دین کی خدمت

2 سال پہلے
‏‏‎ ‎‏‏‎ ‎|‏‏‎ ‎‏‏‎ ‎ مضامین
A A
0
59
مشاہدات
Share on FacebookShare on TwitterShare on Whatsapp

تحریر: ڈاکٹر محمداکرم (آکسفورڈ برطانیہ)
ہمارے ايكـ عزيز ہيں جو برائيٹن، لندن ميں رہتے ہيں، ان كا نام ہے: مولانا ابو صالح شبير احمد صاحب مد ظله، ايكـ قديم مدرسه كے فارغ ہيں، با صلاحيت اور با عمل عالم دين ہيں، ان كے ايكـ صاحبزادے ڈاكٹر فہيم محيي الدين احمد ہيں، جنہوں نے درس نظامى كے ايكـ مدرسه ميں قرآن كريم حفظ كيا، اورعربى چہارم تكـ پڑها، اس كے بعد سيكولر تعليم مكمل كى اور ايم بى بى ايس كيا، اس وقت لندن كے ايكـ اسپتال ميں ميڈيكل ڈاكٹر كى حيثيت سے خدمت ميں لگے ہيں، اور ساتهـ ہى ہمارے اداره معہد السلام سے عالميت كى تكميل كر رہے ہيں، دوسرے صاحبزادے منعم احمد نے اسى مدرسه سے عربى سوم تكـ طالبعلمى كى، پهر سيكولر تعليم مكمل كى، اكاؤنٹس اور فائينانس ميں بى اے كيا، في الحال برطانوى حكومت كے ٹريزرى ڈپارٹمنت سے منسلكـ ہيں۔
مولانا ابو صالح ايكـ عرصه سے بيمار ہيں، گزشته مہينه ہم ان كى عيادت كے لئے گئے، مولانا نے دوران گفتگو بتايا كه جب انہوں نے اپنے بچوں كو عالم ہونے سے پہلے مدرسه سے نكالا تو مدرسه كے ذمه دار سخت ناراض ہوئے كه كيوں دنيا كو دين پر ترجيح دے رہے ہيں؟ مولانا نے ان سے پوچها كه مدرسه سے فراغت كے بعد ميرے بچے كيا كريں گے؟ تو ان لوگوں كے پاس اس معقول سوال كا كوئى جواب نہيں تها، سيكولر تعليم حاصل كرنے كے بعد يه دونوں بچے اچهى ملازمتوں پر ہيں، ديندار ہيں، اور دعوت وتبليغ كا كام كر رہے ہيں۔
مولانا كے دوسرے صاحبزادے منعم احمد نے ہم لوگوں سے بتايا كه ان كے جن ساتهيوں نے درس نظامى كى تعليم مكمل كى، وه سخت پريشان ہيں، چهوٹے موٹے كام كركے گزر اوقات كر رہے ہيں، دين كى كوئى خدمت كرنے كے اہل نہيں، بلكه جو كچهـ پڑها تها اسے بهى بهلا ديا ہے۔
انگلينڈ ميں بہت سے علماء ہيں جو ٹيكسى چلا تے ہيں، دكانوں پر كام كرتے ہيں، معمولى سى معمولى ملازمتوں ميں لگے ہوئے ہيں، سخت پريشان رہتے ہيں، كچهـ لوگ ذہنى بيماريوں ميں مبتلا ہيں۔
يہى حال امريكه اور يورپ كے دوسرے ممالكـ ميں ہے، عالم عرب ميں حالات اور سنگين ہيں، بر صغير كے مدارس كے فارغين جن ملازمتوں ميں لگے ہوئے ہيں ان كا اس دينى تعليم سے كوئى تعلق نہيں جو ان كے والدين نے اخلاص كے ساتهـ انہيں دلوائى تهى، يہى حال ہندوستان ميں بهى ہے، زياده تر فارغين ٹيوشں پڑها رہے ہيں، ايكـ اچهے حافظ وقارى كو ميں نے كسى ملاح كى معمولى نوكرى كرتے ہوئے ديكها ہے، حالات اس سے زياده خراب ہيں اور سب كے علم ميں ہيں۔
جن حوصله مند علماء كو كوئى ملازمت نہيں ملتى وه اپنے اپنے مدرسے اور خانقاہيں بنا ليتے ہيں، ان نئے مدرسوں اور خانقاہوں سے قوم كى گرانبارى دو چند ہو جاتى ہے، يه ادارے بغير كسى منصوبه بندى كے بنائے جاتے ہيں، ان كا مقصد تعليم وتربيت كے باب ميں كچهـ اضافه كرنا نہيں ہوتا، بلكه مہتمموں اور ناظموں كى معاشى كفالت مقصود ہوتى ہے، يه ادارے عام طور سے انہيں علاقوں ميں كهولے جاتے ہيں، جہاں پہلے ہى ضرورت سے زائد مدرسے اور خانقاہيں ہيں، مدرسين پر چنده جمع كرنے كے ساتهـ طلبه اكٹها كرنے اور مريدين كى تعداد بڑهانے كى ذمه دارى بهى ڈال دى جاتى ہے۔
مدرسوں كى تعداد بڑهـ رہى، مگر معيار نيچے جا رہا ہے، مجهـ سے ديوبند كے بہت سے علماء نے بيان كيا كه مدرسوں ميں وہى لوگ پڑهاتے ہيں جو كوئى اور كام نہيں كرسكتے، ان كى صلاحيتيں بہت كمزور ہوتى ہيں، كسى علمى موضوع پر گفتگو تو دور كى بات ہے جو كتابيں پڑهاتے ہيں ان كى عبارتيں بهى صحيح طريقه سے نہيں پڑهـ سكتے، ديوبند سے ان كتابوں كے اردو ترجمے اور اردو شرحيں چهپتى ہيں، اور وه ان بے  صلاحيت اساتذه كے كام آتى ہيں، اساتذه كى تقييم (evaluation) كا سرے سے كوئى نظام نہيں۔
مدرسوں سے دنياوى مضامين كب كے رخصت ہو گئے، نه قديم منطق وفلسفه كا علم ہے نه جديد كا، ان كے اصولوں پر تنقيد تو خواب وخيال ہے، تاريخ كا شعور نہيں، ملفوظات ومواعظ سے آگے بڑهنے كا حوصله نہيں، بعضے تاريخ كو كوئى علم ہى نہيں سمجهتے، زبان وادب كو بے دينى كے خانه ميں ڈال ديا گيا ہے، نه جمالياتى حس بيدار ہوتى ہے اور نه كلام كے حسن وقبح جاننے كا سليقه آتا ہے، اچهے خاصے علماء پهسپهسى تكبنديوں كو غالب اور اقبال كى طرف منسوب كرتے ديكهے گئے ہيں:
كہاں نطق فصيح از طبع نا ہنجار ہو پيدا
فغان زاغ سے طوطى كى كب گفتار ہو پيدا

خالص دينى مضامين كا حال بهى افسوسناكـ ہے، قرآن كريم سے شديد بے اعتنائى ہے، ايكـ تفسير جلالين ہے يا بيضاوى كے كچهـ اجزاء ہيں جن سے كتاب الہى كا كوئى ذوق نہيں پيدا ہوتا، حديث كى بنيادى كتابوں كا تيزى كے ساتهـ دوره ہوتا ہے، يه وه "مقرأة” ہے جسے دنيا كى كسى زبان ميں تعليم كا نام نہيں ديا جا سكتا، نه رجال پر گفتگو ہوتى ہے، نه علل زير بحث آتے ہيں، نه صحيح وسقيم كى تميز كا سليقه آتا ہے، نه احاديث پر ہونے والے اعتراضات معلوم ہوتے ہيں اور نه ان كے جواب، بہت زياده اگر ہوتا ہے تو آمين بالجہر، قراءت خلف الامام اور رفع يدين كى حديثيوں كى مسلكى توجيه از بر كرادى جاتى ہے، فقه صرف مسلكـ تكـ محدود ہے، نئے مفتى اردو فتاوى كى كتابوں سے نقل كركے فتوے ديتے ہيں، اور اسى نقالى كو افتاء كا نام ديا جاتا ہے، بقول مير:
مكے گئے، مدينے گئے، كربلا گئے
جيسے گئے تهے ويسے ہى چل پهر كے آگئے
دنيا كے تعليمى اداروں ميں مقابله كا ماحول ہوتا ہے، تقررى كے بعد مدرس كو سيمينار دينے ہوتے ہيں، اكيڈمكـ پيپرز اور كتابيں لكهنى ہوتى ہيں، مدارس كے فارغين زياده تر مواعظ وملفوظات مرتب كرتے ہيں، نه كوئى علمى جد وجہد اور نه بحث وتحقيق، ايكـ صاحب زور شور سے يه افسانه دہرا رہے تهے كه جنگ آزادى كى شروعات شاملى سے ہوئى تهى، جب ميں نے ان سے عرض كيا كه يه محض ان خرافات كا حصه ہے جو واعظين بيان كرتے رہتے ہيں، شاملى ميں جنگ آزادى نہيں لڑى گئى تهى، تو انہوں نے اسے اس بات پر محمول كيا كه مجهے ان كے مسلكـ سے حسد ہے، اس طرح كى مثاليں بے شمار ہيں۔
ايمان، اخلاق وعمل ميں بهى مدرسوں ميں شديد كوتاہى ہے، كرته، پائجامه اور ٹوپى پہننے كو بزرگى سمجهـ ليا گيا ہے، ظاہر پرستى عام ہے، خدا ورسول كى محبت واطاعت نہيں پيدا كى جاتى، ايمان واسلام كى حقيقت كى تعليم نہيں ہوتى، نماز سے شديد غفلت برتى جاتى ہے، غيبت، جهوٹ، فريب، مسلمانوں كى ايذا رسانى عام بات ہے، جو شخص اپنے مسلكـ كا نہيں خواه وه كتنا ہى ديندار ہو اس پر تہمتيں باندهى جاتى ہيں اور اسے بدنام كرنے كى مہم چلائى جاتى ہے، مسلمانوں كے حقوق نہيں سكهائے جاتے، بلكه فرقه بندى ومسلكـ پرستى كى جڑيں راسخ كى جاتى ہيں، وه زبان درازياں اور دشنام طرازياں كه تيغ، سنان اور خنجر نے اپنا اعتبار كهو ديا، انحطاط كا يه عالم ہے اور دماغ ميں خلل ہے پارسائى كا۔
كہنے كى باتيں زياده ہيں، مقصود كے لئے اسى قدر بس ہے، اپنى قوم مدح وستائش كى خو گر ہے، گله اس كے نزديكـ دشمنى كے مرادف ہے، انديشه ہے كه اس تحرير پر كوئى فتوى يا الزام لگار كر اس كى قيمت كم كرنے كى كوشش كى جائے گى، يا پهر اسے ايكـ حمل ثقيل سمجهكر ٹال ديا جائے گا:
سناؤں كيسے اپنا حال اس كو سخت مشكل ہے
يه قصه جب لگوں كہنے تو اس كو نيند آتى ہے
امت كے دردمند حضرات كو انقلابى جد وجہد كرنى ہوگى، ايكـ ايسا تعليمى نظام برپا كرنا وقت كى سب سے اہم ضرورت ہے جس ميں نئى نسل كى دينى تعليم وتربيت كے ساتهـ معاشى ضروريات پر توجه ہو، فقر وغربت كے انتشار سے كفر وارتداد كے خطرے بڑهتے ہيں، ميں نے ايكـ عالم كو يه كہتے ہوئے سنا كه ان پر اتنا برا وقت آيا ہے كه كبهى كبهى انہيں كافر ہونے كا خيال آتا ہے، ميں نے انہيں اس خيال سے روكنے كى كوشش كى، ساتهـ ہى عبرت ہوئى كه مدارس جس ديندارى كا دعوى كر رہے ہيں وه كس قدر كهوكهلا ہے، بيمارى كا علاج تو موجود ہے، پر اس علاج كى سمت كون قدم بڑهائے؟
علاج درد سر صندل ہے ليكن
ہميں گهسنا ہى اس كا درد سر ہے
الله تعالى ہم سب كو كفر وفسق اور سارے فتنوں سے محفوظ ركهے، اپنى اصلاح اور اپنى قوم كى فلاح وبہبود كے كام كرنے كى توفيق دے، آمين۔

قارئین سے ایک گزارش

سچ کے ساتھ آزاد میڈیا وقت کی اہم ضرورت ہےـ روزنامہ خبریں سخت ترین چیلنجوں کے سایے میں گزشتہ دس سال سے یہ خدمت انجام دے رہا ہے۔ اردو، ہندی ویب سائٹ کے ساتھ یو ٹیوب چینل بھی۔ جلد انگریزی پورٹل شروع کرنے کا منصوبہ ہے۔ یہ کاز عوامی تعاون کے بغیر نہیں ہوسکتا۔ اسے جاری رکھنے کے لیے ہمیں آپ کے تعاون کی ضرورت ہے۔

سپورٹ کریں سبسکرائب کریں

مزید خبریں

US Iran War Strategic Defeat News
مضامین

امریکہ – اسرائیل – ایران جنگ میں امریکہ کی اسٹریٹجک ہار پہلے سے طے

23 مارچ
Hormuz Strait Iran Speech
مضامین

ایران میں قیادت کی تبدیلی اور مجتبیٰ خامنہ ای: ایک تجزیاتی مطالعہ

12 مارچ
Modi Israel Gaza Questions Debate
مضامین

پی ایم مودی کے دورہ اسرائیل میں غزہ کے مصائب کا ذکر تک نہ ہونے پر سوالات اٹھ رہے ہیں۔ کیا چاہتا ہے بھارت ؟

28 فروری
  • ٹرینڈنگ
  • تبصرے
  • تازہ ترین
Humayun Kabir Owaisi Video Row

ہمایوں کبیر کے خفیہ ویڈیو نے اویسی پر بی جے پی کی بی ٹیم کے الزام کو تقویت دی، اتحاد ٹوٹا ، سیاسی بصیرت پر بھی سوال

اپریل 10, 2026
یوپی کے 558 مدارس میں مڈ ڈے میل کون کھا رہا ہے؟ چونکاتی گراؤنڈ رپورٹ

یوپی کے 558 مدارس میں مڈ ڈے میل کون کھا رہا ہے؟ چونکاتی گراؤنڈ رپورٹ

اپریل 10, 2026
DD News Anchor Controversy News

پبلک ٹیکس سے چلنے والے ‘ڈی ڈی نیوز’ کے اینکر نے کہا” ساورکر کے چپل کی دھول بھی نہیں راہل گادھی

اپریل 13, 2026
طالبان ميں پھوٹ کی خبريں، حقيقت يا پروپيگنڈہ؟

طالبان ميں پھوٹ کی خبريں، حقيقت يا پروپيگنڈہ؟

ستمبر 19, 2021
امریکہ ایران کشیدگی خبر

امریکہ–ایران کشیدگی ایک بار پھر سرخیوں میں، جنگ بندی میں توسیع کے باوجود بڑے معاہدے کا مستقبل خطرے میں

الیکشن سے قبل سیاسی بیان بازی تیز، کئی بڑے لیڈرز آمنے سامنے

الیکشن سے قبل سیاسی بیان بازی تیز، کئی بڑے لیڈرز آمنے سامنے

دہلی میں بڑھتے جرائم پولیس الرٹ

دہلی-NCR میں جرائم کے واقعات میں اضافہ، پولیس الرٹ

امریکہ ایران کشیدگی خبر

ایران–امریکہ مذاکرات میں محدود پیش رفت، اختلافات بدستور برقرار: قالیباف

امریکہ ایران کشیدگی خبر

امریکہ–ایران کشیدگی ایک بار پھر سرخیوں میں، جنگ بندی میں توسیع کے باوجود بڑے معاہدے کا مستقبل خطرے میں

اپریل 22, 2026
الیکشن سے قبل سیاسی بیان بازی تیز، کئی بڑے لیڈرز آمنے سامنے

الیکشن سے قبل سیاسی بیان بازی تیز، کئی بڑے لیڈرز آمنے سامنے

اپریل 21, 2026
دہلی میں بڑھتے جرائم پولیس الرٹ

دہلی-NCR میں جرائم کے واقعات میں اضافہ، پولیس الرٹ

اپریل 21, 2026
امریکہ ایران کشیدگی خبر

ایران–امریکہ مذاکرات میں محدود پیش رفت، اختلافات بدستور برقرار: قالیباف

اپریل 19, 2026

حالیہ خبریں

امریکہ ایران کشیدگی خبر

امریکہ–ایران کشیدگی ایک بار پھر سرخیوں میں، جنگ بندی میں توسیع کے باوجود بڑے معاہدے کا مستقبل خطرے میں

اپریل 22, 2026
الیکشن سے قبل سیاسی بیان بازی تیز، کئی بڑے لیڈرز آمنے سامنے

الیکشن سے قبل سیاسی بیان بازی تیز، کئی بڑے لیڈرز آمنے سامنے

اپریل 21, 2026
Latest News | Breaking News | Latest Khabar in Urdu at Roznama Khabrein

روزنامہ خبریں مفاد عامہ ‘ جمہوری اقدار وآئین کی پاسداری کا پابند ہے۔ اس نے مختصر مدت میں ہی سنجیدہ رویے‘غیر جانبدارانہ پالیسی ‘ملک و ملت کے مسائل معروضی انداز میں ابھارنے اور خبروں و تجزیوں کے اعلی معیار کی بدولت سماج کے ہر طبقہ میں اپنی جگہ بنالی۔ اب روزنامہ خبریں نے حالات کے تقاضوں کے تحت اردو کے ساتھ ہندی میں24x7کے ڈائمنگ ویب سائٹ شروع کی ہے۔ ہمیں یقین ہے کہ یہ آپ کی توقعات پر پوری اترے گی۔

اہم لنک

  • ABOUT US
  • SUPPORT US
  • TERMS AND CONDITIONS
  • PRIVACY POLICY
  • GRIEVANCE
  • CONTACT US
  • ہوم
  • دیس پردیس
  • فکر ونظر
  • گراونڈ رپورٹ
  • انٹرٹینمینٹ
  • اداریے
  • ہیٹ کرا ئم
  • سپورٹ کیجیے

.ALL RIGHTS RESERVED © COPYRIGHT ROZNAMA KHABREIN

Welcome Back!

Login to your account below

Forgotten Password?

Retrieve your password

Please enter your username or email address to reset your password.

Log In

Add New Playlist

کوئی نتیجہ نہیں ملا
تمام نتائج دیکھیں
  • ہوم
  • دیس پردیس
  • فکر ونظر
    • مذہبیات
    • مضامین
  • گراونڈ رپورٹ
  • انٹرٹینمینٹ
  • اداریے
  • ہیٹ کرا ئم
  • سپورٹ کیجیے

.ALL RIGHTS RESERVED © COPYRIGHT ROZNAMA KHABREIN