جینوا :
اقوام متحدہ کی انسانی حقوق کونسل نے گزشتہ روز غزہ میں اسرائیل اور حماس کے مابین 11 روزہ تنازع کے دوران ہونے والے جرائم کی بین الاقوامی تحقیقات شروع کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔
انسانی حقوق کونسل میں پیش کی گئی قرارداد منظور کر لی گئی، کونسل کے 47 رکن میں سے 24 نے قرارداد کے حق میں ووٹ دیا، جبکہ 9 ووٹ مخالفت میں پڑے۔ 14 رکن نے رائے شماری میں حصہ نہیں لیا۔
قرارداد او آئی سی اور فلسطینی وفد کی طرف سے اقوام متحدہ میں لائی گئی۔ قرارداد کے تحت مشرق وسطیٰ میں عشروں سے جاری تنازعے کی بنیادی وجوہات بھی سامنے لائی جائیں گی۔
واضح رہے کہ 11 روز جاری رہنے والے تنازع میں 248 فلسطینی شہید اور 12 اسرائیلی بھی مارے گئے تھے۔
14 ممالک نے ووٹنگ میں حصہ نہیں لیا، ووٹ نہیں ڈالنے والوں میں ہندوستان بھی شامل ہے۔ جمعرات کو یو این ایچ آر سی نے فلسطینیوں کے حقوق سے متعلق خصوصی اجلاس طلب کیاتھا۔
چین ، روس اور پاکستان اسرائیل کے خلاف ووٹ ڈالنے والوں میں شامل ہیں۔ کئی مغربی اور افریقی ممالک نے اسرائیل کی حمایت میں ووٹ دیا ہے۔ جنیوا میں اقوام متحدہ کے مستقل برطانوی سفیر سائمن منلی نے کہا ہے کہ اس سے بہت کچھ حاصل کرنے کی ضرورت نہیں ہے۔
ہندوستان نے کیا کیا؟
]

بھارت نے ووٹنگ میں حصہ نہیں لیا۔ ہندوستان کے ساتھ مزید 13 ممالک نے ووٹنگ سےباہر رہے۔ 24 ممالک نے اس تجویز کی حمایت کی اور 9 ممالک نے اسرائیل کی حمایت کی۔ بھارت نے 27 مئی کو یو این ایچ آر سی کے موقع پر بھی یہی کہا تھا ، جو پچھلے کئی بیانات میں کہا گیا ہے ۔ ہندوستان فلسطینیوں کے مسائل کے ساتھ کھڑا ہے۔ ہندوستان کے حالیہ بیانات کے بارے میں کہا جارہا ہے کہ اس کا موقف اسرائیل کی طرف ہے۔
رائے دہندگی سے باہر رہنے والے ممالک میں ہندوستان ، فرانس ، اٹلی ، جاپان ، نیپال ، نیدرلینڈز ، پولینڈ ، جنوبی کوریا ، فجی ، بہاماس ، برازیل ، ڈنمارک ، ٹوگو اور یوکرین شامل ہیں۔










