اردو
हिन्दी
ستمبر 5, 2026
Latest News | Breaking News | Latest Khabar in Urdu at Roznama Khabrein
  • ہوم
  • دیس پردیس
  • فکر ونظر
    • مذہبیات
    • مضامین
  • گراونڈ رپورٹ
  • انٹرٹینمینٹ
  • اداریے
  • ہیٹ کرا ئم
  • سپورٹ کیجیے
کوئی نتیجہ نہیں ملا
تمام نتائج دیکھیں
  • ہوم
  • دیس پردیس
  • فکر ونظر
    • مذہبیات
    • مضامین
  • گراونڈ رپورٹ
  • انٹرٹینمینٹ
  • اداریے
  • ہیٹ کرا ئم
  • سپورٹ کیجیے
کوئی نتیجہ نہیں ملا
تمام نتائج دیکھیں
Latest News | Breaking News | Latest Khabar in Urdu at Roznama Khabrein
کوئی نتیجہ نہیں ملا
تمام نتائج دیکھیں

ریپ جیسے گھناؤنے جرم پر کنٹرول کے لئے عدلیہ کیا کچھ کرسکتی ہے

2 سال پہلے
‏‏‎ ‎‏‏‎ ‎|‏‏‎ ‎‏‏‎ ‎ مضامین
A A
0
204
مشاہدات
Share on FacebookShare on TwitterShare on Whatsapp

تحریر:جاوید نقوی
9 اگست کو کولکتہ میں 31 سالہ خاتون ڈاکٹر کو ریپ کے بعد انتہائی دردناک طریقے سے قتل کردیا گیا وہ بھی اس وقت کہ جب وہ ہسپتال میں ڈیوٹی پر مامور تھی۔۔اس انسانیت سوز جرم کے بعد ملک بھر کے ڈاکٹرز سراپا احتجاج ہیں
کولکتہ ہائی کورٹ نے ریاستی پولیس کے ہاتھ سے کیس لے کر  سی بی آئی کو معاملات سونپنے کا حکم دیا ہے۔ بھارت کے چیف جسٹس نے بھی اس بیہمانہ واقعے کا ازخود نوٹس لیا ۔
اس اندوہناک واقعے کو بھی سیاسی رنگ دے کر سیاسی محاذ آرائی میں تبدیل کردیا گیا ہے۔ بی جے پی موجودہ صورت حال کو وزیر اعلیٰ کو کمزور کرنے کے سنہری موقع کے طور پر دیکھ رہی ہے ۔ مقتول ڈاکٹر کے والد کہتے ہیں انہیں امید ہے کہ مجرمان کو سخت ترین سزا دی جائے گی۔ یہی وہ موقع ہے کہ جب ہمارے ذہن کے پردے میں 2012ء کے ہولناک ریپ واقعے میں متاثرہ لڑکی کی والدہ آتی ہیں
نربھی کی والدہ آشا دیوی سے کولکتہ واقعے کے حوالے سے دریافت کیا گیا۔ انہوں نے بے جھجک کہا کہ ان کی بیٹی کے قاتلوں کو پھانسی ہونے کے بعد بھی کچھ نہیں بدلا۔
ایک ایسی سڑن جو جڑوں تک سرایت کرچکی، اس حوالے سے بھارت کے ججز کیا کرسکتے ہیں؟
بھارت میں ریپ کے واقعات رونما ہونا عام بات ہے اور یہ غیرمتوقع نہیں کہ زیادہ تر متاثرین معاشرے کے نچلے طبقے سے تعلق رکھتے ہیں۔ بھارتی میڈیا جو زیادہ تر اوپری طبقات کے مسائل پر توجہ دیتا ہے، وہ نچلے طبقے میں تیزی سے پھیلتی اس بیماری کے خلاف آواز اٹھانے میں ناکام ہے۔
نیشنل کرائم ریکارڈ بیورو کے 2022ء کے اعداد و شمار کے مطابق 2015ء اور 2020ء کے درمیان ریپ کے رپورٹ ہونے والے واقعات میں 45 فیصد دلت خواتین تھیں۔ اور یاد رہے یہ شرح صرف رپورٹ ہونے والے کیسز کی ہے۔
اعداد و شمار کہتے ہیں بھارت میں روزانہ کی بنیاد پر اوسطاً 10 دلت خواتین اور لڑکیوں کے ریپ کے واقعات رپورٹ ہوتے ہیں۔ جب کولکتہ میں یہ ہولناک فعل ہورہا تھا، تب ملک کے کسی اور حصے میں کسی نامعلوم خاتون کو بھی ریپ کا نشانہ بنایا جارہا ہوگا جوکہ شاید رپورٹ ہی نہ ہوا ہو
نیشنل فیملی ہیلتھ سروے 2016ء-2015ء کے مطابق قبائل (آدیواسی یا مقامی بھارتیوں) کی خواتین میں جنسی تشدد کی شرح سب سے زیادہ 7.8 فیصد ریکارڈ کی گئی، جس کے بعد ہندوؤں کی نچلی ذاتوں (دلت) میں 7.3 فیصد اور پھر دیگر پسماندہ طبقات میں خواتین کے خلاف جنسی جرائم کی شرح 5.4 فیصد ہے۔ صرف موازنے کے لیے بتاتا چلوں کہ وہ خواتین جو ذات اور قبیلے کی وجہ سے پسماندہ نہیں ہیں، ان کے خلاف جرائم کی یہی شرح 4.5 فیصد ہے۔
اگر ججز کو اس حوالے سے کچھ کرنا ہے تو انہیں سب سے پہلے عدلیہ پر ہی نظر ڈالنی ہوگی۔ عدلیہ سب سے زیادہ یہی کرسکتی ہے کہ وہ مثال کے طور پر حکمرانوں کے قریبی سمجھے جانے والے ریپ کے سزا یافتہ مجرمان کو پیرول دینے کا سلسلہ روک دے۔
لیکن ایک نیک نیت جج بھی کچھ نہیں کرسکتا کہ جب تین رکنی بینچ کی سربراہی کرنے والے سابق  چیف جسٹس ہی 23 سالہ ریپ کے ملزم سے پوچھیں کہ کیا وہ متاثرہ لڑکی سے شادی کرے گا؟
سابق چیف جسٹس نے کہا تھا، ’اگر تم اس سے شادی کرنا چاہتے ہو تو ہم تمہاری مدد کرسکتے ہیں۔ اگر نہیں تو تم اپنی نوکری گنوا دو اور جیل جاؤ‘۔
5 ہزار مشتعل خواتین کارکنان کی جانب سے اس وقت کے چیف جسٹس شرد بوبڈے کو لکھے گئے خط کے مطابق، ملزم ’اسکول جانے والی نابالغ لڑکی کا پیچھا کرنے، اسے باندھنے، کپڑے کے ذریعے منہ بند کرنے اور بار بار ریپ کرنے کا مرتکب ہے۔ جبکہ اس نے متاثرہ لڑکی کو پیٹرول چھڑک کر آگ لگانے، تیزاب پھینکنے اور بھائی کو قتل کرنے کی دھمکیاں بھی دیں۔۔۔ ریپ کی حقیقت اس وقت سامنے آئی کہ جب متاثرہ لڑکی نے خودکشی کرنے کی کوشش کی‘۔
اس حوالے سے معزز ججز کچھ اور کرسکتے ہیں۔ وہ مجرمان کو ملنے والے پیرول ختم کرسکتے ہیںکولکتہ واقعے کے بعد بھی دو سیاسی بااثر ملزمان کو پیرول دیا گیا۔
ماضی میں سپریم کورٹ مثبت فیصلے دیتی رہی ہے۔ مثلا بلقیس بانو کے ریپ کے مجرمان کو قبل از وقت رہائی ملی لیکن سپریم کورٹ نے انہیں واپس جیل بھیج دیا تھا۔
ججز خواتین کے خلاف ثقافتی طور پر حمایت یافتہ جرائم کا سدِ باب کیسے کرسکتے ہیں؟ ایک دلت خاتون کو اس کے شوہر نے ریپ کے ملزمان کے چنگل سے چھڑایا لیکن اس سے کہا گیا کہ وہ اپنی بیوی کی پاک دامنی کو ثابت کرنے کے لیے ابلتے ہوئے پانی میں سے سکہ نکالے۔
ناقابلِ فہم اور فرسودہ روایات سے خواتین کی حفاظت کے لیے صرف سخت قوانین ناکافی ہیں بلکہ بہتری کے لیے بھارت کو بڑی سماجی تبدیلی درکار ہے۔

قارئین سے ایک گزارش

سچ کے ساتھ آزاد میڈیا وقت کی اہم ضرورت ہےـ روزنامہ خبریں سخت ترین چیلنجوں کے سایے میں گزشتہ دس سال سے یہ خدمت انجام دے رہا ہے۔ اردو، ہندی ویب سائٹ کے ساتھ یو ٹیوب چینل بھی۔ جلد انگریزی پورٹل شروع کرنے کا منصوبہ ہے۔ یہ کاز عوامی تعاون کے بغیر نہیں ہوسکتا۔ اسے جاری رکھنے کے لیے ہمیں آپ کے تعاون کی ضرورت ہے۔

سپورٹ کریں سبسکرائب کریں

مزید خبریں

US Iran War Strategic Defeat News
مضامین

امریکہ – اسرائیل – ایران جنگ میں امریکہ کی اسٹریٹجک ہار پہلے سے طے

23 مارچ
Hormuz Strait Iran Speech
مضامین

ایران میں قیادت کی تبدیلی اور مجتبیٰ خامنہ ای: ایک تجزیاتی مطالعہ

12 مارچ
Modi Israel Gaza Questions Debate
مضامین

پی ایم مودی کے دورہ اسرائیل میں غزہ کے مصائب کا ذکر تک نہ ہونے پر سوالات اٹھ رہے ہیں۔ کیا چاہتا ہے بھارت ؟

28 فروری
  • ٹرینڈنگ
  • تبصرے
  • تازہ ترین
حافظ قرآن کی عظمت اور ان کا مقام و مرتبہ

حافظ قرآن کی عظمت اور ان کا مقام و مرتبہ

مارچ 31, 2022
طالبان ميں پھوٹ کی خبريں، حقيقت يا پروپيگنڈہ؟

طالبان ميں پھوٹ کی خبريں، حقيقت يا پروپيگنڈہ؟

ستمبر 19, 2021
Damaged bus in Nepal after attack on Indian passengers

نیپال میں کتنے ہندو کتنے مسلمان ہیں؟

ستمبر 11, 2025

کیا ہے ترنگے کی تاریخ، منزل بمنزل سفر کے بارے میں سب کچھ جانیے

جنوری 26, 2025
جوہر یونیورسٹی بحران: طلبہ کے دھرنے میں پہنچا جماعت اسلامی ہند کا وفد، گورنر سے مداخلت کی اپیل

جوہر یونیورسٹی بحران: طلبہ کے دھرنے میں پہنچا جماعت اسلامی ہند کا وفد، گورنر سے مداخلت کی اپیل

اترپردیش: اس بار سڑکوں پر نہیں پڑھی جائے گی جمعۃ الوداع کی نماز: علما کی اپیل

136 سال پرانی تاریخی مسجد میں داخلہ بند، نماز پر بھی پابندی!

Easy SIR Form Filing

بھارت میں مسلم ووٹروں کے نام ووٹر لسٹ سے نکالے جا رہے ہیں؟ UN کی رپورٹ میں بھارت کے SIR عمل پر سوالات

ہندو سے مسلمان بننے والوں کو بھی ریزرویشن؟ تمل ناڈو حکومت سپریم کورٹ پہنچ گئی

ہندو سے مسلمان بننے والوں کو بھی ریزرویشن؟ تمل ناڈو حکومت سپریم کورٹ پہنچ گئی

جوہر یونیورسٹی بحران: طلبہ کے دھرنے میں پہنچا جماعت اسلامی ہند کا وفد، گورنر سے مداخلت کی اپیل

جوہر یونیورسٹی بحران: طلبہ کے دھرنے میں پہنچا جماعت اسلامی ہند کا وفد، گورنر سے مداخلت کی اپیل

جولائی 22, 2026
اترپردیش: اس بار سڑکوں پر نہیں پڑھی جائے گی جمعۃ الوداع کی نماز: علما کی اپیل

136 سال پرانی تاریخی مسجد میں داخلہ بند، نماز پر بھی پابندی!

جولائی 13, 2026
Easy SIR Form Filing

بھارت میں مسلم ووٹروں کے نام ووٹر لسٹ سے نکالے جا رہے ہیں؟ UN کی رپورٹ میں بھارت کے SIR عمل پر سوالات

جولائی 12, 2026
ہندو سے مسلمان بننے والوں کو بھی ریزرویشن؟ تمل ناڈو حکومت سپریم کورٹ پہنچ گئی

ہندو سے مسلمان بننے والوں کو بھی ریزرویشن؟ تمل ناڈو حکومت سپریم کورٹ پہنچ گئی

جولائی 10, 2026

حالیہ خبریں

جوہر یونیورسٹی بحران: طلبہ کے دھرنے میں پہنچا جماعت اسلامی ہند کا وفد، گورنر سے مداخلت کی اپیل

جوہر یونیورسٹی بحران: طلبہ کے دھرنے میں پہنچا جماعت اسلامی ہند کا وفد، گورنر سے مداخلت کی اپیل

جولائی 22, 2026
اترپردیش: اس بار سڑکوں پر نہیں پڑھی جائے گی جمعۃ الوداع کی نماز: علما کی اپیل

136 سال پرانی تاریخی مسجد میں داخلہ بند، نماز پر بھی پابندی!

جولائی 13, 2026
Latest News | Breaking News | Latest Khabar in Urdu at Roznama Khabrein

روزنامہ خبریں مفاد عامہ ‘ جمہوری اقدار وآئین کی پاسداری کا پابند ہے۔ اس نے مختصر مدت میں ہی سنجیدہ رویے‘غیر جانبدارانہ پالیسی ‘ملک و ملت کے مسائل معروضی انداز میں ابھارنے اور خبروں و تجزیوں کے اعلی معیار کی بدولت سماج کے ہر طبقہ میں اپنی جگہ بنالی۔ اب روزنامہ خبریں نے حالات کے تقاضوں کے تحت اردو کے ساتھ ہندی میں24x7کے ڈائمنگ ویب سائٹ شروع کی ہے۔ ہمیں یقین ہے کہ یہ آپ کی توقعات پر پوری اترے گی۔

اہم لنک

  • ABOUT US
  • SUPPORT US
  • TERMS AND CONDITIONS
  • PRIVACY POLICY
  • GRIEVANCE
  • CONTACT US
  • ہوم
  • دیس پردیس
  • فکر ونظر
  • گراونڈ رپورٹ
  • انٹرٹینمینٹ
  • اداریے
  • ہیٹ کرا ئم
  • سپورٹ کیجیے

.ALL RIGHTS RESERVED © COPYRIGHT ROZNAMA KHABREIN

Welcome Back!

Login to your account below

Forgotten Password?

Retrieve your password

Please enter your username or email address to reset your password.

Log In

Add New Playlist

کوئی نتیجہ نہیں ملا
تمام نتائج دیکھیں
  • ہوم
  • دیس پردیس
  • فکر ونظر
    • مذہبیات
    • مضامین
  • گراونڈ رپورٹ
  • انٹرٹینمینٹ
  • اداریے
  • ہیٹ کرا ئم
  • سپورٹ کیجیے

.ALL RIGHTS RESERVED © COPYRIGHT ROZNAMA KHABREIN