اردو
हिन्दी
مئی 5, 2026
Latest News | Breaking News | Latest Khabar in Urdu at Roznama Khabrein
  • ہوم
  • دیس پردیس
  • فکر ونظر
    • مذہبیات
    • مضامین
  • گراونڈ رپورٹ
  • انٹرٹینمینٹ
  • اداریے
  • ہیٹ کرا ئم
  • سپورٹ کیجیے
کوئی نتیجہ نہیں ملا
تمام نتائج دیکھیں
  • ہوم
  • دیس پردیس
  • فکر ونظر
    • مذہبیات
    • مضامین
  • گراونڈ رپورٹ
  • انٹرٹینمینٹ
  • اداریے
  • ہیٹ کرا ئم
  • سپورٹ کیجیے
کوئی نتیجہ نہیں ملا
تمام نتائج دیکھیں
Latest News | Breaking News | Latest Khabar in Urdu at Roznama Khabrein
کوئی نتیجہ نہیں ملا
تمام نتائج دیکھیں

خلیل جبران کے دیس( لبنان )کا المیہ

2 سال پہلے
‏‏‎ ‎‏‏‎ ‎|‏‏‎ ‎‏‏‎ ‎ مضامین
A A
0
271
مشاہدات
Share on FacebookShare on TwitterShare on Whatsapp

آنکھوں دیکھی:حامدمیر

 شہر میں دو عالم رہتے تھے دونوں بہت ہی قابل سمجھے جاتے تھے لیکن نظریاتی اختلاف کے باعث دونوں آپس میں لڑتے جھگڑتے رہتے تھے۔ ان میں سے ایک خدا پرست تھا اور دوسرا خدا کا منکر تھا۔ایک دن دونوں کے درمیان خدا کے وجود پر بحث ہو گئی۔گھنٹوں بحث کے باوجود یہ فیصلہ نہ ہو سکا کہ دونوں میں سے کون جیتا اور کون ہارا، خدا کا منکر عالم بحث چھوڑ کر سیدھا عبادت خانے میں گیا اور سجدے میں گر کر خدا سے معافی مانگی اور خدا کے وجود کو تسلیم کر لیا۔خدا پرست عالم نےگھر پہنچ کر اپنی سب کتابیں جلا دیں کیونکہ وہ خدا کا منکر بن چکا تھا۔ دونوں کی زندگی میں انقلاب آ چکا تھا اس حکایت کا بانی خلیل جبران ہے ۔خلیل جبران کا تعلق لبنان سے تھا اس نے اپنی زندگی میں بہت سی کتابیں لکھیں جو آج بھی بہت مقبول ہیں۔خلیل جبران کو عربی کا شیکسپیئر بھی کہا جاتا ہے ۔ شیکسپیئر لمبے لمبے ڈرامے لکھتا تھا لیکن خلیل جبران چھوٹی چھوٹی حکایتوں اور افسانوں میں بڑی بڑی باتیں کہہ جاتا تھا۔وہ ایک مسیحی خاندان میں پیدا ہوا لیکن مذہب کی بنیاد پر نفرت کی بجائے محبت پھیلانے پر یقین رکھتا تھا۔خلیل جبران نے 1923ء میں عربی میں ایک کتاب ’’النبی‘‘ لکھی جس کا انگریزی میں THE PROPHETکے نام سے ترجمہ ہوا۔اس کتاب کے ذریعہ اس نے مذہبی رواداری اور آفاقیت کا پیغام دیا اس نے صرف اڑتالیس سال کی عمر میں وفات پائی۔افسوس کہ خلیل جبران لبنان میں دفن تو ہو گیا لیکن اسکی سوچ لبنان کی پہچان نہ بن سکی۔خلیل جبران کی وفات کے بعد سے آج تک لبنان مذہبی اور فرقہ وارانہ لڑائیوں کا شکار رہا ہے۔1948ء میں اسرائیل کے قیام کے بعد لبنان میں خانہ جنگی اور بحران اسرائیل کی مستقل ضرورت بن گیا کیونکہ فلسطینی مہاجرین کی ایک بڑی تعداد لبنان میں آباد ہو گئی۔یہ فلسطینی اسرائیل کیلئے خطرہ تھے اور لبنانی عرب ان فلسطینیوں کی مدد کرتے تھے لہٰذا اسرائیل نے پہلے فلسطینیوں کو لبنانیوں سے لڑایا پھر لبنانیوں کو بھی آپس میں لڑا دیا۔طویل عرصے کے بعد لبنانی عرب مذہبی اور فرقہ وارانہ اختلافات بھلا کر اسرائیلی جارحیت کے خلاف متحد ہو گئے ہیں۔ جب سے لبنان آیا ہوں تو روزانہ خبر آتی ہے کہ اسرائیل نے جنوبی لبنان میں داخل ہونے کی کوشش کی لیکن اسرائیل کا حملہ پسپا کر دیا گیا۔ بظاہر اسرائیل کے خلاف سب سے زیادہ مزاحمت حزب اللہ کر رہی ہے لیکن حزب اللہ کی اس مزاحمت کے پیچھے لبنانی عربوں کا مسلم مسیحی اتحاد اہم کردار ادا کر رہا ہے ۔ لبنان میں خلیل جبران کا خواب حقیقت بن رہا ہے لیکن خواب کو تکمیل سے قبل توڑنے کی کوششیں بھی جاری ہیں۔اسرائیل لبنان کی شیعہ آبادی کو زیادہ نشانہ بناتا ہے ۔سنی اور مسیحی آبادی کو کم نشانہ بناتا ہے حالانکہ جنوبی لبنان کے مسیحی بھی اسرائیل کے خلاف حزب اللہ کا بھرپور ساتھ دے رہے ہیں۔اسرائیل کی کوشش ہے کہ لبنانی عربوں کو ایک دفعہ پھر مذہبی و فرقہ وارانہ بنیادوں پر تقسیم کیا جائے۔اسرائیلی بمباری کے باعث لاکھوں لوگ بے گھر ہو چکے ہیں۔ لبنان کی حکومت اور فوج اتنی مضبوط نہیں کہ ان لاکھوں متاثرین کو سنبھال سکے۔یہ متاثرین قدرے محفوظ علاقوں میں کھلے آسمان تلے کسمپرسی کی زندگی گزار رہے ہیں اور سوشل میڈیا کے ذریعہ انہیں یہ باور کرایا جا رہا ہے کہ اگر لبنان میں اسرائیل کے خلاف مزاحمت کرنے والوں کو ٹھنڈا کر دیا جائے تو ان کے مسائل حل ہو سکتے ہیں۔عام لبنانیوں پر دبائو بڑھانے کیلئے اسرائیل کی طرف سے ڈرون ٹیکنالوجی بھی استعمال کی جا رہی ہے
بیروت میں ان دنوں بہت سے مغربی
صحافی موجود ہیں جو یوکرائن کی جنگ کو رپورٹ کرکے خود کو بڑے ماہر جنگی نامہ نگار سمجھتے تھے۔ لبنان کی جنگ نے ان کے ہوش اڑا دیئے ہیں کیونکہ عام لبنانی ہرمغربی صحافی کو اپنا دشمن سمجھتا ہے ۔یہ متاثرین جنگ کو اعتماد میں لئے بغیر انکی فلمنگ شروع کرتے ہیں تو ان کے کیمرے توڑ دیئے جاتے ہیں۔ بلجیم کے ایک صحافی کو جنوبی بیروت میں بغیر اجازت فلمنگ سے روکا گیا وہ باز نہ آیا تو اسکی ٹانگ میں گولی مار دی گئی۔مغربی صحافیوں کی اکثریت جب زمینی حقائق کو سمجھے بغیر رپورٹنگ کرتی ہے تو عوامی ردعمل کا نشانہ بنتی ہے ۔یہ ردعمل انہیں خلیل جبران کی یاد دلاتا ہے جو آج بھی مغرب میں بہت مقبول ہے مغرب کو سمجھ لینا چاہئے کہ اگر خلیل جبران کے دیس میں امن قائم نہ ہوا تو یہاں سے شروع ہونے والی بدامنی پوری دنیا میں پھیل سکتی ہے۔ خلیل جبران کے دیس کا المیہ ایک عالمی المیہ بن سکتا

قارئین سے ایک گزارش

سچ کے ساتھ آزاد میڈیا وقت کی اہم ضرورت ہےـ روزنامہ خبریں سخت ترین چیلنجوں کے سایے میں گزشتہ دس سال سے یہ خدمت انجام دے رہا ہے۔ اردو، ہندی ویب سائٹ کے ساتھ یو ٹیوب چینل بھی۔ جلد انگریزی پورٹل شروع کرنے کا منصوبہ ہے۔ یہ کاز عوامی تعاون کے بغیر نہیں ہوسکتا۔ اسے جاری رکھنے کے لیے ہمیں آپ کے تعاون کی ضرورت ہے۔

سپورٹ کریں سبسکرائب کریں

مزید خبریں

US Iran War Strategic Defeat News
مضامین

امریکہ – اسرائیل – ایران جنگ میں امریکہ کی اسٹریٹجک ہار پہلے سے طے

23 مارچ
Hormuz Strait Iran Speech
مضامین

ایران میں قیادت کی تبدیلی اور مجتبیٰ خامنہ ای: ایک تجزیاتی مطالعہ

12 مارچ
Modi Israel Gaza Questions Debate
مضامین

پی ایم مودی کے دورہ اسرائیل میں غزہ کے مصائب کا ذکر تک نہ ہونے پر سوالات اٹھ رہے ہیں۔ کیا چاہتا ہے بھارت ؟

28 فروری
  • ٹرینڈنگ
  • تبصرے
  • تازہ ترین
Humayun Kabir Owaisi Video Row

ہمایوں کبیر کے خفیہ ویڈیو نے اویسی پر بی جے پی کی بی ٹیم کے الزام کو تقویت دی، اتحاد ٹوٹا ، سیاسی بصیرت پر بھی سوال

اپریل 10, 2026
یوپی کے 558 مدارس میں مڈ ڈے میل کون کھا رہا ہے؟ چونکاتی گراؤنڈ رپورٹ

یوپی کے 558 مدارس میں مڈ ڈے میل کون کھا رہا ہے؟ چونکاتی گراؤنڈ رپورٹ

اپریل 10, 2026
DD News Anchor Controversy News

پبلک ٹیکس سے چلنے والے ‘ڈی ڈی نیوز’ کے اینکر نے کہا” ساورکر کے چپل کی دھول بھی نہیں راہل گادھی

اپریل 13, 2026
طالبان ميں پھوٹ کی خبريں، حقيقت يا پروپيگنڈہ؟

طالبان ميں پھوٹ کی خبريں، حقيقت يا پروپيگنڈہ؟

ستمبر 19, 2021
امریکہ ایران کشیدگی خبر

امریکہ–ایران کشیدگی ایک بار پھر سرخیوں میں، جنگ بندی میں توسیع کے باوجود بڑے معاہدے کا مستقبل خطرے میں

الیکشن سے قبل سیاسی بیان بازی تیز، کئی بڑے لیڈرز آمنے سامنے

الیکشن سے قبل سیاسی بیان بازی تیز، کئی بڑے لیڈرز آمنے سامنے

دہلی میں بڑھتے جرائم پولیس الرٹ

دہلی-NCR میں جرائم کے واقعات میں اضافہ، پولیس الرٹ

امریکہ ایران کشیدگی خبر

ایران–امریکہ مذاکرات میں محدود پیش رفت، اختلافات بدستور برقرار: قالیباف

امریکہ ایران کشیدگی خبر

امریکہ–ایران کشیدگی ایک بار پھر سرخیوں میں، جنگ بندی میں توسیع کے باوجود بڑے معاہدے کا مستقبل خطرے میں

اپریل 22, 2026
الیکشن سے قبل سیاسی بیان بازی تیز، کئی بڑے لیڈرز آمنے سامنے

الیکشن سے قبل سیاسی بیان بازی تیز، کئی بڑے لیڈرز آمنے سامنے

اپریل 21, 2026
دہلی میں بڑھتے جرائم پولیس الرٹ

دہلی-NCR میں جرائم کے واقعات میں اضافہ، پولیس الرٹ

اپریل 21, 2026
امریکہ ایران کشیدگی خبر

ایران–امریکہ مذاکرات میں محدود پیش رفت، اختلافات بدستور برقرار: قالیباف

اپریل 19, 2026

حالیہ خبریں

امریکہ ایران کشیدگی خبر

امریکہ–ایران کشیدگی ایک بار پھر سرخیوں میں، جنگ بندی میں توسیع کے باوجود بڑے معاہدے کا مستقبل خطرے میں

اپریل 22, 2026
الیکشن سے قبل سیاسی بیان بازی تیز، کئی بڑے لیڈرز آمنے سامنے

الیکشن سے قبل سیاسی بیان بازی تیز، کئی بڑے لیڈرز آمنے سامنے

اپریل 21, 2026
Latest News | Breaking News | Latest Khabar in Urdu at Roznama Khabrein

روزنامہ خبریں مفاد عامہ ‘ جمہوری اقدار وآئین کی پاسداری کا پابند ہے۔ اس نے مختصر مدت میں ہی سنجیدہ رویے‘غیر جانبدارانہ پالیسی ‘ملک و ملت کے مسائل معروضی انداز میں ابھارنے اور خبروں و تجزیوں کے اعلی معیار کی بدولت سماج کے ہر طبقہ میں اپنی جگہ بنالی۔ اب روزنامہ خبریں نے حالات کے تقاضوں کے تحت اردو کے ساتھ ہندی میں24x7کے ڈائمنگ ویب سائٹ شروع کی ہے۔ ہمیں یقین ہے کہ یہ آپ کی توقعات پر پوری اترے گی۔

اہم لنک

  • ABOUT US
  • SUPPORT US
  • TERMS AND CONDITIONS
  • PRIVACY POLICY
  • GRIEVANCE
  • CONTACT US
  • ہوم
  • دیس پردیس
  • فکر ونظر
  • گراونڈ رپورٹ
  • انٹرٹینمینٹ
  • اداریے
  • ہیٹ کرا ئم
  • سپورٹ کیجیے

.ALL RIGHTS RESERVED © COPYRIGHT ROZNAMA KHABREIN

Welcome Back!

Login to your account below

Forgotten Password?

Retrieve your password

Please enter your username or email address to reset your password.

Log In

Add New Playlist

کوئی نتیجہ نہیں ملا
تمام نتائج دیکھیں
  • ہوم
  • دیس پردیس
  • فکر ونظر
    • مذہبیات
    • مضامین
  • گراونڈ رپورٹ
  • انٹرٹینمینٹ
  • اداریے
  • ہیٹ کرا ئم
  • سپورٹ کیجیے

.ALL RIGHTS RESERVED © COPYRIGHT ROZNAMA KHABREIN