اردو
हिन्दी
مارچ 5, 2026
Latest News | Breaking News | Latest Khabar in Urdu at Roznama Khabrein
  • ہوم
  • دیس پردیس
  • فکر ونظر
    • مذہبیات
    • مضامین
  • گراونڈ رپورٹ
  • انٹرٹینمینٹ
  • اداریے
  • ہیٹ کرا ئم
  • سپورٹ کیجیے
کوئی نتیجہ نہیں ملا
تمام نتائج دیکھیں
  • ہوم
  • دیس پردیس
  • فکر ونظر
    • مذہبیات
    • مضامین
  • گراونڈ رپورٹ
  • انٹرٹینمینٹ
  • اداریے
  • ہیٹ کرا ئم
  • سپورٹ کیجیے
کوئی نتیجہ نہیں ملا
تمام نتائج دیکھیں
Latest News | Breaking News | Latest Khabar in Urdu at Roznama Khabrein
کوئی نتیجہ نہیں ملا
تمام نتائج دیکھیں

کیا صحافی کو مارنا ضروری ہے؟

5 سال پہلے
‏‏‎ ‎‏‏‎ ‎|‏‏‎ ‎‏‏‎ ‎ مضامین
A A
0
کیا صحافی کو مارنا ضروری ہے؟
38
مشاہدات
Share on FacebookShare on TwitterShare on Whatsapp

محمد اکرم

ویسے تو وطن عزیز میں ہر دم ہر جگہ کوئی نہ کوئی کسی نہ کسی کے، خاص طور پر قانون نافذ کرنے والے اداروں جیسے پولیس، رینجرز اور دیگر سکیورٹی اداروں کے ظلم و ستم کا نشانہ بنتا رہتا ہے۔ کچھ نہ کچھ رپورٹ بھی ہو جاتا ہے، تاہم صحافت سے جڑے افراد کو مخصوص حالات میں ایسی صورت حال کا سامنا کرنا پڑے تو صدائے احتجاج زیادہ بلند ہوتی ہے۔

اخبار یا نیوز چینل پر خبر آ جاتی ہے اور کچھ تو اتنےخوش قسمت اور بااثر ہوتے ہیں کہ ان کے خلاف واردات پر ملک کی بڑی بڑی سیاسی جماعتیں اور انسانی حقوق کے ادارے بھی یکجہتی کا اظہار کرتے ہیں۔ ایسا معاملہ جب بین الاقوامی اہمیت اختیار کر لے تو وہ سنگین تر معلوم ہو نے لگتا ہے۔ پاکستان میں بہرحال سارے صحافی اتنے بااثر یا اتنے خوش قسمت واقع نہیں ہوتے، خاص طور پر وہ جو دور دراز کے علاقوں میں ایسی وارداتوں کا شکار ہو کر اپنی جان بھی گنوا دینے کے باوجود میڈیا، میڈیا تنظیموں اور بڑی بڑی سیاسی جماعتوں کی اعلی قیادت کی معمولی سی توجہ بھی حاصل نہیں کر پاتے۔

اس معاملے کو سمجھنے کے لئے کہ صحافیوں کو مار کیوں پڑتی ہے یا ان کے خلاف وارداتیں کیوں ہوتی ہیں آئیے پہلے جاننے کی کوشش کرتے ہیں کہ صحافی کون ہوتا ہے، صحافت کا مقصد کیا ہے؟

صحافی کون ہوتا ہے؟

کیمبرج ڈکشنری میں صحافی کی تعریف کچھ ایسےکی گئی ہے،‘‘جو شخص کسی اخبار یا میگزین کے لئے خبریں یا مضمون لکھتا ہے یا انہیں ریڈیو یا ٹی وی پر نشر کرنے کا کام کرتا ہے، صحافی کہلاتا ہے۔‘‘

امریکن پریس انسٹی ٹیوٹ کے مطابق یہ سوال ہی غلط ہے کہ پوچھا جائے کہ صحافی کون ہوتا ہے؟ اس لئے کہ صحافت تو کوئی بھی کر سکتا ہے۔ صحافتی کام سے وقتی طور پر منسلک ہو جانا، جیسے موبائل فون سے کسی جگہ لگی آگ کی تصویر بنا لینا، کوئی بلاگ سائیٹ بنا کر اس پر خبریں یا ان پر تجزیے دینا صحافت نہیں۔ تاہم اسی امریکی ادارے کے مطابق بعض صورتوں میں ایسا کام صحافتی کام کے زمرے میں بھی آ سکتا ہے۔ امریکن پریس انسٹی ٹیوٹ کا کہنا ہے کہ صحافتی کام اور اس کے حتمی نتیجے تک پہنچنے میں واضح فرق ہوتا ہے۔ صحافی کے لئے عوامی بہتری (عوام کی طرف جانبداری) کسی بھی دوسری چیز پر فوقیت رکھتی ہے۔ صحافی معلومات جمع کرنے اور ان کی جانچ کے لئے مختلف طریقے استعمال کرتا ہے، جس کی بنیاد ہمہ وقت ان معلومات کی تصدیق کرنا ہوتا ہے۔

صحافت کا اصول اور مقصد کیا ہے؟

امریکن پریس انسٹی ٹیوٹ کے مطابق صحافت محض ٹیکنالوجی کے استعمال یا صحافی اور اس کی طرف سے استعمال کی گئی تکنیک کا نام نہیں ہے۔ بلکہ اس کے اصول اور مقصد کی بنیاد یہ ہے کہ ‘خبر لوگوں کی زندگی میں کیا کام کرتی ہے۔‘ خبر رابطے کا وہ ذریعہ ہے، جس کے ذریعے ہم اپنے ارد گرد وقوع پذیر ہونے والی تبدیلیوں، معاملات اور باہر کی دنیا میں موجود کرداروں سے متعلق آگاہ رہتے ہیں۔ امریکی ادارے کے مطابق خبر کی بنیادی اہمیت یہ ہے کہ یہ معلومات رکھنے والےکو بااثر بناتی ہے۔ اس لئے صحافت کا بنیادی مقصد ہی یہ ہے کہ وہ شہریوں کو اپنی زندگی، معاشرے اور حکومتوں کے بارے میں بہتر فیصلے تک پہنچنے میں مدد کے لئے معلومات فراہم کرے۔

یہ سب محض کتابی باتیں نہیں ہیں۔ لیکن ہو سکتا ہے انہیں پڑھ کر آپ بوریت کا شکار ہو رہے ہوں اور سوچ رہے ہوں کہ یہ کہاں ہوتا ہے کہ صحافی معلومات کی تصدیق کے پیچھے پڑا رہے اور میڈیا میں جاری مقابلے کی دوڑ میں اپنے اصول اور مقاصد کو پورا کرنے کے چکر میں نوکری سے ہی ہاتھ دھو بیٹھے۔

یقیناً ایسا بھی ہوتا رہا ہے اور اب بھی ہو رہا ہے اور کہیں تو شاید کھیل اس سے بھی آگے بڑھ چکا ہے۔ جیسے ایک ٹویٹ کے جواب میں ایک ایسے شخص پر مبینہ قاتلانہ حملہ، جس نے مختلف اخبارات اور نیوز چینلز میں برسوں نوکری کی اور پھر مسلم لیگ ن کے دور حکومت میں پیمرا کے چیئرمین بھی رہے۔ ان کے معاملے کو شخصی آزادی یا آزادی اظہار کی خلاف ورزی کے طور پر دیکھنا زیادہ مناسب ہو گا۔ یقیناﹰ کسی کے بھی خلاف طاقت کا استعمال ہر صورت میں قابل مذمت ہے۔ مگر کیا اس واقعہ کو صحافت کی آزادی پر قدغن کے طور پر پیش کرنا درست ہو گا جبکہ متاثرہ شخص بھی صحافت سے الگ ہو کر سیاست سے منسلک ہو چکا ہو۔

دوسرا اور تازہ ترین واقعہ بھی چشم کشا ہے کہ ایک اکیلے فرد کو تین افراد سی سی ٹی وی کیمروں کی موجودگی میں کسی مبینہ ناپسندیدہ بلاگ پر بری طرح سے تشدد کا نشانہ بناتے ہیں۔ یہ انتہائی افسوس ناک اور قابل مذمت واقعہ ہے مگر کیا یہ پوچھنے کی جسارت کی جا سکتی ہے کہ ایک بلاگ، جو کسی بھی فرد کی ذاتی رائے سے ذیادہ کی حیثیت نہیں رکھتا، اس کو آزادی صحافت کا معاملہ بنایا جا سکتا ہے؟

اس معاملے کا دوسرا پہلو اور بھی زیادہ سنگین ہے کہ حملہ آوروں کا تعلق مبینہ طور پر انٹیلی جنس ایجنسیوں کے ساتھ جوڑا جا رہا ہے اور ماضی میں ہوئے ایسے ہی واقعات اس کی سند بھی بن رہے ہیں، تو کیا ماضی کی طرح اب پھر حملہ آور محض اس لئے کبھی کٹہرے میں نہیں لائے جا سکیں گے کہ ان کا تعلق مبینہ طور پر طاقتور اداروں سے ہے؟

اگرحملہ آوروں کا تعلق طاقتور اداروں سے نہیں بھی ہے تو پھر بھی یہ ان ہی طاقتور اداروں کی ذمہ داری ہے کہ حملے کے مجرموں کو قانون کے کٹہرے میں لائیں اور اپنے دامن میں لگے داغ کو خود صاف کریں۔ پہلے تو ایسا دیکھنے میں نہیں آ سکا، شاید اب ایسا ہو جائے!

پرانے وقتوں میں سیاستدانوں کی زبانی سنتے اور پڑھتے آئے ہیں کہ سیاست اور صحافت کا چولی دامن کا ساتھ ہوتا ہے۔ آج کل کا کوئی سیاستدان اس جملے کو اپنی تقریر کا حصہ نہیں بناتا۔ جس کی ایک وجہ تو شاید یہ ہو کہ اب ایسے جملے بھی عام سمجھ میں آنے والی (سلیس) اردو سے نکل کر اکثریت کو ناسمجھ میں آنے والی مشکل الفاظ سے مرصع ادق اردو میں شمار ہو چکے ہوں، مگر وجہ یہ بھی ہو سکتی ہے کہ چولی (سیاست) اب کون کون سا دامن (صحافت) اپنے ساتھ لپیٹے کہ میڈیا کی روز بروز کی بدلتی شکل کہیں ٹھہرے تو کچھ سمجھ میں آئے کہ فیشن میں نیا کیا ہے اور کب تک فین میں رہے گا۔

امریکن پریس انسٹی ٹیوٹ کی طرف سے دی گئی صحافی کی تعریف میں کہا گیا ہے کہ موبائل فون سے کسی جگہ لگی آگ کی تصویر بنا لینا آپ کو صحافی نہیں بنا دیتا۔

اگر موبائل فون سے کھینچی گئی آگ کی تصویر بنانے والا صحافی نہیں ہو سکتا تو سوچنا ہو گا کہ وہ شخص کیسے صحافی ہو سکتا ہے یا رہ سکتا ہے، جو مظاہرین کو اشتعال دلانے کے ساتھ ساتھ انہیں اپنی موٹر سائیکل سے پٹرول بھی نکال کر دے کہ وہ کسی سرکاری دفتر کو آگ لگا دیں۔ لاہور کے ریگل چوک پر 31 سال پہلے ہونے والے اس وقوعہ کی انکوائری ہوئی نہ کسی کو سزا دی گئی۔ تاہم یہ ضرور ہوا کہ اس جرم کی سزا پورے معاشرے پر برابر تقسیم ہونے کے باوجود ختم ہونے کا نام نہیں لے رہی۔ نہ جانے ساغر صدیقی کا یہ مصرعہ کہ، جانے کس جرم کی سزا پائی ہے یاد نہیں، کب صرف اردو ادب تک محدود ہو اور حقیقت حال کا عکاس نہ رہے۔

نوٹ:
ہمارے پڑوسی ملک پاکستان میں صحافیوں کے ساتھ ظلم،ان کی پر اسرار گمشدگی اور قتل کے واقعات دہرایا جاتے رہے ہیں خواہ کسی کی اور کیسی بھی سرکار کیوں نہ ہو معروف صحافی حامد میر پر حالیہ پابندیوں نے پاکستان کو سراپا احتجاج بنادیا ہے ۔ مضمون صورت حال پر روشنی ڈالتا ہے( ادارہ)

قارئین سے ایک گزارش

سچ کے ساتھ آزاد میڈیا وقت کی اہم ضرورت ہےـ روزنامہ خبریں سخت ترین چیلنجوں کے سایے میں گزشتہ دس سال سے یہ خدمت انجام دے رہا ہے۔ اردو، ہندی ویب سائٹ کے ساتھ یو ٹیوب چینل بھی۔ جلد انگریزی پورٹل شروع کرنے کا منصوبہ ہے۔ یہ کاز عوامی تعاون کے بغیر نہیں ہوسکتا۔ اسے جاری رکھنے کے لیے ہمیں آپ کے تعاون کی ضرورت ہے۔

سپورٹ کریں سبسکرائب کریں

مزید خبریں

Modi Israel Gaza Questions Debate
مضامین

پی ایم مودی کے دورہ اسرائیل میں غزہ کے مصائب کا ذکر تک نہ ہونے پر سوالات اٹھ رہے ہیں۔ کیا چاہتا ہے بھارت ؟

28 فروری
Sanjeev Srivastava Kachori Controversy Debate
مضامین

بی بی سی نیوز کے انڈیا ہیڈ رہے سنجیو سریواستو کے کچوری کی دکان کھولنے پر اتنا ہنگامہ کیوں ہے؟

24 فروری
Bhagwat Commentary Critical Analysis
مضامین

ملاحظات: بھاگوت بھٹکاؤ کی راہ پر

23 فروری
  • ٹرینڈنگ
  • تبصرے
  • تازہ ترین
Mohammed bin Salman Iran Role Claim

ایران پر حملہ میں محمد بن سلمان کا کا ا ہم رول؟ واشنگٹن پوسٹ کا دعویٰ

مارچ 2, 2026
Trump Warning Iran Military Claim

لڑائی میں مزید امریکی فوجی مارے جاسکتے ہیں ٹرمپ کی وارننگ، ایران کی ملٹری کمانڈ ختم کرنے کا دعویٰ

مارچ 2, 2026
Jamiat Iran Solidarity Statement News

اسرائیلی بربریت سے عالمی امن تہہ و بالا، جمعیتہ کا دکھ میں ایرانی عوام کے ساتھ اظہار یکجتی

مارچ 2, 2026
US Bases Missile Attacks Middle East

مڈل ایسٹ میں 27 امریکی فوجی اڈوں پر میزائل حملے ،کرا چی میں امریکی سفارتخانہ میں توڑ پھوڑ ،دس مظاہرین مادے گئے، تہران میں دھماکے

مارچ 1, 2026
Bihar Politics Nitish Crisis News

بہار: آخر کار BJP نے نیتیش کا کھونٹا اکھاڑ ہی دیا، بڑھاپا دہلی میں کٹے گا

Humayun Kabir Y Plus Security News

بنگال میں بابری مسجد بنوانے والے ہمایوں کبیر کو وائی پلس سیکورٹی کیوں دی گئی ؟

Iran US War Analysis News

"ایران جنگ ہار نہیں سکتا، امریکا جیت نہیں سکتا‘‘

Malaysia PM Conspiracy Statement

یہودی لا بی کی میری حکومت گرانے کی سازش : ملیشیا کے پی ایم کا انکشاف، کہا ایران، غزہ کی آواز اُٹھانا جرم ہے؟

Bihar Politics Nitish Crisis News

بہار: آخر کار BJP نے نیتیش کا کھونٹا اکھاڑ ہی دیا، بڑھاپا دہلی میں کٹے گا

مارچ 5, 2026
Humayun Kabir Y Plus Security News

بنگال میں بابری مسجد بنوانے والے ہمایوں کبیر کو وائی پلس سیکورٹی کیوں دی گئی ؟

مارچ 5, 2026
Iran US War Analysis News

"ایران جنگ ہار نہیں سکتا، امریکا جیت نہیں سکتا‘‘

مارچ 5, 2026
Malaysia PM Conspiracy Statement

یہودی لا بی کی میری حکومت گرانے کی سازش : ملیشیا کے پی ایم کا انکشاف، کہا ایران، غزہ کی آواز اُٹھانا جرم ہے؟

مارچ 4, 2026

حالیہ خبریں

Bihar Politics Nitish Crisis News

بہار: آخر کار BJP نے نیتیش کا کھونٹا اکھاڑ ہی دیا، بڑھاپا دہلی میں کٹے گا

مارچ 5, 2026
Humayun Kabir Y Plus Security News

بنگال میں بابری مسجد بنوانے والے ہمایوں کبیر کو وائی پلس سیکورٹی کیوں دی گئی ؟

مارچ 5, 2026
Latest News | Breaking News | Latest Khabar in Urdu at Roznama Khabrein

روزنامہ خبریں مفاد عامہ ‘ جمہوری اقدار وآئین کی پاسداری کا پابند ہے۔ اس نے مختصر مدت میں ہی سنجیدہ رویے‘غیر جانبدارانہ پالیسی ‘ملک و ملت کے مسائل معروضی انداز میں ابھارنے اور خبروں و تجزیوں کے اعلی معیار کی بدولت سماج کے ہر طبقہ میں اپنی جگہ بنالی۔ اب روزنامہ خبریں نے حالات کے تقاضوں کے تحت اردو کے ساتھ ہندی میں24x7کے ڈائمنگ ویب سائٹ شروع کی ہے۔ ہمیں یقین ہے کہ یہ آپ کی توقعات پر پوری اترے گی۔

اہم لنک

  • ABOUT US
  • SUPPORT US
  • TERMS AND CONDITIONS
  • PRIVACY POLICY
  • GRIEVANCE
  • CONTACT US
  • ہوم
  • دیس پردیس
  • فکر ونظر
  • گراونڈ رپورٹ
  • انٹرٹینمینٹ
  • اداریے
  • ہیٹ کرا ئم
  • سپورٹ کیجیے

.ALL RIGHTS RESERVED © COPYRIGHT ROZNAMA KHABREIN

Welcome Back!

Login to your account below

Forgotten Password?

Retrieve your password

Please enter your username or email address to reset your password.

Log In

Add New Playlist

کوئی نتیجہ نہیں ملا
تمام نتائج دیکھیں
  • ہوم
  • دیس پردیس
  • فکر ونظر
    • مذہبیات
    • مضامین
  • گراونڈ رپورٹ
  • انٹرٹینمینٹ
  • اداریے
  • ہیٹ کرا ئم
  • سپورٹ کیجیے

.ALL RIGHTS RESERVED © COPYRIGHT ROZNAMA KHABREIN