اردو
हिन्दी
اپریل 30, 2026
Latest News | Breaking News | Latest Khabar in Urdu at Roznama Khabrein
  • ہوم
  • دیس پردیس
  • فکر ونظر
    • مذہبیات
    • مضامین
  • گراونڈ رپورٹ
  • انٹرٹینمینٹ
  • اداریے
  • ہیٹ کرا ئم
  • سپورٹ کیجیے
کوئی نتیجہ نہیں ملا
تمام نتائج دیکھیں
  • ہوم
  • دیس پردیس
  • فکر ونظر
    • مذہبیات
    • مضامین
  • گراونڈ رپورٹ
  • انٹرٹینمینٹ
  • اداریے
  • ہیٹ کرا ئم
  • سپورٹ کیجیے
کوئی نتیجہ نہیں ملا
تمام نتائج دیکھیں
Latest News | Breaking News | Latest Khabar in Urdu at Roznama Khabrein
کوئی نتیجہ نہیں ملا
تمام نتائج دیکھیں

ہنگامہ ھے پھر برپا

9 مہینے پہلے
‏‏‎ ‎‏‏‎ ‎|‏‏‎ ‎‏‏‎ ‎ مضامین
A A
0
ہنگامہ ھے پھر برپا
7
مشاہدات
Share on FacebookShare on TwitterShare on Whatsapp

مجھے کچھ کہنا ہے:محمد خالد* (لکھنؤ)
ہندوستان کی شناخت مختلف مذاہب اور نظریات کے افراد کا ملک میں ایک دوسرے کے ساتھ خیر سگالی کے ماحول میں رہنا ھے. یہ ماحول اس کو ایک خاندان کی حیثیت بھی فراہم کرتا ھے کہ کسی نہ کسی بات پر اختلافات پیدا ہوتے رہتے ہیں اور پھر کبھی وقت ان اختلافات کو ختم کر دیتا ھے اور کبھی کوئی منظم کوشش.
گزشتہ چند سالوں سے ملک میں جس طرح کے حالات بنے ہوئے ہیں وہ نہ صرف مسلمان کے ساتھ ہیں بلکہ دیگر مذہبی اور برادری کی شناخت رکھنے والوں کے ساتھ بھی ہیں. جہاں تک مسلمانوں کی بات ھے تو ملک کے سرکردہ اور دانشور مسلمانوں نے ہمیشہ ہی مسلمانوں کے مسائل کے حل کے لئے حکومت اور انتظامیہ کے ذمہ داران کے ساتھ رابطہ قائم کیا ھے. اس کام کو منظم انداز میں کرنے کے لیے 1964 میں مسلم مجلس مشاورت کے نام سے ایک پلیٹ فارم تشکیل دیا گیا تھا جس میں سیاسی، سماجی شخصیات اور مذہبی جماعتوں کے قائدین شامل ہوئے تھے. تاریخ شاہد ھے کہ ملک کے مسلمانوں کے سامنے جب بھی کوئی مسئلہ پیدا ہوا تو مسلم مجلس مشاورت نے فوری طور پر متعلقہ حکام اور ذمہ داروں سے رابطہ قائم کیا اور مسئلے کو حل کرانے کی کوشش کی. اس کا ایک بڑا فائدہ یہ تھا کہ مسلمانوں کو اطمینان حاصل تھا کہ اس کو اگر کسی مصیبت یا پریشانی کا سامنا ہوگا تو ملت اسلامیہ کے سنجیدہ اور دانشور حضرات اس کو حل کرانے کے لئے موجود ہیں. بدقسمتی سے ان کوششوں کے ساتھ ایسا کوئی نظم نہیں کیا جا سکا جس کے ذریعے ملک کے دیگر شہریوں کے ساتھ مسلمانوں کے قریبی رشتے قائم کرائے جاتے. جس کے نتیجے میں مسلمان اور دیگر سبھی قوموں کے ساتھ فاصلے بن گئے مگر چونکہ اس ملک کی اکثریت ہندو مذہب سے تعلق رکھتی ھے اور اس کے بعد سب سے بڑی اکثریت مسلمان کی ھے اس لئے سب سے زیادہ فاصلہ ان دونوں مذاہب کے درمیان ہی محسوس کیا جاتا ھے. کیا مسلمانوں کے سکھ برادری، عیسائی برادری یا پھر جن کو اقلیتی برادری کا نام دیا گیا جیسے جین و  پارسی وغیرہ کے ساتھ بھی تو مسلمانوں کے تعلقات کی کوئی نظیر موجود نہیں ھے.
مسلم تنظیموں اور وفاق نے برادران وطن کے ساتھ باہمی تعلقات کے لئے کبھی کوئی منظم کوشش نہیں کی ھے سوائے رسمی طور پر وقتاً فوقتاً بین المذاہب کانفرنس وغیرہ کرانے کے.
ملک میں جب ایمرجنسی لگائی گئی تو حکومت نے جس کو بھی اپنا مخالف سمجھا اسے جیل میں بند کر دیا تھا جس کا ایک فائدہ یہ ہوا تھا کہ جیلوں میں قید مختلف مذاہب اور نظریات کے افراد کو ایک دوسرے کے قریب ہونے اور واقف ہونے کا موقع حاصل ہو گیا تھا. جماعت اسلامی ہند اور آر ایس ایس کے لوگوں کے درمیان بہت اچھے روابط قائم ہو گئے تھے. ایمرجنسی ختم ہونے کے بعد بھی تعلقات کا سلسلہ جاری رھا اور جماعت اسلامی ہند کے انگریزی ترجمان ریڈیئنس کے ایڈیٹر امین الحسن رضوی صاحب نے باقاعدہ طور پر آر ایس ایس کے دانشوروں کے ساتھ تحریری مکالمہ کا آغاز کیا تھا جس سے دونوں ہی طرف کے لوگوں کو ایک دوسرے کو سمجھنے اور قریب آنے کا موقع حاصل ہوا تھا مگر افسوس کہ یہ سلسلہ جاری نہ رہ سکا جس کی بڑی وجہ ایمرجنسی کے بعد ملک میں پائیدار حکومت کے قیام کا نہ ہونا رھا. بہت سے چھوٹے چھوٹے سیاسی دل وجود میں آ گئے.
ملکی سیاست کی اس شکل کو جمہوریت کے لئے بہت اچھا سمجھا گیا مگر حقیقت یہ ھے کہ اس سب کی وجہ سے ملک کی سیاست اپنے اپنے مفادات کے تابع ہو گئی جس کی وجہ سے ملک کے مفادات پر سیاسی جماعت کے مفاد کو ترجیح دی جانے لگی. موجودہ مرکزی حکومت بھی گرچہ اپنے مزاج اور طریقہ کار کی وجہ سے اپنی من مانی حکومت چلا رہی ھے اور اس میں شامل چھوٹی سیاسی جماعتیں اپنے مفادات کی خاطر خاموش رہنے پر مجبور ہیں جسے صحت مند سیاست نہیں کہا جا سکتا
این ڈی اے حکومت کی پوری تاریخ پر نظر ڈالی جائے تو اس کے پہلے دورانیہ میں تو مسلمانوں کے ساتھ کافی فاصلہ بنا رھا مگر دوسری بار سرکار بننے کے بعد سے مختلف مواقع پر مسلم تنظیموں کے ذمہ داران اور دیگر شخصیات کو حکومت کے کسی نہ کسی ذمہ دار کے ذریعے ملاقات کے لئے مدعو کیا جاتا رھا ھے. ایسا بھی ہوتا رھا ھے کہ کسی مسلم تنظیم یا شخصیت نے اپنے طور پر مسلمانوں کے کسی خاص مسئلے کو حل کرانے کے لئے حکومت کے ذمہ داروں سے ملاقات کی ھے. مگر ان سب کاوشوں میں تکلیف دہ بات یہ رہی ھے کہ ہمیشہ عام مسلمانوں سے بات چیت کو پوشیدہ رکھا گیا ھے جس کی وجہ سے مسلمانوں کے مسائل حل ہونے کے بجائے معاشرے میں اعتماد کے ساتھ رہنے کا موقع حاصل نہیں ھے.
آر ایس ایس کو اس وقت ملک کی سیاست اور حکومت میں جو حیثیت حاصل ھے اس سے انکار کی کوئی گنجائش نہیں ھے. آر ایس ایس کے ذریعے بار بار یہ پیغام بھی دیا جاتا ھے کہ وہ ملک کے سبھی شہریوں کے مفادات کے لئے کام کر رہی ھے اور سب کو ساتھ رکھنا چاہتی ھے تو پھر تو ایسا ہونا چاہیے تھا کہ مسلم راشٹریہ منچ جیسے نظم کی باگ ڈور کسی مسلمان کے ہاتھ میں دی جاتی مگر مسلم راشٹریہ منچ کے ذریعے جس طرح مسلم تعلیمی اداروں اور مختلف سرکاری عہدوں پر تقرر کے لئے جس طرح مسلم راشٹریہ منچ کے ذمہ دار کو اختیار دے دیا گیا ھے اس نے مسلمانوں کو آر ایس ایس سے نہ صرف مایوس کیا ھے بلکہ وہ اپنے تمام مسائل کے لئے آر ایس ایس کو ہی ذمہ دار مانتے ہیں.
مسلمانوں میں مسلمانوں کے حقوق کے لیے کام کرنے والی سبھی تنظیموں اور اداروں کے سربراہان کا اگر آپس میں تال میل اور قربت کی شکل بن سکے تو یہ ملک اور ملت اسلامیہ کے لئے بہتر ہوگا. ایک دوسرے پر لعن طعن کرنے اور شکوک شبہات کو دور کرنے کے لیے ایک دوسرے کے قریب آنا انتہائی ضروری ھے.
آل انڈیا امام آرگنائزیشن کے ذریعے آر ایس ایس کے ذمہ داران کے ساتھ ہوئی میٹنگ اس وقت ملت اسلامیہ ہند کے درمیان ایک اہم موضوع ھے. بہتر ہوگا کہ آر ایس ایس کے چیف موہن بھاگوت و دیگر عہدیداروں کے ساتھ منعقد ہوئی امام آرگنائزیشن کی میٹنگ کی تفصیلات سے عام مسلمانوں کو واقف کرانے کی کوشش کی جائے.
مسلمانوں کو سمجھنا ہوگا کہ ہم اس ملک کے شہری ہونے کے ناطے ملک کے دستور کے پابند ہیں اور دستور کی روشنی میں ہمیں ایک خوشگوار اور صحت مند معاشرے کی تعمیر کے لیے متحد ہونا چاہیے.

(*یہ مضمون نگار کی ذاتی رائے ہے اسے ایک نقطہ نظر کے طور پر پیش کیا جارہا ہے ،صاحب مضمون لکھنؤ کے معروف ایکٹوسٹ ہیں)

ٹیگ: haryana bhawanhate soeechHindu muslim dauilagMohan BhagwatNew Delhiumair ilyasi mulaqat

قارئین سے ایک گزارش

سچ کے ساتھ آزاد میڈیا وقت کی اہم ضرورت ہےـ روزنامہ خبریں سخت ترین چیلنجوں کے سایے میں گزشتہ دس سال سے یہ خدمت انجام دے رہا ہے۔ اردو، ہندی ویب سائٹ کے ساتھ یو ٹیوب چینل بھی۔ جلد انگریزی پورٹل شروع کرنے کا منصوبہ ہے۔ یہ کاز عوامی تعاون کے بغیر نہیں ہوسکتا۔ اسے جاری رکھنے کے لیے ہمیں آپ کے تعاون کی ضرورت ہے۔

سپورٹ کریں سبسکرائب کریں

مزید خبریں

US Iran War Strategic Defeat News
مضامین

امریکہ – اسرائیل – ایران جنگ میں امریکہ کی اسٹریٹجک ہار پہلے سے طے

23 مارچ
Hormuz Strait Iran Speech
مضامین

ایران میں قیادت کی تبدیلی اور مجتبیٰ خامنہ ای: ایک تجزیاتی مطالعہ

12 مارچ
Modi Israel Gaza Questions Debate
مضامین

پی ایم مودی کے دورہ اسرائیل میں غزہ کے مصائب کا ذکر تک نہ ہونے پر سوالات اٹھ رہے ہیں۔ کیا چاہتا ہے بھارت ؟

28 فروری
  • ٹرینڈنگ
  • تبصرے
  • تازہ ترین
Humayun Kabir Owaisi Video Row

ہمایوں کبیر کے خفیہ ویڈیو نے اویسی پر بی جے پی کی بی ٹیم کے الزام کو تقویت دی، اتحاد ٹوٹا ، سیاسی بصیرت پر بھی سوال

اپریل 10, 2026
یوپی کے 558 مدارس میں مڈ ڈے میل کون کھا رہا ہے؟ چونکاتی گراؤنڈ رپورٹ

یوپی کے 558 مدارس میں مڈ ڈے میل کون کھا رہا ہے؟ چونکاتی گراؤنڈ رپورٹ

اپریل 10, 2026
DD News Anchor Controversy News

پبلک ٹیکس سے چلنے والے ‘ڈی ڈی نیوز’ کے اینکر نے کہا” ساورکر کے چپل کی دھول بھی نہیں راہل گادھی

اپریل 13, 2026
طالبان ميں پھوٹ کی خبريں، حقيقت يا پروپيگنڈہ؟

طالبان ميں پھوٹ کی خبريں، حقيقت يا پروپيگنڈہ؟

ستمبر 19, 2021
امریکہ ایران کشیدگی خبر

امریکہ–ایران کشیدگی ایک بار پھر سرخیوں میں، جنگ بندی میں توسیع کے باوجود بڑے معاہدے کا مستقبل خطرے میں

الیکشن سے قبل سیاسی بیان بازی تیز، کئی بڑے لیڈرز آمنے سامنے

الیکشن سے قبل سیاسی بیان بازی تیز، کئی بڑے لیڈرز آمنے سامنے

دہلی میں بڑھتے جرائم پولیس الرٹ

دہلی-NCR میں جرائم کے واقعات میں اضافہ، پولیس الرٹ

امریکہ ایران کشیدگی خبر

ایران–امریکہ مذاکرات میں محدود پیش رفت، اختلافات بدستور برقرار: قالیباف

امریکہ ایران کشیدگی خبر

امریکہ–ایران کشیدگی ایک بار پھر سرخیوں میں، جنگ بندی میں توسیع کے باوجود بڑے معاہدے کا مستقبل خطرے میں

اپریل 22, 2026
الیکشن سے قبل سیاسی بیان بازی تیز، کئی بڑے لیڈرز آمنے سامنے

الیکشن سے قبل سیاسی بیان بازی تیز، کئی بڑے لیڈرز آمنے سامنے

اپریل 21, 2026
دہلی میں بڑھتے جرائم پولیس الرٹ

دہلی-NCR میں جرائم کے واقعات میں اضافہ، پولیس الرٹ

اپریل 21, 2026
امریکہ ایران کشیدگی خبر

ایران–امریکہ مذاکرات میں محدود پیش رفت، اختلافات بدستور برقرار: قالیباف

اپریل 19, 2026

حالیہ خبریں

امریکہ ایران کشیدگی خبر

امریکہ–ایران کشیدگی ایک بار پھر سرخیوں میں، جنگ بندی میں توسیع کے باوجود بڑے معاہدے کا مستقبل خطرے میں

اپریل 22, 2026
الیکشن سے قبل سیاسی بیان بازی تیز، کئی بڑے لیڈرز آمنے سامنے

الیکشن سے قبل سیاسی بیان بازی تیز، کئی بڑے لیڈرز آمنے سامنے

اپریل 21, 2026
Latest News | Breaking News | Latest Khabar in Urdu at Roznama Khabrein

روزنامہ خبریں مفاد عامہ ‘ جمہوری اقدار وآئین کی پاسداری کا پابند ہے۔ اس نے مختصر مدت میں ہی سنجیدہ رویے‘غیر جانبدارانہ پالیسی ‘ملک و ملت کے مسائل معروضی انداز میں ابھارنے اور خبروں و تجزیوں کے اعلی معیار کی بدولت سماج کے ہر طبقہ میں اپنی جگہ بنالی۔ اب روزنامہ خبریں نے حالات کے تقاضوں کے تحت اردو کے ساتھ ہندی میں24x7کے ڈائمنگ ویب سائٹ شروع کی ہے۔ ہمیں یقین ہے کہ یہ آپ کی توقعات پر پوری اترے گی۔

اہم لنک

  • ABOUT US
  • SUPPORT US
  • TERMS AND CONDITIONS
  • PRIVACY POLICY
  • GRIEVANCE
  • CONTACT US
  • ہوم
  • دیس پردیس
  • فکر ونظر
  • گراونڈ رپورٹ
  • انٹرٹینمینٹ
  • اداریے
  • ہیٹ کرا ئم
  • سپورٹ کیجیے

.ALL RIGHTS RESERVED © COPYRIGHT ROZNAMA KHABREIN

Welcome Back!

Login to your account below

Forgotten Password?

Retrieve your password

Please enter your username or email address to reset your password.

Log In

Add New Playlist

کوئی نتیجہ نہیں ملا
تمام نتائج دیکھیں
  • ہوم
  • دیس پردیس
  • فکر ونظر
    • مذہبیات
    • مضامین
  • گراونڈ رپورٹ
  • انٹرٹینمینٹ
  • اداریے
  • ہیٹ کرا ئم
  • سپورٹ کیجیے

.ALL RIGHTS RESERVED © COPYRIGHT ROZNAMA KHABREIN