نئی دہلی: کانگریس کے سینئر لیڈر اور لوک سبھا میں اپوزیشن لیڈر راہل گاندھی کے پرہجوم پریس کانفرنس میں ایک بار پھر الیکشن کمیشن پر شدید سوالات اٹھاتے ہوئے الزام لگایا کہ ووٹر لسٹ میں چھیڑ چھاڑ کے ذریعے بی جے پی کو فائدہ پہنچایا جا رہا ہے۔
راہل گاندھی نے ایس آئی آر کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ ہمیں سوچنا ہوگا کہ کیا آج کے ہندوستان میں درست لوگوں کو ووٹ ڈالنے دیا جا رہا ہے؟ کیا ووٹر لسٹ میں فرضی ووٹر شامل کیے گئے ہیں؟ کیا ان لسٹوں سے جان بوجھ کر کچھ لوگوں کے نام ہٹائے جا رہے ہیں؟
انہوں نے کہا کہ ’’آئین کی بنیاد ووٹ کا حق ہے۔ اگر یہی حق مشکوک ہو جائے تو جمہوریت خطرے میں پڑ جاتی ہے۔ الیکشن کمیشن کو اس بات کا جواب دینا ہوگا کہ کیا ملک کی ووٹر لسٹیں درست ہیں یا ان میں گڑبڑی ہے؟‘‘ راہل گاندھی کے مطابق یہ صرف انتخابی تکنیکی معاملہ نہیں بلکہ آئینی اور جمہوری تشویش کا معاملہ ہے، جس پر خاموشی اختیار کرنا ملک کے مستقبل کے لیے خطرناک ہو سکتا ہے۔ راہل گاندھی کی پریس کانفرنس میں بی جے پی پر الیکشن چوری، ووٹر لسٹ میں گڑبڑی اور الیکشن کمیشن کے غیرشفاف کردار کے الزامات، مہاراشٹر سے بہار تک بے ضابطگیوں کا ذکر چھایا رہا راہل گاندھی نے یہ بھی سوال اٹھایا کہ آخر بی جے پی کو اینٹی انکمبنسی کا سامنا کیوں نہیں ہوتا؟ کیا میڈیا اور انتخابی نظام مل کر ’ماحول‘ تیار کر رہے ہیں؟
راہل گاندھی نے نشاندہی کی کہ بی جے پی کی کامیابیاں اکثر حیران کن حد تک بڑی ہوتی ہیں اور یہ نتائج رائے عامہ اور ایگزٹ پولز سے یکسر مختلف ہوتے ہیں۔ انہوں نے الزام لگایا کہ انتخابات کے ارد گرد میڈیا کے ذریعے ایک منصوبہ بند ماحول تیار کیا جاتا ہے اور پورے انتخابی مرحلے ایسے ترتیب دیے جاتے ہیں کہ بی جے پی کو زیادہ سے زیادہ فائدہ پہنچے۔ راہل گاندھی نے یہ سوال بھی اٹھایا کہ جب الیکشن کمیشن خود شفافیت کے لیے ڈیٹا نہیں دیتا اور اپوزیشن کو جواب دینے سے انکار کرتا ہے، تو پھر جمہوری عمل پر یقین کیسے قائم رہےریس کانفرنس کے دوران راہل گاندھی نے مہاراشٹر کے اسمبلی انتخابات کو لے کر الیکشن کمیشن پر براہ راست حملہ بولا۔ انہوں نے دعویٰ کیا، ’’ہم مہاراشٹر میں الیکشن ہارے نہیں، بلکہ وہ چرایا گیا۔ ریاست میں 40 لاکھ ووٹرز مشکوک ہیں جن کی موجودگی پر کئی سوال کھڑے ہوتے ہیں۔
راہل نے کہا کہ ووٹر لسٹ میں شامل ان مشتبہ ناموں کی تحقیقات ہونی چاہیے اور الیکشن کمیشن کو واضح طور پر بتانا چاہیے کہ موجودہ ووٹر لسٹ درست ہے یا غلط۔ انہوں نے انتخابی عمل میں شفافیت کی کمی پر شدید اعتراض کرتے ہوئے کہا کہ الیکشن کمیشن کانگریس کو ضروری ڈیٹا فراہم کرنے سے انکار کرتا رہا ہے۔ انہوں نے کہا، ’’ہم نے بار بار کمیشن سے الیکٹرانک ڈیٹا مانگا، مگر ہمیں نہیں دیا گیا،اس نے جواب دینا بھی گوارا نہیں کیا گیا۔‘‘
الیکشن کمیشن کا ردعمل راہل گاندھی کے ان الزامات پر الیکشن کمیشن نے بھی سخت ردعمل ظاہر کیا ہے۔ کمیشن نے راہول گاندھی سے اپنے الزامات کے بارے میں حلف نامہ دینے کو کہا ہے۔ کمیشن نے راہل گاندھی کے الزامات کو بھی بہت سنگین قرار دیا ہے۔ کمیشن نے کہا کہ ان الزامات کو ہائی کورٹ میں ہی چیلنج کیا جا سکتا ہے۔








