سپریم کورٹ آف پاکستان نے نو مئی کے آٹھ مقدمات میں سابق وزیر اعظم عمران خان کی ضمانت منظور کر لی ہے۔ تاہم قانونی ماہرین کے مطابق دیگر مقدمات میں ملوث ہونے کے باعث سابق وزیر اعظم کی جیل سے رہائی تاحال ممکن نہیں ہے۔
سابق وزیر اعظم کے خلاف درجنوں کیسز زیر سماعت ہیں جن میں سے کچھ میں اُنھیں سزائیں ہو چکی ہیں جبکہ کئی کیسز زیر سماعت ہیں۔رواں برس جنوری میں اسلام آباد کی احتساب عدالت نے 190 ملین پاؤنڈ کے مقدمے میں سنائے گئے فیصلے میں سابق وزیر اعظم عمران خان کو 14 برس جبکہ اُن کی اہلیہ بشری بی بی کو سات برس قید کی سزا سنائی تھی۔ عمران خان نے ان سزاوں کے خلاف اپیل دائر کر رکھی ہے۔عمران خان کے خلاف ایک اور کیس توشہ خانہ کیس کا بھی ہے جس میں عدالت سے تین سال کی سزا پانے کے بعد عمران خان کو پانچ اگست 2023 کو لاہور میں اُن کی رہائش گاہ سے گرفتار کر لیا گیا تھا۔ یہ کیس بھی اعلِی عدالت میں زیر سماعت ہے۔
عمران خان کے خلاف آفیشل سیکرٹ ایکٹ اور سرکاری راز افشا کرنے کے الزام میں بھی مقدمات درج ہیں۔عمران خان کو سائفر کیس کے نام سے جانے والے اس مقدمے میں گزشتہ برس جنوری میں ایک خصوصی عدالت نے 10 برس قید کی سزا سنائی تھی۔عمران خان کے خلاف ایک اور کیس عدت میں نکاح کا ہے جس میں اُنھیں سنائی گئی سزا کو جولائی 2024 میں عدالت نے معطل کر دیا تھا۔
قانونی ماہرین کا کہنا ہے کہ تمام مقدمات ختم ہونے تک عمران خان کی جیل سے رہائی ممکن نہیں ہے۔








