سپریم کورٹ نے پیر کے روز پرمتی ایجوکیشنل اینڈ کلچرل ٹرسٹ کیس میں 2014 کے فیصلے پر سنگین سوالات اٹھائے، جس میں کہا گیا تھا کہ اقلیتی اسکولوں کو بچوں کو مفت اور لازمی تعلیم فراہم کرنے والے قانون (آر ٹی ای ایکٹ، 2009) سے استثنیٰ حاصل ہے۔ جسٹس دیپانکر دتہ اور جسٹس آگسٹن جارج مسیح کی بنچ نے کہا کہ انہیں اس فیصلے کی درستگی پر شک ہے اور انہوں نے اس معاملے کو چیف جسٹس بی آر گوائی کو بھیج دیا ہے۔
آر ٹی ای ایکٹ کے تحت چھ سے چودہ سال کی عمر کے بچوں کو مفت اور لازمی تعلیم کا حق دیا گیا ہے۔ قانون میں ایک شق ہے کہ پرائیویٹ اسکولوں کو کمزور اور پسماندہ طبقوں کے بچوں کے لیے 25 فیصد نشستیں ریزرو کرنی ہوں گی۔ لیکن 2014 میں سپریم کورٹ نے پرمتی کیس میں کہا تھا کہ اقلیتی اسکولوں کو اس شرط سے مستثنیٰ رکھا جائے گا۔ موجودہ بنچ نے سوال اٹھایا کہ کیا یہ استثنیٰ درست ہے اور کیا اس پر نظر ثانی کی ضرورت ہے۔
عدالت کے تفصیلی تبصرے
بنچ نے کہا کہ اگر آر ٹی ای ایکٹ اقلیتوں کے حقوق کی خلاف ورزی کرتا ہے (دفعہ 30) تو پرمتی فیصلے پر غور کرنا چاہیے تھا کہ سیکشن 12 (ون) (سی) کو اس کمیونٹی کے کمزور طبقوں کے بچوں تک محدود کرکے پڑھا جا سکتا ہے۔ عدالت نے کہا کہ مکمل استثنیٰ دینا درست نہیں۔ اس لیے یہ فیصلہ کرنے کی ضرورت ہے کہ پرانے فیصلے پر نظرثانی کی جائے یا نہیں۔ بنچ نے چار اہم معاملات پر فیصلہ چیف جسٹس کو بھجوا دیا ہے۔
••سی جے آئی بھیجے گیے سوالات۔
••کیا پرمتی فیصلے پر دوبارہ نظرثانی کی جائے؟
••کیا سیکشن 12(1)(c) اقلیتی اسکولوں میں ان کی اپنی کمیونٹی کے کمزور بچوں تک محدود ہوسکتا ہے؟
••پرمتی کیس میں آرٹیکل 29(2) پر غور نہ کرنے کا اثر؟
••دفعہ 23(2) پر غور نہ کرنے کا اثر اور کیا نہ صرف دفعہ 12(1)(c) بلکہ پورے آر ٹی ای ایکٹ کو غیر آئینی قرار دیا جانا چاہئے؟
**اساتذہ اور TET کے بارے میں فیصلہ
اسی سماعت میں، عدالت نے یہ بھی واضح کیا کہ ٹیچر اہلیت ٹیسٹ (ٹی ای ٹی) پاس کرنا لازمی ہے۔ عدالت نے کہا کہ اس کا اطلاق 29 جولائی 2011 سے پہلے تعینات اساتذہ پر بھی ہوگا۔ تاہم جن کی پانچ سال سے کم سروس باقی ہے انہیں ٹی ای ٹی پاس کیے بغیر ریٹائرمنٹ تک کام کرنے کی اجازت ہوگی۔ لیکن پروموشن کے لیے انہیں ٹی ای ٹی بھی پاس کرنا ہوگا۔ دوسری طرف جن لوگوں کی پانچ سال سے زیادہ سروس باقی ہے انہیں دو سال میں TET پاس کرنا ہوگا۔ اگر وہ ناکام ہو گئے تو انہیں ملازمت سے ہٹا کر ریٹائر کر دیا جائے گا۔








