نئی دہلی:
انگریزی اخبار ’دی ہندو‘ کے مطابق بھارتیہ حکام کا قطر کی راجدھانی دوحہ میں بڑی خاموشی سے ایک دورہ ہوا ہے۔ اخبار سے قطر کے حکام نے کہاہے کہ یہ دورہ طالبان کے رہنماؤں سے بات چیت کرنے کے لیے ہوا ہے۔
اخبارکی رپورٹ کے مطابق پہلی بار اس کی تصدیق ہوئی ہے کہ بھارت براہ راست طالبان سے بات کررہاہے ۔ ’دی ہندو‘ سے ایک افسر نے کہاکہ ’’ میرا ماننا ہے کہ طالبان سے بات کرنے کے لیے بھارتیہ حکام کا خفیہ ایک دورہ ہواہے۔‘‘
قطر کے انسداد گردی اور تنازع کے حل میں تالثی کا رول نبھانے والے خصوصی سفیر مطلق بن مجید القحطانی پیر کو ایک ویب کانفرنس سے خطاب کررہے تھے۔
یہ چیزیں تب سامنے آرہی ہیں جب گزشتہ دو ہفتوں میں ہندوستان کے وزیر خارجہ ایس جے شنکر قطر میں طالبان کے لیڈروں سے ملاقات کے لیے دو دورے کر چکے ہیں۔ ہندوستانی وزارت خارجہ نے القحطانی کے بیان پر کوئی رد عمل نہیں دیا ہے ۔ اس کے ساتھ ہی وزارت خارجہ نے یہ بھی بتایا کہ اگر بات چیت ہو رہی ہے تو کس سطح کی بات ہوئی ہے۔
ویب کانفرنس میں ’د ی ہندو‘ کی جانب سے پوچھے گئے ایک سوال کے جواب میں القحطانی نے کہا ’’ بھارت کی اس بات چیت کے پیچھے کی دلیل یہی ہے کہ مستقبل میں طالبان افغانستان میں اہم رول ادا کرنے والا ہے۔ ہر کوئی یہ نہیں سوچ رہاہے کہ طالبان کا غلبہ ہوگا ، لیکن افغانستان کے مستقبل میں اس کا اہم رول ہوگا ، اس لئے میں دیکھ رہا ہوں کہ ہر کوئی مذاکرات کے لیے تیار ہے ۔










