فکر ونظر:مولانا رضوان احمد اصلاحی
یہ ربیع الاول کا مہینہ ہے اسی مہینے میں پیغمبر اسلام کی ولادت باسعادت ہوئی، پیارے بنی کا نام حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم تھا،آپ ﷺمکہ میں پیدا ہوئے، آپ کا تعلق ﷺ قریش خاندان کے بنوہاشم سے تھے۔ آپ کے ابوکا نام عبد اللہ تھا،جن کا انتقال آپﷺ کی پیدا ئش سے پہلے ہی ہوچکا۔ آپ کی امی جان کا نام بی بی آمنہ تھا۔جب آپ ﷺ چھ سال کے تھے والدہ ماجدہ بھی داغ مفارقت دے گئیں۔مدینہ کے راستے میں مقام ”ابوا“ پردونومدفون ہیں۔
دائی حلیمہ نے آپﷺ کو دودھ پلایا۔ ماں باپ کا سایہ سرسے اٹھنے کے بعد دادا عبد المطلب نے آپ کو پالا پوسا۔ جب آپ آٹھ سال کے ہوئے تو دادا جان بھی چل بسے،اس وقت داد کی عمر کی عمر ایک سو دس سال تھی، مکہ کے پارلیمنٹ ہاوس(دارالندوہ) میں وہ آپ ﷺ کو اپنے ہمراہ لے جاتے تھے، جہاں بچوں کو جانے کی اجازت نہیں تھی۔دادا جان کے انتقال کے بعد چچا ابوطالب نے کفالت کی۔ چچا نے بڑی محبت سے پالا۔ہرموڑ پر ساتھ دیا اور طرح سے خیال رکھا۔
پیارے بنی ﷺ بچپن سے ہی بڑے سچے تھے۔ سب آپ کو صادق کہتے تھے۔ آپ ﷺ بڑے امانت دار تھے، سب آپ کو امین کہتے تھے۔ پھر آپ بڑے ہوئے،بی بی خدیجہ ؓسے آپﷺ کی شادی ہوئی، بی بی خدیجہؓ بڑی نیک خاتون تھیں وہ مکہ کی ایک کامیاب تاجرتھیں جب آپ ﷺ چالیس سال کے ہوئے تو اللہ نے آپﷺ کو نبی بنایا۔ آپﷺ پر قرآن آتارا،پہلی وحی غار حرا میں آئی اور یہ سلسلہ لگاتار 23سالوں تک جاری رہا،آپ ﷺ خود قرآن کے احکام پر عمل کرتے اوراللہ کے ہر حکم پر چلتے تھے، سب کو اللہ کا پیغام سناتے تھے،کتاب وسنت کی تعلیم دیتے،سب کا تزکیہ کرتے،برے لوگ آپ کے دشمن ہوگئے اور آپﷺ کو ستانے لگے، اچھے لوگ آپ کی بات مانتے گئے اور آپ کے ساتھ ہوگئے،جولوگ ایمان نہیں لائے آپ ﷺ کو اورآپ کے ساتھیوں کو ستانے لگے،مارا پیٹا گھر سے بے گھرکیا،تاریخ میں کوئی فرد اور شخص ایسا نہیں جس نے پیغمبر اسلام کی طرح تکلیفیں اور مشقیں برادشت کی ہوں، مکہ والوں نے آپ ﷺ کا اور آپ کے خاندان کا سماجی بائیکاٹ کردیا، شعب ابوطالب میں پناہ گزیں ہوگئے، یہ ایک طرح کی قید تھی، اس گھرانے کے کسی آدمی سے کوئی قریشی بات چیت نہ کرتا، گلیوں کے موڑوں پر پہرے بٹھادیتے گئے تھے کہ کوئی شخص ترس کھا کر کھانے پینے کی کوئی چیز بنوہاشم تک نہ پہنچاآئے،رسول اللہ ﷺ اور آپ کے اصحاب پر کئی کئی وقت کے فاقے گذرنے گلے،صحابہ کرام بھوک سے بے تاب ہوکر درختوں کی پتیاں کھاکھا کر بسرکرتے،جیسے آج غزہ کے لوگ زندگی بسرکررہے ہیں،پورے تین سال اسی عالم میں گذرگئے، اس دوران آپ کے دو سب سے مضبوط سہارے چچاابوطالب اور بی بی خدیجہ ؓ کا انتقال ہوگیا، اس سال کوآپ ﷺ نے ”عام الحزن“ یعنی غم کا سال فرمایا۔ سب سے زیادہ تکلیف طائف کے بدمعاشوں اور اوباشوں نے پہنچائی، طائف کی گلیوں میں اوباشوں اور بدمعاشوں نے آپ کو لہولوہان کیا،یوں تو آپ ﷺ کو جان سے مارنے کی کئی بار سازش کی گئی لیکن ہر بار اور ہرسازش ناکام ثابت ہوئی،مکہ کے دارالندوہ میں آپ کو ایک رات مارنے کی سازش رچی گئی،ابوجہل کی تجویز پر عمل آوری کے لیے پوری رات آپ ﷺ کے گھر کا محاصرہ کیا گیا،آپ ﷺ نے اپنے چچازاد بھائی،رشتے کے داماد اور جانثار صحابی حضرت علی ؓ کو اپنے بستر پر اپنی چادراوڑھا کر سلاتے ہوئے کسی قسم کی فکر اور اندیشہ کے گھر سے باہر نکل گئے،کسی دشمن کو اٖ کی پرچھائیں بھی دکھائی نہ دی،آپ ﷺ اپنے گھر سے چل کر ابوبکرؓ کے گھر پہنچے اور سفر ہجرت پر روانہ ہوگئے۔ دشمن کی ساری تدبیر ناکام اور نامراد ثابت ہوئی۔
پیارے نبی اور آپ ﷺ کے ساتھی سب کچھ سہتے رہے اور اپنا کام کرتے رہے۔جہنم کے کنارے کھڑی دنیا کو آپ نے جنت نشاں بنادیا،انسانوں کو ان کے مالک حقیقی سے ملایا،انسانوں کو انسانوں کی غلامی سے نجات دلائی۔عدل وقسط کا نظام قائم کیا،بدامنی کو امن سے بدل ڈالا،الغرض آپ نے حیات انسانی کے ایک ایک گوشے کا جائزہ لیا اور زندگی کی کوئی ایسی اچھائی نہیں،جس کی تاکید نہ کی ہو اور کوئی ایسی برائی نہیں،جس سے خبردار نہ کیا ہو۔
ٓ جس طرح سورج طلوع ہوتا ہے تو بلاامتیاز قوم وملت، رنگ ونسل اور مشرق ومغرب سب کو حرارت اورروشنی فراہم کرتا ہے۔اسی طرح آپ ﷺ نے ساری دنیا کے لیے نبی بن کر آئے اور زمین پر بسنے والے سارے انسانوں کے لیے رشدوہدایت کا سامان فراہم کیا،آ پ کو حمۃ للعالمین، سراج منیر اور روف ورحیم، مہبط وحی تھے اور اس کا حق آپ ﷺ نے ادا کیا، آپ نے جس انسان کے لیے جنت کی بشارت دی اس پر جنت واجب ہوگئی،در اصل آپ کی ذات گرامی ”روشن چراغ“ تھی جسے انقلاب کا کوئی جھونکا بجھانہیں سکتا۔قرآن کا ارشاد ہے ”وہ چاہتے ہیں کہ اللہ کے نور کو اپنے مونہوں کی پھونک سے بجھادیں اور اللہ اپنے نور کو کام کرکے رہے گا،ان کافروں کے علی الرغم“(سورہ صف: ۸)
آج چہار جانب اندھیرا ہی اندھیرا ہی ہے، ظلم وجبر کا بازار گرم ہے،ایسے میں بھی آپ ﷺ کی تعلیمات اور کی سیرت وکرادر اور اخلاق حسنہ کا چرچہ ہے،دنیا جانتی ہے کہ آپ کی تعلیمات سے یہ اندھیرا دور ہوسکتا ہے،ظلم وجبر کے دل چھنٹ سکتے ہیں آپ ﷺنے فرمایا کوئی شخص جانتے بوجھتے ظالم کے ساتھ چند قدم بھی چلتاہے تو اسلام سے خارج ہے، انسانی زندگی کی سب سے بڑی خرابی ظلم ہے، آپ ﷺ نے ظالم کے ہاتھ پکڑنے او رمظلوم کی داد رسی کی تاکید وتلقین فرمائی ہیں۔کمزوروں کا استحصال عام ہوچکی ہے آپﷺ نے سختی سے فرمایا کہ اگر کسی مزدور سے تم نے خدمت لی ہے تو اس کا پسینہ خشک ہونے پہلے پہلے اس کی مزدوری ادا کردو۔آپ نے اپنے قول سے فعل سے اور عمل سے ظلم کی بیخ کنی کی اور مظلوم کی داد رسی کی۔ خود جن لوگوں نے آپ پر ظلم کیا، ہرطرح سے ستایا،ملک بدر کیا،جب آپ مکہ میں ایک فتح کی حیثیت سے داخل ہوئے تو آپ ﷺؓ نے اعلان فرمایا
”جو شخص ہتھیار ڈال دے گا اس کے لیے امان ہے۔جو شخص دروازہ بند کرلے گا سکے لیے امان ہے، جو شخص مکہ سردار ابوسفیان کے یہاں پناہ لے گا وہ بھی اپنے کو مامون سمجھے،رحمت عالم ﷺ نے کی زبان مبارک سے نکلا”تم سے کوئی پوچھ گچھ نہیں! جاؤ تم سب آزاد ہو“
الغرض آپ نے انسانی زندگی اور انسانی تمدن میں مکمل انقلاب برپاکیا،تعلیم، معاش، معاشرت، سیاست ہر میدان میں کامیاب زندگی گذارنے کا طریقہ وسلیقہ دیا،بالآخر۳۲/سالہ جدوجہد کے نتیجے میں فرد کی زندگی میں نمایاں ارتقاء ہوا، معاشرے کی تعمیر میں چار چاند لگ گئے اور ریاست صحیح رخ پر گامزن ہوگی۔ اللہ کی مدد آئی سارے عرب میں اسلام کا ڈنکابچ گیا۔ہجرت کے گیاہویں سال ربیع الاول کے مہینے میں سوموار کے دن آپ ﷺ اس دار فانی سے وصال فرماگئے۔جہاں آپ ﷺ کا وصال ہوا وہ حضرت عائشہ کا حجرہ تھا، وہیں آپ کی تدفین ہوئی، درودہو پیارے بنی پر۔ سلام ہو پیارے بنی پر
سلام اس پر کہ جس نے خون کے پیاسو کو قبائیں دیں سلام اس پر کہ جس نے گالیاں سن کر دعائیں دی!











