اردو
हिन्दी
مئی 6, 2026
Latest News | Breaking News | Latest Khabar in Urdu at Roznama Khabrein
  • ہوم
  • دیس پردیس
  • فکر ونظر
    • مذہبیات
    • مضامین
  • گراونڈ رپورٹ
  • انٹرٹینمینٹ
  • اداریے
  • ہیٹ کرا ئم
  • سپورٹ کیجیے
کوئی نتیجہ نہیں ملا
تمام نتائج دیکھیں
  • ہوم
  • دیس پردیس
  • فکر ونظر
    • مذہبیات
    • مضامین
  • گراونڈ رپورٹ
  • انٹرٹینمینٹ
  • اداریے
  • ہیٹ کرا ئم
  • سپورٹ کیجیے
کوئی نتیجہ نہیں ملا
تمام نتائج دیکھیں
Latest News | Breaking News | Latest Khabar in Urdu at Roznama Khabrein
کوئی نتیجہ نہیں ملا
تمام نتائج دیکھیں

اردو ادارے :” چراغ سب کے بجھیں گے ہوا کسی کی نہیں "

8 مہینے پہلے
‏‏‎ ‎‏‏‎ ‎|‏‏‎ ‎‏‏‎ ‎ خبریں
A A
0
اردو ادارے :” چراغ سب کے بجھیں گے ہوا کسی کی نہیں "
93
مشاہدات
Share on FacebookShare on TwitterShare on Whatsapp

ادارے/ ارادے: شعیب رضا فاطمی
اردو زبان کے ادارے کبھی چراغ کی لو تھے، آج وہی چراغ روغن پر نہیں بلکہ بتیوں کے بل پر جل رہے ہیں ۔ باہر سے دیکھیں تو شان و شوکت، پر شکوہ عمارتیں، جگمگاتے بورڈ اور تصویروں کی بہار؛ لیکن اندر جھانکیں تو "اندھے کے ہاتھ میں آئینہ” کا منظر دکھائی دیتا ہے۔یہ ادارے اردو کے فروغ کے بجائے تصویروں کے فروغ میں مشغول ہیں۔ کہیں فیتہ کاٹا جا رہا ہے، کہیں شال اوڑھائی جا رہی ہے، اور کہیں "اردو زندہ باد” کی رسمی صدا بلند ہو رہی ہے۔ زبان کا دم گھٹ رہا ہے اور سربراہان کے ہونٹوں پر محض مسکراہٹ چمک رہی ہے۔ شاعر نے جیسے ان کے لیے ہی کہا تھا۔
خوشامد سے پائی ہو کرسی عزیزو!
وہ کرسی نہیں ہے، یہ پھندا ہے، پھندا
المیہ یہ ہے کہ بجٹ آتا ہے، لیکن زبان کی زندگی میں کوئی رمق شامل نہیں ہوتی۔ ہاں، فائلیں موٹی ہو جاتی ہیں، سیمینار کی بریانی ضرور پکتی ہے، اور تحقیقی منصوبے اس سطح کے ہیں کہ تحقیق یہ رہ جاتی ہے کہ اگلی تقریب میں کس کو زیادہ مالا پہنائی جائے۔ یہ ادارے زبان کے "اسپتال” نہیں رہے بلکہ "قبرستان” میں بدلنے لگے ہیں۔ان کے سربراہوں کی ترجیح اردو نہیں بلکہ کرسی ہے۔ ارادے اس قدر ڈگمگاتے ہیں کہ غالب یاد آتے ہیں۔
؎ ہم نے مانا کہ تغافل نہ کرو گے لیکن
خاک ہو جائیں گے ہم، تم کو خبر ہونے تک!اردو کو زندہ رکھنے کے لیے صرف تقریریں نہیں، عمل درکار ہے۔ ورنہ ادارے بھی رہ جائیں گے، بجٹ بھی، لیکن زبان کی روح انہی اداروں کے دالان میں دم توڑ دے گی۔ اور تب تاریخ یہی لکھے گی کہ اردو کے ادارے، اردو کے ارادوں کے مزار تھے۔
بجٹ یا بوجھ؟
اردو اداروں کی کہانی میں سب سے دلچسپ کردار "بجٹ” ہے۔ ہر سال کاغذوں پر بڑی رقم مختص ہوتی ہے، اخبارات میں بیانات چھپتے ہیں، اور دعویٰ کیا جاتا ہے کہ یہ سرمایہ زبان کی ترقی کے لیے ہے۔ مگر حقیقت میں یہ بجٹ اردو کے لیے نہیں بلکہ زیادہ تر "اردو کے ٹھیکیداروں” کے لیے ایک طرح کا عیش کدہ ہے۔بجٹ کا حال ایسا ہے جیسے پیاسے کو کنواں دکھا کر کہا جائے: پانی موجود ہے، بس رسی اور بالٹی نہیں! فنڈز آتے ہیں لیکن ان کا زیادہ تر حصہ یا تو "انتظامی اخراجات” کھا جاتے ہیں یا پھر "نمائشی تقریبات” ہضم کر جاتی ہیں۔ سیمینار کے نام پر لنگر چلتا ہے، کانفرنس کے نام پر سیلفیاں کھنچتی ہیں، اور تحقیق کے نام پر چند غیر دلچسپ مقالے الماریوں میں بند ہو جاتے ہیں۔یہی وجہ ہے کہ قاری پوچھنے پر مجبور ہوتا ہے: یہ بجٹ ہے یا بوجھ؟ کیونکہ جو زبان اس رقم کی اصل مستحق ہے، وہ اب بھی اسکولوں میں بے یار و مددگار ہے، اور نئی نسل کے ہاتھوں سے پھسلتی جا رہی ہے۔کسی شاعر نے بجا کہا ہے
؎ یہ علاجِ ضعفِ دل ہم نے کیا تھا کچھ علاج
دیکھنے میں تو دوا ہے، کام میں زہر ہو گیا!اگر یہی چلتا رہا تو اردو کے اداروں کا بجٹ "زبان کے تابوت پر چڑھایا جانے والا کفن” بن جائے گا۔
سیمینار کی سیاست
اردو اداروں کا سب سے بڑا کارنامہ "سیمینار” ہے۔ جی ہاں، وہی سیمینار جسے یہ حضرات اردو کے جنازے کو جشن میں بدلنے کا بہترین نسخہ سمجھتے ہیں۔ جہاں زبان کے بجائے کھانے کے ذائقے پر زیادہ بحث ہوتی ہے اور مقالے سے زیادہ پلیٹوں کی گنتی ہوتی ہے۔آج اردو ادارے علم و ادب کے بجائے "بریانی اور قورمے کے کچن” سے پہچانے جاتے ہیں۔ قاری یہ سوچنے پر مجبور ہے کہ یہ سیمینار ہیں یا شادی کی دعوتیں؟ مقالہ پڑھنے والا خود بھی جانتا ہے کہ اس کی تقریر اتنی بے جان ہے کہ اسے سننے کے لیے صرف "چکن قورمہ” ہی سامعین کو روک سکتا ہے۔
کاش یہ حضرات زبان کو زندہ رکھنے کے لیے اتنی محنت کرتے جتنی محنت فوٹو کے لیے "کون آگے کھڑا ہو” پر کی جاتی ہے۔اگر یہ روش نہ بدلی گئی تو اردو سیمینار تاریخ میں یوں لکھے جائیں گے کہ یہ وہ تقاریب تھیں جہاں مقالہ قبر میں اور بریانی پلیٹ میں زندہ رہتی تھی۔
زبان یا ذاتی مفاد؟
اردو اداروں کی باگ ڈور جن "اہل بصیرت” کے ہاتھوں میں ہے، ان کی بصیرت کا حال یہ ہے کہ وہ آئینہ دیکھ کر بھی یہ سمجھتے ہیں کہ سامنے کوئی اور کھڑا ہے۔ ان حضرات کے نزدیک زبان کا فروغ ایک "اختیاری مضمون” ہے اور کرسی کا تحفظ "لازمی نصاب”۔
اردو کی حالت پوچھو تو لمبی تقریر ملے گی؛ لیکن اگر کرسی کی حالت پوچھ لو تو آنکھوں میں آنسو آ جائیں گے۔ گویا یہ حضرات زبان کے نہیں بلکہ اپنی کرسی کے "محافظِ اعلیٰ” ہیں۔
ان کا حال وہی ہے جو میر نے کہا تھا
؎ میر کیا سادہ ہیں، بیمار ہوئے جس کے سبباسی عطار کے لونڈے سے دوا لیتے ہیں
آج کے "سربراہان اردو” عہدے پر بیٹھتے ہی پہلا کام "اپنوں کو نوازنے” کا، دوسرا کام "مخالفوں کو رگڑنے” کا، اور تیسرا کام "کرسی کے ساتھ سیلفی” کا۔ اس کے بعد زبان کی فکر کا نمبر آتا ہے، اور وہ بھی صرف بیانات تک محدود۔اگر یہی رویہ جاری رہا تو اردو ادارے صرف نام کے مزار اور ان کے سربراہ "مجازی پیر” بن کر رہ جائیں گے، جو کرسی کے مصلے پر بیٹھ کر روز زبان کے حق میں "دعا” کرتے ہیں اور پھر دعا کے بعد کرسی سے لپٹ کر سو جاتے ہیں۔

آج اردو زبان ایسے موڑ پر کھڑی ہے جہاں اس کا مستقبل کسی
خواب کی طرح دھند میں ہچکولے کھا رہا ہے ۔ اسکولوں میں اردو کا وجود سانس کے آخری دھاگے پر ہے، کالجوں میں اسے "کم نمبر والا مضمون” سمجھا جاتا ہے، اور اداروں میں یہ محض "فنڈ ہڑپنے کا بہانہ” بن چکی ہے۔
اردو کا جنازہ اگر کل اٹھا تو یقین مانیے، کاندھا دینے والے بھی فوٹو سیشن کے انتظار میں ہوں گے۔ لوگ مرثیہ پڑھنے کے بجائے "پریس ریلیز” جاری کریں گے۔ اور شاید کسی ادارے کے دروازے پر کتبہ لگا ہوگاکہ "یہ وہ زبان تھی جو کبھی زندہ تھی، لیکن اہلِ کرسی نے اسے اپنی تقریروں میں دفن کر دیا۔”
لیکن اگر اب بھی بیداری آئے، اگر قوم اپنے اداروں سے سوال کرنے لگے، اگر بجٹ کے حساب مانگے جائیں، اگر نئی نسل کو زبان سے جوڑا جائے، تو یہ نوشتۂ دیوار چراغِ رہگزر بھی بن سکتا ہے۔ورنہ ؎
"چراغ سب کے بجھیں گے ہوا کسی کی نہیں”

ٹیگ: news todayUrduurdu literature

قارئین سے ایک گزارش

سچ کے ساتھ آزاد میڈیا وقت کی اہم ضرورت ہےـ روزنامہ خبریں سخت ترین چیلنجوں کے سایے میں گزشتہ دس سال سے یہ خدمت انجام دے رہا ہے۔ اردو، ہندی ویب سائٹ کے ساتھ یو ٹیوب چینل بھی۔ جلد انگریزی پورٹل شروع کرنے کا منصوبہ ہے۔ یہ کاز عوامی تعاون کے بغیر نہیں ہوسکتا۔ اسے جاری رکھنے کے لیے ہمیں آپ کے تعاون کی ضرورت ہے۔

سپورٹ کریں سبسکرائب کریں

مزید خبریں

امریکہ ایران کشیدگی خبر
خبریں

امریکہ–ایران کشیدگی ایک بار پھر سرخیوں میں، جنگ بندی میں توسیع کے باوجود بڑے معاہدے کا مستقبل خطرے میں

22 اپریل
الیکشن سے قبل سیاسی بیان بازی تیز، کئی بڑے لیڈرز آمنے سامنے
خبریں

الیکشن سے قبل سیاسی بیان بازی تیز، کئی بڑے لیڈرز آمنے سامنے

21 اپریل
دہلی میں بڑھتے جرائم پولیس الرٹ
خبریں

دہلی-NCR میں جرائم کے واقعات میں اضافہ، پولیس الرٹ

21 اپریل
  • ٹرینڈنگ
  • تبصرے
  • تازہ ترین
Humayun Kabir Owaisi Video Row

ہمایوں کبیر کے خفیہ ویڈیو نے اویسی پر بی جے پی کی بی ٹیم کے الزام کو تقویت دی، اتحاد ٹوٹا ، سیاسی بصیرت پر بھی سوال

اپریل 10, 2026
یوپی کے 558 مدارس میں مڈ ڈے میل کون کھا رہا ہے؟ چونکاتی گراؤنڈ رپورٹ

یوپی کے 558 مدارس میں مڈ ڈے میل کون کھا رہا ہے؟ چونکاتی گراؤنڈ رپورٹ

اپریل 10, 2026
DD News Anchor Controversy News

پبلک ٹیکس سے چلنے والے ‘ڈی ڈی نیوز’ کے اینکر نے کہا” ساورکر کے چپل کی دھول بھی نہیں راہل گادھی

اپریل 13, 2026
طالبان ميں پھوٹ کی خبريں، حقيقت يا پروپيگنڈہ؟

طالبان ميں پھوٹ کی خبريں، حقيقت يا پروپيگنڈہ؟

ستمبر 19, 2021
امریکہ ایران کشیدگی خبر

امریکہ–ایران کشیدگی ایک بار پھر سرخیوں میں، جنگ بندی میں توسیع کے باوجود بڑے معاہدے کا مستقبل خطرے میں

الیکشن سے قبل سیاسی بیان بازی تیز، کئی بڑے لیڈرز آمنے سامنے

الیکشن سے قبل سیاسی بیان بازی تیز، کئی بڑے لیڈرز آمنے سامنے

دہلی میں بڑھتے جرائم پولیس الرٹ

دہلی-NCR میں جرائم کے واقعات میں اضافہ، پولیس الرٹ

امریکہ ایران کشیدگی خبر

ایران–امریکہ مذاکرات میں محدود پیش رفت، اختلافات بدستور برقرار: قالیباف

امریکہ ایران کشیدگی خبر

امریکہ–ایران کشیدگی ایک بار پھر سرخیوں میں، جنگ بندی میں توسیع کے باوجود بڑے معاہدے کا مستقبل خطرے میں

اپریل 22, 2026
الیکشن سے قبل سیاسی بیان بازی تیز، کئی بڑے لیڈرز آمنے سامنے

الیکشن سے قبل سیاسی بیان بازی تیز، کئی بڑے لیڈرز آمنے سامنے

اپریل 21, 2026
دہلی میں بڑھتے جرائم پولیس الرٹ

دہلی-NCR میں جرائم کے واقعات میں اضافہ، پولیس الرٹ

اپریل 21, 2026
امریکہ ایران کشیدگی خبر

ایران–امریکہ مذاکرات میں محدود پیش رفت، اختلافات بدستور برقرار: قالیباف

اپریل 19, 2026

حالیہ خبریں

امریکہ ایران کشیدگی خبر

امریکہ–ایران کشیدگی ایک بار پھر سرخیوں میں، جنگ بندی میں توسیع کے باوجود بڑے معاہدے کا مستقبل خطرے میں

اپریل 22, 2026
الیکشن سے قبل سیاسی بیان بازی تیز، کئی بڑے لیڈرز آمنے سامنے

الیکشن سے قبل سیاسی بیان بازی تیز، کئی بڑے لیڈرز آمنے سامنے

اپریل 21, 2026
Latest News | Breaking News | Latest Khabar in Urdu at Roznama Khabrein

روزنامہ خبریں مفاد عامہ ‘ جمہوری اقدار وآئین کی پاسداری کا پابند ہے۔ اس نے مختصر مدت میں ہی سنجیدہ رویے‘غیر جانبدارانہ پالیسی ‘ملک و ملت کے مسائل معروضی انداز میں ابھارنے اور خبروں و تجزیوں کے اعلی معیار کی بدولت سماج کے ہر طبقہ میں اپنی جگہ بنالی۔ اب روزنامہ خبریں نے حالات کے تقاضوں کے تحت اردو کے ساتھ ہندی میں24x7کے ڈائمنگ ویب سائٹ شروع کی ہے۔ ہمیں یقین ہے کہ یہ آپ کی توقعات پر پوری اترے گی۔

اہم لنک

  • ABOUT US
  • SUPPORT US
  • TERMS AND CONDITIONS
  • PRIVACY POLICY
  • GRIEVANCE
  • CONTACT US
  • ہوم
  • دیس پردیس
  • فکر ونظر
  • گراونڈ رپورٹ
  • انٹرٹینمینٹ
  • اداریے
  • ہیٹ کرا ئم
  • سپورٹ کیجیے

.ALL RIGHTS RESERVED © COPYRIGHT ROZNAMA KHABREIN

Welcome Back!

Login to your account below

Forgotten Password?

Retrieve your password

Please enter your username or email address to reset your password.

Log In

Add New Playlist

کوئی نتیجہ نہیں ملا
تمام نتائج دیکھیں
  • ہوم
  • دیس پردیس
  • فکر ونظر
    • مذہبیات
    • مضامین
  • گراونڈ رپورٹ
  • انٹرٹینمینٹ
  • اداریے
  • ہیٹ کرا ئم
  • سپورٹ کیجیے

.ALL RIGHTS RESERVED © COPYRIGHT ROZNAMA KHABREIN