اردو
हिन्दी
جولائی 27, 2026
Latest News | Breaking News | Latest Khabar in Urdu at Roznama Khabrein
  • ہوم
  • دیس پردیس
  • فکر ونظر
    • مذہبیات
    • مضامین
  • گراونڈ رپورٹ
  • انٹرٹینمینٹ
  • اداریے
  • ہیٹ کرا ئم
  • سپورٹ کیجیے
کوئی نتیجہ نہیں ملا
تمام نتائج دیکھیں
  • ہوم
  • دیس پردیس
  • فکر ونظر
    • مذہبیات
    • مضامین
  • گراونڈ رپورٹ
  • انٹرٹینمینٹ
  • اداریے
  • ہیٹ کرا ئم
  • سپورٹ کیجیے
کوئی نتیجہ نہیں ملا
تمام نتائج دیکھیں
Latest News | Breaking News | Latest Khabar in Urdu at Roznama Khabrein
کوئی نتیجہ نہیں ملا
تمام نتائج دیکھیں

اردو ادارے :” چراغ سب کے بجھیں گے ہوا کسی کی نہیں "

11 مہینے پہلے
‏‏‎ ‎‏‏‎ ‎|‏‏‎ ‎‏‏‎ ‎ خبریں
A A
0
اردو ادارے :” چراغ سب کے بجھیں گے ہوا کسی کی نہیں "
93
مشاہدات
Share on FacebookShare on TwitterShare on Whatsapp

ادارے/ ارادے: شعیب رضا فاطمی
اردو زبان کے ادارے کبھی چراغ کی لو تھے، آج وہی چراغ روغن پر نہیں بلکہ بتیوں کے بل پر جل رہے ہیں ۔ باہر سے دیکھیں تو شان و شوکت، پر شکوہ عمارتیں، جگمگاتے بورڈ اور تصویروں کی بہار؛ لیکن اندر جھانکیں تو "اندھے کے ہاتھ میں آئینہ” کا منظر دکھائی دیتا ہے۔یہ ادارے اردو کے فروغ کے بجائے تصویروں کے فروغ میں مشغول ہیں۔ کہیں فیتہ کاٹا جا رہا ہے، کہیں شال اوڑھائی جا رہی ہے، اور کہیں "اردو زندہ باد” کی رسمی صدا بلند ہو رہی ہے۔ زبان کا دم گھٹ رہا ہے اور سربراہان کے ہونٹوں پر محض مسکراہٹ چمک رہی ہے۔ شاعر نے جیسے ان کے لیے ہی کہا تھا۔
خوشامد سے پائی ہو کرسی عزیزو!
وہ کرسی نہیں ہے، یہ پھندا ہے، پھندا
المیہ یہ ہے کہ بجٹ آتا ہے، لیکن زبان کی زندگی میں کوئی رمق شامل نہیں ہوتی۔ ہاں، فائلیں موٹی ہو جاتی ہیں، سیمینار کی بریانی ضرور پکتی ہے، اور تحقیقی منصوبے اس سطح کے ہیں کہ تحقیق یہ رہ جاتی ہے کہ اگلی تقریب میں کس کو زیادہ مالا پہنائی جائے۔ یہ ادارے زبان کے "اسپتال” نہیں رہے بلکہ "قبرستان” میں بدلنے لگے ہیں۔ان کے سربراہوں کی ترجیح اردو نہیں بلکہ کرسی ہے۔ ارادے اس قدر ڈگمگاتے ہیں کہ غالب یاد آتے ہیں۔
؎ ہم نے مانا کہ تغافل نہ کرو گے لیکن
خاک ہو جائیں گے ہم، تم کو خبر ہونے تک!اردو کو زندہ رکھنے کے لیے صرف تقریریں نہیں، عمل درکار ہے۔ ورنہ ادارے بھی رہ جائیں گے، بجٹ بھی، لیکن زبان کی روح انہی اداروں کے دالان میں دم توڑ دے گی۔ اور تب تاریخ یہی لکھے گی کہ اردو کے ادارے، اردو کے ارادوں کے مزار تھے۔
بجٹ یا بوجھ؟
اردو اداروں کی کہانی میں سب سے دلچسپ کردار "بجٹ” ہے۔ ہر سال کاغذوں پر بڑی رقم مختص ہوتی ہے، اخبارات میں بیانات چھپتے ہیں، اور دعویٰ کیا جاتا ہے کہ یہ سرمایہ زبان کی ترقی کے لیے ہے۔ مگر حقیقت میں یہ بجٹ اردو کے لیے نہیں بلکہ زیادہ تر "اردو کے ٹھیکیداروں” کے لیے ایک طرح کا عیش کدہ ہے۔بجٹ کا حال ایسا ہے جیسے پیاسے کو کنواں دکھا کر کہا جائے: پانی موجود ہے، بس رسی اور بالٹی نہیں! فنڈز آتے ہیں لیکن ان کا زیادہ تر حصہ یا تو "انتظامی اخراجات” کھا جاتے ہیں یا پھر "نمائشی تقریبات” ہضم کر جاتی ہیں۔ سیمینار کے نام پر لنگر چلتا ہے، کانفرنس کے نام پر سیلفیاں کھنچتی ہیں، اور تحقیق کے نام پر چند غیر دلچسپ مقالے الماریوں میں بند ہو جاتے ہیں۔یہی وجہ ہے کہ قاری پوچھنے پر مجبور ہوتا ہے: یہ بجٹ ہے یا بوجھ؟ کیونکہ جو زبان اس رقم کی اصل مستحق ہے، وہ اب بھی اسکولوں میں بے یار و مددگار ہے، اور نئی نسل کے ہاتھوں سے پھسلتی جا رہی ہے۔کسی شاعر نے بجا کہا ہے
؎ یہ علاجِ ضعفِ دل ہم نے کیا تھا کچھ علاج
دیکھنے میں تو دوا ہے، کام میں زہر ہو گیا!اگر یہی چلتا رہا تو اردو کے اداروں کا بجٹ "زبان کے تابوت پر چڑھایا جانے والا کفن” بن جائے گا۔
سیمینار کی سیاست
اردو اداروں کا سب سے بڑا کارنامہ "سیمینار” ہے۔ جی ہاں، وہی سیمینار جسے یہ حضرات اردو کے جنازے کو جشن میں بدلنے کا بہترین نسخہ سمجھتے ہیں۔ جہاں زبان کے بجائے کھانے کے ذائقے پر زیادہ بحث ہوتی ہے اور مقالے سے زیادہ پلیٹوں کی گنتی ہوتی ہے۔آج اردو ادارے علم و ادب کے بجائے "بریانی اور قورمے کے کچن” سے پہچانے جاتے ہیں۔ قاری یہ سوچنے پر مجبور ہے کہ یہ سیمینار ہیں یا شادی کی دعوتیں؟ مقالہ پڑھنے والا خود بھی جانتا ہے کہ اس کی تقریر اتنی بے جان ہے کہ اسے سننے کے لیے صرف "چکن قورمہ” ہی سامعین کو روک سکتا ہے۔
کاش یہ حضرات زبان کو زندہ رکھنے کے لیے اتنی محنت کرتے جتنی محنت فوٹو کے لیے "کون آگے کھڑا ہو” پر کی جاتی ہے۔اگر یہ روش نہ بدلی گئی تو اردو سیمینار تاریخ میں یوں لکھے جائیں گے کہ یہ وہ تقاریب تھیں جہاں مقالہ قبر میں اور بریانی پلیٹ میں زندہ رہتی تھی۔
زبان یا ذاتی مفاد؟
اردو اداروں کی باگ ڈور جن "اہل بصیرت” کے ہاتھوں میں ہے، ان کی بصیرت کا حال یہ ہے کہ وہ آئینہ دیکھ کر بھی یہ سمجھتے ہیں کہ سامنے کوئی اور کھڑا ہے۔ ان حضرات کے نزدیک زبان کا فروغ ایک "اختیاری مضمون” ہے اور کرسی کا تحفظ "لازمی نصاب”۔
اردو کی حالت پوچھو تو لمبی تقریر ملے گی؛ لیکن اگر کرسی کی حالت پوچھ لو تو آنکھوں میں آنسو آ جائیں گے۔ گویا یہ حضرات زبان کے نہیں بلکہ اپنی کرسی کے "محافظِ اعلیٰ” ہیں۔
ان کا حال وہی ہے جو میر نے کہا تھا
؎ میر کیا سادہ ہیں، بیمار ہوئے جس کے سبباسی عطار کے لونڈے سے دوا لیتے ہیں
آج کے "سربراہان اردو” عہدے پر بیٹھتے ہی پہلا کام "اپنوں کو نوازنے” کا، دوسرا کام "مخالفوں کو رگڑنے” کا، اور تیسرا کام "کرسی کے ساتھ سیلفی” کا۔ اس کے بعد زبان کی فکر کا نمبر آتا ہے، اور وہ بھی صرف بیانات تک محدود۔اگر یہی رویہ جاری رہا تو اردو ادارے صرف نام کے مزار اور ان کے سربراہ "مجازی پیر” بن کر رہ جائیں گے، جو کرسی کے مصلے پر بیٹھ کر روز زبان کے حق میں "دعا” کرتے ہیں اور پھر دعا کے بعد کرسی سے لپٹ کر سو جاتے ہیں۔

آج اردو زبان ایسے موڑ پر کھڑی ہے جہاں اس کا مستقبل کسی
خواب کی طرح دھند میں ہچکولے کھا رہا ہے ۔ اسکولوں میں اردو کا وجود سانس کے آخری دھاگے پر ہے، کالجوں میں اسے "کم نمبر والا مضمون” سمجھا جاتا ہے، اور اداروں میں یہ محض "فنڈ ہڑپنے کا بہانہ” بن چکی ہے۔
اردو کا جنازہ اگر کل اٹھا تو یقین مانیے، کاندھا دینے والے بھی فوٹو سیشن کے انتظار میں ہوں گے۔ لوگ مرثیہ پڑھنے کے بجائے "پریس ریلیز” جاری کریں گے۔ اور شاید کسی ادارے کے دروازے پر کتبہ لگا ہوگاکہ "یہ وہ زبان تھی جو کبھی زندہ تھی، لیکن اہلِ کرسی نے اسے اپنی تقریروں میں دفن کر دیا۔”
لیکن اگر اب بھی بیداری آئے، اگر قوم اپنے اداروں سے سوال کرنے لگے، اگر بجٹ کے حساب مانگے جائیں، اگر نئی نسل کو زبان سے جوڑا جائے، تو یہ نوشتۂ دیوار چراغِ رہگزر بھی بن سکتا ہے۔ورنہ ؎
"چراغ سب کے بجھیں گے ہوا کسی کی نہیں”

ٹیگ: news todayUrduurdu literature

قارئین سے ایک گزارش

سچ کے ساتھ آزاد میڈیا وقت کی اہم ضرورت ہےـ روزنامہ خبریں سخت ترین چیلنجوں کے سایے میں گزشتہ دس سال سے یہ خدمت انجام دے رہا ہے۔ اردو، ہندی ویب سائٹ کے ساتھ یو ٹیوب چینل بھی۔ جلد انگریزی پورٹل شروع کرنے کا منصوبہ ہے۔ یہ کاز عوامی تعاون کے بغیر نہیں ہوسکتا۔ اسے جاری رکھنے کے لیے ہمیں آپ کے تعاون کی ضرورت ہے۔

سپورٹ کریں سبسکرائب کریں

مزید خبریں

جوہر یونیورسٹی بحران: طلبہ کے دھرنے میں پہنچا جماعت اسلامی ہند کا وفد، گورنر سے مداخلت کی اپیل
خبریں

جوہر یونیورسٹی بحران: طلبہ کے دھرنے میں پہنچا جماعت اسلامی ہند کا وفد، گورنر سے مداخلت کی اپیل

22 جولائی
اترپردیش: اس بار سڑکوں پر نہیں پڑھی جائے گی جمعۃ الوداع کی نماز: علما کی اپیل
خبریں

136 سال پرانی تاریخی مسجد میں داخلہ بند، نماز پر بھی پابندی!

13 جولائی
Easy SIR Form Filing
خبریں

بھارت میں مسلم ووٹروں کے نام ووٹر لسٹ سے نکالے جا رہے ہیں؟ UN کی رپورٹ میں بھارت کے SIR عمل پر سوالات

12 جولائی
  • ٹرینڈنگ
  • تبصرے
  • تازہ ترین
معروف عالمِ دین مولانا سلمان حسینی ندوی انتقال کر گئے

معروف عالمِ دین مولانا سلمان حسینی ندوی دنیا سے رخصت ہو گئے

جون 29, 2026
اترپردیش: اس بار سڑکوں پر نہیں پڑھی جائے گی جمعۃ الوداع کی نماز: علما کی اپیل

136 سال پرانی تاریخی مسجد میں داخلہ بند، نماز پر بھی پابندی!

جولائی 13, 2026
2008 احمد آباد سیریل دھماکوں پر بڑا فیصلہ، 38 مجرموں کی سزائے موت برقرار، 11 کو عمر قید کی توثیق

2008 احمد آباد سیریل دھماکوں پر بڑا فیصلہ، 38 مجرموں کی سزائے موت برقرار، 11 کو عمر قید کی توثیق

جولائی 7, 2026
اعصابی کمزوری کی علامات، اسباب اور علاج

اعصابی کمزوری کی علامات، اسباب اور علاج

مارچ 23, 2021
جوہر یونیورسٹی بحران: طلبہ کے دھرنے میں پہنچا جماعت اسلامی ہند کا وفد، گورنر سے مداخلت کی اپیل

جوہر یونیورسٹی بحران: طلبہ کے دھرنے میں پہنچا جماعت اسلامی ہند کا وفد، گورنر سے مداخلت کی اپیل

اترپردیش: اس بار سڑکوں پر نہیں پڑھی جائے گی جمعۃ الوداع کی نماز: علما کی اپیل

136 سال پرانی تاریخی مسجد میں داخلہ بند، نماز پر بھی پابندی!

Easy SIR Form Filing

بھارت میں مسلم ووٹروں کے نام ووٹر لسٹ سے نکالے جا رہے ہیں؟ UN کی رپورٹ میں بھارت کے SIR عمل پر سوالات

ہندو سے مسلمان بننے والوں کو بھی ریزرویشن؟ تمل ناڈو حکومت سپریم کورٹ پہنچ گئی

ہندو سے مسلمان بننے والوں کو بھی ریزرویشن؟ تمل ناڈو حکومت سپریم کورٹ پہنچ گئی

جوہر یونیورسٹی بحران: طلبہ کے دھرنے میں پہنچا جماعت اسلامی ہند کا وفد، گورنر سے مداخلت کی اپیل

جوہر یونیورسٹی بحران: طلبہ کے دھرنے میں پہنچا جماعت اسلامی ہند کا وفد، گورنر سے مداخلت کی اپیل

جولائی 22, 2026
اترپردیش: اس بار سڑکوں پر نہیں پڑھی جائے گی جمعۃ الوداع کی نماز: علما کی اپیل

136 سال پرانی تاریخی مسجد میں داخلہ بند، نماز پر بھی پابندی!

جولائی 13, 2026
Easy SIR Form Filing

بھارت میں مسلم ووٹروں کے نام ووٹر لسٹ سے نکالے جا رہے ہیں؟ UN کی رپورٹ میں بھارت کے SIR عمل پر سوالات

جولائی 12, 2026
ہندو سے مسلمان بننے والوں کو بھی ریزرویشن؟ تمل ناڈو حکومت سپریم کورٹ پہنچ گئی

ہندو سے مسلمان بننے والوں کو بھی ریزرویشن؟ تمل ناڈو حکومت سپریم کورٹ پہنچ گئی

جولائی 10, 2026

حالیہ خبریں

جوہر یونیورسٹی بحران: طلبہ کے دھرنے میں پہنچا جماعت اسلامی ہند کا وفد، گورنر سے مداخلت کی اپیل

جوہر یونیورسٹی بحران: طلبہ کے دھرنے میں پہنچا جماعت اسلامی ہند کا وفد، گورنر سے مداخلت کی اپیل

جولائی 22, 2026
اترپردیش: اس بار سڑکوں پر نہیں پڑھی جائے گی جمعۃ الوداع کی نماز: علما کی اپیل

136 سال پرانی تاریخی مسجد میں داخلہ بند، نماز پر بھی پابندی!

جولائی 13, 2026
Latest News | Breaking News | Latest Khabar in Urdu at Roznama Khabrein

روزنامہ خبریں مفاد عامہ ‘ جمہوری اقدار وآئین کی پاسداری کا پابند ہے۔ اس نے مختصر مدت میں ہی سنجیدہ رویے‘غیر جانبدارانہ پالیسی ‘ملک و ملت کے مسائل معروضی انداز میں ابھارنے اور خبروں و تجزیوں کے اعلی معیار کی بدولت سماج کے ہر طبقہ میں اپنی جگہ بنالی۔ اب روزنامہ خبریں نے حالات کے تقاضوں کے تحت اردو کے ساتھ ہندی میں24x7کے ڈائمنگ ویب سائٹ شروع کی ہے۔ ہمیں یقین ہے کہ یہ آپ کی توقعات پر پوری اترے گی۔

اہم لنک

  • ABOUT US
  • SUPPORT US
  • TERMS AND CONDITIONS
  • PRIVACY POLICY
  • GRIEVANCE
  • CONTACT US
  • ہوم
  • دیس پردیس
  • فکر ونظر
  • گراونڈ رپورٹ
  • انٹرٹینمینٹ
  • اداریے
  • ہیٹ کرا ئم
  • سپورٹ کیجیے

.ALL RIGHTS RESERVED © COPYRIGHT ROZNAMA KHABREIN

Welcome Back!

Login to your account below

Forgotten Password?

Retrieve your password

Please enter your username or email address to reset your password.

Log In

Add New Playlist

کوئی نتیجہ نہیں ملا
تمام نتائج دیکھیں
  • ہوم
  • دیس پردیس
  • فکر ونظر
    • مذہبیات
    • مضامین
  • گراونڈ رپورٹ
  • انٹرٹینمینٹ
  • اداریے
  • ہیٹ کرا ئم
  • سپورٹ کیجیے

.ALL RIGHTS RESERVED © COPYRIGHT ROZNAMA KHABREIN