نیویارک :
پوری دنیا میں کورونا کے خلاف ویکسینیشن مہم تیزی سے چلائی جارہی ہے۔ ویکسین کے بعد کچھ مضمر اثرات عام ہیں، لیکن سی ڈی سی کو نوجوانوں میں کچھ اور بھی علامات نظر آئی ہیں ۔ امریکہ کی سی ڈی سی کی رپورٹ کے مطابق کئی نوجوانوں میں ویکسین کے بعد دل میں سوجن اور جلن کی شکایت پائی جارہی ہے ۔
وہائٹ ہاؤس میں ٹیم بریفنک کے دوران سی ڈی سی کے ڈائریکٹر روشیل ویلنسکی نے بتایا کہ انہیں کووڈ 19-ویکسین کے بعد 300 سے زیادہ نوجوانوں میں ہارٹ انفیکشن کی رپورٹ ملی ہے، حالانکہ ویکسینیشن کے مقابلے میں اس طرح کے معاملے کم ہیں ، لیکن نوجوان طبقہ کے حساب سے یہ معاملے توقع سے زیادہ بتائے جارہے ہیں۔
ایڈوائزری کمیٹی کا کہنا ہے کہ وہ جلد ہی ویکسین اورہارٹ انفیکشن کے درمیان پائے گئے اس تعلق سے تبادلہ خیال کرے گی، حالانکہ کمیٹی نے اپنے کووڈ 19-ویکسینیشن مہم میں کسی بھی طرح کی تبدیلی سے انکار کیا ہے ۔ کمیٹی ویکسین کے بعد مایو کارڈائٹس یعنی دل کے کمزور ہونے کے بڑھتے معاملے کو لے کر بھی فکر مند ہیں۔
سی ڈی سی نے مئی کے آخری سے کووڈ ویکسین کے بعد مایو کارڈائٹس کے کچھ معاملوں پر نگرانی رکھنی شروع کی تھی۔ رپورٹ میں خواتین کے مقابلے میں مردوں میں مایوکارڈائٹس کے زیادہ معاملے دیکھے گئے ، یہ معاملے فائزر اور مارڈنر ویکسین کی دوسری ڈوز کے بعد زیادہ دیکھے جارہے ہیں ۔
این بی سی نیوز کے مطابق سی ڈی سی نے ڈاکٹروں سے ان لوگوں کی رپورٹ مانگی ہے جن میں ویکسین کے بعد دل سے جڑی بیماریوں ، مایو کارڈائٹس یا پیریکارڈائٹس کی علامات دیکھی جاری ہیں۔
مایوکارڈائٹس اور پیریکارڈائٹس کی علامات میں بخار ، تھکاوٹ، سینہ میں درد اور سانس کی تکلیف شامل ہیں۔ ویکسین لگانے کے بعد اب تک اس کے جتنے بھی معاملے ہیں، ان میں زیادہ تر سنگین نہیں ہیں۔
کووڈ 19- رسپانس ٹیم بریفنگ کے دوران والنسکی نے کہا ،’ ویکسین کے بعد اس طرح کے معاملے میں زیادہ تر لوگ صحیح دیکھ بھال اور آرام کرنے کے بعد پوری طرح ٹھک ہو جارہے ہیں ۔ ویکسین اور دل سے جڑے ان معاملے پر ایڈوائزر کمیٹی کی ہونے والی بحث میں ہمیں کئی اہم جانکاریاں مل سکتی ہیں۔ اس سے ہماری سلامتی کی کوششوں کو مزید تقویت ملے گی۔










