گزشتہ سال دہلی میں سی اے اے – این آر سی کی مخالفت میں طویل عرصے تک تحریک چلی۔ تحریک کے دوران ہی دہلی کے کچھ حصے فساد کی زد میں آگئے۔ فسادیوں کی تلاش میں پولیس اسٹوڈنٹس تک پہنچی اور کئی طلبہ گرفتار کئے گئے۔
جے این یو کی اسٹوڈنٹ نتاشا ناروال اور دیوانگنا کالیتا کو بھی فساد کے الزام میں انسداد دہشت گردی ایکٹ ( یو اے پی اے) کے تحت گرفتار کرکے جیل بھیجا گیا تھا۔ دونوں ایک سال سے زیادہ وقت تک تہاڑ میں رہیں۔ حال ہی میں انہیں دہلی ہائی کورٹ سے ضمانت ملی ہے ۔ ہندی اخبار دینک بھاسکر نے دونوں سے خصوصی بات چیت کی ہے۔ اس کے کچھ اقتباس آپ کی خدمت میں پیش ہے ۔
سوال: آپ دونوں ایک سال سے زیادہ عرصے سے جیل میں رہیں۔ دونوں پر غداری کا الزام ہے۔ اس دوران آپ کیا کچھ محسوس کیا؟ عورت ہونے کی وجہ سے بھی کچھ مشکلات کاسامنا کرناپڑا ؟
نتاشا: کچھ دنوں تک تو ہم یقین ہی نہیں کر پار ہے تھے کہ جیل میں ہیں۔ ایک – دوسرے کو دیکھتے تو ہماری آنکھوں میں سوال ہوتا کیا یہ سچ ہے؟ آہستہ آہستہ ہم نے اس حقیقت کو قبول کرلیا تو احساس ہواکہ جیل بھی اسی پنجرہ کا ایکسٹینشن ہے جسے ہم توڑنے کی بات کرتے ہیں ۔
خواتین کو تو پنجرے میں رہنے کی ٹریننگ بچپن سے ہی دی جاتی ہے ۔ یہ مت کرو، وہاں مت جاؤ، تیز مت ہنسو، زیادہ دیر باہر مت رہو، روک -ٹوک ہر چیز کے لیے اجازت ۔ تو ایک نیا احساس ہوا کہ عورتوں کی زندگی کہیں نہ کہیں اسی قید کی طرح ہوتی ہے۔ شاید اس لئےبہت زیادہ الگ نہیں لگا۔ عورت کی زندگی کئی پنجروں میں بندھی ہوتی ہے۔ جیل بس اس کی شدید شکل ہے ۔
دیوانگنا: ایک تو جیل جانا اور دوسرا کورونا دور میں جیل جانا 14 دن تک ہم بالکل اکیلے ایک بیرک میں بند تھے۔ ایک کتاب بھی آپ کے پاس نہیں تھی، کسی سے بات نہیں کرسکتے، گھر پر فون کر نہیں سکتے۔ ہر ایک لمحہ بھاری تھا۔ بس لگتا تھاکہ کوئی تو پانچ منٹ کے لیے باہر نکال دے ۔ مجھے کھل کر سائنس لینی ہے ۔ بس ایک چھوٹی سے کھڑکی تھی ، جہاں سے ہم روز رات کو چاند دیکھتے تھے ۔ وہی ہماری امید تھا، لیکن جیسا نتاشا نے کہاکہ جیل میں رہتے ہوئے میں بار بار سوسائٹی کے پنجروں کا موازانہ وہاں سے کرتی تھی۔
سوال: کیا تعلیم حاصل کرتے وقت کبھی اندازہ تھاکہ جیل بھی جانا پڑ سکتا ہے ؟
دیوانگنا: نجیب ، روہت ویمولا یا پھراپنے حق کے لیے کسی بھی لڑائی میں اسٹوڈنٹس کو نظر بند کرنا ،ان کے اوپر واٹر کینن چلانا ، یہ سب تو ہی ہو رہا تھا، پولیس ری پریشن تو پہلے سے ہی ہو تا آرہاہے ۔ جیل بھی جا سکتے ہیں، اس کا اندازہ تھا، لیکن ہم پہلی بار جیل جائیں گے وہ بھی یو اے پی اے کے الزام کے تحت یہ کبھی نہیں سوچا تھا۔
سوال: آپ لوگوں نے کتنی توقع کی تھی کہ آپ کو اس بار ضمانت مل جائے گی؟
نتاشا: جیل میں رہنے کی ہم نے لمبی تیاری کر لی تھی۔ ہم ایسے الزام میں جیل میں بند کئے گئے تھے ، جس میں کتنے دن لگیں گے اس کا کچھ پتہ نہیں تھا۔ ہماری یا ہمارے ساتھ دوسرے لوگوں کی گرفتاری کا ڈر دکھاکر یہ اسٹوڈنٹ تحریک کو دبانے کی کوشش تھی۔ ہماری ضمانت میں آخری دم تک دہلی پولیس نے رکاوٹیں کھڑی کیں، اس لئے ہم تو لمبی تیاری سے گئے تھے، وہ تو دہلی ہائی کورٹ کے فیصلے کا نتیجہ ہے کہ ہم آج باہر ہیں۔
دیوانگنا: موجودہ وقت میں اختلاف رائے کی آوازوں کو دبانے کی نہیں بلکہ ختم کرنے کی کوششیں جاری ہیں ۔ آپ نے کچھ بھی ایسا کہا جو سرکار کے خلاف ہے تو جیل میں ڈال دئے جاؤگے۔ یہ خوف پیدا کیاجارہاہے ۔ ہم نے تو سی اے اے – این آر سی کے خلاف تحریک شروع کی تھی ۔ اندازہ تھاکہ ہمیں جیل سے باہر نہ آنے دینے کی پوری کوشش کی جائے گی۔ یہ صرف ہم جیسے کچھ لوگوں کا معاملہ نہیں تھا، یہ تو ہر اس آواز کو سبق سکھانے کی کوشش تھی جو سرکار کے خلاف اٹھی ہے اور آگے بھی اٹھ سکتی ہے ۔
سوال: جیل کے اندر آپ لوگوں کے ساتھ کوئی بدسلوکی تو نہیں ہوئی؟
نتاشا: شاید ہمارا کیس اتنا مشہور تھاکہ ایسا کچھ تجربہ ہمیں ہوا نہیں۔ شروع – شروع میں ضرور جیل کا اسٹاف ہم سے پوچھ گچھ زیادہ کرتا۔ بار بار یہ پوچھتے تھے کہ کیا الزام ہے تم پر ۔ پھر بعد میں تو لوگ ہمارے اوپر لگے الزامات کو اتنا ہی غیر یقینی ماننے لگے جتنا ہم مانتے ہیں۔
سوال: قید کے اس ایک سال نے آپ کو توڑا یا مضبوط کیا؟
نتاشا: قید کے اس ایک سال نے مجھے توڑا نہیں، بلکہ مضبوط کیا۔ یقین دلایا کہ ہماری لڑائی سچی ہے۔ ہمارے ساتھ بہت لوگ ہیں۔ اب جد وجہد کومزید تیز کرنا ہے۔ سی اے اے – این آر سی کی تحریک ابھی کیا شکل لے گی کچھ طے نہیں ہے، لیکن اپنے اور دوسرے کے حق کے لیے آواز اٹھاتے رہنا ہے۔ کئی پنجرے توڑے جانے ہیں۔
سوال: آپ لوگ ضمانت پر باہر ہیں ، لڑائی طویل ہوگی ، پھر جیل جانا پڑ سکتا ہے۔ جس وجہ سے آپ لوگ جیل گئے تھے ، اس تحریک کا مستقبل کیا ہے ؟
دیوانگنا: ہم جانتے ہیں کہ لڑائی ابھی بہت طویل ہے۔قید دوبارہ بھی ہو سکتی ہے ، مگر ہماری جد وجہد جاری رہے گی۔ ہر عدم مساوات کے خلاف ، سسٹم میں تفریق کے خلاف، ظلم واستحصال کے خلاف تحریک چلتی رہے گی۔
نہ صرف شہریت بلکہ وبائی امراض نے بھی ہمیں یہ بتایاکہ یہاں تو زندگی کے اختیارات پر ہی خطرہ منڈلا رہا ہے ۔ کووڈ دور میں ہیلتھ انفراسٹریکچر کے بغیر لوگوں نے جس طرح دم توڑا، آکسیجن ، دوا اور بیڈ کے لیے لوگ در – در بھٹکتے رہے ، اسے دیکھتے ہوئے لگتا ہے کہ جد وجہد تو ابھی صرف شہریت کے اختیار کے لیے نہیں بلکہ جینے کے حق کے لیے بھی کرنا ہے۔
نتاشا: دیکھئے ، جو اب ہمارے ساتھ ہو چکاہے، اسے زیادہ کچھ نہیں ہو سکتا۔ جیل جا کر ہم نے دیکھ لیا۔ وہ بھی دہشت گردی کے الزام میں۔ تو اب سرکار کے پاس ہمارے خلاف کیا ہی ہوگا؟ لڑائی طویل ہے، لڑتے رہیں گے ۔ دوبارہ جیل جانا پڑا تو پھر جائیں گے ۔










