نئی دہلی:(آر کے بیورو)
جماعت اسلامی ہند کے ممتاز رہنما اور نائب امیر جماعت ملک معتصم خان کا کہنا ہے کہ ہمیں الیکشن کمیشن پر بالکل بھروسہ نہیں ہے جہاں تک ووٹ چوری بیانیہ کا معاملہ ہے جماعت اسلامی اس بیانیہ کے ساتھ ہے اور اس کی بھرپور حمایت کرتی ہے ،انیوں نے sir کو ووٹ چوری کا طاقتور سورس بتایاـ ملک معتصم خان نے ‘روزنامہ خبریں’ کے ساتھ خاص ملاقات میں ان خیالات کا اظہار کیا
انہوں نے sir پر سوال کے جواب میں الزام لگایا کہ الیکشن کمیشن اور مرکز یہ کام عوام اور بہار کی سہولت کے لیے نہیں بلکہ یہ پورا کھیل صرف حکمرانوں کی جیت میں مددگار کا ہے ـیہ ہار کے تمام ممکنہ خدشات دور کرنے کے لیے ہے،تاکہ اپوزیشن کے جیت کے ہر امکان کو ختم کیا جاسکےـ ہندومسلم دونوں نشانے پر ہیں جو سرکار کے خلاف ہیں ـ ملک معتصم نے اس پورے پروسس کو اینٹی اپوزیشن اور پرو گورنمنٹ بتایا،انہوں نے الیکشن کمیشن کی نیت پر بھی کھل کر شبہ کیا
مسلم پرسنل لا بورڈ کے صدر کی طرف سے ووٹ چوری کے خلاف مہم کو دینی وملی فریضہ بتانے پر انہوں نے اس سے لاعلمی کا اظہار کیا البتہ یہ ضرور کہا کہ ووٹ چوری کے خلاف مہم ایک عوامی تحریک بن چکی ہے لیکن اس میں مذہبی اکائیوں کی بنیاد پر حصہ لینا نہ لینا بحث سے خارج ہے-ہم ووٹر کے ساتھ ایک ذمہ دار شہری بھی ہیں ،ـ اس موقع پر مذہبی یا ملی فریضہ کی اصطلاح استعمال کرنا ناقابل فہم ہے ،اس سے پولرائزیشن ہوتا ہے ـ
ملک معتصم نے بڑے پیمانے پر الیکٹورل ریفارمز کی حمایت کی اور اسے بڑا سبجیکٹ بتایا ,انہوں نے کہا کہ اس پر بحث کی ضرورت ہے ہمیں مکمل ریفارمیشن درکار ہے مگر سرکار کی اس معاملہ میں نیت صاف نہیں،اس کا تو ہر قدم اپوزیشن کی سرکاروں کو غیر مستحکم کرنے کے لیے ہوتا ہے ،جیسے ون نیشن ون الیکشن کی تجویز جس کا مطلب ہی ون پارٹی ون الیکشن ہے ـ جماعت اسلامی ہند اس کے سخت خلاف ہے ,اس سوال پر کہ کیا ووٹ چوری مخالف آندولن میں حصہ لیں گے نائب امیر نے کہا کہ مذہبی نہیں عوامی تحریک کے طور پر حصہ لینا چاہیے کیونکہ یہ ہر شہری کا معاملہ ہے ـ ااس کا بنیادی حق خطرہ میں ہے ـ انہوں نے وارننگ دی کہ ووٹ چوری سے جمہوری سسٹم کو خطرہ لاحق ہے اس کھیل میں میڈیا،بیوروکریسی ،الیکشن کمیشن سب حصہ دار ہیں ـ
وقف معاملہ میں سپریم کورٹ کی عبوری راحت کو ناکافی بتاتے ہوئے ملک معتصم نے کہا کہ وقف ترمیمی ایکٹ کے خاتمہ تک تحریک جاری رہے گی بورڈ نے جو روڈ میپ جاری کیا ہے ،جماعت اس میں اپنی بھر پور ذمہ داری ادا کرے گی ـانہوں نے کہا کہ جماعت اسلامی ہمیشہ تحریک کے حوالہ سے پرامن،جمہوری ،قانونی اور آئینی راستوں پر یقین رکھتی ہے
وقف پورٹل میں رجسٹریشن کرانے کے سوال پر آپ نے کہا کہ جماعت اس معاملہ میں بورڈ کے موقف کے ساتھ ہے لیکن میری ذاتی رائے ہے کہ رجسٹریشن کرانا چاہیے ،میں پھر کہہ رہا ہوں کہ یہ میری ذاتی ہے ـواضح رہے کہ سپریم کورٹ نے اس پر اسٹے سے انکار کردیا اور رجسٹریشن کرانے کو کہا ہےـ








