ایرانی صدر مسعود پیزشکیان نے کہا ہے کہ ان کا ملک "کبھی بھی جوہری ہتھیار نہیں چاہتا تھا اور نہ ہی کبھی کرے گا۔”انہوں نے پاک سعودی ڈیل کی بھی ہزار حمایت کی
بدھ کو اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی (یو این جی اے) میں اپنے بیان میں صدر پیزشکیان نے کہا کہ ہم جوہری ہتھیار نہیں چاہتے۔گزشتہ جون میں اسرائیل اور ایران کے درمیان 12 روزہ جنگ کے بعد بین الاقوامی سطح پر ایرانی صدر کا یہ پہلا بیان ہے۔. تاہم، جس طرح ایرانی صدر یو این جی اے میں شرکت کے لیے نیویارک پہنچے، ایران کے سپریم لیڈر آیت اللہ علی خامنہ ای نے ایران کے جوہری پروگرام پر مذاکرات کے حوالے سے ایک تبصرہ کیا۔انہوں نے براہ راست نشریات میں کہا، ’’کوئی بھی ملک دھمکیوں کے سائے میں مذاکرات نہیں کرے گا‘‘۔اپنے خطاب میں انہوں نے جون کی جنگ اور قطر میں حماس کے رہنماؤں پر اسرائیلی حملے سمیت متعدد امور پر تبادلہ خیال کیا۔
پزشکیان نے سعودی عرب اور پاکستان کے درمیان دفاعی معاہدے کا ’خیر مقدم‘ کرتے ہوئے کہا ہے کہ یہ قدم ’خطے میں ایک مفصل سکیورٹی کے نظام اور مسلمان ممالک کے درمیان سیاسی، سکیورٹی اور دفاعی شعبوں میں تعاون کی ابتدا ہے۔‘اپنے خطاب کے دوران ایرانی صدر نے نہ صرف اسرائیل پر کڑی تنقید کی بلکہ رواں مہینے قطر کے دارالحکومت دوحہ میں ہونے والے اسرائیلی حملے کی مذمت بھی کی۔ان کا کہنا تھا کہ ’سکیورٹی کو طاقت کے استعمال سے یقینی نہیں بنایا جا سکتا‘ بلکہ اس کے لیے ’اعتماد کی بحالی، علاقائی رابطوں کو بڑھانا اور کثیر الجہتی اتحاد‘ کی ضرورت ہوتی ہے۔صدر پزشکیان کا کہنا تھا کہ ایران نے ’کبھی جوہری ہتھیار کا حصول نہیں چاہا اور نہ کبھی چاہے گا۔‘انھوں نے اپنی تقریر میں رواں برس جون میں اسرائیل اور ایران جنگ کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ: ’میرے ملک کو بد ترین جارحیت کا نشانہ بنایا گیا‘ اور اسرائیلی حملے ’سفارتکاری کو سنگین دھوکہ‘ دینے کے مترادف تھے۔ایرانی صدر نے مزید کہا کہ اسرائیلی ’جارحیت‘ ایران میں ’بچوں اور سائنسدانوں کی شہادت‘ کے ذمہ دار ہے۔








