اداریہ: قاسم سید
اترپردیش کے قدآور تیز طرار لیڈر محمداعظم خان کی ضمانت پر رہائی سماجوادی پارٹی کے لیے کئی الجھنیں لے کر آئی ہے مگر یہ یوپی کی سیاست میں بھی کئی پہلوؤں سے اہمیت رکھتی ہے، کیونکہ وہ محض ایک سیاستدان نہیں بلکہ اترپردیش کی مسلم سیاست کی ایک بڑی علامت اور سب سے پسندیدہ چہرہ بھی سمجھے جاتے ہیں۔انیوں نے سچ یہ ہے کہ اپنے آگے کسی کا چراغ جلنے نہیں دیا ـاب سب سے بڑا سوال یہ ہے کہ ان کی رہائی کے یوپی کی سیاست پر کیا اثرات مرتب ہوں گے اور ان کے پاس عملی متبادل کیا ہیں؟
سب سے پہلے یہ سمجھنا ضروری ہے کہ اعظم خان کی گرفتاری اور لمبی قید محض قانونی معاملہ نہیں تھا بلکہ اس کارروائی کو سیاسی انتقام کے طور پر بھی دیکھا گیا۔ ان کی جائیدادوں پر مقدمات، ان کے قریبی لوگوں پر دباؤ، اور ان کو مسلسل حاشیے پر دھکیلنے کی کوشش گھٹیاترین الزامات میں مقدمات تذلیل و توہین کی بدترین حکمت عملی تھی کہ اتنا طاقتور لیڈر کوئی حیثیت نہیں رکھتا ،عام مسلمان کی کیا اوقات ہے ایک پیغام تھا کہ مسلم سیاست میں کوئی آزاد آواز برداشت نہیں کی جائے گی۔ رہائی کے بعد ان کی سیاسی واپسی کس شکل میں ممکن ہوگی، یہ کئی عوامل پر منحصر ہے۔
یوپی میں سماج وادی پارٹی سے ان کا تعلق تاریخی رہا ہے لیکن اکھلیش یادو کے ساتھ ان کے اختلافات کسی سے پوشیدہ نہیں۔ان کے بیانات میں پایا جانے والا سسپنس اس کا اشارہ ہے تو کسی بڑے پارٹی لیڈر کا ان کی خیریت تک دریافت نہ کرنا ہائی کمان کا خاموش جواب ہے ـ اعظم خاں بارہا یہ احساس دلاتے رہے ہیں کہ مسلم قیادت کو محض ووٹ بینک سمجھا گیا، انہیں کبھی فیصلہ سازی میں برابری نہیں ملی۔ لہٰذا رہائی کے بعد سب سے پہلا متبادل یہ ہے کہ وہ پھر سے سماج وادی پارٹی کے اندر اپنی جگہ بنانے کی کوشش کریں۔ مگر سوال یہ ہے کہ اکھلیش یادو ان کے لیے کتنی جگہ چھوڑیں گے؟ اگر تعلقات بدستور سرد مہری کا شکار رہے تو یہ راستہ زیادہ کارگر نہیں ہوگا۔اکھلءش اپنے پتا جی کے میگزین کو دھونا نہیں چاہتے ـسعظم خاں آخری بوجھ ہیں جس کو اتار پھینکنا باقی ہے مگر وہ بہت سخت جان ہیں
دوسرا متبادل یہ ہے کہ وہ کسی نئی مسلم سیاسی جماعت یا محاذ کی تشکیل میں کردار ادا کریں۔ ان کی شخصیت میں وہ کرشمہ اور سیاسی سرمایہ ہے کہ مسلم ووٹ بینک کے ایک بڑے حصے کو متاثر کرسکیں، خاص طور پر مغربی یوپی میں۔ لیکن اس میں عملی مشکلات ہیں: ایک تو نئی جماعت کو زمین پر جمانے کے لیے وسائل اور وسیع اتحاد کی ضرورت ہوگی، دوسرا بی جے پی کی سخت سیاسی فضا میں کسی الگ مسلم محاذ کو فوری کامیابی ملنا مشکل ہے۔مسلمان شاید ذہنی طور پر ایسے کسی تجربی کے حق میں نہیں ہیں
تیسرا راستہ یہ ہوسکتا ہے کہ وہ کسی قومی یا علاقائی طاقت کے ساتھ نئے اتحاد میں آئیں۔ مثال کے طور پر کانگریس، جو یوپی میں اپنی جگہ بنانے کی جستجو میں ہے، انہیں ایک سینئر مسلم لیڈر کے طور پر جگہ دے سکتی ہے۔ مگر یہاں بھی سوال ہے کہ کیا اعظم خان اپنی آزاد شناخت چھوڑ کر کسی دوسرے پلیٹ فارم پر صرف علامتی کردار ادا کرنے پر راضی ہوں گے؟وہ کتنا جھکنے کے لیے تیار ہوں گے اور کیا اس کے مسلم لیڈر ان کو برداشت کریں گے ؟
چوتھا متبادل، جو شاید سب سے زیادہ حقیقت پسندانہ ہے، یہ ہے کہ وہ براہِ راست بڑی سیاسی محاذ آرائی سے کچھ فاصلہ رکھ کر "کنگ میکر” یا "بیک اسٹیج رہنما” کا کردار اپنائیں۔ یعنی وہ اپنی کمیونٹی میں اثرورسوخ استعمال کرتے ہوئے مخصوص حلقوں میں فیصلوں پر اثر ڈالیں اور اپنی سیاست کو "مزاحمتی” کے بجائے "وزن رکھنے والی” طاقت میں بدل دیں۔ اور اچھے وقت کا انتظار کریں کیونکہ وہ عمر کے اس حصہ میں ہیں جہاں زیادہ مزاحمت، زیادہ جدوجہد اور زیادہ کسمشمکش کے متحمل نہیں ہوسکتے،پھر ابھی مقدمات کی زنبیل سے نجات نہیں ملی ہے بلکہ عارضی راحت ہے وہ کچھ بھی ختم کی جاسکتی ہے
یوپی کی موجودہ سیاست میں ان کی رہائی بی جے پی کے لیے براہِ راست خطرہ نہیں، لیکن مسلم سیاست کے منظرنامے میں ایک نئی حرکت ضرور پیدا کرسکتی ہے۔ ان کے پاس اصل سوال یہی ہوگا کہ آیا وہ دوبارہ فرنٹ لائن پر آتے ہیں، یا پس پردہ اثرانداز ہوتے ہیں۔ دونوں راستوں کے اپنے خطرات اور امکانات ہیں۔
اعظم خان کی رہائی یوپی کی سیاست میں بظاہر کوئی فوری زلزلہ نہیں لائے گی، لیکن یہ ضرور ہے کہ مسلم سیاست میں ایک بار پھر ارتعاش پیدا ہوگا۔ جو ریاست کے انتخابی منظر نامہ کو کسی حد تک متاثر کرسکتی ہے ـ وہ سماج وادی پارٹی میں رہیں تو اپنی پرانی پوزیشن بحال کرنا مشکل ہوگا، نئی جماعت بنائیں تو زمین ہموار کرنے میں وقت لگے گا، کانگریس سے جڑیں تو اپنی آزاد شناخت کھونے کا خطرہ ہوگا، اور پس پردہ کردار اپنائیں تو اثرانداز تو رہیں گے مگر منظر سے اوجھل۔ رہائی نے ان کے لیے امکانات کے دروازے کھولے ضرور ہیں، مگر ہر دروازے کے پیچھے مشکلات بھی کم نہیں











