نئی دہلی: وسنت کنج علاقے میں ایک پرائیویٹ مینجمنٹ انسٹی ٹیوٹ کی طالبات کے ساتھ جنسی زیادتی کے معاملے میں پولیس نے ملزم سوامی چیتانیانند سرسوتی کوگرفتار کر لیا گیا ہے۔ اسے آگرہ میں گرفتار کیا گیا۔ اسٹوڈنٹس کے الزامات کے بعد سے پولیس ملزم کی تلاش میں تھی۔ اس کی آخری معلوم لوکیشن آگرہ میں تھی، جس سے آگرہ اور آس پاس کے علاقوں میں تلاشی مہم چلائی گئی۔گرفتاری کل رات 3:30 بجے کے قریب ایک ہوٹل سے کی گئی۔ وہ گزشتہ کئی دنوں سے آگرہ میں روپوش تھا۔ فی الحال اس سے پوچھ گچھ اور طبی معائنہ کیا جا رہا ہے۔ چیتانانند پر سنگین الزام ہے کہ وہ خواتین طالبات کو رات دیر گئے اپنے کوارٹر میں آنے پر مجبور کرتا تھا۔ نہ آنے کی صورت میں انہیں ناکام کرنے کی دھمکی بھی دی۔ چیتانیانند نے اپنی ٹیم میں کئی خواتین کو بھی ملازم رکھا جو کالج کے طالب علموں کی چیٹس کو حذف کر دیتی تھیں۔ پولیس کو چیٹ ڈیلیٹ کرنے کے شواہد بھی ملے ہیں۔
دریں اثناء اس کے ذریعہ بنائے گئے ٹرسٹ کے 18 بینک کھاتوں اور 28 فکسڈ ڈپازٹ اکاؤنٹس کو فریز (منجمد) کر دیا ہے، جن میں تقریباً آٹھ کروڑ روپے (800 ملین روپے) ہیں۔ اس کے ڈیبٹ اور کریڈٹ کارڈ بھی بلاک کر دیے گئے ہیں۔
ساؤتھ ویسٹ ڈسٹرکٹ پولیس کی ایڈیشنل ڈی سی پی ایشوریہ سنگھ کے مطابق ملزم کے خلاف مبینہ سری شاردا پیٹھم، سرنگیری پراپرٹی میں دھوکہ دہی، جعلسازی اور کروڑوں روپے کے غبن کے سنگین الزامات ہیں۔ اس کے بعد پولیس نے اس کے تمام اکاؤنٹس، فکسڈ ڈپازٹ اور ڈیبٹ اور کریڈٹ کارڈز منجمد کر دیے ہیں۔ پولیس اس بات کی بھی تفتیش کر رہے ہیں کہ ملزم کب آگرہ پہنچا، وہ کہاں ٹھہرا اور اس کی مدد کون کر رہا تھا۔








