اداریہ:قاسم سید
یہ سوال آج کے سیاسی منظرنامہ میں نہایت اہم ہے کہ کیا بھارت میں واقعی اب "آر ایس ایس کا سکہ” چلنے لگا ہے؟ کیا وہ اب "سکہ رائج الوقت "ہوگیا ہے؟ حکومتِ ہند نے بہت اہتمام سے سنگھ کے قیام کےسو سال مکمل ہونے پر یادگاری سکہ جاری کیا، علاؤہ ازیں آر ایس ایس کے تقریبات میں مودی اور ان کی کابینہ کے اکثر رفقا ،سابق صدر جمہوریہ کی موجودگی ایک واضح پیغام تو ہے۔ مگر سوال یہ ہے کہ کیا یہ محض علامتی اقدامات ہیں یا بھارت کی ریاستی اور سماجی اور تہذیبی ساخت میں سنگھ کا غلبہ اس حد تک بڑھ گیا ہے کہ آنے والے وقت میں ہر ادارہ اور ہر فیصلہ اسی فکر کے تابع ہوگا؟جیڈس کہ سول سوسائٹی اور سیاسی حلقے لگاتار اندیشے ظاہر کرتے رہے ہیں
یہ سمجھنا ضروری ہے کہ آر ایس ایس کا اثر و رسوخ نیا نہیں۔ آزادی کے فوراً بعد ہی کانگریس نے اس کو محدود کرنے کی کوشش کی لیکن وقت کے ساتھ اس نے ثقافتی تنظیموں، تعلیمی اداروں، میڈیا اور بالخصوص سیاست میں جنسنگھ اور پھر بی جے پی اور سیکولر پارٹیوں سے وقتا فوقتاً اتحادکے ذریعے اپنی جڑیں مضبوط کیں۔ 2014 کے بعد نریندر مودی کی قیادت میں پہلی بار واضح اکثریت کے بوتے مرکز میں ایسی حکومت بنی جو صرف سیاسی نہیں بلکہ نظریاتی طور پر بھی سنگھ کے ایجنڈے کو کھلے عام آگے بڑھانے پر یقین رکھتی ہے۔ اس پس منظر میں اب جب سرکاری سطح پر "سنگھ کے سو سال” کو یادگار سکّے سے منسوب کیا گیا ہے جس کے ایک طرف بھارت ماتا کی تصویر ہے تو یہ محض اعزاز نہیں بلکہ ریاست اور سنگھ کے رشتے کی علامتی توثیق ہے۔
یہ بھی دیکھا جانا چاہیے کہ سکّے جیسی قومی شبیہیں محض یادگار نہیں ہوتیں، یہ قوم کی اجتماعی یادداشت کو تشکیل دینے کا وسیلہ ہوتی ہیں۔ ماضی میں گاندھی، نہرو، امبیڈکر یا آزادی کی جدوجہد سے جڑے رہنماؤں کے سکّے جاری ہوتے تھے۔ لیکن اب ایک ایسی تنظیم کے لیے سکہ نکالنا جس کا باضابطہ طور پر آزادی کی تحریک میں وزیراعظم کے دعوے کے باوجود کوئی کردار نہ تھا تاریخ سے اس کی شہادت بھی ملتی ہے بلکہ اس پر "فرقہ وارانہ تقسیم” کو بڑھانے کا الزام رہا، دراصل یہ بتاتا ہے کہ بھارتی ریاست کی "قومی شناخت” کس طرف موڑی جا رہی ہے۔
اب سنگھ "بیک اسٹیج” طاقت نہیں رہا بلکہ "مین اسٹیج” پر آ گیا ہے۔ وہ دن گئے جب بی جے پی قیادت آر ایس ایس سے فاصلہ رکھ کر اپنی عوامی امیج بناتی تھی، آج یہ فخر کا اعلان ہے کہ حکومت اور سنگھ ایک ہی سکے کے دو رخ ہیں۔ اس سے ہندوستان کی سیکولر اور جمہوری ساکھ پر بنیادی سوال کھڑے ہوتے ہیں۔لیکن کیا اس کا مطلب یہ ہے کہ اب ہر جگہ آر ایس ایس کا سکہ ہی چلے گا؟ یہاں ہمیں یہ بھی دیکھنا ہوگا کہ بھارتی سماج کی تکثیریت مختلف خطوں کی سیاسی خودمختاری اور ریاستی سطح پر مخالف سیاسی جماعتوں کی مزاحمت اب بھی ایک حقیقت ہے۔ جنوبی ہند، مشرقی ریاستیں اور حتیٰ کہ مہاراشٹر و بہار جیسی ریاستیں سنگھ کے ایجنڈے کو مکمل طور پر ہضم نہیں کر رہیں۔ اسی طرح عدلیہ، سول سوسائٹی، طلبہ تحریکیں اور عالمی دباؤ بھی وہ رکاوٹیں ہیں جو اس "ہندوتوا غلبے” کو مطلق العنان نہیں بننے دیتیں۔
یوں دیکھا جائے تو سکّے کا اجرا اور سرکاری فیصلوں میں سنگھ کی بڑھتی موجودگی اس حقیقت کا اظہار ہے کہ سنگھ اب ریاستی ڈھانچے کے ساتھ جڑ چکا ہے۔ لیکن یہ کہنا کہ پورے بھارت میں صرف "آر ایس ایس کا سکہ” چلے گا، شاید قبل از وقت ہوگا۔ یہ ضرور کہا جا سکتا ہے کہ موجودہ حکومت نے آر ایس ایس کو تاریخ کے مرکزی دھارے میں جگہ دلانے کی کوشش کی ہے، اور آئندہ نسلوں کی یادداشت پر اس کی چھاپ گہری کرنے کے لیے ریاستی مشینری استعمال ہو رہی ہے۔ مگر اس کے ساتھ ساتھ بھارت کی جمہوری مزاحمتی قوتیں یہ بھی ثابت کر رہی ہیں کہ سکہ اگر سرکاری خزانے سے جاری ہو بھی جائے، تو عوامی قبولیت کا امتحان ابھی باقی ہے۔











