امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ پیر کے روز اسرائیلی پارلیمنٹ (کنیسٹ) کے اجلاس میں شریک ہوئے، جہاں ارکان نے ان کا کھڑے ہو کر استقبال کیا۔ اس موقع پر اسرائیلی صدر اسحق ہرتزوگ بھی موجود تھے۔
پارلیمنٹ کے احاطے میں پہنچنے پر صدر ٹرمپ نے مہمانوں کی کتاب میں تاثرات درج کرتے ہوئے کہا کہ “یہ میرے لیے بہت بڑا اعزاز ہے، آج ایک عظیم دن ہے، ایک نئی شروعات کا دن”۔ اس کے بعد انہوں نے اسرائیلی وزیراعظم بنجمن نیتن یاھو سے ملاقات کی۔کنیسٹ سے خطاب کرتے ہوئے صدر ٹرمپ نے کہا کہ’یہ اسرائیل اور پوری دنیا کے لیے ناقابلِ یقین کامیابی ہے کہ اتنی زیادہ اقوام امن کے شراکت دار کے طور پر اکٹھی ہوئی ہیں۔ آنے والی نسلیں اسے اس لمحے کے طور پر یاد رکھیں گی جب سب کچھ بدلنا شروع ہوا”۔انہوں نے کہاکہ “ہم نے ثابت کیا ہے کہ امن کوئی خواب نہیں، بلکہ ایک حقیقت ہے جس پر ہم روز بروز، فرداً فرداً، قوم بہ قوم تعمیر کر سکتے ہیں”۔
صدر ٹرمپ نے زور دیا کہ "غزہ کے عوام کو اب اپنی توجہ استحکام، سلامتی، عزتِ نفس اور اقتصادی ترقی کی بحالی پر مرکوز کرنی چاہیے تاکہ ان کے بچے ایک بہتر زندگی حاصل کر سکیں جس کے وہ مستحق ہیں”۔
انہوں نے مزید کہاکہ "یہاں تک کہ ایران کے لیے بھی دوستی اور تعاون کا ہاتھ ہمیشہ بڑھا ہوا ہے اور میرا یقین ہے کہ مشرقِ وسطیٰ کے ممالک کے درمیان امن اور باہمی احترام پروان چڑھ سکتا ہے”
صدر ٹرمپ پیر کو ایک مختصر دورے پر اسرائیل پہنچے، یہ دورہ اس وقت ہوا جب غزہ سے کچھ اسرائیلی مغویوں کی رہائی عمل میں آئی۔ ان کی آمد سے قبل انہوں نے کہا تھا کہ “غزہ میں جنگ ختم ہو چکی ہےطیارے میں صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے ٹرمپ نے کہاکہ ’جنگ ختم ہو چکی ہے، سمجھ گئے؟” انہوں نے اس اعتماد کا اظہار کیا کہ جنگ بندی برقرار رہے گی۔ واشنگٹن سے روانگی کے وقت انہوں نے اپنے دورۂ مشرقِ وسطیٰ کو “انتہائی خصوصی” قرار دیا۔
دریں اثنا پارلیمنٹ میں، حمد طال پارٹی کے چیئرمین ایمن عودیہ نے ٹرمپ کی تقریر کے دوران ایک پلے کارڈ آویزاں کیا۔ اس میں لکھا تھا "فلسطین کو تسلیم کرو۔” اسی جماعت کے ایک اور رکن اوفر کاسیف نے بھی پلے کارڈ دکھانے کی کوشش کی لیکن سکیورٹی فورسز نے دونوں کو زبردستی پارلیمنٹ سے ہٹا دیا۔







