لکھنؤ:
عمر گوتم معاملہ میں پولیس ’ذرائع‘ سے نت نئے انکشافات سامنے آرہے ہیں ۔کل خبر سامنے آئی تھی کہ الحسن ایجوکیشن اینڈ ویلفیئر سوسائٹی سے عمر گوتم کے سینٹر کو فنڈنگ کی جاتی ہے اور سوسائٹی کے ٹھکانوں پر چھاپے مارے۔
آج تک کی رپورٹ میں بتایا گیا کہ یوپی اے ٹی ایس نے الحسن سوسائٹی کے ملیح آباد ٹھکانوں پر چھاپے مارے گئے، لیکن ادارے کی ویب سائٹ پر کئے دعوے گراؤنڈ پر فرضی نکلے،تو اب معاملہ میں ٹیرر اینگل دیکھا جارہا ہے۔خبر کے مطابق ہردوئی کے رسول پور گاؤں میں الحسن سوسائٹی کا کوئی اسکول نہیں ہے البتہ الحرم اکیڈمی ملی جہاں مدرسہ ہے،لیکن وہاں نہ سی بی ایس ای اسکول ہے نہ500بچوں کا ہاسٹل،جیسا کہ ویب سائٹ پر دعویٰ کیا گیا ہے۔پولیس ذرائع کے مطابق یہ سب باتیں فرضی ہیں۔
آج تک کی رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ عمر گوتم کے نشانے پر گونگے بہرے بچے بھی تھے،ان کو الگ تکنیک سے پڑھانے کے لیے ٹیچر رکھے۔معاملہ یہیں نہیں رکا اپ عمر گوتم کے تار ذاکر نائک سے بھی جوڑ دیے گئے ہیں۔ اسٹوری پرانی ہے کردار نئے ہیں۔ رپورٹ میں دعویٰ ہے کہ ذاکر نائک کے اسلامک ریسرچ فاؤنڈیشن سے رابطے رہے ہیںاور وہ بھی انہیں فنڈنگ کرتی تھی آج پھر ان کے آئی ایس آئی سے لنک کا اعادہ کیا ہے، لگتاہے کہ عمر گوتم کو جبریہ تبدیلی مذہب کے ساتھ دہشت گردی کے معاملوں سے جوڑنے کے لیے گراؤنڈ تیار کیا جارہا ہے۔وہیں میڈیا ٹرائل بھی زور شور سے جاری ہے۔واضح رہے جمعیۃ علماء ہند کے صدر مولانا محمود مدنی نے جمعیۃ کی طرف سے عمر گوتم کا مقدمہ لڑنے کا اعلان کیا ہے۔










