اردو
हिन्दी
جنوری 22, 2026
Latest News | Breaking News | Latest Khabar in Urdu at Roznama Khabrein
  • ہوم
  • دیس پردیس
  • فکر ونظر
    • مذہبیات
    • مضامین
  • گراونڈ رپورٹ
  • انٹرٹینمینٹ
  • اداریے
  • ہیٹ کرا ئم
  • سپورٹ کیجیے
کوئی نتیجہ نہیں ملا
تمام نتائج دیکھیں
  • ہوم
  • دیس پردیس
  • فکر ونظر
    • مذہبیات
    • مضامین
  • گراونڈ رپورٹ
  • انٹرٹینمینٹ
  • اداریے
  • ہیٹ کرا ئم
  • سپورٹ کیجیے
کوئی نتیجہ نہیں ملا
تمام نتائج دیکھیں
Latest News | Breaking News | Latest Khabar in Urdu at Roznama Khabrein
کوئی نتیجہ نہیں ملا
تمام نتائج دیکھیں

ابراہیمی معاہدہ کیا ہے؟ تجزیہ:سہیل یعقوب

3 مہینے پہلے
‏‏‎ ‎‏‏‎ ‎|‏‏‎ ‎‏‏‎ ‎ خبریں
A A
0
Abraham Accord analysis Sohael Yaqoob
0
مشاہدات
Share on FacebookShare on TwitterShare on Whatsapp

اختصار کے ساتھ ابراہیمی معاہدے کی تاریخ اور ایک عمومی جائزہ پیش کیا ہے جو عربوں اور اسرائیل کے درمیان ہوتا ہے ،کئی ممالک دستخط کر چکے ہیں
سب سے پہلے تو یہ سمجھ لیجیے کہ یہ کوئی ایک معاہدہ نہیں ہے بلکہ معاہدوں کے مجموعے کو ابراہیمی معاہدہ یا ابراہیمی معاہدے کہتے ہیں۔ صدر بل کلنٹن کا دور صدارت 1993 سے 2001 تک تھا۔ ایک دفعہ انھوں نے اپنے دور صدارت کے دوران کہا تھا کہ’’ مجھے نہیں پتہ کہ مسلمان اور یہودی آپس میں کیوں لڑتے ہیں؟ یہ تو آپس میں کزن ہے۔‘‘
ان کا اشارہ یہ تھا کہ یہ دونوں حضرت ابراہیم علیہ السلام کے دونوں بیٹوں حضرت اسماعیل علیہ السلام اور حضرت اسحاق علیہ السلام کی اولادیں ہیں اور یوں یہ آپس میں کزن ہوئے، ہرچند کہ اب ان کا یہ بیان ڈھونڈنے سے بھی نہیں ملتا۔ عام طور پر لوگ یہ سمجھتے ہیں کہ ابراہیمی معاہدے کا آغاز 2020 میں صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے پہلے دور صدارت میں ہوا ہے، حالانکہ ایسا نہیں ہے۔ اس کی بنیاد تو 1979 میں مصر اسرائیل معاہدے کے ساتھ رکھ دی گئی تھی جس کو دنیا کیمپ ڈیوڈ معاہدے کے نام سے جانتی ہے اور ویسے بھی اس وقت تک ابراہیمی معاہدے کی اصطلاح کا آغاز نہیں ہوا تھا۔ اس معاہدے کے ذریعے مصر نے اسرائیل کے ساتھ اپنی جنگ کا خاتمہ کیا، یہ الگ بات ہے کہ بعد میں یہ معاہدہ انور سادات کی جان لے گیا۔
اسی معاہدے کی دوسری قسط 25 جولائی 1994 میں چلی جب اردن کے شاہ حسین نے وائٹ ہاؤس کے روز گارڈن میں اسرائیلی وزیراعظم اسحاق رابن سے ملاقات کی، جہاں انھوں نے واشنگٹن ڈیکلریشن پر دستخط کیے۔ جس سے اردن اور اسرائیل کے درمیان 46 سال سے جاری جنگ کا باضابطہ طور پر خاتمہ ہوا۔ آخرکار، 26 اکتوبر 1994 کو اردن نے اردن،اسرائیل امن معاہدے پر دستخط کیے۔ اس معاہدے سے دونوں ممالک کے تعلقات معمول پر آئے اور ان کے درمیان علاقائی تنازعات کا خاتمہ ہوا۔ آج اردن اسرائیل کا بالواسطہ نگہبان ہے۔
2000 سے پہلے ہی اسرائیل نے دو مسلمان ممالک کے ساتھ اپنے تعلقات بہترکر لیے تھے۔ اس دوران بہت سارے سنی مسلمان ممالک کے حکمران اپنی حکومت بچانے کے لیے اسرائیل سے پس پردہ گفت و شنید اور مفاہمت کا آغاز کر چکے تھے۔ انھیں خطرہ شیعہ ایران سے تھا۔ ان تعلقات کا آغاز 2010 کی دہائی میں ہوا اور 2018 تک یہ روابط زیادہ نمایاں ہوگئے تھے، جن میں اسرائیلی حکام کے خلیجی دورے اور محدود فوجی و انٹیلیجنس تعاون کا آغاز شامل تھا۔ امریکا نے عرب ممالک کو ایران سے ڈرانے اور اسرائیل کی قانونی حیثیت کو قبول کروانے کا ایک منصوبہ بنایا اور اس منصوبے کا نام ابراہیمی معاہدہ رکھا گیا کیونکہ حضرت ابراہیم علیہ السلام کو اسلام، یہودیت اور عیسائیت یعنی تینوں بڑے مذاہب ایک معزز پیغمبر سمجھتے ہیں۔یہودیوں کو آخری نبی کے آنے کا پورا یقین تھا لیکن وہ یہ سمجھتے تھے کہ وہ نبی حضرت اسحاق علیہ السلام کی نسل سے ہوگا، اسی لیے انھوں نے حضرت محمد ﷺ کو ماننے سے انکارکیا اور قرآن میں بہت سی جگہوں پر اس کا ذکر ہے۔ ہم واپس ابراہیمی معاہدے پر آتے ہیں۔ اسرائیل اور امارات کے درمیان 13 اگست 2020 کو معاہدے کے اعلان کے چند گھنٹوں بعد ہی بحرین کے حکام نے جیرڈ کشنر اور اوراہم برکووٹز کو پیغام دیا کہ ہم اگلا ملک بننا چاہتے ہیں۔ بالآخر 15 ستمبر 2020 کو اسرائیلی وزیراعظم نیتن یاہو، اماراتی وزیر خارجہ عبداللہ بن زاید النہیان اور بحرینی وزیر خارجہ عبد اللطیف بن راشد الزیانی نے وائٹ ہاؤس کے جنوبی لان میں واقع ٹرومین بالکونی پر معاہدوں پر دستخط کیے۔ یہ شاندار تقریب ماضی کے اہم معاہدوں کی طرز پر منعقد کی گئی تھی۔
اسرائیل سوڈان میں تعلقات معمول پر لانے کا معاہدہ 23 اکتوبر 2020 میں ہوا اور یوں مصر، اردن، متحدہ عرب امارات اور بحرین کے بعد سوڈان پانچواں عرب ملک ہوا کہ جس نے اسرائیل سے معاہدہ کیا، ہرچند کہ یہ معاہدہ 2024 تک غیر تصدیق شدہ رہا۔ 10 دسمبر 2020 کو صدر ٹرمپ نے اعلان کیا کہ اسرائیل اور مراکش نے مکمل سفارتی تعلقات قائم کرنے پر اتفاق کیا ہے۔ انھیں اچھی طرح سے پتہ ہے کہ مشرق وسطی کا سب سے اہم ملک سعودی عرب ہے، اسی لیے اس پر سب سے زیادہ دباؤ اس معاہدے میں شامل ہونے کے لیے ہیں۔ اس سے آپ کو پاک سعودی دفاعی معاہدے کے بارے میں بھی بہت کچھ سمجھنے میں مدد ملے گی۔ صدر ٹرمپ تو دیگر مسلمان مگر غیر عرب ممالک کو بھی اس کا حصہ بنانا چاہتے ہیں ۔


آپ لوگوں کو پتہ ہے کہ صدر ٹرمپ کے بیس نکاتی امن منصوبے کی آٹھ مسلم ممالک نے تائید کی ہے ۔ یوں سمجھ لیجیے کہ مسلمان ممالک کے لیے مسئلہ فلسطین تو اب پس منظر سے بھی غائب ہوچکا ہے اور ہر ملک اپنی قیمت کا تعین کرکے ابراہیمی معاہدہ کر رہا ہے، مگر آخر میں ساری قیمتیں دھری کی دھری رہ جائے گی اور ہوگا وہی جو اسرائیل چاہے گا۔ اس کالم میں ہم نے اختصار کے ساتھ ابراہیمی معاہدے کی تاریخ اور ایک عمومی جائزہ پیش کیا ہے۔ ایک بات تو طے ہے کہ آنے والے دن بہت ہیجان انگیز اور ہنگامہ خیز ہوں گے۔ صدر ٹرمپ کا یہ دور صدارت دنیا پر دورس نتائج کا حامل ہوگا۔ ہم اپنے قارئین کو یہ بھی بتانا چاہتے ہیں کہ ریاست اسرائیل اور جمہوریہ ترکیہ کے مابین دو طرفہ تعلقات ہیں۔ اسرائیل اور ترکیہ کے تعلقات باضابطہ طور پر مارچ 1949 میں طے پائے تھے اور ترکیہ اسرائیلی ریاست کو تسلیم کرنے والا پہلا مسلمان اکثریتی ملک بنا تھا۔
ابراہیمی معاہدہ اسرائیل کو مسلمان ریاستوں سے ایک قانونی ریاست کے طور پر قبول کروانے کی ایک کوشش کا نام ہے اور اگر آپ اس سے زیادہ سچ پڑھنے کے لیے تیار ہیں تو یوں سمجھ لیجیے کہ ابراہیمی معاہدہ وسیع تر اسرائیل یا گریٹر اسرائیل کی جانب دوسرا قدم ہے کیونکہ اسرائیل کو تسلیم کرکے چند مسلمان ریاستیں پہلے ہی پہلا قدم اٹھا چکی ہے اور اب تو اسرائیل کے دوڑنے کی باری ہے۔ ہم پہلے بھی لکھ چکے ہیں کہ ریاست کو عقائد نہیں بلکہ مفادات کے تحت چلانا چاہیے اور تمام عرب اور غیر عرب ممالک کو پتہ ہے کہ اب ان کا مفاد کہاں ہے اورکس میں ہے۔

ٹیگ: Abraham accordIsrael UAE DealMiddle East PoliticsSohael Yaqoob Analysis

قارئین سے ایک گزارش

سچ کے ساتھ آزاد میڈیا وقت کی اہم ضرورت ہےـ روزنامہ خبریں سخت ترین چیلنجوں کے سایے میں گزشتہ دس سال سے یہ خدمت انجام دے رہا ہے۔ اردو، ہندی ویب سائٹ کے ساتھ یو ٹیوب چینل بھی۔ جلد انگریزی پورٹل شروع کرنے کا منصوبہ ہے۔ یہ کاز عوامی تعاون کے بغیر نہیں ہوسکتا۔ اسے جاری رکھنے کے لیے ہمیں آپ کے تعاون کی ضرورت ہے۔

سپورٹ کریں سبسکرائب کریں

مزید خبریں

سپریم کورٹ ٹیرر فنڈنگ سماعت
خبریں

خزانہ کھولیں، اسپیشل کورٹ قائم کریں…’ سپریم کورٹ نے ٹیرر فنڈنگ کیس کی سماعت کے دوران حکومت سے یہ کیوں کہا؟

21 جنوری
سناتن دھرم ہیٹ اسپیچ فیصلہ
خبریں

سناتن دھرم پر تبصرہ ہیٹ اسپیچ ہے: مدراس ہائی کورٹ، اور دیگر زہریلے بیان؟

21 جنوری
Supreme Court Hate Speech Case
خبریں

سپریم کورٹ نے ہیٹ اسپیچ کے مقدمات کا فیصلہ محفوظ کر لیا، بیشتر درخواستیں بند کر دیں۔پوری بحث پڑھیں

21 جنوری
  • ٹرینڈنگ
  • تبصرے
  • تازہ ترین
Evening News Brief

ایوننگ نیوز: اختصار کے ساتھ

دسمبر 28, 2025
Trump Iran Non-Military Targets

ٹرمپ کا ایران میں غیر فوجی اہداف نشانہ بنانے پر غور: امریکی میڈیا کا دعویٰ

جنوری 11, 2026
پرواز رحمانی تحریکی صحافت

پرواز رحمانی: تحریکی صحافت کے علمبردار

جنوری 10, 2026
طالبان افغان سفارت خانہ دہلی

طالبان سفارت کار نئی دہلی میں افغان سفارت خانے کا چارج سنبھالیں گے، کیا ہیں اشارے ؟

جنوری 10, 2026
سپریم کورٹ ٹیرر فنڈنگ سماعت

خزانہ کھولیں، اسپیشل کورٹ قائم کریں…’ سپریم کورٹ نے ٹیرر فنڈنگ کیس کی سماعت کے دوران حکومت سے یہ کیوں کہا؟

سناتن دھرم ہیٹ اسپیچ فیصلہ

سناتن دھرم پر تبصرہ ہیٹ اسپیچ ہے: مدراس ہائی کورٹ، اور دیگر زہریلے بیان؟

Supreme Court Hate Speech Case

سپریم کورٹ نے ہیٹ اسپیچ کے مقدمات کا فیصلہ محفوظ کر لیا، بیشتر درخواستیں بند کر دیں۔پوری بحث پڑھیں

India Bangladesh Minority Advice

بھارت اپنی اقلیتوں کا خیال رکھے،بنگلہ دیش کا ‘مشورہ’ جماعت اسلامی کا بی جے پی سے موازنہ کیا،

سپریم کورٹ ٹیرر فنڈنگ سماعت

خزانہ کھولیں، اسپیشل کورٹ قائم کریں…’ سپریم کورٹ نے ٹیرر فنڈنگ کیس کی سماعت کے دوران حکومت سے یہ کیوں کہا؟

جنوری 21, 2026
سناتن دھرم ہیٹ اسپیچ فیصلہ

سناتن دھرم پر تبصرہ ہیٹ اسپیچ ہے: مدراس ہائی کورٹ، اور دیگر زہریلے بیان؟

جنوری 21, 2026
Supreme Court Hate Speech Case

سپریم کورٹ نے ہیٹ اسپیچ کے مقدمات کا فیصلہ محفوظ کر لیا، بیشتر درخواستیں بند کر دیں۔پوری بحث پڑھیں

جنوری 21, 2026
India Bangladesh Minority Advice

بھارت اپنی اقلیتوں کا خیال رکھے،بنگلہ دیش کا ‘مشورہ’ جماعت اسلامی کا بی جے پی سے موازنہ کیا،

جنوری 21, 2026

حالیہ خبریں

سپریم کورٹ ٹیرر فنڈنگ سماعت

خزانہ کھولیں، اسپیشل کورٹ قائم کریں…’ سپریم کورٹ نے ٹیرر فنڈنگ کیس کی سماعت کے دوران حکومت سے یہ کیوں کہا؟

جنوری 21, 2026
سناتن دھرم ہیٹ اسپیچ فیصلہ

سناتن دھرم پر تبصرہ ہیٹ اسپیچ ہے: مدراس ہائی کورٹ، اور دیگر زہریلے بیان؟

جنوری 21, 2026
Latest News | Breaking News | Latest Khabar in Urdu at Roznama Khabrein

روزنامہ خبریں مفاد عامہ ‘ جمہوری اقدار وآئین کی پاسداری کا پابند ہے۔ اس نے مختصر مدت میں ہی سنجیدہ رویے‘غیر جانبدارانہ پالیسی ‘ملک و ملت کے مسائل معروضی انداز میں ابھارنے اور خبروں و تجزیوں کے اعلی معیار کی بدولت سماج کے ہر طبقہ میں اپنی جگہ بنالی۔ اب روزنامہ خبریں نے حالات کے تقاضوں کے تحت اردو کے ساتھ ہندی میں24x7کے ڈائمنگ ویب سائٹ شروع کی ہے۔ ہمیں یقین ہے کہ یہ آپ کی توقعات پر پوری اترے گی۔

اہم لنک

  • ABOUT US
  • SUPPORT US
  • TERMS AND CONDITIONS
  • PRIVACY POLICY
  • GRIEVANCE
  • CONTACT US
  • ہوم
  • دیس پردیس
  • فکر ونظر
  • گراونڈ رپورٹ
  • انٹرٹینمینٹ
  • اداریے
  • ہیٹ کرا ئم
  • سپورٹ کیجیے

.ALL RIGHTS RESERVED © COPYRIGHT ROZNAMA KHABREIN

Welcome Back!

Login to your account below

Forgotten Password?

Retrieve your password

Please enter your username or email address to reset your password.

Log In

Add New Playlist

کوئی نتیجہ نہیں ملا
تمام نتائج دیکھیں
  • ہوم
  • دیس پردیس
  • فکر ونظر
    • مذہبیات
    • مضامین
  • گراونڈ رپورٹ
  • انٹرٹینمینٹ
  • اداریے
  • ہیٹ کرا ئم
  • سپورٹ کیجیے

.ALL RIGHTS RESERVED © COPYRIGHT ROZNAMA KHABREIN