وزیر اعظم نریندر مودی نے 1937 میں گانے "وندے ماترم” سے کلیدی لائنوں کو ہٹانے پر کانگریس پارٹی پر سخت حملہ کیا، جس سے ملک میں ایک نیا سیاسی تنازعہ کھڑا ہوگیا۔ وزیراعظم نے دعویٰ کیا کہ اس فیصلے نے تقسیم کا بیج بویا۔ کانگریس کے صدر ملکارجن کھرگے نے جوابی وار کرتے ہوئے بی جے پی اور راشٹریہ سویم سیوک سنگھ (آر ایس ایس) پر کئی سوالات کھڑے کئے۔
گیت "وندے ماترم” کی 150 ویں سالگرہ کے موقع پر منعقدہ ایک تقریب میں، پی ایم مودی نے جمعہ کو کہا، "بدقسمتی سے، 1937 میں اصل گانے "وندے ماترم” سے اہم لائنوں کو ہٹا دیا گیا تھا۔ "وندے ماترم” کو ٹکڑے ٹکڑے کر دیا گیا تھا۔ اس سے تقسیم کے بیج بوئے گئے تھے۔ یہ ایک ہی چیلنج کو جاری رکھنے کے لئے کیوں کیا گیا؟ ۔” وزیر اعظم نے اس گانے کو "اتحاد اور ہمت کا منتر” قرار دیا اور کہا کہ اس نے نسلوں کو قوم کی تعمیر کے لیے تحریک دی ہے۔
وندے ماترم، بھارت کا قومی گیت بنکم چندر چٹرجی کے 1875 کے متنازعہ ناول آنند مٹھ کا حصہ ہے۔ اس ناول میں انگریزوں کو ہندوؤں کے حلیف کے طور پر پیش کیا گیا ہے جبکہ مسلمانوں کو ویلن کے طور پر پیش کیا گیا ہے۔ گانے کے مذہبی اور ثقافتی مفہوم آج بھی بحث کو جنم دیتے ہیں۔
1937 میں نہرو کی قیادت میں کانگریس کے اجلاس میں، گانے کی صرف پہلے دو مکھڑوں کو اپنایا گیا تھا، جب کہ بعد کے مکھڑے (جن میں درگا کی تعریف کی گئی تھی) کو ہٹا دیا گیا تھا۔ 1950 میں، دستور ساز اسمبلی نے اسے قومی گیت قرار دیا، لیکن اپنی مکمل شکل میں نہیں۔ اسے اسی شکل میں قومی گیت قرار دیا گیا جس شکل میں اسے کانگریس کے اجلاس میں اپنایا گیا تھا۔ جمعہ کو 150 سال مکمل ہونے پر پی ایم مودی نے سب کے ساتھ پورا گانا گایا۔ بی جے پی نے اسے قوم پرستی کی علامت قرار دیا۔ لیکن جموں و کشمیر میں اسکولوں میں لازمی گانے کے حکم کی مخالفت کی گئی۔ اسے "آر ایس ایس کے نظریے کا نفاذ” کہا گیا۔
**وندے ماترم کے سیاسی اثرات
جمعہ کو وندے ماترم کو لے کر تنازعہ حادثاتی نہیں ہے۔ اسے جان بوجھ کر تنازعہ کے سامنے لایا گیا۔ بہار میں اس وقت انتخابات ہو رہے ہیں۔ دوسرے مرحلے کی ووٹنگ 11 نومبر کو ہوگی۔ مغربی بنگال میں بھی اسمبلی انتخابات ہونے والے ہیں۔ چونکہ اس کے مصنف بنگالی تھے، اس لیے بی جے پی اور آر ایس ایس اس مسئلے کو بنگال کے انتخابات تک زندہ رکھنے کی کوشش کریں گے۔ اس گانے کا ایک تاریخی پس منظر بھی ہے اسی لیے اسے ہندوؤں کو پولرائز کرنے میں مددگار سمجھا جاتا ہے۔
**کھر گے نے سنگھ پر سوال اٹھائے
وزیر اعظم کے اس بیان کے بعد کانگریس کے صدر ملکارجن کھرگے نے بی جے پی اور آر ایس ایس پر حملہ کرتے ہوئے کہا کہ جو لوگ آج راشٹروادکے "خود ساختہ محافظ” ہونے کا دعویٰ کرتے ہیں، انہوں نے کبھی بھی اپنے دفاتر یا شاخوں میں ‘وندے ماترم’ نہیں گایا ہے۔ اس کے بجائے، وہ ‘نمستے سدا وتسلے’ گاتے رہے ہیں، یہ گیت راشٹر کی نہیں بلکہ ان کی تنظیم کی تعریف کرتا ہے،”
**بنکم کے ناول آنند مٹھ کے بارے میں کیا تنازعہ ہے؟اسے ہندوتو کا پروپیگنڈہ کیوں کہتے ہیں
آنند مٹھ (1882) بنکم چندر کا ایک تاریخی ناول ہے جو 1770 کے بنگال کے قحط اور سنیاسی بغاوت پر مبنی ہے۔ وندے ماترم اسی سلسلے کا حصہ ہے۔ اس میں ہندو سنیاسیوں کو انگریزوں اور مسلم حکمرانوں کے خلاف باغیوں کے طور پر پیش کیا گیا ہے، جہاں راشٹر کو دیوی کے طور پر پوجا جاتا ہے۔ اس ناول میں سنیاسیوں کو "ہندو نجات دہندہ”، مسلمانوں کو "ظالم” اور برطانوی حکومت کو "دوست حکمران” کے طور پر پیش کیا گیا ہے۔ ناول میں مسلمانوں کو ملیچھ بھی کہا گیا ہے۔ رابندر ناتھ ٹیگور نے اسے "مہابھارت کی طرح ایک خیالی تصور” کہا، لیکن جدید ناقدین آنند متھ کو "ہندوتوا کا پروپیگنڈہ” سمجھتے ہیں
*مسلمان وندے ماترم کے خلاف کیوں ؟
مسلم مخالفت بنیادی طور پر مذہبی ہے، ملک دشمن نہیں۔ یعنی مسلمان مذہبی وجوہات کی بنا پر اس سے اجتناب کرتے ہیں۔ توحید (خدا کی وحدانیت) اسلام میں ایک بنیادی اصول ہے، یعنی اسلام اللہ کے علاوہ کسی کے سامنے جھکنے یا اس کی عبادت کرنے سے منع کرتا ہے۔ گیت بھارت کو ایک "دیوی” کے طور پر پیش کرتا ہے (جیسے درگا کی تعریف)۔ دارالعلوم دیوبند نے اس کے گانے پر مکمل پابندی عائد کردی۔ جمعیت علمائے ہند نے فتویٰ جاری کیا کہ مسلمان صرف پہلے دو مکھڑے ہی گا سکتے ہیں۔۔
وندے ماترم تنازعہ ہندوستان کی تکثیری شناخت کو چیلنج کرتا ہے۔ یہ ہندوستانی آئین کی بنیادی روح کو بھی چیلنج کرتا ہے۔ یہ قوم پرستی اور مذہبی آزادی کے درمیان توازن کا تقاضا کرتا ہے۔ حکومت کے 2025 کے جشن اور پی ایم مودی کے بیان نے پرانے زخموں کو دوبارہ کھول دیا، لیکن یہ سیاسی جماعتوں کو محض بیان بازی سے آئین کی بنیادی روح پر زور دینے کا موقع فراہم کرتا ہے۔











