نئی دہلی: دنیا کے معروف ارب پتی اور اسپیس ایکس کے سربراہ ایلون مسک نے بھارت میں اپنی سیٹلائٹ انٹرنیٹ سروس اسٹارلنک (Starlink) کے آغاز میں تاخیر پر سوال اٹھاتے ہوئے صنعت کار مکیش امبانی کا نام لے کر ایک ایسا بیان دیا ہے جس نے سیاسی اور کاروباری حلقوں میں نئی بحث چھیڑ دی ہے۔ مسک نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر سوال کیا، ’’کیا امبانی بھارت کے اصل باس ہیں؟‘‘ ان کا یہ بیان اس وقت سامنے آیا جب انہوں نے الزام لگایا کہ کچھ بااثر کاروباری گروپ اسٹارلنک کی بھارتی مارکیٹ میں آمد کی راہ میں رکاوٹ بن رہے ہیں۔ تاہم حکومت نے ان الزامات کو مسترد کرتے ہوئے کہا ہے کہ سیٹلائٹ انٹرنیٹ سروسز کے لیے منظوری کا عمل منصفانہ اور غیر امتیازی ہے۔
مسک نے امبانی کا نام کیوں لیا؟
ایلون مسک نے 8 اکتوبر کو ایکس پر اپنی پوسٹ میں کہا کہ اسٹارلنک کو 165 سے زیادہ ممالک میں کام کرنے کی اجازت حاصل ہے اور کمپنی گزشتہ پانچ برس سے بھارت میں حکومتی قوانین اور تقاضوں کی تکمیل کے لیے کوشش کر رہی ہے۔ اس کے باوجود تجارتی سروس شروع کرنے کی حتمی منظوری میں تاخیر کیوں ہو رہی ہے؟
اسی پوسٹ میں انہوں نے سوال کیا، ’’کیا امبانی بھارت کے اصل باس ہیں؟‘‘
اس سے قبل مسک نے الزام لگایا تھا کہ کچھ بااثر ارب پتی کاروباری افراد اپنی اجارہ داری برقرار رکھنے کے لیے اسٹارلنک کی بھارتی مارکیٹ میں آمد روک رہے ہیں۔ اگرچہ انہوں نے ابتدائی بیان میں کسی کمپنی کا نام واضح طور پر نہیں لیا، لیکن بعد میں مکیش امبانی کا ذکر کرنے سے ان کا اشارہ بھارت کی ٹیلی کام صنعت میں موجود مسابقت کی طرف سمجھا گیا۔ یہ مسک کا الزام ہے؛ اس بات کی آزادانہ تصدیق نہیں ہوئی کہ امبانی یا ریلائنس نے اسٹارلنک کی منظوری رکوانے کے لیے کوئی اقدام کیا ہے۔
اسٹارلنک اور جیو کے درمیان مقابلہ کیا ہے؟
اسٹارلنک، ایلون مسک کی کمپنی اسپیس ایکس کی سیٹلائٹ انٹرنیٹ سروس ہے۔ اس ٹیکنالوجی کے ذریعے زمین کے گرد مدار میں موجود سیٹلائٹس سے انٹرنیٹ فراہم کیا جاتا ہے۔ اس کا مقصد خاص طور پر ان علاقوں میں تیز رفتار انٹرنیٹ پہنچانا ہے جہاں روایتی براڈبینڈ یا موبائل نیٹ ورک کی رسائی محدود ہے۔
دوسری طرف مکیش امبانی کی ریلائنس جیو بھی سیٹلائٹ کمیونیکیشن کے شعبے میں خدمات شروع کرنے کی کوشش کر رہی ہے۔ بھارتی مارکیٹ میں جیو کے علاوہ بھارتی ایئرٹیل کی حمایت یافتہ Eutelsat OneWeb بھی اس شعبے میں موجود ہے۔ اسی وجہ سے اسٹارلنک کی آمد کو بھارت کی ٹیلی کام صنعت میں ایک اہم مسابقتی پیش رفت کے طور پر دیکھا جا رہا ہے۔
تاہم دستیاب اطلاعات کے مطابق معاملہ صرف تجارتی مقابلے تک محدود نہیں؛ سیٹلائٹ انٹرنیٹ کے لیے سکیورٹی جانچ، اسپیکٹرم اور دیگر ریگولیٹری تقاضے بھی منظوری کے عمل کا حصہ ہیں۔
حکومت نے مسک کے الزامات پر کیا کہا؟
بھارتی وزارتِ مواصلات نے امتیازی سلوک کے الزامات کو مسترد کرتے ہوئے کہا کہ ملک میں سیٹلائٹ کمیونیکیشن خدمات کے لیے ریگولیٹری نظام منصفانہ اور غیر امتیازی ہے۔ وزارت کے مطابق اس نظام کو جانبدار قرار دینا بے بنیاد ہے۔
حکومت نے یہ بھی واضح کیا کہ سیٹلائٹ انٹرنیٹ سروس فراہم کرنے والی کمپنیوں کو متعلقہ سکیورٹی شرائط پوری کرنا ضروری ہیں۔ اطلاعات کے مطابق اسٹارلنک، جیو کی سیٹلائٹ سروس اور Eutelsat OneWeb، تینوں کے لیے سکیورٹی جانچ کا عمل جاری ہے۔ اس لیے اسٹارلنک کے معاملے کو صرف ایک کمپنی کے خلاف کارروائی قرار دینا حکومت کے مؤقف کی عکاسی نہیں کرتا۔
راہل گاندھی نے بھی لیا معاملے میں حصہ
اس تنازع میں لوک سبھا میں قائدِ حزبِ اختلاف راہل گاندھی بھی شامل ہو گئے۔ انہوں نے مسک کی پوسٹ کے جواب میں لکھا، ’’بھارت میں خوش آمدید، ایلون۔ ابھی آپ کو دوسرے شخص کے بارے میں بھی پتا چلے گا۔‘‘
راہل گاندھی نے اپنے بیان میں کسی کا نام نہیں لیا، تاہم اس تبصرے کو بعض میڈیا رپورٹس میں صنعت کار گوتم اڈانی کی طرف اشارہ سمجھا گیا۔ مسک نے راہل گاندھی کے جواب پر ردعمل دیتے ہوئے کہا، ’’شکریہ، راہل۔ یہ واقعی تشویش ناک ہے۔‘‘
یہ تبادلۂ خیال اس وقت ہوا جب مسک بھارت میں اسٹارلنک کے آغاز میں تاخیر کے معاملے پر حکومت اور ریگولیٹری نظام پر مسلسل سوال اٹھا رہے تھے۔
کیا بھارت میں اسٹارلنک کی سروس جلد شروع ہوگی؟
فی الحال اسٹارلنک کی تجارتی سروس شروع ہونے کی حتمی تاریخ واضح نہیں ہے۔ اس کے آغاز کا انحصار متعلقہ سکیورٹی جانچ، اسپیکٹرم اور دیگر ضروری منظوریوں پر ہے۔ حکومت کا کہنا ہے کہ تمام متعلقہ کمپنیوں کو یکساں ضابطوں کے تحت ان تقاضوں کو پورا کرنا ہوگا۔
ایلون مسک کے بیان نے ایک بار پھر یہ سوال اٹھا دیا ہے کہ بھارت جیسے بڑے بازار میں عالمی ٹیکنالوجی کمپنیوں اور مقامی کاروباری گروپوں کے درمیان مسابقت کو کس طرح منظم کیا جائے۔ تاہم فی الحال یہ ثابت نہیں ہوا کہ اسٹارلنک کی منظوری میں تاخیر کے پیچھے امبانی یا کسی دوسرے کاروباری گروپ کا دباؤ ہے۔ اصل صورتِ حال آئندہ سرکاری فیصلوں اور منظوری کے عمل سے مزید واضح ہو سکے گی۔










