اردو
हिन्दी
اکتوبر 14, 2026
Latest News | Breaking News | Latest Khabar in Urdu at Roznama Khabrein
  • ہوم
  • دیس پردیس
  • فکر ونظر
    • مذہبیات
    • مضامین
  • گراونڈ رپورٹ
  • انٹرٹینمینٹ
  • اداریے
  • ہیٹ کرا ئم
  • سپورٹ کیجیے
کوئی نتیجہ نہیں ملا
تمام نتائج دیکھیں
  • ہوم
  • دیس پردیس
  • فکر ونظر
    • مذہبیات
    • مضامین
  • گراونڈ رپورٹ
  • انٹرٹینمینٹ
  • اداریے
  • ہیٹ کرا ئم
  • سپورٹ کیجیے
کوئی نتیجہ نہیں ملا
تمام نتائج دیکھیں
Latest News | Breaking News | Latest Khabar in Urdu at Roznama Khabrein
کوئی نتیجہ نہیں ملا
تمام نتائج دیکھیں

امریکی وزیر خارجہ مارکو روبیو 17 اکتوبر سے بھارت کے دورے پر، تجارتی معاہدے میں تعطل کے درمیان کیا ہوگا ایجنڈا؟

41 منٹس پہلے
‏‏‎ ‎‏‏‎ ‎|‏‏‎ ‎‏‏‎ ‎ خبریں
A A
0
امریکی وزیر خارجہ مارکو روبیو 17 اکتوبر سے بھارت کے دورے پر، تجارتی معاہدے میں تعطل کے درمیان کیا ہوگا ایجنڈا؟
6
مشاہدات
Share on FacebookShare on TwitterShare on Whatsapp

نئی دہلی: امریکہ کے وزیر خارجہ مارکو روبیو 17 سے 22 اکتوبر کے درمیان ازبکستان اور بھارت کے دورے پر روانہ ہوں گے۔ اس دورے کے دوران وہ بھارت میں ممبئی اور گجرات کے جام نگر جائیں گے، جہاں ان کی ملاقاتیں سرکاری حکام اور کاروباری شخصیات سے متوقع ہیں۔ امریکی محکمہ خارجہ کے مطابق دورے کا مقصد دونوں ملکوں کے اسٹریٹجک تعلقات کو مضبوط کرنا، علاقائی اور عالمی امور پر تبادلۂ خیال کرنا اور توانائی کے شعبے میں تعاون بڑھانے کے امکانات کا جائزہ لینا ہے۔

یہ دورہ ایسے وقت میں ہو رہا ہے جب بھارت اور امریکہ کے درمیان مجوزہ تجارتی معاہدے پر مذاکرات کو آگے بڑھانے میں مشکلات سامنے آئی ہیں۔ دونوں ملکوں کے تعلقات پر روس سے تیل کی خریداری، امریکی ٹیرف پالیسی اور دیگر سفارتی اختلافات کا بھی اثر پڑ رہا ہے۔ ایسے میں روبیو کی آمد کو دونوں ملکوں کے درمیان رابطے بحال رکھنے اور اہم اختلافات پر بات چیت کا ایک موقع سمجھا جا رہا ہے۔

روبیو کے دورے کا شیڈول کیا ہے؟

امریکی محکمہ خارجہ کے اعلان کے مطابق روبیو 17 سے 22 اکتوبر تک ازبکستان اور بھارت کا دورہ کریں گے۔ بھارت پہنچنے سے پہلے وہ ازبکستان کے شہر سمرقند میں وسطی ایشیا کے پانچ ممالک کے ساتھ امریکی وزرائے خارجہ کی ملاقات میں شرکت کریں گے۔ اس کے بعد ان کا پروگرام ممبئی اور جام نگر کا ہے۔

بھارت میں روبیو سینئر سرکاری حکام سے ملاقاتیں کریں گے۔ ان مذاکرات میں دوطرفہ اسٹریٹجک شراکت داری کو مضبوط بنانے، عالمی اور علاقائی صورت حال پر تبادلۂ خیال اور توانائی تعاون کے امکانات پر بات چیت متوقع ہے۔ وہ کاروباری رہنماؤں سے بھی ملاقات کریں گے تاکہ دونوں ملکوں کے درمیان تجارتی سرمایہ کاری اور اقتصادی تعاون کو فروغ دیا جا سکے۔

تجارتی معاہدے میں تعطل، کیا مذاکرات دوبارہ آگے بڑھیں گے؟

بھارت اور امریکہ کئی ماہ سے ایک دوطرفہ تجارتی معاہدے پر بات چیت کر رہے ہیں، لیکن بعض اہم امور پر اختلافات کے باعث مذاکرات میں پیش رفت سست پڑ گئی ہے۔ دونوں ملکوں کے درمیان ٹیرف، منڈیوں تک رسائی اور توانائی کی تجارت جیسے معاملات اہم رکاوٹوں میں شامل ہیں۔

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی انتظامیہ بھارت پر تجارتی دباؤ بڑھانے کے لیے ایسے اقدامات پر غور کر رہی ہے جن کا تعلق روس سے توانائی خریدنے والے ممالک پر اضافی محصولات عائد کرنے سے ہے۔ امریکی قانون سازی کے تحت روسی توانائی خریدنے والے ممالک کی درآمدات پر 100 فیصد تک ٹیرف عائد کرنے کا اختیار صدر کو دینے کی تجویز بھی زیر بحث رہی ہے۔ اس سے بھارت کی برآمدات اور دونوں ملکوں کے اقتصادی تعلقات پر ممکنہ اثرات کے خدشات پیدا ہوئے ہیں۔

تاہم تجارتی مذاکرات کے مستقبل کے بارے میں ایک مثبت اشارہ بھی سامنے آیا ہے۔ بھارتی وزیر خارجہ ایس جے شنکر نے کہا ہے کہ مذاکرات ایک ممکنہ حتمی مرحلے کی طرف بڑھ رہے ہیں اور حکام باقی رہ جانے والے اختلافات کو حل کرنے کی کوشش کر رہے ہیں۔ اس لیے مذاکرات کو مکمل طور پر ناکام قرار دینا درست نہیں ہوگا، اگرچہ معاہدے کی حتمی منظوری یا دستخط کی تاریخ کا اعلان نہیں ہوا ہے۔

روبیو کے دورے کے دوران تجارتی اختلافات پر باضابطہ بات چیت کس سطح پر ہوگی، اس کی مکمل تفصیلات ابھی واضح نہیں ہیں۔ تاہم یہ دورہ دونوں ملکوں کو اپنے مؤقف واضح کرنے اور مذاکرات میں پیش رفت کے امکانات کا جائزہ لینے کا موقع فراہم کر سکتا ہے۔

روسی تیل کا معاملہ بھی اہم ہوگا

بھارت اور امریکہ کے درمیان روسی تیل کی خریداری ایک حساس موضوع بن چکی ہے۔ واشنگٹن روس کی معیشت پر دباؤ بڑھانے کے لیے توانائی کی تجارت کو اہم سمجھتا ہے، جبکہ نئی دہلی اپنی توانائی کی ضروریات، قیمتوں اور سپلائی کے تسلسل کو مدنظر رکھتا ہے۔

بھارت نے 2026 کے ابتدائی مہینوں میں روس سے تیل کی خریداری میں عارضی کمی کی تھی، لیکن بعد میں یہ خریداری دوبارہ بڑھ گئی۔ عالمی توانائی منڈی میں سپلائی کے مسائل اور قیمتوں میں اتار چڑھاؤ نے بھی بھارت کے لیے سستے اور قابلِ اعتماد ذرائع سے تیل حاصل کرنے کی اہمیت بڑھا دی ہے۔

اگر روسی تیل کا معاملہ روبیو اور بھارتی حکام کی ملاقاتوں میں اٹھتا ہے تو دونوں ملکوں کے لیے چیلنج یہ ہوگا کہ امریکی پابندیوں اور تجارتی دباؤ کے خدشات کے ساتھ بھارت کی توانائی سلامتی کے تقاضوں میں توازن کیسے قائم کیا جائے۔ فی الحال اس موضوع پر کسی نئے سمجھوتے یا بھارتی پالیسی میں تبدیلی کا اعلان نہیں ہوا ہے۔

جام نگر کا دورہ کیوں اہم ہے؟

روبیو کے پروگرام میں گجرات کے شہر جام نگر کی شمولیت خاص توجہ حاصل کر رہی ہے۔ جام نگر میں ریلائنس انڈسٹریز کا بڑا ریفائنری کمپلیکس واقع ہے، جسے دنیا کی سب سے بڑی واحد مقام پر قائم تیل صاف کرنے والی تنصیبات میں شمار کیا جاتا ہے۔

توانائی کے شعبے میں امریکہ اور بھارت کے درمیان تعاون بڑھانے کی کوششوں کے تناظر میں جام نگر کا دورہ اہم سمجھا جا رہا ہے۔ امریکی حکام توانائی، سرمایہ کاری اور تجارتی روابط کو فروغ دینے کے مواقع تلاش کرنا چاہتے ہیں، جبکہ بھارت کے لیے بھی توانائی کی سپلائی، صنعتی سرمایہ کاری اور عالمی منڈیوں تک رسائی اہم معاملات ہیں۔

تاہم یہ واضح نہیں کیا گیا ہے کہ جام نگر کے دورے کے دوران کسی مخصوص معاہدے پر دستخط ہوں گے یا نہیں۔ اس لیے اس دورے کو کسی طے شدہ تجارتی معاہدے یا سرمایہ کاری کے اعلان کے طور پر پیش کرنا قبل از وقت ہوگا۔

بھارت اور امریکہ کے تعلقات میں کشیدگی کی دیگر وجوہات

تجارت اور توانائی کے علاوہ دونوں ملکوں کے تعلقات میں کچھ سفارتی اختلافات بھی سامنے آئے ہیں۔ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے متعدد بار بھارت اور پاکستان کے درمیان جنگ بندی میں ثالثی کا دعویٰ کیا ہے، جس پر نئی دہلی نے اختلافی مؤقف اختیار کیا۔ اس کے علاوہ عمان کے قریب ایک بحری جہاز پر امریکی فوجی حملے میں بھارتی ملاحوں کی ہلاکت نے بھی دونوں ملکوں کے درمیان تشویش پیدا کی۔

ان معاملات کے باوجود بھارت اور امریکہ دفاع، ٹیکنالوجی، توانائی اور علاقائی سلامتی جیسے شعبوں میں ایک دوسرے کے اہم شراکت دار ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ موجودہ اختلافات کے باوجود اعلیٰ سطحی ملاقاتیں جاری ہیں۔

روبیو کا دورہ اس بات کا اشارہ ہے کہ دونوں حکومتیں اختلافات کے باوجود سفارتی رابطوں اور اقتصادی تعاون کے راستے کھلے رکھنا چاہتی ہیں۔ تاہم اس دورے سے تعلقات میں کتنی بہتری آئے گی، اس کا انحصار مذاکرات کے نتائج اور دونوں جانب سے کیے جانے والے عملی فیصلوں پر ہوگا۔

کیا دورے سے تجارتی معاہدے کی راہ ہموار ہوگی؟

روبیو کے دورے کا ایک اہم پہلو یہ ہوگا کہ آیا تجارت، توانائی اور سرمایہ کاری سے متعلق اختلافات پر کوئی واضح پیش رفت سامنے آتی ہے یا نہیں۔ بھارت کے لیے ضروری ہوگا کہ وہ اپنی برآمدات، توانائی کی ضروریات اور تجارتی مفادات کا تحفظ کرے، جبکہ امریکہ اپنی تجارتی اور روس سے متعلق پالیسی ترجیحات کو آگے بڑھانا چاہے گا۔

فی الحال نہ تجارتی معاہدے کے حتمی ہونے کی تصدیق ہوئی ہے اور نہ ہی روسی تیل کی خریداری کے معاملے پر کسی نئی مفاہمت کا اعلان کیا گیا ہے۔ البتہ دونوں ملکوں کے درمیان اعلیٰ سطحی رابطہ اختلافات کو کم کرنے اور ممکنہ سمجھوتے کی راہ تلاش کرنے میں مدد دے سکتا ہے۔

ٹیگ: Donald TrumpEnergy CooperationIndia US Relationsinternational newsJamnagarMarco RubioNarendra ModiRussian OilUS India Trade Deal

قارئین سے ایک گزارش

سچ کے ساتھ آزاد میڈیا وقت کی اہم ضرورت ہےـ روزنامہ خبریں سخت ترین چیلنجوں کے سایے میں گزشتہ دس سال سے یہ خدمت انجام دے رہا ہے۔ اردو، ہندی ویب سائٹ کے ساتھ یو ٹیوب چینل بھی۔ جلد انگریزی پورٹل شروع کرنے کا منصوبہ ہے۔ یہ کاز عوامی تعاون کے بغیر نہیں ہوسکتا۔ اسے جاری رکھنے کے لیے ہمیں آپ کے تعاون کی ضرورت ہے۔

سپورٹ کریں سبسکرائب کریں

مزید خبریں

جنتَر منتر میں مبینہ دراندازی کا معاملہ، CJP رہنما سَورَو داس اور آشوتوش رانکا 5 روزہ عدالتی حراست میں
خبریں

جنتَر منتر میں مبینہ دراندازی کا معاملہ، CJP رہنما سَورَو داس اور آشوتوش رانکا 5 روزہ عدالتی حراست میں

14 اکتوبر
ایلون مسک نے کیوں پوچھا، ’کیا بھارت کا اصل باس امبانی ہے؟
خبریں

ایلون مسک نے کیوں پوچھا، ’کیا بھارت کا اصل باس امبانی ہے؟

09 اکتوبر
دہلی میں 10 اکتوبر کے احتجاج سے پہلے سخت انتظامات، نظام الدین کی ٹرینیں منسوخ، 57 میٹرو اسٹیشن متاثر
خبریں

دہلی میں 10 اکتوبر کے احتجاج سے پہلے سخت انتظامات، نظام الدین کی ٹرینیں منسوخ، 57 میٹرو اسٹیشن متاثر

09 اکتوبر
  • ٹرینڈنگ
  • تبصرے
  • تازہ ترین
طالبان ميں پھوٹ کی خبريں، حقيقت يا پروپيگنڈہ؟

طالبان ميں پھوٹ کی خبريں، حقيقت يا پروپيگنڈہ؟

ستمبر 19, 2021
حافظ قرآن کی عظمت اور ان کا مقام و مرتبہ

حافظ قرآن کی عظمت اور ان کا مقام و مرتبہ

مارچ 31, 2022
ایلون مسک نے کیوں پوچھا، ’کیا بھارت کا اصل باس امبانی ہے؟

ایلون مسک نے کیوں پوچھا، ’کیا بھارت کا اصل باس امبانی ہے؟

اکتوبر 9, 2026
اعصابی کمزوری کی علامات، اسباب اور علاج

اعصابی کمزوری کی علامات، اسباب اور علاج

مارچ 23, 2021
امریکی وزیر خارجہ مارکو روبیو 17 اکتوبر سے بھارت کے دورے پر، تجارتی معاہدے میں تعطل کے درمیان کیا ہوگا ایجنڈا؟

امریکی وزیر خارجہ مارکو روبیو 17 اکتوبر سے بھارت کے دورے پر، تجارتی معاہدے میں تعطل کے درمیان کیا ہوگا ایجنڈا؟

دہلی میں 10 اکتوبر کے احتجاج سے پہلے سخت انتظامات، نظام الدین کی ٹرینیں منسوخ، 57 میٹرو اسٹیشن متاثر

جنتر منتر نہیں، مودی حکومت کو اپنا طریقۂ کار بدلنے کی ضرورت ہے: احتجاجی مقام بدلنے سے عوامی سوال ختم نہیں ہوں گے

جنتَر منتر میں مبینہ دراندازی کا معاملہ، CJP رہنما سَورَو داس اور آشوتوش رانکا 5 روزہ عدالتی حراست میں

جنتَر منتر میں مبینہ دراندازی کا معاملہ، CJP رہنما سَورَو داس اور آشوتوش رانکا 5 روزہ عدالتی حراست میں

ایلون مسک نے کیوں پوچھا، ’کیا بھارت کا اصل باس امبانی ہے؟

ایلون مسک نے کیوں پوچھا، ’کیا بھارت کا اصل باس امبانی ہے؟

امریکی وزیر خارجہ مارکو روبیو 17 اکتوبر سے بھارت کے دورے پر، تجارتی معاہدے میں تعطل کے درمیان کیا ہوگا ایجنڈا؟

امریکی وزیر خارجہ مارکو روبیو 17 اکتوبر سے بھارت کے دورے پر، تجارتی معاہدے میں تعطل کے درمیان کیا ہوگا ایجنڈا؟

اکتوبر 14, 2026
دہلی میں 10 اکتوبر کے احتجاج سے پہلے سخت انتظامات، نظام الدین کی ٹرینیں منسوخ، 57 میٹرو اسٹیشن متاثر

جنتر منتر نہیں، مودی حکومت کو اپنا طریقۂ کار بدلنے کی ضرورت ہے: احتجاجی مقام بدلنے سے عوامی سوال ختم نہیں ہوں گے

اکتوبر 14, 2026
جنتَر منتر میں مبینہ دراندازی کا معاملہ، CJP رہنما سَورَو داس اور آشوتوش رانکا 5 روزہ عدالتی حراست میں

جنتَر منتر میں مبینہ دراندازی کا معاملہ، CJP رہنما سَورَو داس اور آشوتوش رانکا 5 روزہ عدالتی حراست میں

اکتوبر 14, 2026
ایلون مسک نے کیوں پوچھا، ’کیا بھارت کا اصل باس امبانی ہے؟

ایلون مسک نے کیوں پوچھا، ’کیا بھارت کا اصل باس امبانی ہے؟

اکتوبر 9, 2026

حالیہ خبریں

امریکی وزیر خارجہ مارکو روبیو 17 اکتوبر سے بھارت کے دورے پر، تجارتی معاہدے میں تعطل کے درمیان کیا ہوگا ایجنڈا؟

امریکی وزیر خارجہ مارکو روبیو 17 اکتوبر سے بھارت کے دورے پر، تجارتی معاہدے میں تعطل کے درمیان کیا ہوگا ایجنڈا؟

اکتوبر 14, 2026
دہلی میں 10 اکتوبر کے احتجاج سے پہلے سخت انتظامات، نظام الدین کی ٹرینیں منسوخ، 57 میٹرو اسٹیشن متاثر

جنتر منتر نہیں، مودی حکومت کو اپنا طریقۂ کار بدلنے کی ضرورت ہے: احتجاجی مقام بدلنے سے عوامی سوال ختم نہیں ہوں گے

اکتوبر 14, 2026
Latest News | Breaking News | Latest Khabar in Urdu at Roznama Khabrein

روزنامہ خبریں مفاد عامہ ‘ جمہوری اقدار وآئین کی پاسداری کا پابند ہے۔ اس نے مختصر مدت میں ہی سنجیدہ رویے‘غیر جانبدارانہ پالیسی ‘ملک و ملت کے مسائل معروضی انداز میں ابھارنے اور خبروں و تجزیوں کے اعلی معیار کی بدولت سماج کے ہر طبقہ میں اپنی جگہ بنالی۔ اب روزنامہ خبریں نے حالات کے تقاضوں کے تحت اردو کے ساتھ ہندی میں24x7کے ڈائمنگ ویب سائٹ شروع کی ہے۔ ہمیں یقین ہے کہ یہ آپ کی توقعات پر پوری اترے گی۔

اہم لنک

  • ABOUT US
  • SUPPORT US
  • TERMS AND CONDITIONS
  • PRIVACY POLICY
  • GRIEVANCE
  • CONTACT US
  • ہوم
  • دیس پردیس
  • فکر ونظر
  • گراونڈ رپورٹ
  • انٹرٹینمینٹ
  • اداریے
  • ہیٹ کرا ئم
  • سپورٹ کیجیے

.ALL RIGHTS RESERVED © COPYRIGHT ROZNAMA KHABREIN

Welcome Back!

Login to your account below

Forgotten Password?

Retrieve your password

Please enter your username or email address to reset your password.

Log In

Add New Playlist

کوئی نتیجہ نہیں ملا
تمام نتائج دیکھیں
  • ہوم
  • دیس پردیس
  • فکر ونظر
    • مذہبیات
    • مضامین
  • گراونڈ رپورٹ
  • انٹرٹینمینٹ
  • اداریے
  • ہیٹ کرا ئم
  • سپورٹ کیجیے

.ALL RIGHTS RESERVED © COPYRIGHT ROZNAMA KHABREIN