نئی دہلی: امریکہ کے وزیر خارجہ مارکو روبیو 17 سے 22 اکتوبر کے درمیان ازبکستان اور بھارت کے دورے پر روانہ ہوں گے۔ اس دورے کے دوران وہ بھارت میں ممبئی اور گجرات کے جام نگر جائیں گے، جہاں ان کی ملاقاتیں سرکاری حکام اور کاروباری شخصیات سے متوقع ہیں۔ امریکی محکمہ خارجہ کے مطابق دورے کا مقصد دونوں ملکوں کے اسٹریٹجک تعلقات کو مضبوط کرنا، علاقائی اور عالمی امور پر تبادلۂ خیال کرنا اور توانائی کے شعبے میں تعاون بڑھانے کے امکانات کا جائزہ لینا ہے۔
یہ دورہ ایسے وقت میں ہو رہا ہے جب بھارت اور امریکہ کے درمیان مجوزہ تجارتی معاہدے پر مذاکرات کو آگے بڑھانے میں مشکلات سامنے آئی ہیں۔ دونوں ملکوں کے تعلقات پر روس سے تیل کی خریداری، امریکی ٹیرف پالیسی اور دیگر سفارتی اختلافات کا بھی اثر پڑ رہا ہے۔ ایسے میں روبیو کی آمد کو دونوں ملکوں کے درمیان رابطے بحال رکھنے اور اہم اختلافات پر بات چیت کا ایک موقع سمجھا جا رہا ہے۔
روبیو کے دورے کا شیڈول کیا ہے؟
امریکی محکمہ خارجہ کے اعلان کے مطابق روبیو 17 سے 22 اکتوبر تک ازبکستان اور بھارت کا دورہ کریں گے۔ بھارت پہنچنے سے پہلے وہ ازبکستان کے شہر سمرقند میں وسطی ایشیا کے پانچ ممالک کے ساتھ امریکی وزرائے خارجہ کی ملاقات میں شرکت کریں گے۔ اس کے بعد ان کا پروگرام ممبئی اور جام نگر کا ہے۔
بھارت میں روبیو سینئر سرکاری حکام سے ملاقاتیں کریں گے۔ ان مذاکرات میں دوطرفہ اسٹریٹجک شراکت داری کو مضبوط بنانے، عالمی اور علاقائی صورت حال پر تبادلۂ خیال اور توانائی تعاون کے امکانات پر بات چیت متوقع ہے۔ وہ کاروباری رہنماؤں سے بھی ملاقات کریں گے تاکہ دونوں ملکوں کے درمیان تجارتی سرمایہ کاری اور اقتصادی تعاون کو فروغ دیا جا سکے۔
تجارتی معاہدے میں تعطل، کیا مذاکرات دوبارہ آگے بڑھیں گے؟
بھارت اور امریکہ کئی ماہ سے ایک دوطرفہ تجارتی معاہدے پر بات چیت کر رہے ہیں، لیکن بعض اہم امور پر اختلافات کے باعث مذاکرات میں پیش رفت سست پڑ گئی ہے۔ دونوں ملکوں کے درمیان ٹیرف، منڈیوں تک رسائی اور توانائی کی تجارت جیسے معاملات اہم رکاوٹوں میں شامل ہیں۔
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی انتظامیہ بھارت پر تجارتی دباؤ بڑھانے کے لیے ایسے اقدامات پر غور کر رہی ہے جن کا تعلق روس سے توانائی خریدنے والے ممالک پر اضافی محصولات عائد کرنے سے ہے۔ امریکی قانون سازی کے تحت روسی توانائی خریدنے والے ممالک کی درآمدات پر 100 فیصد تک ٹیرف عائد کرنے کا اختیار صدر کو دینے کی تجویز بھی زیر بحث رہی ہے۔ اس سے بھارت کی برآمدات اور دونوں ملکوں کے اقتصادی تعلقات پر ممکنہ اثرات کے خدشات پیدا ہوئے ہیں۔
تاہم تجارتی مذاکرات کے مستقبل کے بارے میں ایک مثبت اشارہ بھی سامنے آیا ہے۔ بھارتی وزیر خارجہ ایس جے شنکر نے کہا ہے کہ مذاکرات ایک ممکنہ حتمی مرحلے کی طرف بڑھ رہے ہیں اور حکام باقی رہ جانے والے اختلافات کو حل کرنے کی کوشش کر رہے ہیں۔ اس لیے مذاکرات کو مکمل طور پر ناکام قرار دینا درست نہیں ہوگا، اگرچہ معاہدے کی حتمی منظوری یا دستخط کی تاریخ کا اعلان نہیں ہوا ہے۔
روبیو کے دورے کے دوران تجارتی اختلافات پر باضابطہ بات چیت کس سطح پر ہوگی، اس کی مکمل تفصیلات ابھی واضح نہیں ہیں۔ تاہم یہ دورہ دونوں ملکوں کو اپنے مؤقف واضح کرنے اور مذاکرات میں پیش رفت کے امکانات کا جائزہ لینے کا موقع فراہم کر سکتا ہے۔
روسی تیل کا معاملہ بھی اہم ہوگا
بھارت اور امریکہ کے درمیان روسی تیل کی خریداری ایک حساس موضوع بن چکی ہے۔ واشنگٹن روس کی معیشت پر دباؤ بڑھانے کے لیے توانائی کی تجارت کو اہم سمجھتا ہے، جبکہ نئی دہلی اپنی توانائی کی ضروریات، قیمتوں اور سپلائی کے تسلسل کو مدنظر رکھتا ہے۔
بھارت نے 2026 کے ابتدائی مہینوں میں روس سے تیل کی خریداری میں عارضی کمی کی تھی، لیکن بعد میں یہ خریداری دوبارہ بڑھ گئی۔ عالمی توانائی منڈی میں سپلائی کے مسائل اور قیمتوں میں اتار چڑھاؤ نے بھی بھارت کے لیے سستے اور قابلِ اعتماد ذرائع سے تیل حاصل کرنے کی اہمیت بڑھا دی ہے۔
اگر روسی تیل کا معاملہ روبیو اور بھارتی حکام کی ملاقاتوں میں اٹھتا ہے تو دونوں ملکوں کے لیے چیلنج یہ ہوگا کہ امریکی پابندیوں اور تجارتی دباؤ کے خدشات کے ساتھ بھارت کی توانائی سلامتی کے تقاضوں میں توازن کیسے قائم کیا جائے۔ فی الحال اس موضوع پر کسی نئے سمجھوتے یا بھارتی پالیسی میں تبدیلی کا اعلان نہیں ہوا ہے۔
جام نگر کا دورہ کیوں اہم ہے؟
روبیو کے پروگرام میں گجرات کے شہر جام نگر کی شمولیت خاص توجہ حاصل کر رہی ہے۔ جام نگر میں ریلائنس انڈسٹریز کا بڑا ریفائنری کمپلیکس واقع ہے، جسے دنیا کی سب سے بڑی واحد مقام پر قائم تیل صاف کرنے والی تنصیبات میں شمار کیا جاتا ہے۔
توانائی کے شعبے میں امریکہ اور بھارت کے درمیان تعاون بڑھانے کی کوششوں کے تناظر میں جام نگر کا دورہ اہم سمجھا جا رہا ہے۔ امریکی حکام توانائی، سرمایہ کاری اور تجارتی روابط کو فروغ دینے کے مواقع تلاش کرنا چاہتے ہیں، جبکہ بھارت کے لیے بھی توانائی کی سپلائی، صنعتی سرمایہ کاری اور عالمی منڈیوں تک رسائی اہم معاملات ہیں۔
تاہم یہ واضح نہیں کیا گیا ہے کہ جام نگر کے دورے کے دوران کسی مخصوص معاہدے پر دستخط ہوں گے یا نہیں۔ اس لیے اس دورے کو کسی طے شدہ تجارتی معاہدے یا سرمایہ کاری کے اعلان کے طور پر پیش کرنا قبل از وقت ہوگا۔
بھارت اور امریکہ کے تعلقات میں کشیدگی کی دیگر وجوہات
تجارت اور توانائی کے علاوہ دونوں ملکوں کے تعلقات میں کچھ سفارتی اختلافات بھی سامنے آئے ہیں۔ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے متعدد بار بھارت اور پاکستان کے درمیان جنگ بندی میں ثالثی کا دعویٰ کیا ہے، جس پر نئی دہلی نے اختلافی مؤقف اختیار کیا۔ اس کے علاوہ عمان کے قریب ایک بحری جہاز پر امریکی فوجی حملے میں بھارتی ملاحوں کی ہلاکت نے بھی دونوں ملکوں کے درمیان تشویش پیدا کی۔
ان معاملات کے باوجود بھارت اور امریکہ دفاع، ٹیکنالوجی، توانائی اور علاقائی سلامتی جیسے شعبوں میں ایک دوسرے کے اہم شراکت دار ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ موجودہ اختلافات کے باوجود اعلیٰ سطحی ملاقاتیں جاری ہیں۔
روبیو کا دورہ اس بات کا اشارہ ہے کہ دونوں حکومتیں اختلافات کے باوجود سفارتی رابطوں اور اقتصادی تعاون کے راستے کھلے رکھنا چاہتی ہیں۔ تاہم اس دورے سے تعلقات میں کتنی بہتری آئے گی، اس کا انحصار مذاکرات کے نتائج اور دونوں جانب سے کیے جانے والے عملی فیصلوں پر ہوگا۔
کیا دورے سے تجارتی معاہدے کی راہ ہموار ہوگی؟
روبیو کے دورے کا ایک اہم پہلو یہ ہوگا کہ آیا تجارت، توانائی اور سرمایہ کاری سے متعلق اختلافات پر کوئی واضح پیش رفت سامنے آتی ہے یا نہیں۔ بھارت کے لیے ضروری ہوگا کہ وہ اپنی برآمدات، توانائی کی ضروریات اور تجارتی مفادات کا تحفظ کرے، جبکہ امریکہ اپنی تجارتی اور روس سے متعلق پالیسی ترجیحات کو آگے بڑھانا چاہے گا۔
فی الحال نہ تجارتی معاہدے کے حتمی ہونے کی تصدیق ہوئی ہے اور نہ ہی روسی تیل کی خریداری کے معاملے پر کسی نئی مفاہمت کا اعلان کیا گیا ہے۔ البتہ دونوں ملکوں کے درمیان اعلیٰ سطحی رابطہ اختلافات کو کم کرنے اور ممکنہ سمجھوتے کی راہ تلاش کرنے میں مدد دے سکتا ہے۔










