پٹنہ: جہاں بہار اسمبلی انتخابات کے نتائج نے این ڈی اے کو زبردست جیت دکھائی ہے وہیں اسد الدین اویسی کی پارٹی اے آئی ایم آئی ایم نے سیمانچل علاقے میں ایک بار پھر اپنی طاقت کا مظاہرہ کیا۔ اے آئی ایم آئی ایم نے پانچ سیٹیں جیتی ہیں۔
بہار کے مسلم اکثریتی علاقے سیمانچل میں مسلسل دوسری بار اچھی کارکردگی کا مظاہرہ کیا ہے۔ ایسا لگتا ہے کہ یہ فتح کے راستے پر ہے۔ اویسی کے امیدواروں نے جوکیہاٹ، کوچدھامن، ٹھاکر گنج، امور اور بیسی میں کامیابی حاصل کی
امور سے اختر الایمان کامیاب ہوئے۔ محمد سرور عالم کوچدھامن سے کامیاب ہوئے۔ جوکی ہاٹ سے محمد مرشد عالم جیت گئے۔ محمد توصیف عالم بہادر گنج سے جیت گئے۔ بیسی سے غلام سرور کامیاب رہے۔ تاہم اس کا باضابطہ اعلان نہیں کیا گیا ہے۔
۔ مسلسل دوسری بار پانچ سیٹیں جیت کر، پارٹی نے ثابت کر دیا ہے کہ 2020 میں اس کی کامیابی کوئی اتفاق نہیں تھی، بلکہ یہ کہ سیمانچل خطے میں اس کی سیاسی جڑیں مضبوط اور پائیدار ہوتی جا رہی ہیں۔
کانگریس کو پچھاڑدیا اے آئی ایم آئی ایم نے اس الیکشن میں دوسری بار کوچدھامن، جوکیہاٹ، ٹھاکر گنج، امانور اور بیسی سیٹوں پر کامیابی حاصل کی ہے۔ اس جیت کا سب سے دلچسپ پہلو یہ ہے کہ اے آئی ایم آئی ایم نے کانگریس کو پیچھے چھوڑ دیا ہے۔ اس الیکشن میں کانگریس کی کارکردگی مایوس کن رہی۔ 2020 کے انتخابات میں کانگریس پارٹی نے بہار میں 19 سیٹوں پر کامیابی حاصل کی تھی لیکن اس الیکشن میں وہ صرف چار سیٹوں پر آگے ہے۔
واضح ہو کہ اویسی نے بہار اسمبلی انتخابات کے لیے گرینڈ الائنس میں شامل ہونے کی خواہش ظاہر کی تھی۔ پارٹی کے ریاستی صدر اختر الایمان نے یہاں تک کہ آر جے ڈی سپریمو لالو پرساد یادو، تیجاشوی یادو، اور انڈیا الائنس کی دیگر اتحادی جماعتوں کو خط لکھ کر انڈیا الائنس کے تحت الیکشن لڑنے کی کوشش کی۔ تاہم بی جے پی کی ’بی‘ ٹیم کے پروپیگنڈہ کی وجہ سے اویسی کی پارٹی کو انڈیا الائنس میں شامل نہیں کیا گیا۔ اویسی کی پارٹی نے صرف چھ سیٹوں کی درخواست کی تھی۔











