قاسم سید
کم وبیش ایک دہائی پرانا اخلاق کیس ایک بار بھر سرخیوں میں ہے ، اس مقدمہ کے ملزمین کے خلاف الزامات واپس لینے کا اترپردیش سرکار کا فیصلہ اسی طرزِ عمل کی یاد دلاتا ہے جو بلقیس بانو کے مجرموں کے ساتھ سزا معافی کی شکل میں سامنے آیا تھا۔ یہ دونوں واقعات دراصل ایک بڑے سیاسی و سماجی طرز عمل اور انصاف کے نئے پیمانے کی نشاندہی کرتے ہیں جہاں جرم کی نوعیت اور اس کی سنگینی سے زیادہ ملزم کی شناخت، سیاسی نفع نقصان اور اکثریتی جذبات و خواہش کے تابع ہو جاتا ہے۔ سوال یہ ہے کہ اگر ماں لنچنگ جیسے سنگین جرائم میں بھی کسی ریاست کی ترجیحات بدل جائیں ، تو پھر ایک عام شہری جس کی آخری امید نظام عدل ہو کہاں جاکر سر مارے ،کس پر بھروسہ کرے ؟
اخلاق کا قتل ایک بھیانک مثال تھی کہ کس طرح افواہ، مذہبی جنون اور سیاسی سرپرستی مل کر ایک بے گناہ کی جان لے سکتے ہے۔ اب انہی ملزمان کے خلاف مقدمہ واپس لینا اس تاثر کو مضبوط کرتا ہے کہ ریاستی نظام صرف ان پر سخت ہے جن کا تعلق کمزور طبقات سے ہو، لیکن چونکہ بھیڑ کا تشدد کئی مرتبہ سیاسی مفاد کے ساتھ جڑا رہتا ہے، اس لیے زیادہ توجہ نہیں دی جاتی ،اس کا مطلب یہ نہیں کہ انصاف دھرتی سے اٹھ گیا ہے ،کئی ایسے ماں لنچنگ کے معاملات ہیں جن میں مجروں کو سخت سزا بھی ہوئی ہے ۔مگر عموما صورتحال افسوسناک ہی ہے اگر غور کریں تو یہی منطق بلقیس بانو کیس میں بھی کارفرما تھی، جہاں اجتماعی زیادتی اور قتل جیسے سنگین جرائم میں سزا پانے والوں کو آزادی کا تحفہ، ’’اچھی سرکار‘‘ کی سند اور استقبال کے پھولوں کے ساتھ دیا گیا۔ انصاف کی اس بے حسی نے ملک بھر کی خواتین، اقلیتوں اور حقوقِ انسانی کے کارکنوں کو یہ احساس دلایا کہ قانون کی سختی آج بھی سب کے لیے یکساں نہیں۔
یہ رجحان نہ صرف اقلیتوں کے تحفظ کے لیے خطرناک ہے بلکہ قانونی ڈھانچے کو کمزور کرتا ہے۔ جب ریاست خود ایسے فیصلوں کی منظوری دیتی ہے، تو یہ پیغام عام ہوتا ہے کہ بھیڑ کے تشدد کو سیاسی سرپرستی حاصل ہے اور اس کے مجرم کبھی حقیقی انجام تک نہیں پہنچیں گے۔ اس کے نتیجے میں معاشرہ ایک ایسے راستے پر دھکیلا جاتا ہے جہاں انصاف کی امید کم اور انتقام کا خوف زیادہ ہوتا ہے
آج ضرورت اس بات کی ہے کہ عدالتیں، سول سوسائٹی اور سیاسی قیادت واضح کریں کہ انصاف ملزم کی قومیت، مذہب یا سیاسی وابستگی سے نہیں بلکہ جرم کی سنگینی سے طے ہوگا۔ ورنہ اخلاق سے لے کر بلقیس تک ہر واقعہ ہمیں یہی بتاتا رہے گا کہ کمزور کی جان سستی ہے، اور طاقتور کا جرم معاف۔کیا اخلاق کیس کیسوں میں انصاف کی امید چھوڑ دی جائے؟











