جموں کشمیر کے وزیر اعلیٰ عمر عبداللہ نے منگل کو نوگام پولیس اسٹیشن میں ’حادثاتی‘ دھماکے میں ہوئے زخمی افراد کی عیادت کی۔ سرینگر کے ایک نجی اسپتال میں زیر علاج زخمیوں کو فراہم کیے جا رہے علاج و معالجہ پر اطمینان کا اظہار کرتے ہوے وزیر اعلیٰ نے کہا کہ اس بلاسٹ کی تحقیقات شروع ہو گئی ہے اور ’’امید ہے کہ لوگوں کو جلد جواب ملے گا۔‘‘عمر عبداللہ نے پولیس اسٹیشن میں ہوئے دھماکے کو افسوسناک قرار دیتے ہوئے کہا: ’’یہ انتہائی افسوسناک واقعہ ہوا، جس میں قیمتی جانیں چل گئیں۔ کن حالات میں دھماکہ خیز مواد یہاں پہنچایا گیا، کیسے تحقیقات ہوئی، دھماکہ کیسے ہوا؟ اس معاملے پر جوابات جلد سامنے آئیں گے اور اس معاملے پر مقامی اسپتال نے بہتر اور اچھ رول ادا کیا، جو قابل ستائش ہے۔‘‘
وہیں کشمیر میں سیکورٹی ایجنسیوں کی طرف سے "وائٹ کالر” دہشت گردانہ سازش کیس کے سلسلے میں بڑے پیمانے پر چھاپوں کے درمیان، پی ڈی پی کی صدر محبوبہ مفتی نے منگل کو کہا کہ عام لوگوں کو اجتماعی طور پر کسی اور کی غلطی کی سزا نہیں ملنی چاہیے۔
انہوں نے نوگام پولیس اسٹیشن میں حادثاتی دھماکے کی مکمل تحقیقات کا مطالبہ کرتے ہوئے کہا کہ اس واقعے سے متعلق بہت سے سوالات ابھی تک جواب طلب ہیں۔ شمالی کشمیر کے کپواڑہ ضلع میں جمعہ کو نوگام دھماکے میں مارے گئے پولیس انسپکٹر شاہ اسرار کے اہل خانہ سے ملاقات کے بعد محبوبہ مفتی نے کہا، "ایسا لگتا ہے کہ آنے والا وقت کشمیر کے لیے خوفناک ہو سکتا ہے۔ جموں و کشمیر کے لوگوں کو دہلی (لال قلعہ دھماکے) میں کسی کی غلطی کی اجتماعی سزا نہیں دی جانی چاہیے۔” انہوں نے کہا، ’’اگر کوئی قصوروار ہے تو اسے سزا ملنی چاہیے، لیکن عام کشمیریوں کے ساتھ سختی سے پیش نہیں آنا چاہیے ای ٹی وی بھارت کے ان پٹ کے ساتھ








