اردو
हिन्दी
جنوری 21, 2026
Latest News | Breaking News | Latest Khabar in Urdu at Roznama Khabrein
  • ہوم
  • دیس پردیس
  • فکر ونظر
    • مذہبیات
    • مضامین
  • گراونڈ رپورٹ
  • انٹرٹینمینٹ
  • اداریے
  • ہیٹ کرا ئم
  • سپورٹ کیجیے
کوئی نتیجہ نہیں ملا
تمام نتائج دیکھیں
  • ہوم
  • دیس پردیس
  • فکر ونظر
    • مذہبیات
    • مضامین
  • گراونڈ رپورٹ
  • انٹرٹینمینٹ
  • اداریے
  • ہیٹ کرا ئم
  • سپورٹ کیجیے
کوئی نتیجہ نہیں ملا
تمام نتائج دیکھیں
Latest News | Breaking News | Latest Khabar in Urdu at Roznama Khabrein
کوئی نتیجہ نہیں ملا
تمام نتائج دیکھیں

راجا رام موہن رائے، نشانے پر کیوں؟

2 مہینے پہلے
‏‏‎ ‎‏‏‎ ‎|‏‏‎ ‎‏‏‎ ‎ مضامین
A A
0
Raja Ram Mohan Roy Controversy
0
مشاہدات
Share on FacebookShare on TwitterShare on Whatsapp

ملاحظات:عبدالحمید نعمانی
جدید بھارت میں ہندو اکثریتی سماج کے پہلے اور سب سے بڑے مصلح اور ہندو سماج کو اصلاح کی طرف لے جانے اور فکر و عمل میں انقلابی تبدیلیوں کے داعی راجا رام موہن رائے ہیں لیکن کچھ مقاصد کے تحت ہندوتو وادی عناصر کی جانب سے ان کی طرف سے توجہ ہٹانے کی پوری کوششیں ہوتی رہی ہیں، ان کے مقابلے میں کچھ دیگر شخصیات کے حوالے سے کچھ منتخب باتوں کو پیش کر کے سماج کو ایک الگ سمت میں لے جانے کی کوشش کی جا رہی ہے،
یوگی، یتی نرسنہا نند، آچاریہ پرمود کرشنم اور دیگر لوگ بھارت کے محرف افکار و اعمال کو اصل دھرم اور دیگر مذاہب کو مکاتب فکر کے طور پر پیش کرتے ہیں، جب کہ راجا رام موہن رائے کی، سنسکرت، عبرانی، عربی فارسی انگریزی زبانوں کے جانکار اور وسیع مطالعہ پر مبنی تحقیق، تمام ہندوتو وادی عناصر سے مختلف ہے، اسی کے مد نظر وہ راجا رام موہن رائے کی یا تو ان دیکھی کرتے ہیں یا غلط طور پر نشانہ بناتے ہیں، ان کا تعلیمی و نظریاتی پس منظر بھی ،ہندوتو وادی ذہنیت والے افراد کو دقت اور الجھن میں ڈال دیتا ہے، رائے ایک برہمن خاندان میں پیدا ہوئے لیکن اسلامی مدرسے میں عربی فارسی میں تعلیم اور اسلامیات کے مطالعے نے ان کے ذہنی افق کو ایک مخصوص روشنی فراہم کی، اس کے ساتھ ہی سنسکرت، عبرانی انگریزی وغیرہ میں مختلف افکار و روایات کے مطالعے و جائزے کے بعد وہ جن نتائج تک پہنچے وہ ہندوتو وادی عناصر کے عام تصورات کے برخلاف تھے، اکثریتی سماج خصوصا بنگال میں جن افکار و مراسم کا بے تحاشا چلن ہو گیا تھا ان کی ان دیکھی کرنا راجا رام موہن رائے کے لیے، ہوش و شعور سنبھالتے ہی قبول اور انگیز کرنا ممکن نہیں رہ گیا تھا،
سوپنا دتا نے ایک تحریر میں راجا رام موہن رائے کی حیات و فکر کے مختلف جہات کا ذکر کرتے ہوئے لکھا ہے کہ رائے کا زمانہ بڑی سماجی اتھل پتھل کا تھا، ہندو سماج ٹوٹ رہا تھا، ہر طرف آپسی جھگڑے اور مخالفتیں تھیں، لوگ توہم پرست ہو گئے تھے اور عقل و دلیل کا استعمال بھول گئے تھے، انھیں خود اپنے معاملات اور اپنی ذات سے آگے سوچنے کی فرصت نہیں تھی، جب ان کے بڑے بھائی کا انتقال ہوا تو ان کی بیوی کو اپنے شوہر کی چتا پر بیٹھ کر ستی ہونا پڑا تھا،( ہمارے رہ نما جلد سوم صفحہ 8)
ستی ہونے کے اس دلدوز واقعہ نے راجا رام موہن رائے کو اندر سے ہلا کر رکھ دیا ،انھوں نے عزم کیا اور قسم کھائی کہ اس وقت تک چین سے نہیں بیٹھیں گے جب تک کہ اس ظالمانہ رسم کو جڑ بنیاد سے اکھاڑ کر پھینک نہ دیں، یہ جذبہ راجا رام موہن رائے میں اسلام اور مسلمانوں کی بھارت میں آمد اور ان سے رابطے نے پیدا کیا تھا، گزشتہ کچھ عرصے سے فرقہ پرست ہندوتو وادی عناصر ،بھارت کی تعمیر و ترقی اور اصلاح میں اسلام اور مسلمانوں کے کردار و حصہ کا انکار کرتے نظر آتے ہیں، لیکن وہ اس سوال کا جواب دینے سے گریز کرتے ہیں کہ اسلام اور مسلمانوں کی آمد سے پہلے بھارت میں بھگتی اور کوئی اصلاحی تحریک کیوں نہیں چلی، پہلی بار مسلم حکمرانوں نے ستی پرتھا کو روکنے کی کوشش کا آغاز کیا تھا اور ایک اسلامی مدرسے کے تعلیم یافتہ رائے نے برٹش حکومت میں باقاعدہ قانون بنوا کر ستی پرتھا پر پابندی لگوائی تھی، جب کہ برہمن وادی ہندوتو میتھالوجی میں تو ستی ہونے کا گن گان ملتا ہے، آج وہ ہندو سماج کے اصلاحی عمل میں انسداد ستی کو دلیل میں پیش کرتے ہیں لیکن بد دیانتی سے اصل محرک و سبب کا ذکر نہیں کرتے ہیں، اس تاریخی حقیقت کا ذکر نہیں کیا جاتا ہے کہ ہندوتو وادی عوام اور تعلیم یافتہ افراد و مذہبی طبقہ بھی ستی رسم و عمل کا حامی تھا، اس لیے ستی پرتھا کے خلاف جدوجہد میں اکثریت نے راجا رام موہن رائے کا ساتھ نہیں دیا، اس کو دیکھتے ہوئے ہی رائے نے تن تنہا ستی کے خلاف مہم شروع کی تھی، ہندوتو وادی عناصر کی مخالفت کی اور بھی کئی وجوہ ہیں، مثلا یہ کہ رائے کو راجا کا خطاب مسلم حکمراں، اکبر شاہ ثانی نے ان کی قابلیت و اہلیت اور انگلستان کی عدالت میں شاہ کے وظیفہ میں اضافے کے لیے مقدمہ کو بہتر طور سے پیش کرنے کے سبب دیا تھا، بادشاہ نے اعتماد کرتے ہوئے ان کا انتخاب کیا تھا ،راجا رام موہن رائے نے مقدمہ کی کامیاب پیروی کی تھی، تاہم ایسٹ انڈیا کمپنی نے ان کے عہدے اور خطاب دونوں کو تسلیم نہیں کیا، اس سے مدھیہ پردیس سرکار میں اعلی تعلیم کے وزیر اندر سنگھ پرمار جیسی ذہنیت والے افراد کے اس دعوے کی پوری طرح تردید و تغلیط ہو جاتی ہے کہ راجا رام موہن رائے، برطانوی حکومت کے ایجنٹ تھے، اصل میں ان کو نشانہ بنانے کا سب سے بڑا سبب، مورتی پوجا کی مخالفت اور تصور توحید کو پیش کرتے ہوئے تعدد و کثرت الہ کے خلاف جہاد ہے، اس کے علاوہ انہوں نے قابل اصلاح امور، جات پات کی بے جا تفریق اور عورتوں خصوصا بیواؤں کے ساتھ زیادتی اور ان کے لیے اپنی ملکیت نہ رکھنے کے خلاف سر گرم عمل ہونا ہے، پرمار کا یہ دعوٰی حقیقت پر مبنی نہیں ہے کہ راجا رام موہن رائے نے انگریزوں کے مفاد میں کام

کیا اور ہندستانی سماج کو جات پات کی بنیاد پر تقسیم کرنے میں مدد کی، ایسا دعوٰی و تبصرہ ،رائے کے اصل کردار سے توجہ ہٹانے کی کوشش ہے، ان کی تحریک نے اکثریتی سماج کے قدامت پسند اور روایت پرستوں کو اشتعال و غصے میں مبتلا کر دیا تھا، ان کو لگتا تھا کہ رام موہن رائے ہندو سماج کو توڑنے اور مبینہ سناتن دھرم کی روایات کو ختم کر کے اکثریتی سماج کو انتشار و اضمحلال سے دوچار کرنا چاہتے ہیں، اگر ان کا مقابلہ و مزاحمت نہیں کی گئی تو حالات ہمارے برخلاف رخ پر جا کر سماج کے پروہت اور مذہبی طبقے کے تفوق کو ختم کر دیں گے، اس ذہنیت کے تحت راجا رام موہن رائے کو شدید مزاحمت و مخالفت کا سامنا کرنا پڑا، پرمار جیسے لوگ اسی طبقے کی نمائندگی کرتے ہیں، رائے نے کچھ مصالح کے پیش نظر یہ واضح اظہار و اقرار نہیں کیا کہ مورتی پوجا کی مخالفت اور صرف ایک الہ کی عبادت اور وقت کے رائج سماجی مراسم و افکار کی اصلاح کے جذبے میں رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی سیرت و حیات مقدسہ اور اسلامی عقائد و احکام کار فرما ہیں، تاہم لوگ ان کے تعلیمی پس منظر، گفتار و کردار، طرز معاشرت، لباس، کھان پان کے طریقے کے مختلف پہلوؤں سے کسی نہ کسی درجے میں واقف تھے، ان کے مرشد آباد میں قیام 1803 کے دور میں ان کی فارسی میں لکھی، عربی مقدمہ کے ساتھ، کتاب تحفۃ الموحدین سے ان کا نقطہ نظر کا پتا چلتا ہے، جس میں انہوں نے اس پر زور دیا ہے کہ مذہب کا اصلی کام، دنیا کی تمام مخلوقات میں آپسی محبت و قربت پیدا کرنا ہے، رائے پر کئی سارے لکھنے والوں نے کتاب کے اس پہلو کو زیادہ اہمیت و توجہ نہیں دی ہے کہ اس میں بت پرستی کی مذمت اور توحید کی تعریف کرتے ہوئے ایک عالم گیر مذہب کی ضرورت کا اظہار کیا گیا ہے، پرمار نے بھی راجا رام موہن رائے کے اصل کردار کو پیش کرنے کے بجائے سطحی باتیں کر کے دوسرے رخ پر معاملے کو لے جانے کی کوشش کی ہے، لیکن اس میں رائے کی بھاری بھر کم شخصیت کے سامنے کامیابی نہیں مل سکتی ہے، پورا ہندوتو وادی طبقہ اقتدار کے بل پر اصل تاریخ کے دھارے کو غلط رخ پر موڑنے کی مذموم سعی کر رہا ہے، اس کی مزاحمت کا مختلف سطحوں پر سلسلہ جاری ہے، اس کی نمایاں مثال المعھد العالی حیدر آباد میں بھارت کی تعمیر و ترقی میں مسلمانوں کا حصہ کے عنوان سے سہ روزہ قومی سیمینار ہے، پرمار نے اپنے موقف کی کمزوری اور سیاسی لحاظ سے گرم ہوتے ہوئے ماحول کی وجہ سے اپنے بیان پر معذرت کی ہے لیکن اپنے نقطہ نظر اور تاریخی تحقیق و مطالعے کی غلطی کو واضح طور سے تسلیم نہیں کیا ہے، اس سے واضح ہو گیا ہے کہ ایسے لوگ ہندستانی سماج کے مصلحین خصوصا جدید ہندستان کے اول مصلح کے متعلق کیا سوچ رکھتے ہیں، ،ایسا وہ اپنے حلقے کے ان لیڈروں اور رہ نماؤں کی طرف سے سماج کی توجہ ہٹانے کے لیے کرتے ہیں کہ ان کا بہ ذات خود برٹش سامراج اور انگریزوں سے کیسے تعلقات تھے اور ان کے خلاف تحریکات آزادی میں کیا رول تھا، پرمار کہتے ہیں کہ طلبہ کو تاریخ کا غلط نصاب پڑھایا جا رہا ہے اور یونیورسٹیاں تاریخی بیانہ کو مسخ کر رہی ہیں لیکن وہ یہ بتانے کی پوزیشن میں نہیں ہیں کہ صحیح تاریخ کیا ہے، ؟ دقت یہ ہے کہ سنگھ، بی جے پی کے حلقے میں ایک بھی قابل قبول اور معتبر مورخ نہیں ہے، زیادہ تر تاریخ نگاری کے بجائے تاریخ سازی کرنے میں لگے ہوئے ہیں، وہ مفروضہ کہانیوں کے سوا حقائق و شواہد پر مبنی تاریخ پیش کرنے سے قاصر ہیں، بدلتے بھارت کا یہ بڑا المیہ ہے کہ تفریق و نفرت پسند سیاست میں غرق سیاسی لیڈر تاریخ پیش کر کے اس کی معتبریت کو مشکوک و مسخ کر رہے ہیں، اس کا مقصد سرخیوں میں بنے رہنے کے سوا کچھ اور نہیں ہے، ان کو یہ تک پتا نہیں ہے کہ راجا رام موہن رائے تاریخ میں کس شکل میں درج ہیں اور کن خدمات اور اصلاحی کاموں کی وجہ سے جانے جاتے ہیں، اس میں کوئی شک نہیں ہے کہ برسا منڈا برٹش دور حکومت کا ایک تاریخی کردار ہے لیکن ان کا قد بڑا ممتاز دکھانے کے لیے راجا رام موہن رائے کی غلط شبیہ پیش کرنا، تاریخی شعور و آگہی پر بڑا سوالیہ نشان لگاتا ہے، وہ جدید ہندستان کے عظیم مصلح ہونے کے حوالے سے اپنا ایک منفرد و ممتاز اور اعلی مقام رکھتے ہیں، اس تناظر میں غیر مسلم سماج کے دیگر افراد میں سے کسی کو آمنے سامنے رکھنے کی کوئی بھی کوشش، قابل توجہ و کامیاب نہیں ہو سکتی ہے، ہندوتو وادی عناصر، راجا رام موہن رائے جیسے مصلحین کو لے کر کئی طرح کی تکالیف میں مبتلا ہیں، انھیں مشترکہ تہذیب و روایت کی نمائندہ شخصیات میں سے کوئی بھی قابل قبول نہیں ہے، اس سلسلے میں وہ زیادہ کھلتے نہیں ہیں لیکن ان کی تکلیفوں کو سمجھنا کوئی زیادہ مشکل نہیں ہے، اس کی طرف پنڈت جواہر لعل نہرو نے یہ کہہ کر اشارہ کیا ہے” رام موہن رائے ہندستانی فلسفے کے عالم اور سنسکرت، فارسی و عربی کے اسکالر اور ہندوؤں مسلمانوں کے مشترکہ کلچر کی پیداوار تھے "انگلستان کے برسٹل کے قریب وادی آرنو میں مدفون، ان کے مزار کے کتبہ پر لکھا ہے "اس سنگ مزار کے نیچے رام موہن رائے بہادر مدفون ہیں جو خدا کی وحدانیت پر مضبوطی سے اعتقاد رکھتے تھے اور اپنی زندگی، ذات الہی کی پرستش کے لیے وقف کر دی تھی، "یہ صورت حال راجا رام موہن رائے کو نشانہ بنانے کے مقصد کو پوری طرح اجاگر کر دیتی ہے،

ٹیگ: controversyLegacyPolitical DebateRaja Ram Mohan RoyReformist

قارئین سے ایک گزارش

سچ کے ساتھ آزاد میڈیا وقت کی اہم ضرورت ہےـ روزنامہ خبریں سخت ترین چیلنجوں کے سایے میں گزشتہ دس سال سے یہ خدمت انجام دے رہا ہے۔ اردو، ہندی ویب سائٹ کے ساتھ یو ٹیوب چینل بھی۔ جلد انگریزی پورٹل شروع کرنے کا منصوبہ ہے۔ یہ کاز عوامی تعاون کے بغیر نہیں ہوسکتا۔ اسے جاری رکھنے کے لیے ہمیں آپ کے تعاون کی ضرورت ہے۔

سپورٹ کریں سبسکرائب کریں

مزید خبریں

Dr Manzoor Alam Contributions
مضامین

ڈاکٹر منظور عالم: فکری داعیہ اور عملی خدمات

21 جنوری
Madrasas Right to Education Verdict
مضامین

مدارس؛ حق تعلیم، ریاستی حدود اور عدالتی فیصلہ

20 جنوری
RSS Adhivakta Parishad Courts
مضامین

فائلوں میں نام نہیں، مگر فیصلوں پر چھاپ: آر ایس ایس کی ادھیوکتا پریشد عدالتوں کو کیسے متاثر کر رہی ہے

20 جنوری
  • ٹرینڈنگ
  • تبصرے
  • تازہ ترین
Evening News Brief

ایوننگ نیوز: اختصار کے ساتھ

دسمبر 28, 2025
Trump Iran Non-Military Targets

ٹرمپ کا ایران میں غیر فوجی اہداف نشانہ بنانے پر غور: امریکی میڈیا کا دعویٰ

جنوری 11, 2026
پرواز رحمانی تحریکی صحافت

پرواز رحمانی: تحریکی صحافت کے علمبردار

جنوری 10, 2026
طالبان افغان سفارت خانہ دہلی

طالبان سفارت کار نئی دہلی میں افغان سفارت خانے کا چارج سنبھالیں گے، کیا ہیں اشارے ؟

جنوری 10, 2026
سپریم کورٹ ٹیرر فنڈنگ سماعت

خزانہ کھولیں، اسپیشل کورٹ قائم کریں…’ سپریم کورٹ نے ٹیرر فنڈنگ کیس کی سماعت کے دوران حکومت سے یہ کیوں کہا؟

سناتن دھرم ہیٹ اسپیچ فیصلہ

سناتن دھرم پر تبصرہ ہیٹ اسپیچ ہے: مدراس ہائی کورٹ، اور دیگر زہریلے بیان؟

Supreme Court Hate Speech Case

سپریم کورٹ نے ہیٹ اسپیچ کے مقدمات کا فیصلہ محفوظ کر لیا، بیشتر درخواستیں بند کر دیں۔پوری بحث پڑھیں

India Bangladesh Minority Advice

بھارت اپنی اقلیتوں کا خیال رکھے،بنگلہ دیش کا ‘مشورہ’ جماعت اسلامی کا بی جے پی سے موازنہ کیا،

سپریم کورٹ ٹیرر فنڈنگ سماعت

خزانہ کھولیں، اسپیشل کورٹ قائم کریں…’ سپریم کورٹ نے ٹیرر فنڈنگ کیس کی سماعت کے دوران حکومت سے یہ کیوں کہا؟

جنوری 21, 2026
سناتن دھرم ہیٹ اسپیچ فیصلہ

سناتن دھرم پر تبصرہ ہیٹ اسپیچ ہے: مدراس ہائی کورٹ، اور دیگر زہریلے بیان؟

جنوری 21, 2026
Supreme Court Hate Speech Case

سپریم کورٹ نے ہیٹ اسپیچ کے مقدمات کا فیصلہ محفوظ کر لیا، بیشتر درخواستیں بند کر دیں۔پوری بحث پڑھیں

جنوری 21, 2026
India Bangladesh Minority Advice

بھارت اپنی اقلیتوں کا خیال رکھے،بنگلہ دیش کا ‘مشورہ’ جماعت اسلامی کا بی جے پی سے موازنہ کیا،

جنوری 21, 2026

حالیہ خبریں

سپریم کورٹ ٹیرر فنڈنگ سماعت

خزانہ کھولیں، اسپیشل کورٹ قائم کریں…’ سپریم کورٹ نے ٹیرر فنڈنگ کیس کی سماعت کے دوران حکومت سے یہ کیوں کہا؟

جنوری 21, 2026
سناتن دھرم ہیٹ اسپیچ فیصلہ

سناتن دھرم پر تبصرہ ہیٹ اسپیچ ہے: مدراس ہائی کورٹ، اور دیگر زہریلے بیان؟

جنوری 21, 2026
Latest News | Breaking News | Latest Khabar in Urdu at Roznama Khabrein

روزنامہ خبریں مفاد عامہ ‘ جمہوری اقدار وآئین کی پاسداری کا پابند ہے۔ اس نے مختصر مدت میں ہی سنجیدہ رویے‘غیر جانبدارانہ پالیسی ‘ملک و ملت کے مسائل معروضی انداز میں ابھارنے اور خبروں و تجزیوں کے اعلی معیار کی بدولت سماج کے ہر طبقہ میں اپنی جگہ بنالی۔ اب روزنامہ خبریں نے حالات کے تقاضوں کے تحت اردو کے ساتھ ہندی میں24x7کے ڈائمنگ ویب سائٹ شروع کی ہے۔ ہمیں یقین ہے کہ یہ آپ کی توقعات پر پوری اترے گی۔

اہم لنک

  • ABOUT US
  • SUPPORT US
  • TERMS AND CONDITIONS
  • PRIVACY POLICY
  • GRIEVANCE
  • CONTACT US
  • ہوم
  • دیس پردیس
  • فکر ونظر
  • گراونڈ رپورٹ
  • انٹرٹینمینٹ
  • اداریے
  • ہیٹ کرا ئم
  • سپورٹ کیجیے

.ALL RIGHTS RESERVED © COPYRIGHT ROZNAMA KHABREIN

Welcome Back!

Login to your account below

Forgotten Password?

Retrieve your password

Please enter your username or email address to reset your password.

Log In

Add New Playlist

کوئی نتیجہ نہیں ملا
تمام نتائج دیکھیں
  • ہوم
  • دیس پردیس
  • فکر ونظر
    • مذہبیات
    • مضامین
  • گراونڈ رپورٹ
  • انٹرٹینمینٹ
  • اداریے
  • ہیٹ کرا ئم
  • سپورٹ کیجیے

.ALL RIGHTS RESERVED © COPYRIGHT ROZNAMA KHABREIN