پاکستان میں سابق وزیراعظم عمران خان کی صحت کے حوالے سے کئی خطرناک افواہیں گردش کر رہی ہیں۔ افواہیں گرم ہیں کہ جیل میں ان کے ساتھ کچھ غلط کیا گیا ہے ،ان کے قتل کی باتیں بھی پھیل رہی ہیں گرچہ ایک پارٹی لیڈر اسے غلط بتایا ہے پر سرکار ابھی تک خاموش ہے
ادھر نیوز 18 کے مطابق عمران خان سے متعلق ایک ہولناک اور چونکا دینے والا دعویٰ سامنے آیا ہے۔ دعویٰ کیا گیا ہے کہ عمران خان کو جیل میں شدید تشدد کے بعد قتل کر دیا گیا۔ یہ سنسنی خیز الزام ’’افغانستان ڈیفنس نامی ایکس ہینڈل ‘‘ کی جانب سے ایک پوسٹ میں لگایا گیا ہے، جس کے مطابق پاکستان کی طاقتور خفیہ ایجنسی اور آرمی چیف جنرل عاصم منیر اس منصوبے کے ماسٹر مائنڈ ہیں۔
عمران خان کی تینوں بہنوں کو اڈیالہ جیل میں گزشتہ 21 دنوں سے ان تک رسائی سے روک دیا گیا ہے۔ خان کی بہنوں نے پاکستان کے صوبہ پنجاب کے انسپکٹر جنرل آف پولیس (آئی جی) کو شکایت درج کرائی ہے۔
عدالتی اجازت ملنے کے باوجود راولپنڈی کی اڈیالہ جیل میں عمران خان کی تینوں بہنوں اور وکلا کو ان سے ملاقات کی اجازت نہیں دی جا رہی۔ اس کی بہنوں کو اس سے آخری بار ملے تین ہفتے گزر چکے ہیں۔ ان کا الزام ہے کہ عمران خان کے ٹھکانے اور صحت کے بارے میں سرکاری طور پر کوئی معلومات نہیں ہیں۔عمران کی بہن نورین نے اڈیالہ جیل کے باہر مظاہرین پر وحشیانہ حملے کے حوالے سے آئی جی پنجاب کو باضابطہ شکایت درج کرائی ہے۔افغان میڈیا عمران خان کے بارے میں بہت سے دعوے کر رہا ہے اور پاکستانی حکومت پر الزام لگا رہا ہے۔
عمران خان کہاں ہیں؟پی ٹی آئی کے حامی پوچھ رہے ہیں کہ اگر عمران خان صحت مند ہیں تو پولیس ان کی بہنوں کو ان سے ملنے کیوں نہیں دے رہی؟دریں اثناء ڈان کی رپورٹ کے مطابق عمران خان کی بہن علیمہ خان کو عدالت سے باہر جاتے ہوئے حراست میں لے لیا گیا۔
پولیس نے گزشتہ ہفتے بہنوں کے ساتھ بدسلوکی کی تھی۔پی ٹی آئی کے بانی عمران خان کی بہن نورین نیازی نے گزشتہ ہفتے راولپنڈی کی اڈیالہ جیل کے باہر پی ٹی آئی کے مظاہرین پر "وحشیانہ حملے” کے حوالے سے پنجاب پولیس کے انسپکٹر جنرل ڈاکٹر عثمان انور کو باضابطہ شکایت درج کرائی ہے۔








