سری نگر :
پی ایم ہاؤس پر جمعرات کو جموں وکشمیر کے سیاسی جماعتوں اور پی ایم نریندر مودی کے درمیان مہامنتھن چلا۔ غوروخوض کا مرکزی نکتہ حد بندی اور اسمبلی انتخابات رہا۔ میٹنگ میں موجود وزیر داخلہ امت شاہ نے یقین دہانی کرائی کہ جموں وکشمیر کو ریاست کادرجہ دینے کی ان کی سرکار کی ترجیحات میں ہے ۔ میٹنگ کے ذریعہ جموں وکشمیر کے سیاسی جماعتوں کو لبھانے میں وزیراعظم نریندر مودی کامیاب رہے یا نہیں، یہ تو سرکار ہی جانتی ہوگی، لیکن اب جمو ں وکشمیر کے لیڈروں کی مخالفت ریاست کے لوگ ہی کررہے ہیں۔
آرٹیکل 370 واپس نہیں ہوگا: مرکز
’دینک بھاسکر ‘ کی رپورٹ کے مطابق مرکزی حکومت نے آرٹیکل 370 کو لے کر صاف کردیا ہے کہ یہ نظام واپس نہیں ہوگا ۔ میٹنگ میں موجود کانگریس پارٹی اور دوسری سیاستی جماعتوں نے اس بات کو مانا ہے کہ آرٹیکل 370 کی حد بندی کے بعد جموں وکشمیر میں امن کا دور شروع ہوا۔ کانگریس پارٹی کے لیڈر غلام نبی آزاد نے کہاکہ جموں وکشمیر میں آج امن ہے ۔سرحد پر بھی امن قائم ہے۔ ڈی ڈی سی انتخاب بھی ہو چکے ہیں۔ اب جلد ہی حدبندی کی کارروائی پوری کرکے وہاں انتخاب کرائے جائیں ۔ جموں وکشمیر کو پوری ریاست کا درجہ دیاجائے۔
حالانکہ میٹنگ کے بعد محبوبہ مفتی اور عمر عبداللہ نے آرٹیکل 370 کی وکالت کی۔ انہوں نے کہاکہ آرٹیکل 370 ہٹانا جموں وکشمیر کے لوگوں کو قبول نہیں ہے، لیکن اب اپنےہی لیڈروں کے رویہ کو لے کر وادی کے لوگوں میںعدم اطمینان کا ماحول ہے ۔
ہمارے لیڈروں نے مایوس کیا
سری نگر میں رہنے والے وسیم احمد کا کہنا ہے کہ وادی کے رہنماؤں سے بہت سی توقعات وابستہ تھیں۔ ہمارے رہنما آرٹیکل 370 کی بحالی کے علاوہ ساری باتیں کرکے آئے۔ وہاں ترقی پر بات ہوئی، انتخاب پر بات ہوئی ،لیکن 370 کی بحالی پر کسی نے کوئی بات نہیں کی۔ سری نگر کے ہی رہنے والے جوہر احمد کا کہنا ہے کہ عام کشمیریوں کو امید تھی کہ آرٹیکل 370 کی بحالی پر بات ہوگی ، لیکن معلوم نہیں کیا بات کرکے آئے ہیں۔
وہیں الطاف احمد کا کہناہے کہ کشمیر کے لیڈر صرف سننے کے لیے میٹنگ میں گئے تھے۔ وہاں وہ اپنی کوئی بات رکھ کر نہیں آئے ہیں۔ دانش احمد کا بھی اس طرح کی ہی رائے ہے۔ ان کاکہنا ہے کہ مجھے اس میٹنگ سے کوئی امید نہیں تھی۔ جن لیڈروں کو انہوں نے جیل میں ڈالا، آج یہ انہیں ہی بات کرنے کے لیے بلارہے ہیں ۔ کل تک یہ لیڈر نیشنل سیکورٹی کے لیے خطرہ تھے، لیکن اب انہیں ہی میٹنگ کے لیے بلایا گیا۔










