نئی دہلی آر کے بیورو
جمعیتہ علماء ہند کے صدر مولانا محمود مدنی نے کہا کہ وہ اپنے سابقہ بیان کے ایک ایک لفظ ہر ہر قائم ہیں اور اس کی وضاحت بھی ضروری نہیں سمجھتے ،این ڈی ٹی وی کے ساتھ انٹرویو کے دوران اپنے سخت لب و لہجہ کو برقرار رکھتے ہوئے مولانا مدنی نے پھر کہا کہ سرکاروں اور میڈیا نے مسلمانوں کو دیوار سے لگایا ہے کہ وہ دائیں بائیں بھی نہیں دیکھ سکتے ،بھوپال میں جمعیت کی ورکنگ کمیٹی کے اجلاس کے دوران دیے گیے بیان کے تعلق سے انہوں نے کہا کہ اگر جہاد کے بارے میں جب جب ظلم ہوگا تب تب جہاد ہوگا ،کو پورا پڑھا جائے تو جو سوال میڈیا اٹھاکر معاملہ کو نیا رخ دینے میں لگا ہے اس کا جواب مل جائے گا انہوں نے کہا ہم جہاد کے نام پر جو دہشت گردی پھیلا رہے ہیں میڈیا اور سرکاری انہیں دہشت گرد اور فسادی کہنے کے بجائے جہادی کہہ رہی ہیں ـ ہم تیس سال سے اس ذہنیت کے خلاف کررہے ہیں ،جہاد کو بدنام کردیا ہے
وندے ماترم پڑھنے کے حوالہ سے محمود مدنی نے کہا کہ وندے ماترم ہر میں جو کچھ کہا اس پر میرا موقف یہی ہے ،انہوں نے اینکر کے سوال پر کہا کہ کوئی اس بارے میں زبردستی نہیں کرسکتا ،زور نہیں ڈال سکتا ،جس کو پڑھنے کا شوق ہے وہ پڑھے ہم اسے کب منع کررہے ہیں ـ میرا دل کیے گا تو میں بھی پڑھوں گا لیکن کوئی زبردستی نہیں کرسکتا ـانہوں نے بھوپال میں یہ بھی کہا تھا کہ بغیر انصاف اور آئین کے کوئی ‘سپریم ‘نہیں ہوجاتا ،صدر جمعیت نے بابری مسجد اور تین طلاق کے معاملہ میں سپریم کورٹ کے فیصلوں کا حوالہ دیا تھا ،اس کے بعد سے مین اسٹریم میڈیا خاص طور سے الیکٹرانک میڈیا میں طوفان مچا ہوا ہے وہیں بی جے پی نے باقاعدہ ہریس کانفرنس کرکے ان کے بیان پر سخت اعتراض جتایا تھا ،علاوہ ازیں بہ جے پی کے نچلی سطح کے لیڈروں نے بدزبانی کی تمام حدیں پار کردی ہیں ،لوگ یہ دیکھ رہے ہیں کہ محمود مدنی چوطرفہ حملوں سے دباؤ میں آتے ہیں یا اپنے اسٹینڈ پر قائم رہتے ہیں ـ








