اداریہ:قاسم سید
2025 بھارت کے مسلمانوں کے لیے ماضی کے تسلسل کا ایکسٹینشن تھا یا کچھ مثبت پہلو بھی سامنے آئے جو 2026میں امیدوں کی قندیلوں کو روشن رکھنے کی جستجو میں معاون ہوسکتے ہیں یہ بحث کا موضوع ہے بنیادی طور پر کیا جاسکتا ہے کہ یہ سال غیر اعلانیہ دباؤ، معمول بنتی ہوئی محرومی، اور خاموشی کے ادارہ جاتی استحکام کا سال رہا۔ تشدد کم دکھائی دیا، مگر عدم تحفظ زیادہ گہرا ہوا۔ ریاست نے یہ ثابت کر دیا کہ اب کسی ایک قانون، ایک فیصلے یا ایک فساد کی ضرورت نہیں،پورا سسٹم مددگار ہے۔
چیلنجز کی نوعیت اب جذباتی نہیں رہی،بلکہ ساختی ہو چکی ہے۔ شہریت، عبادت، لباس، تعلیم، روزگار اور سیاسی اظہار ہر سطح پر مسلمان خود کو کسی نہ کسی “قانونی دائرے” میں مقید پاتے رہے۔ بلڈوزر سیاست اگرچہ سرخیوں سے کچھ پیچھے ہٹی، مگر اس کا خوف انتظامیہ کے رویّے میں زندہ رہا۔ مدارس، مساجد، وقف، اور این جی اوز مسلسل نگرانی کے دائرے میں رہے۔ مسئلہ صرف کارروائی نہیں، بلکہ یہ احساس ہے کہ مسلمان اب default suspect ہیں۔
قیادت کے امتحان میں یہ سال خاصا بے رحم ثابت ہوا۔ روایتی مذہبی قیادت نے ایک بار پھر بیانات، قراردادوں اور علامتی ملاقاتوں سے آگے بڑھنے میں ہچکچاہٹ دکھائی۔ احتجاج سے خوف، ٹکراؤ سے پرہیز، اور “صورتحال سنبھالنے” کے نام پر خاموشی،یہ سب حکمت نہیں، بلکہ تھکن کی علامت محسوس ہوئی۔ سیاسی مسلم قیادت منتشر رہی؛ کوئی مشترکہ ایجنڈا، کوئی اجتماعی لائحہ عمل، اور کوئی قومی سطح کی مربوط آواز سامنے نہ آ سکی۔
البتہ یہ بھی سچ ہے کہ نچلی سطح پر وکلا، طلبہ، خواتین اور نوجوان کارکنوں نے محدود وسائل میں کہیں زیادہ اخلاقی جرات دکھائی—اگرچہ یہ جرات قیادت میں ڈھل نہ سکی۔
سرکار کا رویہ 2025 میں مزید institutionalized indifference کی شکل اختیار کر گیا۔ حکومت نے کھلے حملوں کے بجائے “پالیسی خاموشی” کو ترجیح دیـنہ کچھ دینا، نہ کچھ ماننا، نہ کچھ سننا۔ مسلمان نہ ترقیاتی ایجنڈے کا حصہ بنے، نہ سیاسی مکالمے کا۔ انتظامیہ میں نچلی سطح پر تعصب کم نہیں ہوا، مگر اسے اب فائلوں، نوٹسوں اور ضابطوں کے پیچھے چھپا دیا گیا۔ یہ وہ مرحلہ ہے جہاں امتیاز چیختا نہیں، بلکہ آہستہ آہستہ راستے بند کرتا ہے۔,پورے سال مسلمان مختلف حوالوں سے کاغذاتِ درست کرنے،کر انے میں الجھے رہے
عدالتوں کا کردارتا اور بھی ناقابل فہم رہا ـ چند انفرادی فیصلوں نے آئینی امیدوں کو زندہ رکھا، مگر مجموعی طور پر اعلیٰ عدلیہ کے پلیٹ فارم سے وہ اخلاقی جرات دکھائی نہ دی جو تاریخ میں سنگ میل کے طور پر اپنی جگہ محفوظ کرتی ۔ حساس معاملات میں تاخیر، عبوری خاموشی، یا تکنیکی بنیادوں پر سماعت یہ سب ایک ایسے وقت میں ہوا جب انصاف کی فوری موجودگی خود ایک پیغام بن سکتی تھی۔
سیاسی اعتبار سے مسلمانوں نے 2025 میں زیادہ تر کھویا۔ پارلیمانی سطح پر اثر کمزور رہا، ریاستی سیاست میں مسلم ووٹ کو پھر سے محض عددی وزن سمجھا گیا، اخلاقی طاقت نہیں۔بہار جیسی قابل ذکر مسلم ابادی والی ریاست میں نمائندگی پہلے سے کم ہوگئی ـ چند ریاستوں میں وقتی فائدے یا نمائندگی بڑھی، مگر قومی سطح پر کوئی بیانیہ سامنے نہ آسکا ، صدر جمعیت مولانا محمود مدنی نے جہاد پر ایک بیانیہ آگے بڑھایا مگر چند دنوں کے شوروہنگامہ کے بعد بیانیہ کی مارکیٹ سے غائب ہوگیا ۔ ایک بات بالکل واضح ہے کہ محض ووٹ یا مفاہمت کافی نہیں، جب تک کہ بیانیہ، تیاری اور اجتماعی دباؤ ساتھ نہ ہو۔
2025 دراصل آئینہ تھا—ریاست کے لیے بھی، اور مسلمانوں کے لیے بھی۔ ریاست نے دکھا دیا کہ وہ کس حد تک نارملائزڈ امتیاز کو نظام بنا چکی ہے۔ اور مسلمانوں کے لیے یہ سال سوال چھوڑ گیا: کیا ہم صرف ردعمل میں جئیں گے، یا تیاری، تنظیم اور فکری قیادت کی طرف بڑھیں گے؟ یہ سال کسی فیصلے کا نہیں، بلکہ فیصلہ کرنے کی مہلت کا سال تھا ـ جو اگر ضائع ہوئی، تو آئندہ برس صرف حالات بدلیں گے، سمت نہیں۔
اگر 2025 نظام کی خاموش تکمیل کا سال تھا تو 2026 اس خاموشی کے نتائج کے ظہور کا سال ہو سکتا ہے یا پھر مسلم سیاست کی فکری تشکیل کا نقطۂ آغاز۔ یہ فیصلہ حالات سے نہیں، ہمارے عمل اور جدوجہد سے ہوگا 2025کے مسائل اور چیلنجوں کی وراثت 2026کو منتقل ہوگئی ہےـ ہمارے











