نئی دہلی:
ماہر ماشیات سوامی ناتھن ایس اینکلسریا نے کہا ہے کہ بھارت کو آبادی بڑھانے کی ضرورت ہے ۔ اگر ایسا نہ کیا گیا تو ملک کی مصیبت بڑھ سکتی ہے ۔ انہوں نے ان دعوؤں کے ساتھ اعدادوشمار بھی دئے اور دو بچوں کی پابندی لگانے سے جڑے فیصلے کو غلط بتایا۔
انگریزی اخبار ٹائمس آف انڈیا میں ہفتہ (26 جون 2021) کو شائع اپنے مضمون میں انہوں نے کہا :’ لکشدیپ میں بی جے پی کے ایڈمنسٹریٹرکے ذریعہ ان آرڈیننس سے لوگوں میں بے چینی پیدا کی، جن میں دو بچوں سے زیادہ والوں کو پنچایت انتخاب کی امیدواری سے باہر کئے جانے سے جڑا مسودہ بھی ہے ۔یہ ناسمجھی ہے۔ بھارت اور دنیا کو زیادہ نہیں بلکہ ناکافی پیدائش کا سامنا کرنا پڑتا ہے ۔ ‘ ان کے مطابق چین نے ایک بچے کی پالیسی لاگو کی، بعد میں دو کے لیے منظوری دی اور اب وہ تین بچوں کے لیے ترغیب دے رہا ہے ،چونکہ اس کی کام کا جی عمر کی آبادی گر رہی ہے ، اس لئے جی ڈی پی کو فروغ دینے کے لیے اسے اور زیادہ مزدوروں کی سخت ضرورت ہے ۔ مستحکم آباد ی کے لیے پیدائش کی کل شرح ہر عورت پر پیدا ہونے والا بچہ 2.1ہونا چاہئے ۔ یہ ایک دم سے آبادی میں اضافہ کو نہیں روکے گا۔ مستقبل میں ماں بننے والی عورتی پیدا ہوچکی ہیں ، اس لئے آبادی دو دہائیوں تک 2.1پر پہنچنے تک بڑھتی رہے گی اور پھر اضافہ کی رفتار کم ہو جائے گی۔
انہوں نے کہا ’ بھارت کی پیدائش شرح گر رہی ہے ۔ زیادہ آبادی کے فرضی ڈر کو ترک کرنا چاہئے اور کم کام کاجی عمر کے لوگوں (15 سے 65 سال) اور بڑی عمر کے ساتھ مستقبل کی تیاری کرنی چاہئے۔ ‘ حالانکہ انہوں نے آگے لکھا ۔ بچے کی اچھی پرورش کی لاگت بڑھ گئی ہے ، اس لئے لوگ دو بچوں کا بھی خرچ نہیں اٹھا سکتے۔ کئی ملک تو بچے کی مفت دیکھ بھال ، طویل زچگی اور زچگی کی چھٹی ، مفت چائلڈ کیئر ہیلتھ اور ایسے ہی ملتے جلتے فائدے اور سہولت مہیا کرا رہے ہیں ، پھر بھی ان کی پیدائش شرح گر رہی ہے ۔
انہوں نے کچھ ممالک کا ذکر کیا اور کہا ، تائیوان میں یہ شرح سب سے کم ہے۔ وہاں یہ تعداد 1.07 ہے۔ جنوبی کوریا میں 1.09 ، سنگاپور میں 1.15ہے۔ یہاں تک کہ امیر ممالک میں یہ بھی ڈیٹا ریپلیسمنٹ لیول سے نیچے ہے ۔مثلاً جاپان میں 1.38، جرمنی میں 1.48، یو ایس میں 1.48اور یوکے میں 1.86ہے۔ افریقی ممالک میں یہ شرحیں ابھی بھی تین سے نیچے ہے۔ مگر میکسیکو میں شرح پیدائش 2.14سے کم ہے ۔
ہندوستان کا ذکر کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ بھارت کا شرح پیدائش ریٹ 1992 سے 1993 میں 3.4 بچوں کا تھا۔ جو کہ آج 2.2 پر آگیا ہے ۔ مانا جا رہاہے کہ 2025 میں یہ گرکر 1.93 ہو سکتا ہے ، ایسا اس لئے ،کیونکہ متوسط طبقے کے لوگ کم بچے چاہتے ہیں ۔زیادہ تر آبادی سے دور بھارت ناکافی شرح پیدائش کے عالمی جال، کام کاجی عمر کے کم لوگوں اور بڑی تعداد میں بزرگ لوگوں کو مہنگی طبی سہولت کی ضرورت والے دور کی جانب بڑ ھ رہاہے ۔
ایس اے ایئر فی الحال انگریزی بزنس اخبار ’دی اکنامک ٹائمس ‘ میں کنسلٹنگ ایڈیٹر ہیں۔ وہ عالمی بینک اور ایشین ڈیولپمنٹ بینک میں بھی کنسلٹنگ رہے ہیں۔ وہ اس کے علاوہ معروف کالم نگار اور ٹی وی کمنٹیٹر بھی ہیں۔ بروکنگ انسٹی ٹیوٹ کے اسٹیفن کوہن کے ذریعہ انہیں ملک کے ٹاپ اکنامکس صحافیوںمیں شمار کیا جاتاہے ۔ انگریزی اخبار ’ دی ٹائمس آف انڈیا ‘ میں سال 1990 سے ان کا ہفتہ وار کالم شائع ہو رہاہے ۔ جس کا نام ’سوامی نامکس ‘ ہے ۔










