نئی دہلی: ترکمان گیٹ پر واقع مسجد فیض الہی کے اس پاس غیر قانونی تجاوزات ہٹانے کے بعد، دہلی ہائی کورٹ نے اب میونسپل کارپوریشن کو سخت ہدایات جاری کی ہیں کہ وہ اگلے دو مہینوں کے اندر تاریخی جامع مسجد کے آس پاس کے پورے علاقے کا جامع سروے کرے، اور سروے میں پائی جانے والی سرکاری زمین پر کسی بھی غیر قانونی تعمیرات یا تجاوزات کو فوری طور پر ہٹائے یہ حکم پرانی دہلی کے ایک مقامی رہائشی فرحت حسن کی طرف سے دائر درخواست کی بنیاد پر جاری کیا گیا ہے۔
درخواست میں الزام لگایا گیا ہے کہ جامع مسجد کے گیٹس نمبر 3، 5 اور 7 کے باہر غیر قانونی پارکنگ اور تجارتی سرگرمیاں ہو رہی ہیں، جس سے نہ صرف عام لوگوں کو تکلیف ہو رہی ہے بلکہ اس تاریخی نشان کے ثقافتی ورثے کو بھی شدید نقصان پہنچ رہا ہے
شاہ جہانی جامع مسجد کی تاریخ
مغل شہنشاہ شاہ جہاں نے 1656 میں دہلی میں جامع مسجد بنوائی۔ دہلی کی اس مسجد کو ہندوستان کی سب سے بڑی اور تاریخی مساجد میں سے ایک سمجھا جاتا ہے۔ سرخ پتھر اور سنگ مرمر سے بنی یہ مسجد لال قلعہ سے صرف 500 میٹر کے فاصلے پر واقع ہے جسے بھارت کی سب سے بڑی مسجد سمجھا جاتا ہے۔ اس کی تعمیر میں چھ سال لگے اور 10 لاکھ روپے لاگت آئی۔ ریت کے پتھر اور سفید سنگ مرمر سے بنی مسجد میں شمالی اور جنوبی دروازوں سے داخل ہواجا سکتا ہے۔..
۔ جائے نمازبہت خوبصورت ہے۔ اس کی گیارہ محرابیں ہیں، جس کا مرکزی محراب دوسری محرابوں سے تھوڑی بڑی ہے۔ اس کے اوپر کے گنبد سفید اور سیاہ سنگ مرمر سے مزین ہیں جو نظام الدین درگاہ کی یاد تازہ کرتے ہیں۔
اس میں کوئی شک نہیں کہ جامع مسجد کے اطراف بہت سی تجارتی سرگرمیاں ہوتی ہیں حتی کی سیڑھیوں پر بھی لوگوں نے قبضہ کر رکھا ہے ،سڑک ہر بھی تجاوزات ہیں اب اگروگ خود ہی ہٹالیں تو کسی بھی ناخوشگوار واقعے کو ٹالا جاسکتا ہے جیسا کہ ترکمان گیٹ پر ہوا








