: بہار کے وزیر اعلیٰ نتیش کمار کے کسی زمانہ میں دایاں ہاتھ رہے کے سی تیاگی کے ستارے ان دنوں گردش میں ہیں ـپہلے ان کو پارٹی ترجمان کے عہدے سے ہٹایا ،اب پارٹی نے ان سے پہلے جھاڑلیا ہے ـ
ایسا لگتا ہے کہ تیاگی جی کو نیتیش کمار کے لیے ‘بھارت رتن’ کا مطالبہ کرنا بہت مہنگا ثابت ہوا ہے۔ ان کی اس مانگ سے پارٹی کے اندر تنازع کھڑا ہو گیا ہے۔ پارٹی قیادت تیاگی کے مطالبے سے ناخوش نظر آ رہی ہے۔ جے ڈی یو کے قومی ترجمان نے اس معاملے پر رد عمل دیتے ہوئے یہاں تک کہہ دیا کہ کے سی تیاگی کا پارٹی سے کوئی رشتہ نہیں ہے۔
جے ڈی یو کے قومی ترجمان راجیو رنجن نے کہا کہ کے سی تیاگی نے حالیہ دنوں میں کئی بیانات دیے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ تیاگی کا پارٹی کے نظریہ یا سرکاری موقف سے کوئی تعلق نہیں ہے۔ رنجن نے یہاں تک کہا کہ کے سی تیاگی پارٹی کے ساتھ ہیں یا نہیں، پارٹی کے لیڈران اور کارکنان کو اس کی جانکاری نہیں ہے۔ انہوں نے کہا
"کے سی تیاگی کے بیانات سے پتہ چلتا ہے کہ نتیش کمار کے لیے بھارت رتن کا مطالبہ ایک ذاتی معاملہ ہے۔ اسے ان کی ذاتی حیثیت میں دیا گیا بیان سمجھنا چاہیے۔ پارٹی کا اس سے کوئی لینا دینا نہیں ہے۔” – راجیو رنجن، قومی ترجمان، جے ڈی یو
نتیش کمار نے نومبر 2025 میں 10ویں بار وزیر اعلیٰ کے طور پر حلف لیا۔ اس طرح انہوں نے سب سے زیادہ عرصے تک وزیر اعلیٰ رہنے والے اور سب سے زیادہ بار حلف لینے کا ریکارڈ قائم کیا۔ کے سی تیاگی نے کہا کہ سی ایم نتیش کمار نے طویل عرصے تک بہار کے لوگوں کی خدمت کی ہے۔بےایا جاتا ہے کہ آٹھ جنوری سال 2026 کو وزیر اعظم کو ایک خط لکھا، جس میں وزیر اعلی نتیش کمار کو بھارت رتن دینے کا مطالبہ کیا گیا۔ اپنی سفارش میں کے سی تیاگی نے وزیر اعظم سے کہا کہ نتیش کمار اسی طرح بھارت رتن کے مستحق ہیں جس طرح آنجہانی چودھری چرن سنگھ اور بہار کے سابق سی ایم کرپوری ٹھاکر کو بھارت رتن سے نوازا گیا۔








