(نوٹ:یہ مضمون جرمنی کی خبررساں ایجنسی ڈی ڈبلیو کے شکریہ کے ساتھ ایک نقطہ نظر کے طور پر پیش کیا جارہا ہے ـ ادارہ کا اس سے اتفاق ضروری نہیں )
بنگلہ دیش میں ایک عشرے سے زائد عرصے تک پابندی کا شکار رہنے والی مذہبی و سیاسی جماعت، جماعت اسلامی کے قائدین نے آئندہ انتخابات کے بعد ممکنہ طور پر وجود میں آنے والی مخلوط حکومت میں شامل ہونے پر آمادگی ظاہر کی ہے۔
انتخابی تجزیوں کے مطابق جماعت اسلامی آئندہ فروری میں ہونے والے عام انتخابات میں اب تک کی اپنی مضبوط ترین انتخابی کارکردگی دکھانے کی پوزیشن میں ہے۔ اس کی قیادت کا کہنا ہے کہ اس نے آئندہ انتخابات کے حوالے سے حکمت عملی طے کرنے کے لیے دیگر سیاسی جماعتوں کے ساتھ بات چیت کا عمل جاری رکھا ہوا ہےیہ بات جماعت اسلامی بنگلہ دیش کے سربراہ شفیق الرحمان نے خبر رساں اداے روئٹرز کے ساتھ ایک حالیہ انٹرویو میں بتائی۔
رائے عامہ کے جائزوں کے مطابق جماعت اسلامی تقریباً 17 برس بعد اپنے پہلے قومی انتخابی عمل میں بنگلہ دیش نیشنلسٹ پارٹی (بی این پی) کے بعد دوسرے نمبر پر رہ سکتی ہے، جس کے ساتھ وہ 2001 سے 2006 تک بطور جونیئر اتحادی اقتدار میں بھی رہ چکی ہے۔جماعت اسلامی 175 ملین کی آبادی والے اس مسلم اکثریتی ملک میں مرکزی دھارے کی سیاست میں واپسی کی کوشش کر رہی ہے۔جماعت کے امیر شفیق الرحمان نے ڈھاکہ کے ای رہائشی علاقے میں اپنے دفتر میں انٹرویو دیتے ہوئے روئٹرز کو بتایا کہ وہ کم از کم پانچ سال کے لیے ملک میں استحکام دیکھنا چاہتے ہیں اور اگر سیاسی جماعتیں اکٹھی ہوں تو حکومت مشترکہ طور پر چلائی جا سکتی ہے۔ ان کے بقول نوجوان نسل کی ایک جماعت کے ساتھ اتحاد کے بعد جماعت اسلامی کے گرد سیاسی سرگرمی میں اضافہ ہوا ہے۔
ان کا اشارہ شیخ حسینہ کی معزولی کی قیادت کرنے والے طلبا پر مشتمل نو قائم شدہ جماعت نیشنل سٹیزن پارٹی (این سی پی) کی جانب تھااس نے اپنی قدامت پسند بنیاد سے آگے بڑھ کر ووٹرز کو متوجہ کرنے کی کوششیں تیز کر دی ہیں۔ شفیق الرحمان کا کہنا تھا کہ بدعنوانی کے خلاف اقدامات مستقبل کی کسی بھی مخلوط حکومت کا مشترکہ ایجنڈا ہونا چاہییں۔
انہوں نے کہا کہ وزیر اعظم کا انتخاب سب سے زیادہ نشستیں حاصل کرنے والی جماعت کرے گی اور اگر جماعت اسلامی سب سے آگے رہی تو یہ طے کیا جائے گا کہ آیا وہ خود امیدوار ہوں گے یا نہیں
حسینہ جماعت اسلامی کی سخت ناقد رہی ہیں اور ان کے دور میں جماعت کے کئی رہنماؤں کو 1971 کی جنگ آزادی کے دوران مبینہ جنگی جرائم کے باعث سزائے موت سنائی گئی تھی، ایک ایسی جنگ جس کی جماعت اسلامی نے مخالفت کی تھی۔جماعت اسلامی پر 2013ء میں اس وقت انتخابات میں حصہ لینے پر پابندی عائد کر دی گئی تھی، جب ایک عدالت نے اس کے منشور کو ملکی سیکولر آئین کے منافی قرار دیا تھا۔ نوبل انعام یافتہ محمد یونس کی قیادت میں قائم عبوری ملکی حکومت نے اگست 2024ء میں جماعت پر عائد تمام پابندیاں ختم کر دی تھیں۔
شفیق الرحمان کے مطابق بنگلہ دیش کو تمام ممالک کے ساتھ تعلقات کھلے اور متوازن انداز میں رکھنا چاہییں۔
بھارتی وزارت خارجہ نے اس بیان پر کوئی فوری تبصرہ نہیں کیا، تاہم بھارتی حکومت کے ایک ذریعے نے مختلف سیاسی جماعتوں سے رابطوں کی تصدیق کی ہے۔شفیق الرحمن نے کہا کہ اگر جماعت اسلامی حکومت کا حصہ بنی، تو وہ صدر محمد شہاب الدین کے ساتھ خود کو ”آرام دہ‘‘ محسوس نہیں کرے گی۔










